ٹیگ کے محفوظات: اختراع

آئنہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 283
حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے
آئنہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے
تا کُجا اے آگہی رنگِ تماشا باختن؟
چشمِ وا گر دیدہ آغوشِ وداعِ جلوہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

خانقہ میں کرتے ہیں صوفی سماع

دیوان سوم غزل 1154
ہے مری ہر اک غزل پر اجتماع
خانقہ میں کرتے ہیں صوفی سماع
وجد میں رکھتا ہے اہل فہم کو
میرے شعر و شاعری کا استماع
نیم بسمل چھوڑ دینا رحم کر
اس شکار افگن کا ہے گا اختراع
کچھ ضرر عائد ہوا میری ہی اور
ورنہ اس سے سب کو پہنچا انتفاع
یار دشمن ہو گیا اس کے سبب
ہے متاع دوستی بھی کیا متاع
دل جگر خوں ہو کے رخصت ہو گئے
حسرت آلودہ ہے کیا اشک وداع
میر درد دل نہ کہہ ظالم بس اب
ہو گیا ہے سامعوں کو تو صداع
میر تقی میر