ٹیگ کے محفوظات: احتساب

بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا
بِکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا
جنم بھی روک دیا، آنے والی نسلوں کا
ستم نے اپنا تحفّظ تھا، بے حساب کیا
وُہ اپنے آپ کو، کیوں عقلِ کُل سمجھتا تھا
فنا کا راستہ، خود اُس نے انتخاب کیا
بہت دنوں میں، کنارا پھٹا ہے جوہڑ کا
زمیں نے خود ہی، تعفّن کا احتساب کیا
یہ ہم کہ خیر ہی، پانی کا گُن سمجھتے تھے
ہمیں بھنور نے، بالآخر ہے لاجواب کیا
نہ ہمکنارِ سکوں، ہو سکا کبھی ماجدؔ
یہ دل کہ ہم نے جِسے، وقفِ اضطراب کیا
ماجد صدیقی

تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہُوا ہے سچ مچ یہی کہ مَیں نے یہ خواب دیکھا
تمام بستی میں ایک سا اضطراب دیکھا
خُدا سے بھی ہے سلوک میرا معاوضے کا
کِیا ہے میں نے وُہی جو کارِ ثواب دیکھا
بھرا ہے کیا کیا نجانے چھالوں میں اپنے پانی
بہ دشتِ اُمید جانے کیا کیا سراب دیکھا
چھڑا جو قّصہ کبھی غلاموں کی منفعت کا
سخن میں آقاؤں کے نہ کیا اجتناب دیکھا
کسی عمارت پہ لوحِ کم مائیگاں نہ لٹکے
بڑے بڑوں ہی کے نام یہ انتساب دیکھا
پہنچ میں آیا جو بچّۂ میش بھیڑئیے کی
ندی کنارے اُسی کا ہے احتساب دیکھا
نہ بچ سکا تو بھی خود فریبی کی دلکشی سے
ترے بھی بالوں میں اب کے ماجدؔ خضاب دیکھا
ماجد صدیقی

کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
سرِ سپیدۂ مُو، پردۂ خضاب آیا
کتابِ عمر میں لو یہ بھی ایک باب آیا
گماں یہ ہے کہ ستارے زمیں پہ اُتریں گے
سرِ ورق جو کبھی دل کا اضطراب آیا
قدم اُکھڑنے تلک تھیں صلابتیں ساری
پھر اُس کے بعد تو ہر حادثہ شتاب آیا
کبھی اُٹھا کے نہ دیکھا خود آئنہ جس نے
وہ شخص پاس مرے بہرِ احتساب آیا
ملائے آنکھ نہ مجھ دشت سے جبھی ماجدؔ
برس کے پھر کسی دریا یہ ہے سحاب آیا
ماجد صدیقی

یہ سہم سا خواب خواب کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
دہشت ہے کہ اضطراب کیا ہے
یہ سہم سا خواب خواب کیا ہے
کھولا ہے یہ راز رہزنوں نے
کمزور کا احتساب کیا ہے
دھرتی یہ فلک سے پُوچھتی ہے
پاس اُس کے اَب اور عذاب کیا ہے
مشکل ہوئی اب تمیز یہ بھی
کیا خُوب ہے اور خراب کیا ہے
کہتے ہیں جو دل میں آئے ماجدؔ!
ایسا بھی ہمیں حجاب کیا ہے
ماجد صدیقی

ہم سے کرتا ہے اب حجاب بہت

دیوان ششم غزل 1816
منھ پہ رکھتا ہے وہ نقاب بہت
ہم سے کرتا ہے اب حجاب بہت
چشمک گل کا لطف بھی نہ اٹھا
کم رہا موسم شباب بہت
دیر بھی کچھ لگی نہ مرتے ہمیں
عمر جاتی رہی شتاب بہت
ڈھونڈتے اس کو کوچے کوچے پھرے
دل نے ہم کو کیا خراب بہت
چلنا اپنا قریب ہے شاید
جاں کرے ہے اب اضطراب بہت
توبہ مے سے بہار میں نہ کروں
گو کرے شیخ احتساب بہت
اس غصیلے سے کیا کسو کی نبھے
مہربانی ہے کم عتاب بہت
کشتن مردماں اگر ہے ثواب
تو ہوا ہے اسے ثواب بہت
دیر تک کعبے میں تھے شب بے ہوش
پی گئے میر جی شراب بہت
میر تقی میر

ساتھ میرے دل گڑا تو آچکا مرنے کا خواب

دیوان ششم غزل 1813
مارے ہی ڈالے ہے جس کا زندگی میں اضطراب
ساتھ میرے دل گڑا تو آچکا مرنے کا خواب
ٹک ٹھہرتا بھی تو کہتے تھا کسو بجلی کی تاب
یا کہ نکہت گل کی تھا آیا گیا عہد شباب
کی نماز صبح کو کھوکر نماز اشراق کی
ہو گیا مجھ پر ستم اچٹا نہ ٹک مستی میں خواب
دیکھنا منھ یار کا اس وجہ سے ہوتا نہیں
یا الٰہی دے زمانے سے اٹھا رسم نقاب
ضعف ہے اس کے مرض اور اس کے غم سے الغرض
دل بدن میں آدمی کے ایک ہے خانہ خراب
یار میں ہم میں پڑا پردہ جو ہے ہستی ہے یہ
بیچ سے اٹھ جائے تو ہووے ابھی رفع حجاب
صورت دیوار سے مدت کھڑے در پر رہے
پر کبھو صحبت میں اس کی ہم ہوئے نہ باریاب
مے سے توبہ کرتے ہی معقول اگر ہم جانتے
ہم پہ شیخ شہر برسوں سے کرے ہے احتساب
جمع تھے خوباں بہت لیکن پسند اس کو کیا
کیا غلط میں نے کیا اے میر وقت انتخاب
میر تقی میر