ٹیگ کے محفوظات: اذیت

حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 46
اب وہ عالم ہے مرا اس بزمِ عشرت کے بغیر
حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر
اصل کی امید ہے بے کار فرقت کے بغیر
آدم راحت نہیں پاتا مصیبت کے بغیر
مجھ کو شکوہ ہے ستم کا تم کو انکارِ ستم
فیصلہ یہ ہو نہیں سکتا قیامت کے بغیر
دے دعا مجھ کو کہ تیرا نام دنیا بھر میں ہے
حسن کی شہرت نہیں ہوتی محبت کے بغیر
حضرتِ ناصح بجا ارشاد، گستاخی معاف
آپ سمجھاتے تو ہیں لیکن محبت کے بغیر
یہ سمجھ کر دل میں رکھا ہے تمھارے تیر کو
کوئی شے قائم نہیں رہتی حفاظت کے بغیر
راستے میں وہ اگر مل بھی گئے تقدیر سے
ل دیے منہ پھیر کر صاحب سلامت کے بغیر
سن رہا ہوں طعنہ اخیار لیکن کیا کروں
میں تری محفل میں آیا ہوں اجازت کے بغیر
دل ہی پر موقوف کیا او نا شناسِ دردِ دل!
کوئی بھی تڑپا نہیں کرتا اذیت کے بغیر
قمر جلالوی

یہ تو آشوب ناک صورت ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 201
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
یہ تو آشوب ناک صورت ہے
انجمن میں کیا یہ میری خاموشی
بردباری نہیں ہے وحشت ہے
طنز پیرایہ ءِ تبسم میں
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے
تجھ سے یہ گا ہ گاہ کا شکوہ
جب تلک ہے بسا غنیمت ہے
گرم جوشی اور اس قدر کیا بات!
کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے
تو بھی اے شخص کیا کرے آخر
مجھ کو سر پھوڑنے کی عادت ہے
اب نکل آؤ اپنے اندر سے
گھر میں سامان کی ضرورت ہے
ہم نے جانا تو ہم نے یہ جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے
ہاں مرا غم ہی میری فرصت ہے
آج کا دن بھی عیش سے گذرا
سر سے پا تک بدن سلامت ہے
جون ایلیا

رنج و محنت کمال راحت ہے

دیوان اول غزل 583
نالۂ عجز نقص الفت ہے
رنج و محنت کمال راحت ہے
عشق ہی گریۂ ندامت ہے
ورنہ عاشق کو چشم خفت ہے
تا دم مرگ غم خوشی کا نہیں
دل آزردہ گر سلامت ہے
دل میں ناسور پھر جدھر چاہے
ہر طرف کوچۂ جراحت ہے
رونا آتا ہے دم بدم شاید
کسو حسرت کی دل سے رخصت ہے
فتنے رہتے ہیں اس کے سائے میں
قد و قامت ترا قیامت ہے
نہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبر
دل پہ میرے عجب مصیبت ہے
تو تو نادان ہے نپٹ ناصح
کب موثر تری نصیحت ہے
دل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہرا
کہ مجھے خوش دلی اذیت ہے
رنج و محنت سے باز کیونکے رہوں
وقت جاتا رہے تو حسرت ہے
کیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانو
دم غنیمت میاں جو فرصت ہے
تیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھے
چاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے
تجھ کو مسجد ہے مجھ کو میخانہ
واعظا اپنی اپنی قسمت ہے
ایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہ
شمع مجلس کی رونی صورت ہے
باطل السحر دیکھ باطل تھے
تیری آنکھوں کا سحر آفت ہے
ابرتر کے حضور پھوٹ بہا
دیدئہ تر کو میرے رحمت ہے
گاہ نالاں طپاں گہے بے دم
دل کی میرے عجب ہی حالت ہے
کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئی
عاقبت قصۂ محبت ہے
تربت میر پر ہیں اہل سخن
ہر طرف حرف ہے حکایت ہے
تو بھی تقریب فاتحہ سے چل
بخدا واجب الزیارت ہے
میر تقی میر

شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 226
ہوائے نرم خُو کو اپنی عادت کم نہ ہونے دو
شجر ایسے تعلق کی ضرورت کم نہ ہونے دو
ابھی گلدان میں رہنے دو یہ بکھری ہوئی کلیاں
ابھی اس کے بچھڑنے کی اذیت کم نہ ہونے دو
دئیوں کی لو رکھو اونچی دیارِ درد میں منصور
اندھیروں کے خلاف اپنی بغاوت کم نہ ہونے دو
مرے دھکے ہوئے جذبوں کی شدت کم نہ ہونے دو
تعلق چاہے کم رکھو، محبت کم نہ ہونے دو
ذرا رکھو خیال اپنے نشاط انگیز پیکر کا
مری خاطر لب و رخ کی صباحت کم نہ ہونے دو
مسلسل چلتے رہنا ہو طلسمِ ذات میں مجھ کو
رہو آغوش میں چاہے مسافت کم نہ ہونے دو
مجھے جو کھینچ لاتی ہے تری پُر لمس گلیوں میں
وہ رخساروں کی پاکیزہ ملاحت کم نہ ہونے دو
رکھو موجِ صبا کی وحشتیں جذبوں کے پہلو میں
تلاطم خیز دھڑکن کی لطافت کم نہ ہونے دو
منصور آفاق

اعمال چھوڑ تُو مری نیت پہ رحم کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 172
پرودگار! حرفِ کمیت پہ رحم کر
اعمال چھوڑ تُو مری نیت پہ رحم کر
نیزے پہ سج گیا ہے وہ چہرہ حسین کا
اے بے نیاز اپنی مشیت پہ رحم کر
اک دھوپ سے بھرے ہوئے بے رحم پہر میں
کھلتی ہوئی کلی کی اذیت پہ رحم کر
کچھ دن مزارِ دل پہ جلا درد کے چراغ
کچھ مرنے والے کی بھی وصیت پہ رحم کر
اتنی اکیلگی میں بھی اپنی طلب کرے
منصور کچھ تو دل کی حمیت پہ رحم کر
منصور آفاق