ٹیگ کے محفوظات: احمریں

ذرا سی خشک ہے، بنجر نہیں، مری ہی طرح

ہوئی ہے زرد سی دیکھو زمیں، مری ہی طرح
ذرا سی خشک ہے، بنجر نہیں، مری ہی طرح
نسیمِ صبح کے جھونکوں میں جھومتا برگد
یہ کہہ رہا ہے کہو آفریں مری ہی طرح
اسے بھی اپنے درُوں کا کبھی تو گیان ملے
یہ آئنہ ہو اگر شعلہ بیں مری ہی طرح
بھنور میں ڈوب نہ جانا کہیں گمانوں کے
چلے ہو تم سُوئے بحرِ یقیں مری ہی طرح
اسے بھی شام نے آنچل میں اپنے ڈھانپ لیا
یہ دن بھی دیکھو ہوا احمریں، مری ہی طرح
افق بھی رات کی آمد کے خوف سے یاؔور
پٹخ رہا ہے زمیں پر جبیں، مری ہی طرح
یاور ماجد

سارا گھر احمریں نظر آیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 37
جب وہ ناز آفریں نظر آیا
سارا گھر احمریں نظر آیا
میں نے جب بھی نگاہ کی تو مجھے
اپنا گل شبنمیں نظر آیا
حسبِ خواہش میں اس سے ملتے وقت
سخت اندوہ گیں نظر آیا
گرم گفتار ہے وہ کم گفتار
کیا اسے میں نہیں نظر آیا
وقتِ تخصت، دمِ سکوت اور صحن
آج چرخِ بریں نظر آیا
شہر ہا شہر گھومنے والو
تم کو وہ بھی کہیں نظر آیا
اُس کو گم کر کے اپنا ہر دُرِ اشک
ننگِ ہر آستیں نظر آیا
کون آیا ہے دیکھ تیرہ نگاہ!
نظر آیا؟ نہیں نظر آیا
تُو مجھے اے مرے فروغِ نگاہ
اب دمِ واپسیں نظر آیا
جون ایلیا