ٹیگ کے محفوظات: احوال

پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے
اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا
جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے
کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ
مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے
پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں
لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے
دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو
ازسرِ نو فضا میں پر و بال کے پھول کھِلنے لگے
ہے اِدھر آرزوئے بقا اور اُدھر بہرِ زندہ دلاں
فصل در فصل تازہ بچھے جال کے پھول کھِلنے لگے
ہم نے سوچا تھا کچھ اور ماجد، مگر تارِ انفاس پر
اب کے تو اور بے ربط سُر تال کے پھول کھِلنے لگے
ماجد صدیقی

ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہم نے کھیلی وقت سے جو بھی چال گئی
ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی
ڈھانپنے والے تھے ہم جس سے سر اپنا
اُس سودے میں ساتھ ہی اپنی کھال گئی
خواہش، لُطف کی آخری حد چھُو لینے کی
چھین کے ہم سے کیا کیا ماہ و سال گئی
دیکھا رنگ اور رُوپ دلائے جس نے اِنہیں
پیڑوں کو آثار میں وُہ رُت ڈھال گئی
ہمیں چِڑانے باغ سے آتی تھی جو صبا
آخر ہم سے بھی ہو کر بے حال گئی
اُس چنچل کی بات کچھ ایسی پیچاں تھی
رگ رگ میں جو سو سو گرہیں ڈال گئی
ماجدؔ بات ہماری لیکھ سنورنے کی
ہر جاتی رُت اگلی رُت پر ٹال گئی
ماجد صدیقی

آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 50
شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر
آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر
اب کے سینہ اس بدن افگار کا
کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر
کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام
کون پُر احوال ہے پوچھو خبر
راہ میں اس شہسوار ناز کی
کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر
یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں
کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر
جون ایلیا

ہُوں قید ان کے درمیاں میعادِ ماہ و سال تک

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 40
یہ وسعتیں تا آسماں ، گہرائیاں پاتال تک
ہُوں قید ان کے درمیاں میعادِ ماہ و سال تک
کیسے، کہاں ڈھونڈوں اُسے وہ جو ورائے چشم ہے
آئینہ دکھلاتا نہیں ، اپنے ہی خدوخال تک
میری کتاب ہست میں ، محفوظ ہے لکھا ہوا
ہر واقعہ، ہر حادثہ، روزِ ازل سے حال تک
اُس پیرِ دانشمند کی عمر طویل اُلٹے اگر
دیکھے، ہے کتنا فاصلہ اقوال سے افعال تک
شاید کہ تم ہو جانتے، چہرہ شناسی کا ہنر
آیا ہوں کتنی دیر سے، پوچھے نہیں احوال تک
آفتاب اقبال شمیم

تال سے باہر کبھی ہے اور کبھی ہے تال میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 37
بس یہی دشواریاں ہیں آدمی کی چال میں
تال سے باہر کبھی ہے اور کبھی ہے تال میں
اپنے فردا کو بدل سکتا ہوں ماضی کو نہیں
یعنی آدھا دخل ہے میرا مرے احوال میں
بُن رہا ہے حرف و ہندسہ سے جو تارِ عنکبوت
تُو کہیں پکڑا نہ جائے آپ اپنے جال میں
خود کلامی اور تنہائی میں کمرے کا سفر
کیا بتاؤں اک صدی کاٹی ہے میں نے سال میں
ہے تماشا بند آنکھوں میں اُبھرنا عکس کا
روشنی آئی کہاں سے خواب کی تمثال میں
آفتاب اقبال شمیم