ٹیگ کے محفوظات: اترتی

اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 12
ہے بال و پر میں وحشت سی، بے سمت اڑانیں بھرتی ہوں
اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں
پھر آس کا دریا بہتا ہے، پھر سبزہ اُگ اُگ آتا ہے
پھر دھوپ کنارے بیٹھی میں اک خواب کی چھاگل بھرتی ہوں
کیوں آگ دہکتی ہے مجھ میں، کیوں بارش ہوتی ہے مجھ میں
جب دھیان سے ملتی ہوں تیرے، جب تیرے من میں اترتی ہوں
کب مجھ کو رہائی ملنی تھی، ناحق جو قفس بھی توڑ دیا
بج اٹھتی ہیں زنجیریں سی یہ پاؤں جہاں بھی دھرتی ہوں
اک پھول کی پتّی کا بستر، اک اوس کے موتی کا تکیہ
تتلی کے پروں کو اوڑھ کے میں خوابوں میں آن ٹھہرتی ہوں
دل غم سے رہائی چاہتا ہے اور وہ بھی جیتے جی صاحب
پھر تجھ میں پنہ لے لیتی ہوں پھر خود سے کنارہ کرتی ہوں
ہیں ناگ کا پھن کالی راتیں، لمحہ لمحہ ڈستی جاویں
سو بار تڑپتی ہوں صاحب سو بار میں جیتی مرتی ہوں
نینا عادل

دوستی تو اداس کرتی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 79
کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
دوستی تو اداس کرتی نہیں
ہم ہمیشہ کے سیر چشم سہی
تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں
شبِ ہجراں بھی روزِ بد کی طرح
کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں
شعر بھی آیتوں سے کیا کم ہیں
ہم پہ مانا وحی اترتی نہیں
اس کی رحمت کا کیا حساب کریں
بس ہمیں سے حساب کرتی نہیں
یہ محبت ہے، سن! زمانے سن!
اتنی آسانیوں سے مرتی نہیں
جس طرح تم گزارتے ہو فراز
زندگی اس طرح گزرتی نہیں
احمد فراز

فیض احمد فیض ۔ قطعات

فیض احمد فیض ۔ قطعات
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
**
دل رہین غم جہاں ہے آج
ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج
سخت ویراں ہے محفل ہستی
اے غم دوست! تو کہاں ہے آج

**

وقف حرمان و یاس رہتا ہے
دل ہے اکثر اداس رہتا ہے
تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو
مجھ کو احساں کا پاس رہتا ہے
**
فضائے دل پر اداسی بکھرتی جاتی ہے
فسردگی ہے کہ جاں تک اترتی جاتی ہے
فریب زیست سے قدرت کا مدعا معلوم
یہ ہوش ہے کہ جوانی گزرتی جاتی ہے
متفرق اشعار
فیض احمد فیض

میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 486
خون سے اتنی سنورتی تو نہ تھی
میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی
چاند کھڑکی سے نکل آتا تھا
رات سیڑھی سے اترتی تو نہ تھی
موج ٹکراتی تھی ساحل سے مگر
ایسے سینے سے ابھرتی تو نہ تھی
یہ درِ یار پہ کیسا تھاہجوم
نئے عشاق کی بھرتی تو نہ تھی
لوگ کہتے ہیں محبت پہلے
اتنی آسانی سے مرتی تو نہ تھی
منصور آفاق