ٹیگ کے محفوظات: ادائی

بو کہ پھر کر بہار آئی ہے

دیوان پنجم غزل 1780
گل قفس تک نسیم لائی ہے
بو کہ پھر کر بہار آئی ہے
عشق دریا ہے ایک لنگردار
تہ کسو نے بھی اس کی پائی ہے
وہ نہ شرماوے کب تلک آخر
دوستی یاری آشنائی ہے
وے نہیں تو انھوں کا بھائی اور
عشق کرنے کی کیا منائی ہے
بے ستوں کوہکن نے کیا توڑا
عشق کی زور آزمائی ہے
بھیڑیں ٹلتی ہیں اس کے ابرو ہلے
چلی تلوار تو صفائی ہے
لڑکا عطار کا ہے کیا معجون
ہم کو ترکیب اس کی بھائی ہے
کج روی یار کی نہیں جاتی
یہی بے طور بے ادائی ہے
آنے کہتا ہے پھر نہیں آتا
یہی بدعہدی بے وفائی ہے
کر چلو نیکی اب تو جس تس سے
شاید اس ہی میں کچھ بھلائی ہے
برسوں میں میر سے ملے تو کہا
اس سے پوچھو کہ یہ کجائی ہے
میر تقی میر

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

دیوان چہارم غزل 1451
غزل میر کی کب پڑھائی نہیں
کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں
زباں سے ہماری ہے صیاد خوش
ہمیں اب امید رہائی نہیں
کتابت گئی کب کہ اس شوخ نے
بنا اس کی گڈّی اڑائی نہیں
نسیم آئی میرے قفس میں عبث
گلستاں سے دو پھول لائی نہیں
مری دل لگی اس کے رو سے ہی ہے
گل تر سے کچھ آشنائی نہیں
نوشتے کی خوبی لکھی کب گئی
کتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں
گلہ ہجر کا سن کے کہنے لگا
ہمارے تمھارے جدائی نہیں
جدا رہتے برسوں ہوئے کیونکے یہ
کنایہ نہیں بے ادائی نہیں
سیہ طالعی میری ظاہر ہے اب
نہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں
میر تقی میر

مری بخت آزمائی ہوچکی بس

دیوان سوم غزل 1143
امیروں تک رسائی ہوچکی بس
مری بخت آزمائی ہوچکی بس
بہار اب کے بھی جو گذری قفس میں
تو پھر اپنی رہائی ہوچکی بس
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب
بہت باہم لڑائی ہوچکی بس
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے
یہیں تک آشنائی ہوچکی بس
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی
غموں کی اب سمائی ہوچکی بس
برابر خاک کے تو کر دکھایا
فلک بس بے ادائی ہوچکی بس
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت
ہمارے ہاتھ آئی ہوچکی بس
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا
تری قدرت نمائی ہوچکی بس
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر
جہاں دی ٹک دکھائی ہوچکی بس
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میر
تمھاری میرزائی ہوچکی بس
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر