ٹیگ کے محفوظات: اجاڑ

اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی

پہلے ہی زندگی تھی ہماری پہاڑ سی
اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی
دنیا اِسے خلیج بنا دے گی ایک دن
ہم دونوں کے جو بیچ پڑی ہے دراڑ سی
مشکِل ہُوا پتنگ کو اپنی سنبھالنا
الجھی ہُوئی ہے ڈور سے کوئی دُگاڑ سی
اپنی حدود کا بھی کچھ اِدراک چاہیے
اچھا ہے درمیاں میں رہے ایک باڑ سی
تھی بے اثر غزالِ شکستہ کی آہِ نرم
اب چاہیے ہے شیرِ ببر کی دہاڑ سی
باصر کاظمی

جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر

دیوان اول غزل 213
غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے
پچھتائوگے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
یارب رہ طلب میں کوئی کب تلک پھرے
تسکین دے کہ بیٹھ رہوں پائوں گاڑ کر
منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہے
آئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر
غالب کہ دیوے قوت دل اس ضعیف کو
تنکے کو جو دکھادے ہے پل میں پہاڑ کر
نکلیں گے کام دل کے کچھ اب اہل ریش سے
کچھ ڈھیر کرچکے ہیں یہ آگے اکھاڑ کر
اس فن کے پہلوانوں سے کشتی رہی ہے میر
بہتوں کو ہم نے زیر کیا ہے پچھاڑ کر
میر تقی میر

رکھ دیں ترے فراق نے آنکھیں اجاڑ کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 575
پتھر کے رتجگے میری پلکوں میں گاڑ کے
رکھ دیں ترے فراق نے آنکھیں اجاڑ کے
اتنی کوئی زیادہ مسافت نہیں مگر
مشکل مزاج ہوتے ہیں رستے پہاڑ کے
آنکھوں سے خدو خال نکالے نہ جا سکے
ہر چند پھینک دی تری تصویر پھاڑ کے
یہ بھولپن نہیں ہے کہ سورج کے آس پاس
رکھے گئے ہیں دائرے کانٹوں کی باڑ کے
مٹی میں مل گئی ہے تمنا ملاپ کی
کچھ اور گر پڑے ہیں کنارے دراڑ کے
بے مہر موسموں کو نہیں جانتا ابھی
خوش ہے جو سائباں سے تعلق بگاڑ کے
دو چار دن لکھی تھی جدائی کی سرگزشت
منصور ڈھیر لگ گئے گھر میں کباڑ کے
منصور آفاق

کیسے نکلتے زخم سے، کیسے پہاڑ کاٹتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 527
چیزوں سے گرد جھاڑتے، لان کی باڑ کاٹتے
کیسے نکلتے زخم سے، کیسے پہاڑ کاٹتے
پچھلی گلی کی نیند سے آتے طبیب خواب کے
ہجر کی فصد کھولتے، درد کی ناڑ کاٹتے
چلتیں گھڑی کی سوئیاں ، اپنے بدلتے روز و شب
دن کا ملال ٹوٹتا، شب کا بگاڑ کاٹتے
قیدی نظام زر کے ہیں دست بریدہ لوگ ہم
دانتوں سے کیسے لوہے کے بھاری کواڑ کاٹتے
قوسِ قزح بچھا کے ہم کنجِ صبا میں بیٹھ کر
دیدئہ صادقین سے تھور کا جھاڑ کاٹتے
یاد کے راٹ وائلر، ہوتے اگر نہ آس پاس
بھیڑے دشتِ درد کے جسم کو پھاڑ کاٹتے
حسنِ طلب کے شہر میں گنتے بدن کے لوتھڑے
تیغِ سکوتِ مرگ سے من کا کراڑ کاٹتے
بیج نئے وصال کے بوتے کہ ہم سیہ نصیب
کشتِ خرابِ عمر سے پچھلا کباڑ کاٹتے
لاتے کہیں سے ہم کوئی ابرِ حیات کھنچ کر
شاخِ خزاں تراشتے، دکھ کا اجاڑ کاٹتے
آتی تری ہوا اگر اپنی گلی کے موڑ تک
چیت کے صحنِ سبز میں عمر کا ہاڑ کاٹتے؟
اچھے دنوں کو سوچتے دونوں کہیں پہ بیٹھ کر
ہاتھوں کو تھام تھام کے لمبی دیہاڑ کاٹتے
منصور آفاق

کوئی طلسمی باڑ لگا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 76
چاروں اور پہاڑ لگا
کوئی طلسمی باڑ لگا
غم کا کاٹھ کباڑ لگا
سارا شہر اجاڑ لگا
دنیا ایک مثلث ہے
دل میں تین کواڑ لگا
ہر اک عشق کی بستی کا
اشک شمار کراڑ لگا
چل منصور محبت کے
دل میں ایک دراڑ لگا
منصور آفاق

ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 13
گھر ہے وحشت خیر اور بستی اجاڑ
ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال
اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار
پر نہیں زاہد کوئی ٹٹّی کی آڑ
عید اور نو روز ہے سب دل کے ساتھ
دل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباں
کر لیا ساری خدائی کا بگاڑ
الطاف حسین حالی

سجناں دیا وچھوڑیا، جنج ہووی سانوں ساڑ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 2
آہُن سینہ بھِچ لَے، دل دی کڈھ ہواڑ
سجناں دیا وچھوڑیا، جنج ہووی سانوں ساڑ
سِنیاں ہِینہاں چِیکدی، منجی نویں نکور
اُنج آکھن نوں شوکدی، کمرے وچ اجاڑ
تِلکن اِک پچھاڑ گئی، یا سوچ دا سی کوئی بھم
مَیں وی اِنج ساں جاپدا، جِنج ٹھُکیا دھرت پہاڑ
کِیہ کجھ دے گئی ہسدیاں، اوہدے مُکھ دی رُت
ہوٹھیں برف سیال جیہئی، سینہ بھخدا ہاڑ
ایتھے ائی کتھے مہکدا، نِگھیّ سُکھ دا رنگ
دل دا بوہا کھول کے، اکھیاں ہور اُگھاڑ
میں مرزا جٹ ویلیا، توں ایں خان شَمیر
بَچیا ائی کوئی تِیر تے اوہ وی، چِلّے چاہڑ
قسمت ماں سوتیلڑی، چُپڑیاں رکھدی کج
ماجدُ مَین پئی دینوندی، نت تَویاں دا ساڑ
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)