ٹیگ کے محفوظات: ادھوری موت

ادھوری موت

ابھی ابھی جو دھواں سا فضا میں بکھرا ہے

ابھی ابھی جو صدائیں اٹھی ہیں ماتم کی

جلی ہے کیا کوئی خواہش، کوئی خیال جلا

کسی کے لب پہ نہ پہنچا، کوئی سوال جلا

نجانے کتنی تمنائیں جل کے زندہ ہیں

بدل کے جسم ہواؤں میں ڈھل کے زندہ ہیں

یاور ماجد