ٹیگ کے محفوظات: اتنا

خود کو اتنا سمجھ کے بھول گئے

اک معمّا سمجھ کے بھول گئے
خود کو اتنا سمجھ کے بھول گئے
مرنے والے جہانِ رنگیں کو
اک تماشا سمجھ کے بھول گئے
میری آنکھوں کی التجاؤں کو
آپ شکوہ سمجھ کے بھول گئے
یاد، میری بلا کرے ان کو
وہ مجھے کیا سمجھ کے بھول گئے!
یوں تو غیروں پہ بھی عنایت ہے
مجھ کو اپنا سمجھ کے بھول گئے
بے سہارا سمجھ کے یاد کیا
رسمِ دنیا سمجھ کے بھول گئے
ان کا بخشا ہوا الم بھی، شکیبؔ
لطفِ بے جا سمجھ کے بھول گئے
شکیب جلالی

میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا

تیرا قصور نہیں میرا تھا
میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا
دیکھ کے تیرے بدلے تیور
میں تو اُسی دن رو بیٹھا تھا
اب میں سمجھا اب یاد آیا
تو اُس دن کیوں چپ چپ سا تھا
تجھ کو جانا ہی تھا لیکن
ملے بغیر ہی کیا جانا تھا
اب تجھے کیا کیا یاد دِلاؤں
اب تو وہ سب کچھ ہی دھوکا تھا
وہی ہوئی ہے جو ہونی تھی
وہی ملا ہے جو لکھا تھا
دل کو یونہی سا رنج ہے ورنہ
تیرا میرا ساتھ ہی کیا تھا
کس کس بات کو روؤں ناصر
اپنا لہنا ہی اِتنا تھا
ناصر کاظمی

کیا کہیں زیست میں کیا کیا نہ رہا

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا
کیا کہیں زیست میں کیا کیا نہ رہا
اب تو دنیا بھی وہ دنیا نہ رہی
اب ترا دھیان بھی اُتنا نہ رہا
قصۂ شوق سناؤں کس کو
راز داری کا زمانا نہ رہا
زندگی جس کی تمنا میں کٹی
وہ مرے حال سے بیگانہ رہا
ڈیرے ڈالے ہیں خزاں نے چوندیس
گل تو گل باغ میں کانٹا نہ رہا
دن دہاڑے یہ لہو کی ہولی
خلق کو خوف خدا کا نہ رہا
اب تو سو جاؤ ستم کے مارو
آسماں پر کوئی تارا نہ رہا
ناصر کاظمی

یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا

دیوان اول غزل 30
کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا
یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا
پائمال صد جفا ناحق نہ ہو اے عندلیب
سبزئہ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشنا
کون سے یہ بحرخوبی کی پریشاں زلف ہے
آتی ہے آنکھوں میں میری موج دریا آشنا
رونا ہی آتا ہے ہم کو دل ہوا جب سے جدا
جاے رونے ہی کی ہے جاوے جب ایسا آشنا
ناسمجھ ہے تو جو میری قدر نئیں کرتا کہ شوخ
کم بہت ملتا ہے پھر دلخواہ اتنا آشنا
بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاشکے
یک مژہ رنگ فراری اس چمن کا آشنا
کو گل و لالہ کہاں سنبل سمن ہم نسترن
خاک سے یکساں ہوئے ہیں ہائے کیا کیا آشنا
کیا کروں کس سے کہوں اتنا ہی بیگانہ ہے یار
سارے عالم میں نہیں پاتے کسی کا آشنا
جس سے میں چاہی وساطت ان نے یہ مجھ سے کہا
ہم تو کہتے گر میاں ہم سے وہ ہوتا آشنا
یوں سنا جا ہے کہ کرتا ہے سفر کا عزم جزم
ساتھ اب بیگانہ وضعوں کے ہمارا آشنا
شعر صائبؔ کا مناسب ہے ہماری اور سے
سامنے اس کے پڑھے گر یہ کوئی جا آشنا
تابجاں ما ہمرہیم و تا بمنزل دیگراں
فرق باشد جان ما از آشنا تا آشنا
داغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میر
ہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا
میر تقی میر