ٹیگ کے محفوظات: اثر

لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر

ہم آبیاری خونِ جگر سے کریں اگر
لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر
بولیں گے جب ملے گا کوئی ہم نوا اِنہیں
بیٹھے ہوئے ہیں مُرغ جو منقار زیرِ پر
دل چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جلتا ہے اس لیے
ہوتے ہیں اصل بات سے ہم لوگ بے خبر
وہ لوگ مدرسوں میں سِکھانے لگے زباں
جو عِلم کو عِلَم کہیں اور صبر کو صَبَر
باصِر نے تجربوں سے نہ سیکھا کوئی سبق
ہوتا نصیحتوں کا بھلا اس پہ کیا اثر
باصر کاظمی

لیکن وہ بے کلی جو اِدھر ہے اُدھر نہیں

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں
لیکن وہ بے کلی جو اِدھر ہے اُدھر نہیں
آوازِ رفتگاں مجھے لاتی ہے اِس طرف
یہ راستہ اگرچہِمری رہگذر نہیں
چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاس
پھر کیا ہُوا چمن میں مجھے کچھ خبر نہیں
کچھ اور ہو نہ ہو چلو اپنا ہی دل جلے
اتنا بھی اپنی آہ میں لیکن اثر نہیں
آتی نہیں ہے اِن سے شناسائی کی مہک
یہ میرے اپنے شہر کے دیوار و در نہیں
باصر کاظمی

جیسا بھی حال ہو نگہِ یار پر نہ کھول

احمد فراز ۔ غزل نمبر 40
آنسو نہ روک دامنِ زخمِ جگر نہ کھول
جیسا بھی حال ہو نگہِ یار پر نہ کھول
جب شہر لُٹ گیا ہے تو کیا گھر کو دیکھنا
کل آنکھ نم نہیں تھی تو اب چشمِ تر نہ کھول
چاروں طرف ہیں دامِ شنیدن بچھے ہوئے
غفلت میں طائرانِ معانی کے پر نہ کھول
کچھ تو کڑی کٹھور مسافت کا دھیان کر
کوسوں سفر پڑا ہے ابھی سے کمر نہ کھول
عیسیٰ نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے
انجیلِ آگہی کے ورق عمر بھر نہ کھول
امکاں میں ہے تو بند و سلاسل پہن کے چل
یہ حوصلہ نہیں ہے تو زنداں کے در نہ کھول
میری یہی بساط کہ فریاد ہی کروں
تو چاہتا نہیں ہے تو بابِ اثر نہ کھول
تُو آئینہ فروش و خریدار کور چشم
اس شہر میں فراز دکانِ ہنر نہ کھول
احمد فراز

پھر ایک رنج سے دیوار و در کو دیکھتے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 45
نگاہِ شوق سے راہِ سفر کو دیکھتے ہیں
پھر ایک رنج سے دیوار و در کو دیکھتے ہیں
نہ جانے کس کے بچھڑنے کا خوف ہے اُن کو
جو روز گھر سے نکل کر شجر کو دیکھتے ہیں
یہ روز و شب ہیں عبارت اسی توازن سے
کبھی ہنر کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ہمارے طرزِ توجہ پہ خوش گمان نہ ہو
تجھے نہیں تری تابِ نظر کو دیکھتے ہیں
ہمارے سامنے دریا ہیں سلسلوں کے رواں
پہ کیا کریں کہ تری چشمِ تر کو دیکھتے ہیں
ہم اہلِ حرص و ہوس تجھ سے بے نیاز کہاں
دعا کے بعد دعا کے اثر کو دیکھتے ہیں
یہ بے سبب نہیں سودا خلا نوردی کا
مسافرانِ عدم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
وہ جس طرف ہو نظر اُس طرف نہیں اٹھتی
وہ جا چکے تو مسلسل اُدھر کو دیکھتے ہیں
ہمیں بھی اپنا مقلد شمار کر غالبؔ
کہ ہم بھی رشک سے تیرے ہنر کو دیکھتے ہیں
عرفان ستار

اندر سے بھی کوئی مرے پر کاٹ رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 121
صیّاد تو امکان سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مرے پر کاٹ رہا ہے
اے چادر منصب، ترا شوقِ گلِ تازہ
شاعر کا ترے دستِ ہُنر کاٹ رہا ہے
جس دن سے شمار اپنا پناہگیروں میں ٹہرا
اُس دن سے تو لگتا ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے
کس شخص کا دل میں نے دُکھایا تھا، کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اثر کاٹ رہا ہے
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
دستار کے ہوتے ہوۓ سر کاٹ رہا ہے
پروین شاکر

دھیرے سے میرے ہاتھ کو چُھو کر گزر گئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 74
خُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئی
دھیرے سے میرے ہاتھ کو چُھو کر گزر گئی
آندھی کی زد میں آئے ہُوئے پُھولوں کی طرح
میں ٹکڑے ٹکڑے ہوکے فضا میں بکھر گئی
شاخوں نے پُھول پہنے تھے کچھ دیر قبل ہی
کیا ہو گیا،قبائے شجر کیوں اُتر گئی
اُن اُنگلیوں کا لمس تھا اور میری زُلف تھی
گیسو بکھر رہے تھے تو قسمت سنورگئی
اُترے نہ میرے گھر میں وہ مہتاب رنگ لوگ
میری دُعائے نیم شبی بے اثر گئی
پروین شاکر

طاقت ہمیں کہاں کہ شبِ غم سحر کریں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 72
مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریں
طاقت ہمیں کہاں کہ شبِ غم سحر کریں
تزئین میری گور کی لازم ہے خوب سی
تقریبِ سیر ہی سے وہ شاید گزر کریں
اب ایک اشک ہے دُرِ نایاب، وہ کہاں
تارِ نظر جو گریہ سے سلکِ گہر کریں
وہ دوست ہیں انہیں جو اثر ہو گیا تو کیا
نالے ہیں وہ جو غیر کے دل میں اثر کریں
آئے تو ان کو رنج، نہ آئے تو مجھ کو رنج
مرنے کی میرے کاش نہ ان کو خبر کریں
ہے جی میں سونگھیں نکہتِ گل جا کے باغ میں
بس کب تک التجائے نسیمِ سحر کریں
اب کے ارادہ ملکِ عدم کا ہے شیفتہ
گھبرا گئے کہ ایک جگہ کیا بسر کریں
شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریں
جب یوں نگاہبانیِ مرغِ سحر کریں
محفل میں اک نگاہ اگر وہ ادھر کریں
سو سو اشارے غیر سے پھر رات بھر کریں
طوفانِ نوح لانے سے اے چشم فائدہ؟
دو اشک بھی بہت ہیں، اگر کچھ اثر کریں
آز و ہوس سے خلق ہوا ہے یہ نامراد
دل پر نگاہ کیا ہے، وہ مجھ پر نظر کریں
کچھ اب کے ہم سے بولے تو یہ جی میں ہے کہ پھر
ناصح کو بھی رقیب سے آزردہ تر کریں
واں ہے وہ نغمہ جس سے کہ حوروں کے ہوش جائیں
یاں ہے وہ نالہ جس سے فرشتے حذر کریں
اہلِ زمانہ دیکھتے ہیں عیب ہی کو بس
کیا فائدہ جو شیفتہ عرضِ ہنر کریں
مصطفٰی خان شیفتہ

ہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آج

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 43
اے شیفتہ نویدِ شبِ غم سحر ہے آج
ہم تابِ آفتاب، فروغِ قمر ہے آج
آہنگِ دل پذیر سے مطرب ہے جاں نواز
آہِ جگر خراش کا ظاہر اثر ہے آج
دل سے کشادہ تر نہ ہو کیوں کر فضائے بزم
تنگیِ خانہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج
فانوس میں نہ شمع، نہ شیشے میں ہے پری
ساغر میں جس بہار سے مے جلوہ گر ہے آج
پروانوں کا دماغ بھی ہے آسمان پر
نورِ چراغ میں جو فروغِ قمر ہے آج
ہر سمت جلوہ گر ہیں جوانانِ لالہ رُو
گلزار جس کو کہتے ہیں وہ اپنا گھر ہے آج
سامان وہ کہ آئے نہ چشمِ خیال میں
آ اے رقیب دیکھ کہ پیشِ نظر ہے آج
وہ دن گئے کہ ربطِ سر و سنگ تھا بہم
شکرانے کے سجود ہیں اور اپنا سر ہے آج
اسبابِ عیش یہ جو مہیا ہے شیفتہ
کیا پردہ تم سے، آنے کی اُن کے خبر ہے آج
مصطفٰی خان شیفتہ

مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 59
مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن
مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن
اب نہ کوئی دن مرے گھر جائے گا
جانے کس کے گھر گئے مرے دن
اب نہیں ہیں مرے کوئی دن رات
کہ مجھ ہی کو بسر گئے مرے دن
ساری راتیں گئیں مری بے حال
مرے دن ! بے اثر گئے مرے دن
خوشا اب انتظار ہے نہ امید
یار یاراں ! سدھر گئے مرے دن
اب میں بس رہ گیا ہوں راتوں میں
مر گئے جون ! مر گئے مرے دن
جون ایلیا

سارا نشہ اُتر گیا جانم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 55
دل تمنا سے ڈر گیا جانم
سارا نشہ اُتر گیا جانم
اک پلک بیچ رشتہء جاں سے
ہر زمانہ گزر گیا جانم
تھا غضب فیصلے کا اِک لمحہ
کون پھر اپنے گھرگیا جانم
جانے کیسی ہوا چلی اک بار
دل کا دفتر بِکھر گیا جانم
اپنی خواب و خیال دنیا کو
کون برباد کر گیا جانم
تھی ستم ہجر کی مسیحائی
آخرش زخم بھر گیا جانم
اب بَھلا کیا رہا ہے کہنے کو
یعنی میں بے اثر گیا جانم
نہ رہا دل نہ داستاں دل کی
اب تو سب کچھ بسر گیا جانم
زہر تھا اپنے طور سے جینا
کوئی اِک تھا جو مر گیا جانم
جون ایلیا

کوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 52
شہر بہ شہر کر سفر زادِ سفر لیے بغیر
کوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیر
کوہ و کمر میں ہم صفیر کچھ نہیں اب بجز ہوا
دیکھیو پلٹیو نہ آج شہر سے پَر لیے بغیر
وقت کے معرکے میں تھیں مجھ کو رعایتیں ہوس
میں سرِ معرکہ گیا اپنی سِپر لیے بغیر
کچھ بھی ہو قتل گاہ میں حُسنِ بدن کا ہے ضرر
ہم نہ کہیں سے آئیں گے دو پر سر لیے بغیر
قریہء گریہ میں مرا گریہ ہنرورانہ ہے
یاں سے کہیں ٹلوں گا میں دادِ ہنر لیے بغیر
اُسکے بھی کچھ گِلے ہیں دل۔۔ان کا حساب تم رکھو
دید نے اس میں کی بسر اس کی خبر لیے بغیر
اُس کا سخن بھی جا سے ہے اور وہ یہ کہ جون تم
شہرہء شہر ہو تو کیا شہر میں گھر لیے بغیر
جون ایلیا

سوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 181
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
سوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں
مگر غبار ہُوے پر ہَوا اُڑا لے جائے
وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟
کہ غیرِ جلوۂ گُل رہ گزر میں خاک نہیں
بھلا اُسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتا
اثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں
خیالِ جلوۂ گُل سے خراب ہیں میکش
شراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں
ہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہ
سوائے حسرتِ تعمیر، گھر میں خاک نہیں
ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
کُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 116
گلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آج
قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج
آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
تارِ نفس کمندِ شکارِ اثر ہے آج
اے عافیت! کنارہ کر، اے انتظام! چل
سیلابِ گریہ در پےِ دیوار و در ہے آج
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل کوئی لے گیا ہے تو میر ٹک جگر کر

دیوان ششم غزل 1827
زانو پہ سر ہے اکثر مت فکر اس قدر کر
دل کوئی لے گیا ہے تو میر ٹک جگر کر
خورشید و ماہ دونوں آخر نہ دل سے نکلے
آنکھوں میں پھر نہ آئے جی سے مرے اتر کر
یوسف عزیز دلہا جا مصر میں ہوا تھا
ذلت جو ہو وطن میں تو کوئی دن سفر کر
اے ہمنشیں غشی ہے میں ہوش میں نہیں ہوں
مجھ کو مری زبانی سو بار اب خبر کر
کیا حال زار عاشق کریے بیاں نہ پوچھو
کرتا ہے بات کوئی دل کی تو چشم تر کر
دیتے نہیں ہیں سونے ٹک آہ و نالے اس کے
یارب شب جدائی عاشق کی بھی سحر کر
اتنا ہی منھ چھپایا شوخ اس کے محرموں نے
جو بچھ گئی ہیں زلفیں اس چہرے پر بکھر کر
کیا پھیر پھیر گردن باتیں کرے ہے سب میں
جاتے ہیں غش کیے ہم مشتاق منھ ادھر کر
بن دیکھے تیرے میں تو بیمار ہو گیا ہوں
حال تبہ میں میرے تو بھی تو ٹک نظر کر
رخنے کیے جو تو نے پتھر کی سل میں تو کیا
اے آہ اس صنم کے دل میں بھی ٹک اثر کر
مارے سے غل کیے سے جاتا نہیں ہے ہرگز
نکلے گا اس گلی سے شاید کہ میر مرکر
میر تقی میر

مر جائے کوئی خستہ جگر تو ہے کیا عجب

دیوان ششم غزل 1809
ہے عشق میں جو حال بتر تو ہے کیا عجب
مر جائے کوئی خستہ جگر تو ہے کیا عجب
لے جا کے نامے کتنے کبوتر ہوئے ہیں ذبح
اڑتی سی ہم کو آوے خبر تو ہے کیا عجب
شبہاے تار و تیرہ زمانے میں دن ہوئیں
شب ہجر کی بھی ہووے سحر تو ہے کیا عجب
جیسے ہے رخنہ رخنہ یہ چرخ اثیر سب
اس آہ کا ہو اس میں اثر تو ہے کیا عجب
جاتی ہے چشم شوخ کسی کی ہزار جا
آوے ادھر بھی اس کی نظر تو ہے کیا عجب
لغزش ملک سے ہووے لچک اس کمر کی دیکھ
عاشق سے جو بندھے نہ کمر تو ہے کیا عجب
ترک وطن کیا ہے عزیزوں نے چاہ میں
کر جائے کوئی رفتہ سفر تو ہے کیا عجب
برسوں سے ہاتھ مارتے ہیں سر پہ اس بغیر
ہووے بھی ہم سے دست بسر تو ہے کیا عجب
معلوم سودمندی عشاق عشق میں
پہنچے ہے اس سے ہم کو ضرر تو ہے کیا عجب
گھر بار میں لٹا کے گیا گھر سے بھی نکل
اب آوے وہ کبھو مرے گھر تو ہے کیا عجب
ملتی نہیں ہے آنکھ اس آئینہ رو کی میر
وہ دل جو لے کے جاوے مکر تو ہے کیا عجب
میر تقی میر

برسے ہے عشق اپنے دیوار اور در سے

دیوان پنجم غزل 1729
جوں ابر بے کسانہ روتے اٹھے ہیں گھر سے
برسے ہے عشق اپنے دیوار اور در سے
جمہور راہ اس کی دیکھا کرے ہے اکثر
محفوظ رکھ الٰہی اس کو نظرگذر سے
وحش اور طیر آنکھیں ہر سو لگا رہے ہیں
گرد رہ اس کی دیکھیں اٹھ چلتی ہے کدھر سے
شاید کہ وصل اس کا ہووے تو جی بھی ٹھہرے
ہوتی نہیں ہے اب تو تسکین دل خبر سے
مدت سے چشم بستہ بیٹھا رہا ہوں لیکن
وہ روے خوب ہرگز جاتا نہیں نظر سے
گو ہاتھ وہ نہ آوے دل غم سے خون کرنا
ہے لاگ میرے جی کو اس شوخ کی کمر سے
یہ گل نیا کھلا ہے لے بال تو قفس میں
کوئی کلی نہ نکلے مرغ چمن کے پر سے
دیکھو نہ چشم کم سے یہ آنکھ ڈبڈبائی
سیراب ابر ہوتے دیکھے ہیں چشم تر سے
گلشن سے لے قفس تک آواز ایک سی ہے
کیا طائر گلستاں ہیں نالہ کش اثر سے
ہر اک خراش ناخن جبہے سے صدر تک ہے
رجھواڑ ہو تو پوچھے کوئی ہمیں ہنر سے
یہ عاشقی ہے کیسی ایسے جیوگے کب تک
ترک وفا کرو ہو مرنے کے میر ڈر سے
میر تقی میر

کچھ یار کے آنے کی مگر گرم خبر ہے

دیوان پنجم غزل 1726
آنکھوں کی طرف گوش کی در پردہ نظر ہے
کچھ یار کے آنے کی مگر گرم خبر ہے
یہ راہ و روش سرو گلستاں میں نہ ہو گی
اس قامت دلچسپ کا انداز دگر ہے
یہ بادیۂ عشق ہے البتہ ادھر سے
بچ کر نکل اے سیل کہ یاں شیر کا ڈر ہے
وہ ناوک دلدوز ہے لاگو مرے جی کا
تو سامنے ہو ہمدم اگر تجھ کو جگر ہے
کیا پھیل پڑی مدت ہجراں کو نہ پوچھو
مہ سال ہوا ہم کو گھڑی ایک پہر ہے
کیا جان کہ جس کے لیے منھ موڑیے تم سے
تم آؤ چلے داعیہ کچھ تم کو اگر ہے
تجھ سا تو سوار ایک بھی محبوب نہ نکلا
جس دلبر خودکام کو دیکھا سو نفر ہے
شب شور و فغاں کرتے گئی مجھ کو تو اب تو
دم کش ہو ٹک اے مرغ چمن وقت سحر ہے
سوچے تھے کہ سوداے محبت میں ہے کچھ سود
اب دیکھتے ہیں اس میں تو جی ہی کا ضرر ہے
شانے پہ رکھا ہار جو پھولوں کا تو لچکی
کیا ساتھ نزاکت کے رگ گل سی کمر ہے
کر کام کسو دل میں گئی عرش پہ تو کیا
اے آہ سحرگاہ اگر تجھ میں اثر ہے
پیغام بھی کیا کریے کہ اوباش ہے ظالم
ہر حرف میاں دار پہ شمشیر و سپر ہے
ہر بیت میں کیا میر تری باتیں گتھی ہیں
کچھ اور سخن کر کہ غزل سلک گہر ہے
میر تقی میر

راہی بھی کچھ سنا نہیں جاتے خبر ہنوز

دیوان پنجم غزل 1625
کب سے گیا ہے آیا نہیں نامہ بر ہنوز
راہی بھی کچھ سنا نہیں جاتے خبر ہنوز
خون جگر کو سوکھے ہوئے برسوں ہو گئے
رہتی ہیں میری آنکھیں شب و روز تر ہنوز
ہرچند آسماں پہ ہماری دعا گئی
اس مہ کے دل میں کرتی نہیں کچھ اثر ہنوز
مدت سے لگ رہی ہیں مری آنکھیں اس کی اور
وہ دیکھتا نہیں ہے غلط کر ادھر ہنوز
برسوں سے لکھنؤ میں اقامت ہے مجھ کو لیک
یاں کے چلن سے رکھتا ہوں عزم سفر ہنوز
تیشے سے کوہکن کے دل کوہ جل گیا
نکلے ہے سنگ سنگ سے اکثر شرر ہنوز
جل جل کے ہو گیا ہے کبد تو کباب میر
جول غنچہ ناشگفتہ ہے داغ جگر ہنوز
میر تقی میر

کہ وے نرگسی زن تھے گلہاے تر پر

دیوان پنجم غزل 1608
کئی داغ ایسے جلائے جگر پر
کہ وے نرگسی زن تھے گلہاے تر پر
گیا میری وادی سے سیلاب بچ کر
نظر یاں جو کی عشق کے شیرنر پر
سر رہ سے اس کے موئے ہی اٹھیں گے
یہ جی جا رہا ہے اسی رہگذر پر
سر اس آستاں پر رگڑتے گئے ہیں
ہوئے خون یاروں کے اس خاک در پر
ہم آتا اسے سن کے جیتوں میں آئے
بنا زندگانی کی ہے اب خبر پر
اسے لطف اس کا ہی لاوے تو لاوے
نہیں وصل موقوف کچھ زور و زر پر
سرکتے نہیں شوق کشتوں کے سر بن
قیامت سا ہنگامہ ہے اس کے در پر
اتر جو گیا دل سے روکش ہو اس کا
چڑھا پھر نہ خورشید میری نظر پر
بھری تھی مگر آگ دل میں دروں میں
ہوئے اشک سوزش سے اس کی شرر پر
گیا پی جو ان آنسوئوں کے تئیں میں
سراسر ہیں اب داغ سطح جگر پر
سرعجز ہر شام تھا خاک پر ہی
تہ دل تھی کیسی ہی آہ سحر پر
پلک اٹھے آثار اچھے نہ دیکھے
پڑی آنکھ ہرگز نہ روے اثر پر
طرف شاخ گل کی لچک کے نہ دیکھا
نظر میر کی تھی کسو کی کمر پر
غزل در غزل صاحبو یہ بھی دیکھو
نہیں عیب کرنا نظر اک ہنر پر
میر تقی میر

اس عشق کی وادی میں ہر نوع بسر کرنا

دیوان پنجم غزل 1564
سر مارنا پتھر سے یا ٹکڑے جگر کرنا
اس عشق کی وادی میں ہر نوع بسر کرنا
کہتے ہیں ادھر منھ کر وہ رات کو سوتا ہے
اے آہ سحرگاہی ٹک تو بھی اثر کرنا
دیواروں سے سر مارا تب رات سحر کی ہے
اے صاحب سنگیں دل اب میری خبر کرنا
میر تقی میر

ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا

دیوان پنجم غزل 1540
منھ اپنا کبھو وہ ادھر کر رہے گا
ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا
جو دلبر ہے ایسا تو دل جا چکا ہے
کسو روز آنکھوں میں گھر کر رہے گا
ہر اک کام موقوف ہے وقت پر ہی
دل خوں شدہ بھی جگر کر رہے گا
نہ ہوں گو خبر مردماں حال بد سے
مرا نالہ سب کو خبر کر رہے گا
فن شعر میں میر صناع ہے وہ
دل اس کا کوئی تو ہنر کر رہے گا
میر تقی میر

اور نیچی نظر کریں کیوں کر

دیوان چہارم غزل 1393
بزم میں منھ ادھر کریں کیوں کر
اور نیچی نظر کریں کیوں کر
یوں بھی مشکل ہے ووں بھی مشکل ہے
سر جھکائے گذر کریں کیوں کر
رازپوشی عشق ہے منظور
آنکھیں رو رو کے تر کریں کیوں کر
مست و بے خود ہم اس کے در پہ گئے
لوگ اس کو خبر کریں کیوں کر
سو رہا بال منھ پہ کھول کے وہ
ہم شب اپنی سحر کریں کیوں کر
مہ فلک پر ہے وہ زمیں پر آہ
ان کو زیر و زبر کریں کیوں کر
دل نہیں دردمند اپنا میر
آہ و نالے اثر کریں کیوں کر
میر تقی میر

ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا

دیوان سوم غزل 1083
کبھو وہ توجہ ادھر کر رہے گا
ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا
ہمارا ہے احوال حیرت کی جاگہ
جو دیکھے گا وہ بھی نظر کر رہے گا
نہیں اس طرف میر جانے سے رہتا
رہے گا تو اودھر ہی مر کر رہے گا
میر تقی میر

سدھ اپنی نہیں ہم کو کچھ تم کو خبر بھی ہے

دیوان دوم غزل 1046
آنکھیں نہیں یاں کھلتیں ایدھر کو نظر بھی ہے
سدھ اپنی نہیں ہم کو کچھ تم کو خبر بھی ہے
گو شکل ہوائی کی سر چرخ تئیں کھینچا
اے آہ شرر افشاں کچھ تجھ میں اثر بھی ہے
اس منزل دلکش کو منزل نہ سمجھیے گا
خاطر میں رہے یاں سے درپیش سفر بھی ہے
مجھ حال شکستہ کی تاچند یہ بے وقری
کچھ کسر میں اب میری اے شوخ کسر بھی ہے
یہ کیا ہے کہ منھ نوچے نے چاک کرے سینہ
کر عرض جو کچھ تجھ میں اے میر ہنر بھی ہے
میر تقی میر

آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے

دیوان دوم غزل 1003
یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے
آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے
ہم نے بھی نذر کی ہے پھریں گے چمن کے گرد
آنے تئیں بہار کے گر بال و پر رہے
کیا کہیے تیرے واسطے اے مایۂ حیات
کیا کیا عزیز اپنے تئیں مار مر رہے
مرتے بھی اپنے ہائے وہ حاضر نہ ہوسکا
ہم اشتیاق کش تو بہت محتضر رہے
مرغان باغ رہتے ہیں اب گھیرے یوں مجھے
ماتم زدوں کے حلقے میں جوں نوحہ گر رہے
آغوش اس سے خالی رہی شب تو تا سحر
جیب و کنار گریۂ خونیں سے بھر رہے
نقش قدم کے طور ترے ہم ہیں پائمال
غالب ہے یہ کہ دیر ہمارا اثر رہے
اب صبر و ہوش و عقل کی میرے یہ ہے معاش
جوں قافلہ لٹا کہیں آکر اتر رہے
لاکھوں ہمارے دیکھتے گھر بار سے گئے
کس خانماں خراب کے وے جا کے گھر رہے
آتا کبھو تو ناز سے دکھلائی دے بھی جا
دروازے ہی کی اور کہاں تک نظر رہے
رکھنا تمھارے پائوں کا کھوتا ہے سر سے ہوش
یہ چال ہے تو اپنی کسے پھر خبر رہے
کیا بدبلا ہے لاگ بھی دل کی کہ میر جی
دامن سوار لڑکوں کے ہو کر نفر رہے
میر تقی میر

ہم تک نہیں پہنچتی گل کی خبر عطر کچھ

دیوان دوم غزل 946
اب تو صبا چمن سے آتی نہیں ادھر کچھ
ہم تک نہیں پہنچتی گل کی خبر عطر کچھ
ذوق خبر میں ہم تو بے ہوش ہو گئے تھے
کیا جانے کب وہ آیا ہم کو نہیں خبر کچھ
یہ طشت و تیغ ہے اب یہ میں ہوں اور یہ تو
ہے ساتھ میرے ظالم دعویٰ تجھے اگر کچھ
وے دن گئے کہ بے غم کوئی گھڑی کٹے تھی
تھمتے نہیں ہیں آنسو اب تو پہر پہر کچھ
ان اجڑی بستیوں میں دیوار و در ہیں کیا کیا
آثار جن کے ہیں یہ ان کا نہیں اثر کچھ
واعظ نہ ہو معارض نیک و بد جہاں سے
جو ہوسکے تو غافل اپنا ہی فکر کر کچھ
آنکھوں میں میری عالم سارا سیاہ ہے اب
مجھ کو بغیر اس کے آتا نہیں نظر کچھ
ہم نے تو ناخنوں سے منھ سارا نوچ ڈالا
اب کوہکن دکھاوے رکھتا ہے گر ہنر کچھ
تلوار کے تلے ہی کاٹی ہے عمر ساری
ابروے خم سے اس کے ہم کو نہیں ہے ڈر کچھ
گہ شیفتہ ہیں مو کے گہ بائولے ہیں رو کے
احوال میر جی کا ہے شام کچھ سحر کچھ
میر تقی میر

جیسے ماہی ہے مجھے سیر و سفر پانی میں

دیوان دوم غزل 874
اشک کے جوش سے ہوں شام و سحر پانی میں
جیسے ماہی ہے مجھے سیر و سفر پانی میں
شب نہاتا تھا جو وہ رشک قمر پانی میں
گتھی مہتاب سے اٹھتی تھی لہر پانی میں
ساتھ اس حسن کے دیتا تھا دکھائی وہ بدن
جیسے جھمکے ہے پڑا گوہر تر پانی میں
رونے سے بھی نہ ہوا سبز درخت خواہش
گرچہ مرجاں کی طرح تھا یہ شجر پانی میں
موج گریہ کی وہ شمشیر ہے جس کے ڈر سے
جوں کشف خصم چھپا زیر سپر پانی میں
بیٹھنے سے کسو دل صاف کے سر مت تو چڑھے
خوب سا کر لے تامل تو اتر پانی میں
آتش عشق نے راون کو جلا کر مارا
گرچہ لنکا سا تھا اس دیو کا گھر پانی میں
جوشش اشک میں شب دل بھی گیا سینے سے
کچھ نہ معلوم ہوا ہائے اثر پانی میں
بردباری ہی میں کچھ قدر ہے گو جی ہو فنا
عود پھر لکڑی ہے ڈوبے نہ اگر پانی میں
چشم تر ہی میں رہے کاش وہ روے خوش رنگ
پھول رہتا ہے بہت تازہ و تر پانی میں
روئوں تو آتش دل شمع نمط بجھتی نہیں
مجھ کو لے جاکے ڈبو دیویں مگر پانی میں
گریۂ زار میں بیتابی دل طرفہ نہیں
سینکڑوں کرتے ہیں پیراک ہنر پانی میں
برگ گل جوں گذر آب سے آتے ہیں چلے
رونے سے ووہیں مرے لخت جگر پانی میں
محو کر آپ کو یوں ہستی میں اس کی جیسے
بوند پانی کی نہیں آتی نظر پانی میں
وہ گہر آنکھ سے جاوے تو تھمے آنسو میر
اتنا رویا ہوں کہ ہوں تا بہ کمر پانی میں
میر تقی میر

ایسی طپش سے دل کی کوئی جگر رہے گا

دیوان دوم غزل 751
بے طاقتی میں تو تو اے میر مر رہے گا
ایسی طپش سے دل کی کوئی جگر رہے گا
کیا ہے جو راہ دل کی طے کرتے مر گئے ہم
جوں نقش پا ہمارا تا دیر اثر رہے گا
مت کر لڑکپن اتنا خونریزی میں ہماری
اس طور لوہو میں تو دامن کو بھر رہے گا
آگاہ پائے ہم نے کھوئے گئے سے یعنی
پہنچی خبر ادھر کی دل بے خبر رہے گا
فردا کا سوچ تجھ کو کیا آج ہی پڑا ہے
کل کی سمجھیو کل ہی کل تو اگر رہے گا
لوگوں کا پاس ہم کو مارے رکھے ہے ورنہ
ماتم میں دل کے شیون دو دوپہر رہے گا
پایان کار دیکھیں کیا ہووے دل کی صورت
ایسا ہی جو وہ چہرہ پیش نظر رہے گا
اب رفتگی رویہ اپنا کیا ہے میں نے
میرا یہ ڈھب دلوں میں کچھ راہ کر رہے گا
ہم کوئی بیت جاکر اس ہی کے منھ سنیں گے
وحشت زدہ کسو دن گر میر گھر رہے گا
میر تقی میر

کہ میں شکار زبوں ہوں جگر نہیں رکھتا

دیوان دوم غزل 684
وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا
کہ میں شکار زبوں ہوں جگر نہیں رکھتا
بلا سے آنکھ جو پڑتی ہے اس کی دس جاگہ
ہمارا حال تو مدنظر نہیں رکھتا
رہے نہ کیونکے یہ دل باختہ سدا تنہا
کہ کوئی آوے کہاں میں تو گھر نہیں رکھتا
جنھوں کے دم میں ہے تاثیر اور وے ہیں لوگ
ہمارا نالۂ جانکاہ اثر نہیں رکھتا
کہیں ہیں اب کے بہت رنگ اڑ چلا گل کا
ہزار حیف کہ میں بال و پر نہیں رکھتا
تو کوئی زور ہی نسخہ ہے اے مفرح دل
کہ طبع عشق میں ہرگز ضرر نہیں رکھتا
خدا کی اور سے ہے سب یہ اعتبار ارنہ
جو خوب دیکھو تو میں کچھ ہنر نہیں رکھتا
غلط ہے دعوی عشق اس فضول کا بے ریب
جو کوئی خشک لب اور چشم تر نہیں رکھتا
جدا جدا پھرے ہے میر سب سے کس خاطر
خیال ملنے کا اس کے اگر نہیں رکھتا
میر تقی میر

جلوہ مری گور پر نہ ہووے

دیوان اول غزل 557
جب تک کہ ترا گذر نہ ہووے
جلوہ مری گور پر نہ ہووے
لے تیغ و سپر کو تو جدھر ہو
خورشید کا منھ ادھر نہ ہووے
گھر دود جگر سے بھر گیا آہ
کب تک مری چشم تر نہ ہووے
رونے کی ہے جاگہ آہ کریے
پھر دل میں ترے اثر نہ ہووے
بیمار رہے ہیں اس کی آنکھیں
دیکھو کسو کی نظر نہ ہووے
رکتی نہیں تیغ نالہ ہرگز
جب تک کہ جگر سپر نہ ہووے
کر بے خبر اک نگہ سے ساقی
لیکن کسو کو خبر نہ ہووے
خستے ترے موے عنبریں کے
کیونکر جئیں صبر گر نہ ہووے
رکھ دیکھ کے راہ عشق میں پاے
یاں میر کسو کا سر نہ ہووے
میر تقی میر

ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے

دیوان اول غزل 538
نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے
ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے
اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہے
کل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے
اب کی ہواے گل میں سیرابی ہے نہایت
جوے چمن پہ سبزہ مژگان چشم تر ہے
اے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہ
مدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے
شمع اخیر شب ہوں سن سرگذشت میری
پھر صبح ہوتے تک تو قصہ ہی مختصر ہے
اب رحم پر اسی کے موقوف ہے کہ یاں تو
نے اشک میں سرایت نے آہ میں اثر ہے
تو ہی زمام اپنی ناقے تڑا کہ مجنوں
مدت سے نقش پا کے مانند راہ پر ہے
ہم مست عشق واعظ بے ہیچ بھی نہیں ہیں
غافل جو بے خبر ہیں کچھ ان کو بھی خبر ہے
اب پھر ہمارا اس کا محشر میں ماجرا ہے
دیکھیں تو اس جگہ کیا انصاف دادگر ہے
آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں
جوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے
کر میر اس زمیں میں اور اک غزل تو موزوں
ہے حرف زن قلم بھی اب طبع بھی ادھر ہے
میر تقی میر

جان کے دینے کو جگر چاہیے

دیوان اول غزل 484
عشق میں نے خوف و خطر چاہیے
جان کے دینے کو جگر چاہیے
قابل آغوش ستم دیدگاں
اشک سا پاکیزہ گہر چاہیے
حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے
اٹھتے پلک ایک پہر چاہیے
کم ہے شناساے زر داغ دل
اس کے پرکھنے کو نظر چاہیے
سینکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاں
واقعہ اک شام و سحر چاہیے
عشق کے آثار ہیں اے بوالہوس
داغ بہ دل دست بسر چاہیے
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
جیسے جرس پارہ گلو کیا کروں
نالہ و افغاں میں اثر چاہیے
خوف قیامت کا یہی ہے کہ میر
ہم کو جیا بار دگر چاہیے
میر تقی میر

ہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی

دیوان اول غزل 444
فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی
ہے سزا تجھ پہ یہ گستاخ نظر کرنے کی
کہہ حدیث آنے کی اس کے جو کیا شادی مرگ
نامہ بر کیا چلی تھی ہم کو خبر کرنے کی
کیا جلی جاتی ہے خوبی ہی میں اپنی اے شمع
کہہ پتنگے کے بھی کچھ شام و سحر کرنے کی
اب کے برسات ہی کے ذمے تھا عالم کا وبال
میں تو کھائی تھی قسم چشم کے تر کرنے کی
پھول کچھ لیتے نہ نکلے تھے دل صد پارہ
طرز سیکھی ہے مرے ٹکڑے جگر کرنے کی
ان دنوں نکلے ہے آغشتہ بہ خوں راتوں کو
دھن ہے نالے کو کسو دل میں اثر کرنے کی
عشق میں تیرے گذرتی نہیں بن سر پٹکے
صورت اک یہ رہی ہے عمر بسر کرنے کی
کاروانی ہے جہاں عمر عزیز اپنی میر
رہ ہے درپیش سدا اس کو سفر کرنے کی
میر تقی میر

کچھ سنی سوختگاں تم خبر پروانہ

دیوان اول غزل 427
کہتے ہیں اڑ بھی گئے جل کے پر پروانہ
کچھ سنی سوختگاں تم خبر پروانہ
سعی اتنی یہ ضروری ہے اٹھے بزم سلگ
اے جگر تفتگی بے اثر پروانہ
کس گنہ کا ہے پس از مرگ یہ عذر جاں سوز
پائوں پر شمع کے پاتے ہیں سر پروانہ
آ پڑا آگ میں اے شمع یہیں سے تو سمجھ
کس قدر داغ ہوا تھا جگر پروانہ
بزم دنیا کی تو دل سوزی سنی ہو گی میر
کس طرح شام ہوئی یاں سحر پروانہ
میر تقی میر

پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو

دیوان اول غزل 390
نالہ مرا اگر سبب شور و شر نہ ہو
پھر مر بھی جایئے تو کسو کو خبر نہ ہو
دل پر ہوا سو آہ کے صدمے سے ہو چکا
ڈرتا ہوں یہ کہ اب کہیں ٹکڑے جگر نہ ہو
برچھی سی پار عرش کے گذری نہ عاقبت
آہ سحر میں میری کہاں تک اثر نہ ہو
سمجھا ہوں تیری آنکھ چھپانے سے خوش نگاہ
مدنظر یہ ہے کہ کسی کی نظر نہ ہو
کھینچے ہے دل کو زلف سے گاہے نگہ سے گاہ
حیراں نہ ہووے کوئی تو اس طرز پر نہ ہو
سو دل سے بھی نہ کام چلے اس کے عشق میں
اک دل رکھوں ہوں میں تو کدھر ہو کدھر نہ ہو
جس راہ ہو کے آج میں پہنچا ہوں تجھ تلک
کافر کا بھی گذار الٰہی ادھر نہ ہو
یک جا نہ دیکھی آنکھوں سے ایسی تمام راہ
جس میں بجائے نقش قدم چشم تر نہ ہو
ہر یک قدم پہ لوگ ڈرانے لگے مجھے
ہاں یاں کسو شہیدمحبت کا سر نہ ہو
چلیو سنبھل کے سب یہ شہیدان عشق ہیں
تیرا گذار تاکہ کسو نعش پر نہ ہو
دامن کشاں ہی جا کہ طپش پر طپش ہے دفن
زنہار کوئی صدمے سے زیر و زبر نہ ہو
مضطر ہو اختیار کی وہ شکل دل میں میں
اس راہ ہو کے جائوں یہ صورت جدھر نہ ہو
لیکن عبث نگاہ جہاں کریے اس طرف
امکان کیا کہ خون مرے تا کمر نہ ہو
حیراں ہوں میں کہ ایسی یہ مشہد ہے کون سی
مجھ سے خراب حال کو جس کی خبر نہ ہو
آتا ہے یہ قیاس میں اب تجھ کو دیکھ کر
ظالم جفاشعار ترا رہگذر نہ ہو
اٹھ جائے رسم نالہ و آہ و فغان سب
اس تیرہ روزگار میں تو میر اگر نہ ہو
میر تقی میر

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

دیوان اول غزل 363
گذر جان سے اور ڈر کچھ نہیں
رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں
ہے اب کام دل جس پہ موقوف تو
وہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں
ہوا مائل اس سرو کا دل مرا
بجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں
نہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغ
گئے گذرے بس اب خبر کچھ نہیں
تری ہوچکی خشک مژگاں کی سب
لہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں
حیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشم
مرا حال مدنظر کچھ نہیں
کروں کیونکے انکارعشق آہ میں
یہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں
کمر اس کی رشک رگ جاں ہے میر
غرض اس سے باریک تر کچھ نہیں
میر تقی میر

مذکور ہوچکا ہے مرا حال ہر کہیں

دیوان اول غزل 309
سن گوش دل سے اب تو سمجھ بے خبر کہیں
مذکور ہوچکا ہے مرا حال ہر کہیں
اب فائدہ سراغ سے بلبل کے باغباں
اطراف باغ ہوں گے پڑے مشت پر کہیں
خطرے سے ہونٹ سوکھ ہی جاتے تھے دیکھ کر
آتا نظر ہمیں جو کوئی چشم تر کہیں
عاشق ترے ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا
مرنا پڑا ہے ہم کو خدا سے تو ڈر کہیں
کچھ کچھ کہوں گا روز یہ کہتا تھا دل میں میں
آشفتہ طبع میر کو پایا اگر کہیں
سو کل ملا مجھے وہ بیاباں کی سمت کو
جاتا تھا اضطراب زدہ سا ادھر کہیں
لگ چل کے میں برنگ صبا یہ اسے کہا
کاے خانماں خراب ترا بھی ہے گھر کہیں
آشفتہ جا بہ جا جو پھرے ہے تو دشت میں
جاگہ نہیں ہے شہر میں تجھ کو مگر کہیں
خوں بستہ اپنی کھول مژہ پوچھتا بھی گر
رکھ ٹک تو اپنے حال کو مدنظر کہیں
آسودگی سی جنس کو کرتا ہے کون سوخت
جانے ہے نفع کوئی بھی جی کا ضرر کہیں
موتی سے تیرے اشک ہیں غلطاں کسو طرف
یاقوت کے سے ٹکڑے ہیں لخت جگر کہیں
تاکے یہ دشت گردی و کب تک یہ خستگی
اس زندگی سے کچھ تجھے حاصل بھی مر کہیں
کہنے لگا وہ ہو کے پرآشفتہ یک بیک
مسکن کرے ہے دہر میں مجھ سا بشر کہیں
آوارگوں کا ننگ ہے سننا نصیحتیں
مت کہیو ایسی بات تو بار دگر کہیں
تعیئن جا کو بھول گیا ہوں پہ یہ ہے یاد
کہتا تھا ایک روز یہ اہل نظر کہیں
بیٹھے اگرچہ نقش ترا تو بھی دل اٹھا
کرتا ہے جاے باش کوئی رہگذر کہیں
کتنے ہی آئے لے کے سر پر خیال پر
ایسے گئے کہ کچھ نہیں ان کا اثر کہیں
میر تقی میر

ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا

دیوان اول غزل 101
دیر و حرم سے گذرے اب دل ہے گھر ہمارا
ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا
پلکوں سے تیری ہم کو کیا چشم داشت یہ تھی
ان برچھیوں نے بانٹا باہم جگر ہمارا
دنیا و دیں کی جانب میلان ہو تو کہیے
کیا جانیے کہ اس بن دل ہے کدھر ہمارا
ہیں تیرے آئینے کی تمثال ہم نہ پوچھو
اس دشت میں نہیں ہے پیدا اثر ہمارا
جوں صبح اب کہاں ہے طول سخن کی فرصت
قصہ ہی کوئی دم کو ہے مختصر ہمارا
کوچے میں اس کے جاکر بنتا نہیں پھر آنا
خون ایک دن گرے گا اس خاک پر ہمارا
ہے تیرہ روز اپنا لڑکوں کی دوستی سے
اس دن ہی کو کہے تھا اکثر پدر ہمارا
سیلاب ہر طرف سے آئیں گے بادیے میں
جوں ابر روتے ہو گا جس دم گذر ہمارا
نشوونما ہے اپنی جوں گردباد انوکھی
بالیدہ خاک رہ سے ہے یہ شجر ہمارا
یوں دور سے کھڑے ہو کیا معتبر ہے رونا
دامن سے باندھ دامن اے ابرتر ہمارا
جب پاس رات رہنا آتا ہے یاد اس کا
تھمتا نہیں ہے رونا دو دو پہر ہمارا
اس کارواں سرا میں کیا میر بار کھولیں
یاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا
میر تقی میر

اس خانماں خراب نے آنکھوں میں گھر کیا

دیوان اول غزل 74
غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
اس خانماں خراب نے آنکھوں میں گھر کیا
رنگ اڑ چلا چمن میں گلوں کا تو کیا نسیم
ہم کو تو روزگار نے بے بال و پر کیا
نافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میں
آخر انھیں دوائوں نے ہم کو ضرر کیا
مرتا ہوں جان دیں ہیں وطن داریوں پہ لوگ
اور سنتے جاتے ہیں کہ ہر اک نے سفر کیا
کیا جانوں بزم عیش کہ ساقی کی چشم دیکھ
میں صحبت شراب سے آگے سفر کیا
جس دم کہ تیغ عشق کھنچی بوالہوس کہاں
سن لیجیو کہ ہم ہی نے سینہ سپر کیا
دل زخمی ہوکے تجھ تئیں پہنچا تو کم نہیں
اس نیم کشتہ نے بھی قیامت جگر کیا
ہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مست ناز
ذوق خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا
وہ دشت خوف ناک رہا ہے مرا وطن
سن کر جسے خضر نے سفر سے حذر کیا
کچھ کم نہیں ہیں شعبدہ بازوں سے مے گسار
دارو پلا کے شیخ کو آدم سے خر کیا
ہیں چاروں طرف خیمے کھڑے گردباد کے
کیا جانیے جنوں نے ارادہ کدھر کیا
لکنت تری زبان کی ہے سحر جس سے شوخ
یک حرف نیم گفتہ نے دل پر اثر کیا
بے شرم محض ہے وہ گنہگار جن نے میر
ابر کرم کے سامنے دامان تر کیا
میر تقی میر

ہر گام پہ جس میں سر نہ ہو گا

دیوان اول غزل 49
ایسا ترا رہگذر نہ ہو گا
ہر گام پہ جس میں سر نہ ہو گا
کیا ان نے نشے میں مجھ کو مارا
اتنا بھی تو بے خبر نہ ہو گا
دھوکا ہے تمام بحر دنیا
دیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہو گا
آئی جو شکست آئینے پر
روے دل یار ادھر نہ ہو گا
دشنوں سے کسی کا اتنا ظالم
ٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہو گا
اب دل کے تئیں دیا تو سمجھا
محنت زدوں کے جگر نہ ہو گا
دنیا کی نہ کر تو خواست گاری
اس سے کبھو بہرہ ور نہ ہو گا
آ خانہ خرابی اپنی مت کر
قحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہو گا
ہو اس سے جہاں سیاہ تد بھی
نالے میں مرے اثر نہ ہو گا
پھر نوحہ گری کہاں جہاں میں
ماتم زدہ میر اگر نہ ہو گا
میر تقی میر

ترے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 99
نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا
ترے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا
یہ انتظار مگر اختیار میں بھی نہیں
پتہ تو ہے کہ اُسے عمر بھر نہیں آنا
بس ایک اشک پسِ چشم تم چھپائے رکھو
بغیر اس کے سخن میں اثر نہیں آنا
ذرا وہ دوسری کھڑکی بھی کھول کمرے کی
وگرنہ تازہ ہوا نے ادھر نہیں آنا
یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی
جو جا چکا ہے اُسے لوٹ کر نہیں آنا
ہر آنے والا نیا راستہ دکھاتا ہے
اسی لئے تو ہمیں راہ پر نہیں آنا
کروں مسافتیں نا افریدہ راہوں کی
مجھ ایسا بعد میں آوارہ سر نہیں آنا
آفتاب اقبال شمیم

دست قدرت کو بے اثر کردے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
چشم میگوں ذرا ادھر کردے
دست قدرت کو بے اثر کردے
تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخی مے کو تیز تر کردے
جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاک دامن کو تاجگر کردے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کردے
لٹ رہی ہے مری متاع نیاز
کاش وہ اس طرف نظر کردے
فیض تکمیل آرزو معلوم
ہوسکے تو یونہی بسر کردے
فیض احمد فیض

گہرے سمندروں کا سفر بھی اسی کا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 321
دست عصائے معجزہ گر بھی اسی کا ہے
گہرے سمندروں کا سفر بھی اسی کا ہے
میرے جہاز اسی کی ہواؤں سے ہیں رواں
میری شناوری کا ہنر بھی اسی کا ہے
لشکر زمیں پہ جس نے اتارے ہیں رات کے
کھلتا ہوا نشان قمر بھی اسی کا ہے
آب رواں اسی کے اشارے سے ہے سراب
بادل کے پاس گنجِ گہر بھی اسی کا ہے
وہ خشک ٹہنیوں سے اگاتا ہے برگ و بار
موسم تمام اس کے شجر بھی اسی کا ہے
منظر میں جتنے رنگ ہیں نیرنگ اسی کے ہیں
حیرانیوں میں ذوق نظر بھی اسی کا ہے
بس اپنا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں لوگ
ورنہ سناں بھی اس کی ہے سر بھی اسی کا ہے
تیغِ ستم کو جس نے عطا کی ہیں مہلتیں
فریاد کشتگاں میں اثر بھی اسی کا ہے
تیرا یقین سچ ہے مری چشم اعتبار
سب کچھ فصیلِ شب کے ادھر بھی اسی کا ہے
مجرم ہوں اور خرابۂ جاں میں اماں نہیں
اب میں کہاں چھپوں کہ یہ گھر بھی اسی کا ہے
خود کو چراغ راہ گزر جانتا ہوں میں
لیکن چراغِ راہ گزر بھی اسی کا ہے
عرفان صدیقی

رک بھی جائیں تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 311
بے دلاں، کارِ نظر ختم کہاں ہوتا ہے
رک بھی جائیں تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے
نیند سے پہلے بہت شور مچاتے ہیں خیال
شب کو ہنگامۂ سر ختم کہاں ہوتا ہے
چاہتا کون ہے مرنے کی اذیت سے نجات
زہر توُ ہے تو اثر ختم کہاں ہوتا ہے
اگلے موسم میں پھر آئیں گے نئے برگ و ثمر
اے ہوا بارِ شجر ختم کہاں ہوتا ہے
اپنی ہی آگ سے روشن ہوں میں اک ذرۂ خاک
دیکھئے رقصِ شرر ختم کہاں ہوتا ہے
بولتے بولتے ہوجاتے ہیں خاموش چراغ
سخنِ سایۂ در ختم کہاں ہوتا ہے
عرفان صدیقی

دستک جو دی تو سایۂ در نے کہا نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 195
احوال اس چراغ کا گھر نے کہا نہیں
دستک جو دی تو سایۂ در نے کہا نہیں
پائے طلب کنارِ زمیں تک پہنچ گئے
میں رک گیا تو وحشتِ سر نے کہا نہیں
دستِ رفو نے سینے کے سب زخم سی دیئے
اندر کا حال ناز ہنر نے کہا نہیں
خوش تھی ہوا کہ راہ کا ہر سنگ ہٹ گیا
تب سر اٹھا کے خاکِ گزر نے کہا نہیں
نوکِ سناں نے بیعتِ جاں کا کیا سوال
سر نے کہاں قبول‘ نظر نے کہا نہیں
مدت سے اک سکوت ہمارا نشان تھا
ہم حرف زن ہوئے تو اثر نے کہا نہیں
عرفان صدیقی

دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 149
دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں
دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں
تو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے
کوئے قاتل تو مری راہ گزر ہے سائیں
یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار
اور جو کچھ ہے ترا حسنِ نظر ہے سائیں
شہر و صحرا تو ہیں انسانوں کے رکھے ہوئے نام
گھر وہیں ہے دلِ دیوانہ جدھر ہے سائیں
ہم نے پہلے بھی مآلِ شبِ غم دیکھا ہے
آنکھ اب کے جو کھلے گی تو سحر ہے سائیں
پاؤں کی فکر نہ کر بارِ کم و بیش اتار
اصل زنجیر تو سامانِ سفر ہے سائیں
آگے تقدیر پرندے کی جہاں لے جائے
حدِّ پرواز فقط حوصلہ بھر ہے سائیں
شاعری کون کرامت ہے مگر کیا کیجے
درد ہے دل میں سو لفظوں میں اثر ہے سائیں
عشق میں کہتے ہیں فرہاد نے کاٹا تھا پہاڑ
ہم نے دن کاٹ دیئے یہ بھی ہنر ہے سائیں
عرفان صدیقی

جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب اور کوئی منزل دشوار سوچئے
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
سب کاروبار عرض تمنا فضول ہے
دل میں لہو زباں میں اثر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر چکا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 32
طوفاں میں تا بہ حد نظر کچھ نہیں بچا
اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا
کچھ خاک تھی سو وقت کی آندھی میں اُڑ گئی
آخر نشان سوز جگر کچھ نہیں بچا
ہر شئے کو ایک سیل بلاخیز لے گیا
سودا نہ سر، چراغ نہ در، کچھ نہیں بچا
سب جل گیا جو تھا ہمیں پیارا جہان میں
خوشبو نہ گل، صدف نہ گہر، کچھ نہیں بچا
مٹی بھی نذر حسرت تعمیر ہو گئی
گھر میں سوائے برق و شرر کچھ نہیں بچا
اُس پار ساحلوں نے سفینے ڈبو دیے
سب کچھ بچا لیا تھا مگر کچھ نہیں بچا
یا بازوئے ستم میں ہے یہ تیغ آخری
یا دست کشتگاں میں ہنر کچھ نہیں بچا
ڈرتے رہے تو موج ڈراتی رہی ہمیں
اَب ڈوب جائیے کہ خطر کچھ نہیں بچا
کچھ نقدِ جاں سفر میں لٹانا بھی ہے ضرور
کیا کیجئے کہ زادِ سفر کچھ نہیں بچا
یہ کاروبارِ عرضِ تمنا فضول ہے
دل میں لہو، دُعا میں اثر کچھ نہیں بچا
اب اور کوئی راہ نکالو کہ صاحبو
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر گیا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 20
خواب میں بھی میری زنجیرِ سفر کا جاگنا
آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا
اَگلے دِن کیا ہونے والا تھا کہ اَب تک یاد ہے
انتظارِ صبح میں وہ سارے گھر کا جاگنا
بستیوں سے شب نوردوں کا چلا جانا مگر
رات بھر اَب بھی چراغِ رہ گزر کا جاگنا
آخری اُمید کا مہتاب جل بجھنے کے بعد
میرا سو جانا مرے دیوار و دَر کا جاگنا
پھر ہواؤں سے کسی امکان کی ملنا نوید
پھر لہو میں آرزوئے تازہ تر کا جاگنا
ایک دِن اُس لمس کے اَسرار کھلنا جسم پر
ایک شب اِس خاک میں برق و شرر کا جاگنا
اُس کا حرفِ مختصر بیداریوں کا سلسلہ
لفظ میں معنی کا، معنی میں اثر کا جاگنا
بے نوا پتّے بھی آیاتِ نمو پڑھتے ہوئے
تم نے دیکھا ہے کبھی شاخِ شجر کا جاگنا
یک بیک ہر روشنی کا ڈوب جانا اور پھر
آسماں پر اک طلسمِ سیم و زر کا جاگنا
عرفان صدیقی

پھر کہیں اور مر رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 336
پھر وہی بھول کر رہا ہوں میں
پھر کہیں اور مر رہا ہوں میں
جانتا ہوں منافقت کے گُر
شہر میں معتبر رہا ہوں میں
رابطے سانپ بنتے جاتے تھے
رخنے مٹی سے بھر رہا ہوں میں
رات کچھ اور انتظار مرا
آسماں پر ابھر رہا ہوں میں
ایک اندھا کنواں ہے چاروں اور
زینہ زینہ اتر رہا ہوں میں
آخری بس بھی جانے والی ہے
اور تاخیر کر رہا ہوں میں
ساتھ چھوڑا تھا جس جگہ تُو نے
بس اسی موڑ پر رہا ہوں میں
جانتا ہے تُو میری وحشت بھی
تیرے زیرِ اثر رہا ہوں میں
تتلیاں ہیں مرے تعاقب میں
کیسا گرمِ سفر رہا ہوں میں
کچھ بدلنے کو ہے کہیں مجھ میں
خود سے منصور ڈر رہا ہوں میں
منصور آفاق

عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 292
آئینہ کون ہے کچھ اپنی خبر ہو تو کہوں
عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں
اُس تجلی پہ کوئی نظم کوئی تازہ غزل
مہرباں قوسِ قزح بار دگر ہو تو کہوں
درد کے طے یہ مراحل تو ہوئے ہیں لیکن
قطرہ پہ گزری ہے کیا، قطرہ گہر ہو تو کہوں
ہمسفر میرا پتہ پوچھتے کیا ہو مجھ سے
کوئی بستی، کوئی چوکھٹ، کوئی در ہو تو کہوں
کوئی شہ نامہء شب، کوئی قصیدئہ ستم
معتبر کوئی کہیں صاحبِ زر ہو تو کہوں
قیس صحرا میں مجھے ساتھ تو لے جائے گا
آتشِ غم کا کوئی زادِ سفر ہو تو کہوں
کیسے لگتی ہے مجھے چلتی ہوئی بادِ سحر
کبھی برفائی ہوئی رات بسر ہو تو کہوں
یہ پرندے تو ہیں گل پوش رتوں کے ساتھی
موسمِ زرد میں آباد شجر ہو تو کہوں
کون بے چہرگیِ وقت پہ تنقید کرے
سر بریدہ ہے یہ دنیا، مرا سر ہو تو کہوں
رات آوارہ مزاجی کا سبب پوچھتی ہے
کیا کروں کوئی ٹھکانہ کوئی گھر ہو تو کہوں
کشتیاں کیوں بھری آتی ہیں بجھے گیتوں سے
کیا ہے اس پار مجھے کوئی خبر ہو تو کہوں
ایک ہی پیڑ بہت ہے ترے صحرا میں مجھے
کوئی سایہ سا، کوئی شاخِ ثمر ہو تو کہوں
دہر پھولوں بھری وادی میں بدل سکتا ہے
بامِ تہذیب پہ امکانِ سحر ہو تو کہوں
زندگی رنگ ہے خوشبو ہے لطافت بھی ہے
زندہ رہنے کا مرے پاس ہنر ہو تو کہوں
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
آئینہ خانہ سے کوئی مجھے ڈر ہو تو کہوں
سچ کے کہنے سے زباں آبلہ لب ہوتی ہے
سینہء درد میں پتھر کا جگر ہو تو کہوں
میری افسردہ مزاجی بھی بدل سکتی ہے
دل بہاروں سے کبھی شیر و شکر ہو تو کہوں
تُو بجھا سکتی ہے بس میرے چراغوں کو ہو ا
کوئی مہتاب ترے پیشِ نظر ہو تو کہوں
رائیگانی کا کوئی لمحہ میرے پاس نہیں
رابطہ ہجر کا بھی زندگی بھر ہو تو کہوں
پھر بلایا ہے کسی نیلے سمندر نے مجھے
کوئی گرداب کہیں کوئی بھنور ہو تو کہوں
پھر تعلق کی عمارت کو بنا سکتا ہوں
کوئی بنیاد کہیں کوئی کھنڈر ہو تو کہوں
عید کا چاند لے آیا ہے ستم کے سائے
یہ بلائیں ہیں اگر ماہِ صفر ہو تو کہوں
اس پہ بھی ترکِ مراسم کی قیامت گزری
کوئی سسکاری کوئی دیدئہ تر ہو تو کہوں
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
"یہ تو وقفہ ہے کوئی ، ان کو خبر ہو تو کہوں
کتنے جانکاہ مراحل سے گزر آئی ہے
نرم و نازک کوئی کونپل جو ثمر ہو تو کہوں
یہ محبت ہے بھری رہتی ہے بھونچالوں سے
جو اُدھر ہے وہی تخریب اِدھر ہو تو کہوں
مجھ کو تاریخ کی وادی میں سدا رہنا ہے
موت کے راستے سے کوئی مفر ہو تو کہوں
آسماں زیرِ قدم آ گئے میرے لیکن
قریہء وقت کبھی زیر و زبر ہو تو کہوں
ختم نقطے کا ابھی دشت نہیں کر پایا
خود کو شاعر کبھی تکمیلِ ہنر ہو تو کہوں
اہل دانش کو ملا دیس نکالا منصور
حاکمِ شہر کوئی شہر بدر ہو تو کہوں
زندگی ایسے گزر سکتی نہیں ہے منصور
میری باتوں کا کوئی اس پہ اثر ہو تو کہوں
پوچھتے کیا ہو ازل اور ابد کا منصور
ان زمانوں سے کبھی میرا گزر ہو تو کہوں
منصور آفاق

دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 20
اے ضبط دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو
دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو
مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب
دو چار سو برس تو الہٰی سحر نہ ہو
اک پھول ہے گلاب کا آج اُن کے ہاتھ میں
دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو
ڈھونڈھے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا
دھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اُس کی کمر نہ ہو
فرقت میں یاں سیاہ زمانہ ہے مجھ کو کیا
گردوں پہ آفتاب نہ ہو یا قمر نہ ہو
دیکھی جو صورتِ ملک الموت نزع میں
میں خوش ہوا کہ یار کا یہ نامہ بر نہ ہو
آنکھیں ملیں ہیں اشک بہا نے کے واسطے
بیکار ہے صدف جو صدف میں گُہر نہ ہو
الفت کی کیا اُمید وہ ایسا ہے بے وفا
صحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو
طول شب وصال ہو، مثل شب فراق
نکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو
منہ پھیر کر کہا جو کہا میں نے حالِدل
چُپ بھی رہو امیر مجھے درد سر نہ ہو
امیر مینائی

تیرے جلوؤں کا اثر یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 65
رنگ دل، رنگ نظر یاد آیا
تیرے جلوؤں کا اثر یاد آیا
وہ نظر بن گئی پیغام حیات
حلقہ شام و سحر یاد آیا
یہ زمانہ، یہ دل دیوانہ
رشتہ سنگ و گہر یاد آیا
یہ نیا شہر یہ روشن راہیں
اپنا انداز سفر یاد آیا
راہ کا روپ بنی دھوپ اپنی
کوئی سایہ نہ شجر یاد آیا
کب نہ اس شہر میں پتھر برسے
کب نہ اس شہر میں سر یاد آیا
گھر میں تھا دشت نوردی کا خیال
دشت میں آئے تو گھر یاد آیا
گرد اڑتی ہے سر راہ خیال
دل ناداں کا سفر یاد آیا
ایک ہنستی ہوئی بدلی دیکھی
ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا
اس طرح شام کے سائے پھیلے
رات کا پچھلا پہر یاد آیا
پھر چلے گھر سے تماشا بن کر
پھر ترا روزن در یاد آیا
باقی صدیقی