ٹیگ کے محفوظات: ادب

گھر ہی جاسکتے تھے آوارہءِ شب، کیا کرتے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 67
مجلسِ غم، نہ کوئی بزمِطرب، کیا کرتے
گھر ہی جاسکتے تھے آوارہءِ شب، کیا کرتے
یہ تو اچھا کیا تنہائی کی عادت رکھّی
تب اِسے چھوڑ دیا ہوتا تو اب کیا کرتے
روشنی، رنگ، مہک، طائرِ خوش لحن، صبا
تُو نہ آتا جو چمن میں تو یہ سب کیا کرتے
دل کا غم دل میں لیے لوٹ گئے ہم چپ چاپ
کوئی سنتا ہی نہ تھا شور و شغب کیا کرتے
بات کرنے میں ہمیں کون سی دشواری تھی
اُس کی آنکھوں سے تخاطب تھا سو لب کیا کرتے
کچھ کیا ہوتا تو پھر زعم بھی اچھا لگتا
ہم زیاں کار تھے، اعلانِ نسب کیا کرتے
دیکھ کر تجھ کو سرہانے ترے بیمارِ جنوں
جاں بلب تھے، سو ہوئے آہ بلب، کیا کرتے
تُو نے دیوانوں سے منہ موڑ لیا، ٹھیک کیا
ان کا کچھ ٹھیک نہیں تھا کہ یہ کب کیا کرتے
جو سخن ساز چراتے ہیں مرا طرزِ سخن
ان کا اپنا نہ کوئی طور، نہ ڈھب، کیا کرتے
یہی ہونا تھا جو عرفان ترے ساتھ ہُوا
منکرِ میر بھلا تیرا ادب کیا کرتے
عرفان ستار

لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 28
گو دورِ جام بزم میں تا ختمِ شب رہا
لیکن میں تشنہ لب کا وہی تشنہ لب رہا
پروانہ میری طرح مصیبت میں کب رہا
بس رات بھر جلا تری محفل میں جب رہا
ساقی کی بزم میں یہ نظامِ ادب رہا
جس نے اٹھائی آنکھ وہی تشنہ لب رہا
سرکار پوچھتے ہیں کہ خفا ہو کے حالِ دل
بندہ نواز میں تو بتانے سے ادب رہا
بحر جہاں میں ساحل خاموش بن کے دیکھ
موجیں پڑیں گی پاؤں جو تو تشنہ لب رہا
وہ چودھویں کا چاند نہ آیا نظر قمر
میں اشتیاقِ دید میں تا ختمِ شب رہا
قمر جلالوی

ہم آرزوئے بوسہ بہ پیغام اب تلک

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 70
رہ جائے کیوں نہ ہجر میں جاں آ کے لب تلک
ہم آرزوئے بوسہ بہ پیغام اب تلک
کہتے ہیں بے وفا مجھے میں نے جو یہ کہا
مرتے رہیں گے آپ پہ، جیتے ہیں جب تلک
تمکینِ حسن ہے کہ نہ بے تاب ہو سکا
خلوت میں بھی کوئی قلقِ بے ادب تلک
آ جائے کاش موت ہی تسکیں نہ ہو، نہ ہو
ہر وقت بے قرار رہے کوئی کب تلک
وہ چشمِ التفات کہاں اب جو اس طرف
دیکھیں، کہ ہے دریغ نگاہِ غضب تلک
ایسے کریم ہم ہیں کہ دیتے ہیں بے طلب
پہنچاؤ یہ پیام اجلِ جاں طلب تلک
مایوس لطف سے نہ کر اے دشمنی شعار
امید سے اٹھاتے ہیں ہم جور اب تلک
یاں عجزِ بے ریا ہے نہ واں نازِ دل فریب
شکرِ بجا رہا گلۂ بے سبب تلک
ایسی ہی بے قراری رہی متصل اگر
اے شیفتہ ہم آج نہیں بچتے شب تلک
مصطفٰی خان شیفتہ

یہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دور

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 48
یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دور
یہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دور
دیوانہ میں نہیں کہ انا لیلیٰ لب پہ آئے
باتیں خلافِ وضع ہیں اہلِ ادب سے دور
مجھ کو سنا کے کہتے ہیں ہمدم سے، یاد ہے؟
اک آدمی کو چاہتے تھے ہم بھی اب سے دور
جو لطف میں بھی پاس پھٹکنے نہ دے کبھی
رکھیو الٰہی! ایسے کے مجھ کو غضب سے دور
کیوں کر میں انجمن میں تمہاری شریک ہوں
اربابِ رنج رہتے ہیں اہلِ طرب سے دور
ہم سے اسے معاملہ تھا جان و جسم کا
ہرگز ملا نہ گاہ، ہوا ہائے جب سے دور
تو بھی جو میرے پاس نہ آئے تو کیا کروں
تیرے ہی پاس سے تو میں رہتا ہوں سب سے دور
میں غیرِ بوالہوس نہیں ڈرتے ہو کس لئے
مجھ کو نہ رکھو بوسے میں تم لب کو لب سے دور
بوس و کنار کی نہ کروں گا ہوس کبھی
یہ خواہشیں ہیں عاشقِ حسرت طلب سے دور
آغازِ عمر ہی میں ہے ہم کو خیالِ حج
دلی جو شیفتہ ہے دیارِ عرب سے دور
مصطفٰی خان شیفتہ

گستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 26
میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہا
گستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہا
تغییر وضع کی ہے اشارہ وداع کا
یعنی جفا پہ خو گرِ الطاف کب رہا
میں رشک سے چلا تو کہا بے سبب چلا
اس پر جو رہ گیا تو کہا، بے سبب رہا
دم بھر بھی غیر پر نگہِ لطف کیوں ہے اب
اک عمر میں ستم کشِ چشمِ غضب رہا
تھا شب تو آہ میں بھی اثر، جذبِ دل میں بھی
کیوں کر نہ آئے شیفتہ مجھ کو عجب رہا
مصطفٰی خان شیفتہ

رہتی ہے خلش نالوں سے میرے دل شب میں

دیوان پنجم غزل 1688
فریاد سے کیا لوگ ہیں دن ہی کو عجب میں
رہتی ہے خلش نالوں سے میرے دل شب میں
حسرت کی جگہ ہے نہ کہ سبزان گل اندام
جاتے ہیں چلے آگے سے آتے نہیں ڈھب میں
افتادگی پر بھی نہ چھوا دامن انھوں کا
کوتاہی نہ کی دلبروں کے ہم نے ادب میں
کر خوف کَلک خَسپ کی جو سرخ ہیں آنکھیں
جلتے ہیں تر و خشک بھی مسکیں کے غضب میں
پایا نہ کنھوں نے اسے کوشش کی بہت میر
سب سالک و مجذوب گئے اس کی طلب میں
میر تقی میر

جوں ہم جلا کریں ہیں بھلا جلتے کب ہیں یے

دیوان سوم غزل 1284
برق و شرار و شعلہ و پروانہ سب ہیں یے
جوں ہم جلا کریں ہیں بھلا جلتے کب ہیں یے
لے موے سر سے ناخن پا تک بھری ہے آگ
جلتے ہیں دردمند پہ جلتے کڈھب ہیں یے
ہوتا ہے دل کا حال عجب غم سے اس گھڑی
کہتا ہے جب وہ طنز سے ہم کو عجب ہیں یے
آتی ہے گرم باد صبا اس کی اور سے
اپنے جگر کے جلنے کے بارے سبب ہیں یے
غربت پہ مہرباں ہوئے میری سو یہ کہا
ان کو غریب کوئی نہ سمجھے غضب ہیں یے
فرہاد و قیس کے گئے کہتے ہیں اب یہ لوگ
رکھے خدا سلامت انھوں کو کہ اب ہیں یے
سید ہیں میر صاحب و درویش و دردمند
سر رکھیے ان کے پائوں پہ جاے ادب ہیں یے
میر تقی میر

پر جی اسی کو اپنا ڈھونڈے ہے ڈھب نہیں کچھ

دیوان سوم غزل 1242
کہتے تو ہیں کہ ہم کو اس کی طلب نہیں کچھ
پر جی اسی کو اپنا ڈھونڈے ہے ڈھب نہیں کچھ
اخلاص و ربط اس سے ہوتا تو شور اٹھاتے
لب تشنہ اپنے تب ہیں دلبر سے جب نہیں کچھ
یاں اعتبار کریے جو کچھ وہی ہے ظاہر
یہ کائنات اپنی آنکھوں میں سب نہیں کچھ
رکھ منھ کو گل کے منھ پر کیا غنچہ ہو کے سوئے
ہے شوخ چشم شبنم اس کو ادب نہیں کچھ
دل خوں نہ ہووے کیونکر یکسروراے الفت
یا سابقے بہت تھے یا اس سے اب نہیں کچھ
یہ حال بے سبب تو ہوتا نہیں ہے لیکن
رونے کا لمحہ لمحہ ظاہر سبب نہیں کچھ
کر عشق میر اس کا مارے کہیں نہ جاویں
جلدی مزاج میں ہے اس سے عجب نہیں کچھ
میر تقی میر

لگ گیا ڈھب تو اسی شوخ سے ڈھب کرتے ہیں

دیوان سوم غزل 1214
ہجر تاچند ہم اب وصل طلب کرتے ہیں
لگ گیا ڈھب تو اسی شوخ سے ڈھب کرتے ہیں
روز اک ظلم نیا کرتے ہیں یہ دلبر اور
روز کہتے ہیں ستم ترک ہم اب کرتے ہیں
لاگ ہے جی کے تئیں اپنے اسی یار سے ایک
اور سب یاروں کا ہم لوگ تو سب کرتے ہیں
تم کبھو میر کو چاہو سو کہ چاہیں ہیں تمھیں
اور ہم لوگ تو سب ان کا ادب کرتے ہیں
ہوں جو بے حال اس اعجوبۂ عالم کے لیے
حال سن سن کے مرا لوگ عجب کرتے ہیں
میر سے بحث یہ تھی کچھ جو نہ تھے حرف شناس
اب سخن کرتے ہیں کوئی تو غضب کرتے ہیں
میر تقی میر

آیا کبھو یاں دن کو بھی یوں تو غضب آیا

دیوان سوم غزل 1069
جس خشم سے وہ شوخ چلا آج شب آیا
آیا کبھو یاں دن کو بھی یوں تو غضب آیا
اس نرگس مستانہ کو کر یاد کڑھوں ہوں
کیا گریۂ سرشار مجھے بے سبب آیا
راہ اس سے ہوئی خلق کو کس طور سے یارب
ہم کو کبھی ملنے کا تو اس کے نہ ڈھب آیا
کیا پوچھتے ہو دب کے سخن منھ سے نہ نکلا
کچھ دیکھتے اس کو مجھے ایسا ادب آیا
کہتے تو ہیں میلان طبیعت ہے اسے بھی
یہ باتیں ہیں ایدھر کو مزاج اس کا کب آیا
خوں ہوتی رہی دل ہی میں آزردگی میری
کس روز گلہ اس کا مرے تابہ لب آیا
جی آنکھوں میں آیا ہے جگر منھ تئیں میرے
کیا فائدہ یاں چل کر اگر یار اب آیا
آتے ہوئے اس کے تو ہوئی بے خودی طاری
وہ یاں سے گیا اٹھ کے مجھے ہوش جب آیا
جاتا تھا چلا راہ عجب چال سے کل میر
دیکھا اسے جس شخص نے اس کو عجب آیا
میر تقی میر

بے وجہ غضب رہنے کا پوچھیں جو سبب ہم

دیوان دوم غزل 858
محرم سے کسو روبرو ہوں کاشکے اب ہم
بے وجہ غضب رہنے کا پوچھیں جو سبب ہم
تدبیریں کریں اپنے تن زار و زبوں کی
افراط سے اندوہ کی ہوں آپ میں جب ہم
تو لاگو نہ ہو جی کا تو ناچار ہیں ورنہ
اس جنس گراں مایہ سے گذرے نہیں کب ہم
یک سلسلہ ہے قیس کا فرہاد کا اپنا
جوں حلقۂ زنجیر گرفتار ہیں سب ہم
کس دن نہ ملا غیر سے تو گرم علی الرغم
رہتے ہیں یوں ہی لوٹتے انگاروں پہ شب ہم
مجمع میں قیامت کے اک آشوب سا ہو گا
آنکلے اگر عرصے میں یوں نالہ بلب ہم
کیا معرفت اس سے ہوئی یاروں کو نہ سمجھے
اب تک تو نہیں پاتے ہیں کچھ یار کے ڈھب ہم
گہ نوچ لیا منھ کو گہے کوٹ لی چھاتی
دل تنگی ہجراں سے ہیں مغلوب غضب ہم
آغاز محبت میں تمامی ہوئی اپنی
اے واے ہوئے خاک بسر راہ طلب ہم
تربت سے ہماری نہ اٹھی گرد بھی اے میر
جی سے گئے لیکن نہ کیا ترک ادب ہم
میر تقی میر

جو رفتۂ محبت واقف ہے اس کے ڈھب کا

دیوان دوم غزل 738
حیراں ہے لحظہ لحظہ طرز عجب عجب کا
جو رفتۂ محبت واقف ہے اس کے ڈھب کا
کہتے ہیں کوئی صورت بن معنی یاں نہیں ہے
یہ وجہ ہے کہ عارف منھ دیکھتا ہے سب کا
نسبت درست جس کی اس رو و مو سے پائی
ہے درہم اور برہم حال اس کے روز و شب کا
افسوس ہے نہیں تو انصاف دوست ورنہ
شایان لطف دشمن شائستہ میں غضب کا
سودائی ایک عالم اس کا بنا پھرے ہے
ہر چند عزلتی ہے وہ خال کنج لب کا
منھ اس کے منھ کے اوپر شام و سحر رکھوں ہوں
اب ہاتھ سے دیا ہے سررشتہ میں ادب کا
کیا آج کل سے اس کی یہ بے توجہی ہے
منھ ان نے اس طرف سے پھیرا ہے میر کب کا
میر تقی میر

چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا

دیوان دوم غزل 732
اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا
چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا
طاقت سے میرے دل کی خبر تجھ کو کیا نہ تھی
ظالم نگاہ خشم ادھر کی غضب کیا
یکساں کیا نہیں ہے ہمیں خاک رہ سے آج
ایسا ہی کچھ سلوک کیا ان نے جب کیا
عمامہ لے کے شیخ کہیں میکدے سے جا
بس مغبچوں نے حد سے زیادہ ادب کیا
اس رخ سے دل اٹھایا تو زلفوں میں جا پھنسا
القصہ اپنے روز کو ہم نے بھی شب کیا
ظاہر ہوا نہ مجھ پہ کچھ اس ظلم کا سبب
کیا جانوں خون ان نے مرا کس سبب کیا
کچھ آگے آئے ہوتے جو منظور لطف تھا
ہم جی سے اپنے جاچکے تم قصد تب کیا
بچھڑے تمھارے اپنا عجب حال ہو گیا
جس کی نگاہ پڑ گئی ان نے عجب کیا
برسوں سے اپنے دل کی ہے دل میں کہ یار نے
اک دن جدا نہ غیر سے ہم کو طلب کیا
کی زندگی سو وہ کی موئے اب سو اس طرح
جو کام میر جی نے کیا سو کڈھب کیا
میر تقی میر

پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا

دیوان دوم غزل 671
رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا
پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا
ہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشت
کرتے ہو قہر لطف کی جاگہ غضب ہے کیا
عزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہے
مجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا
آئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئے
اس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا
حیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیں
یہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا
آنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھے
عالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا
اس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیں
گر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا
تم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیے
اپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا
کیونکر تمھاری بات کرے کوئی اعتبار
ظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا
اس مہ بغیر میر کا مرنا عجب ہوا
ہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا
میر تقی میر

ایک دم چھوڑ دو یوں ہی مجھے اب مت پوچھو

دیوان اول غزل 406
محرماں بے دمی کا میری سبب مت پوچھو
ایک دم چھوڑ دو یوں ہی مجھے اب مت پوچھو
گریۂ شمع کا اے ہم نفساں میں تھا حریف
گذری ہے رات کی صحبت بھی عجب مت پوچھو
سر پر شور سے میرے نہ کرو کوئی سوال
حشر تھے داخل خدام ادب مت پوچھو
لب پہ شیون مژہ پر خون و نگہ میں اک یاس
دن گیا ہجر کا جس ڈھنگ سے شب مت پوچھو
میرصاحب نئی یہ طرز ہو اس کی تو کہوں
موجب آزردگی کا وجہ غضب مت پوچھو
میر تقی میر

لہو آتا ہے جب نہیں آتا

دیوان اول غزل 78
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لہو آتا ہے جب نہیں آتا
ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا
صبر تھا ایک مونس ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا
دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش
گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا
عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ
بات کا کس کو ڈھب نہیں آتا
جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
پر سخن تا بلب نہیں آتا
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
میر تقی میر

وُہ دہشتیں ہیں کہ ہم شب کو شب بھی کہہ نہ سکیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 40
سلامتی کی ضمانت ہو، تب بھی کہہ نہ سکیں
وُہ دہشتیں ہیں کہ ہم شب کو شب بھی کہہ نہ سکیں
نمو پذیر ہے تہذیبِ جبر صدیوں سے
خدا معاف کرے اُس کو رب بھی کہہ نہ سکیں
گئی تو عمر گئی وضع داریاں نہ گئیں
جو بات کہہ نہ سکے تھے وُہ اب بھی کہہ نہ سکیں
تمام شہر کو وہ چٹکلے پسند آئے
جنہیں عمیق نظر میں ادب بھی کہہ نہ سکیں
ثبوتِ حُب وطن اس لئے وُہ مانگتے ہیں
کہ اپنی چاہ کو ہم منتخب بھی کہہ نہ سکیں
آفتاب اقبال شمیم

نہ شب کو دن سے شکایت ، نہ دن کو شب سے ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 35
تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت ، نہ دن کو شب سے ہے
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گِلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
ہُوا ہے جب سے دلِ ناصبُور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے
اگر شررِ ہے تو بھڑکے ، جو پھول ہے تو کِھلے
طرح طرح کی طلب ، تیرے رنگِ لب سے ہے
کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے
بمبئی
فیض احمد فیض

نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 33
تری امید، ترا انتظار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
ہوا ہے جب سے دلِ ناصبور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے
اگر شرر ہے تو بھڑکے، جو پھول ہے تو کھِلے
طرح طرح کی طلب، تیرے رنگِ لب سے ہے
کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے
ستارہء سحری ہمکلام کب سے ہے
لاہور
فیض احمد فیض

یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 161
ہجراں کے سیہ داغِ طلب سے ماخوذ
یہ شاعری ہے صحبتِ شب سے ماخوذ
ہم چُنتے رہے فرش و فلک کے الہام
ہم دونوں جہانوں کے ادب سے ماخوذ
ہے رات تری زلف دوتا سے نکلی
ہے صبح ترے عارض و لب سے ماخوذ
دھڑکن کی طرح چیخ رہی ہیں کب سے
نظمیں ہیں دلِ مہر بلب سے ماخوذ
ہم رات کے پرودہ نہیں ہیں منصور
ہم خواب ہیں صبحوں کے نسب سے ماخوذ
منصور آفاق

ایسے جینے کا سبب کیا ہو گا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ہر گھڑی فکر کہ اب کیا ہو گا
ایسے جینے کا سبب کیا ہو گا
دل جھکا جاتا ہے سرسے پہلے
اس سے بڑھ کر بھی ادب کیا ہو گا
وہ نہ آئیں گے سنا ہے لیکن
یوں ہوا بھی تو عجب کیا ہو گا
صبح میں دیر ہوئی جاتی ہے
کیا کہیں آج کی شب کیا ہو گا
دے گیا مات زمانہ باقیؔ
منفعل ہونے سے اب کیا ہو گا
باقی صدیقی