ٹیگ کے محفوظات: اجاگر

اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 70
اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے
اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے
جب تک رہی جگر میں لہو کی ذرا سی بوند
مٹھی میں اپنی بند سمندر لگا مجھے
مرجھا گیا جو دل میں اجالے کا سرخ پھول
تاروں بھرا یہ کھیت بھی بنجر لگا مجھے
اب یہ بتا کہ روح کے شعلے کا کیا ہے رنگ
مَرمَر کا یہ لباس تو سندر لگا مجھے
کیا جانیے کہ اتنی اداسی تھی رات کیوں
مہتاب اپنی قبر کا پتھر لگا مجھے
آنکھوں کو بند کر کے بڑی روشنی ملی
مدھم تھا جو بھی نقش، اجاگر لگا مجھے
یہ کیا کہ دل کے دیپ کی لَو ہی تراش لی
سورج اگر ہے ، کرنوں کی جھالر لگا مجھے
صدیوں میں طے ہوا تھا بیاباں کا راستہ
گلشن کو لوٹتے ہوئے پل بھر لگا مجھے
میں نے ا سے شریکِ سفر کر لیا شکیبؔ
اپنی طرح سے چاند جو بے گھر لگا مجھے
شکیب جلالی

چار سو فوراً سراسر اور رنگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 261
ہم بدن ہوتے ہی بستر اور رنگ
چار سو فوراً سراسر اور رنگ
بھر گیا ہوں میں ترے انوار سے
بھیج دے بس اک دیابھر اور رنگ
اترا ہوں قوسِ قزح سے میں ابھی
ہیں مگر تیرے لبوں پراور رنگ
روشنی تھوڑی سی بہتر جب ہوئی
ہو گئے یکدم اجاگر اور رنگ
کینوس منصور صبحوں کا کہے
اک تناسب میں ہیں منظر اور رنگ
منصور آفاق