ٹیگ کے محفوظات: اتقا

کیمیا کو طلا سے کیا مطلب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 6
درد دل کو دوا سے کیا مطلب
کیمیا کو طلا سے کیا مطلب
جو کرینگے بھرینگے خود واعظ
تم کو میری خطا سے کیا مطلب
جن کے معبود حورو غلماں ہیں
ان کو زاہد خدا سے کیا مطلب
کام ہے مردمی سے انساں کی
زبد یا اتقا سے کیا مطلب
صوفی شہرِ با صفا ہے اگر
ہو ہماری بلا سے، کیا مطلب
نگہت مے پہ عشق میں جو حالیؔ
ان کو درد و صفا سے کیا مطلب
الطاف حسین حالی