ٹیگ کے محفوظات: احتمال

مثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حال

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 3
اصحابِ درد کو ہے عجب تیزیِ خیال
مثل زبانِ نطق قلم کی زبانِ حال
عہدِ وفا کیا ہے، نباہیں گے، شک عبث
وعدہ کیا ہے، آئیں گے، بے جا ہے احتمال
کیا کچھ وہاں سے منزلِ مقصود پاس ہے
یا ایھاالذینَ سَکَنتم عَلَی الجبَال
ناز و غرور ٹھیک ہے، جور و جفا درست
کس کے ہوا نصیب یہ حسن اور یہ جمال
ساقی پلا وہ بادہ کہ غفلت ہو آگہی
مطرب سنا وہ نغمہ کہ ہو جس سے قال، حال
ہم اگلے عشق والوں کی تقلید کیوں کریں
اے خوردہ گیر، نحن رجال و ہم رجال
اہلِ طریق کی بھی روش سب سے ہے الگ
جتنا زیادہ شغل زیادہ فراغ بال
ہنگامِ عہد کام میں لائے وہ ایسے لفظ
جن کو معانیِ متعدد پر اشتمال
ماذا لتنہبن و انتن فی البیوت
ماذا تقتلن و انتن فی الحجال
مصطفٰی خان شیفتہ

حال ہے اور قال ہے کچھ اور

دیوان اول غزل 217
شیخی کا اب کمال ہے کچھ اور
حال ہے اور قال ہے کچھ اور
وعدے برسوں کے کن نے دیکھے ہیں
دم میں عاشق کا حال ہے کچھ اور
سہل مت بوجھ یہ طلسم جہاں
ہر جگہ یاں خیال ہے کچھ اور
تو رگ جاں سمجھتی ہو گی نسیم
اس کے گیسو کا بال ہے کچھ اور
نہ ملیں گو کہ ہجر میں مر جائیں
عاشقوں کا وصال ہے کچھ اور
کوزپشتی پہ شیخ کی مت جائو
اس پہ بھی احتمال ہے کچھ اور
اس میں اس میں بڑا تفاوت ہے
کبک کی چال ڈھال ہے کچھ اور
میر تلوار چلتی ہے تو چلے
خوش خراموں کی چال ہے کچھ اور
میر تقی میر