ٹیگ کے محفوظات: اجداد

واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
اِک اِک قدم پہ ہے نئی ایجاد کیا کہیں
واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں
صحرا میں جیسے کوئی بگولہ ہو بے مُہار
ہم آپ ہیں کُچھ ایسے ہی آزاد کیا کہیں
ہم مطمئن ہیں جس طرح اینٹوں کو جوڑ کر
یوں بھی کبھی ہوئے نگر آباد کیا کہیں
ہم نے تو کوہِ جُہل و کسالت کیا ہے زیر
کہتے ہیں لوگ کیوں ہمیں فرہاد کیا کہیں
باٹوں سے تولتے ہیں جو پھولوں کی پتّیاں
حق میں ہمارے فن کے وہ نقّاد کیا کہیں
ہم جنس اوجِ تخت سے لگتے ہیں کیوں حقیر
ماجِد یہ ہم کہ جو نہیں شہ زاد کیا کہیں
ماجد صدیقی

جس کے کندھوں پر ابھی تک بوجھ ہے اجداد کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
کیا ادا کر پائے گا وہ شخص حق اولاد کا
جس کے کندھوں پر ابھی تک بوجھ ہے اجداد کا
جاں سے جانے میں تو کچھ ایسی کسر باقی نہ تھی
اتفاقاً وار ہی اوچھا پڑا صّیاد کا
لٹ چکی شاخوں کے زیور اُن کو لوٹائے گا کون
لاکھ اب مونس سہی موسم یہ ابر و باد کا
رتبۂ پیغمبری سے ہو تو ہو اِس کا علاج
ورنہ مشکل ہے سِدھانا پیٹ سے شدّاد کا
آج کی اِک پل بھی کر لو گے جو پابندِ قلم
مرتبہ پاؤ گے ماجدؔ مانی و بہزادؔ کا
ماجد صدیقی