ٹیگ کے محفوظات: اترتا

وُہ آئنہ ہوں کہ جُڑ جُڑ کے نِت بکھرتا ہُوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
نہ پُوچھ مجُھ سے بھَلا میں کہاں سُنورتا ہُوں
وُہ آئنہ ہوں کہ جُڑ جُڑ کے نِت بکھرتا ہُوں
نظر ملے تو کبھی سُوئے اوج بھی دیکھوں
میں کور چشم نشیبوں میں ہی اُترتا ہُوں
بہ ایں بساط روانی کہاں مرے بس میں
کنارِ آب فقط جھاگ سا اُبھرتا ہُوں
ہوائے زرد وہیں مجھ کو آن لیتی ہے
رُتوں کے لُطف سے جَب بھی کبھی نکھرتا ہُوں
جو فرق فہم میں اپنے ہے اُس سے مُنکر ہُوں
نہ جانے تہمتیں کیوں دوسروں پہ دھرتا ہُوں
عجیب شخص ہُوں شہ رگ کٹے پہ بھی اکثر
بطرزِ خاص سرِ عام رقص کرتا ہُوں
لبوں پہ کرب اُمڈتا ہے اِس قدر ماجدؔ
چھپی رہے نہ وُہی بات جس سے ڈرتا ہوں
ماجد صدیقی

سو وہ سر بریدہ بھی پشت فرس سے اُترتا نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 193
جو گرتا نہیں ہے اسے کوئی پامال کرتا نہیں
سو وہ سر بریدہ بھی پشت فرس سے اُترتا نہیں
بس اب اپنے پیاروں کو اپنے دلاروں کو رخصت کرو
کہ اس امتحاں سے فرشتوں کا لشکر گزرتا نہیں
کبھی زرد ریتی کبھی خشک شاخوں پہ ہنستا ہوا
ہمارا لہو کس قدر سخت جاں ہے کہ مرتا نہیں
تری تیغ تو میری ہی فتح مندی کا اعلان ہے
یہ بازو نہ کٹتے اگر میرا مشکیزہ بھرتا نہیں
MERGED جو گرتا نہیں ہے اسے کوئی پامال کرتا نہیں
سو وہ سربریدہ بھی پشتِ فرس سے اترتا نہیں
کبھی زرد ریتی، کبھی سرد شاخوں پہ ہنستا ہوا
ہمارا لہو کس قدر سخت جاں ہے کہ مرتا نہیں
بس اب اپنے پیاروں کو، اپنے دُلاروں کو یکجا کرو
سنو، اس طرف سے فرشتوں کا لشکر گزرتا نہیں
سماعت کہ جنگل کا انعام تھا اک سزا بن گئی
اگر میں وہ انجان چیخیں نہ سنتا تو ڈرتا نہیں
عرفان صدیقی