ٹیگ کے محفوظات: اتار

چلا ہوں پاؤں میں عمر بھر کےغبار باندھے

میں رختِ دل میں وجود کے سب فشار باندھے
چلا ہوں پاؤں میں عمر بھر کےغبار باندھے
نہیں سے ہاں سے کبھی تعلق نہ ٹوٹ پایا
ہیں عہد خود سے ہزار توڑے، ہزار باندھے
دھنک بہاروں کی گلستاں میں جو آ نہ پائی
تو ابر کرنوں پہ پل پڑے ہیں، حصار باندھے
تبسمِ گُل بھی دل کا غنچہ نہ کھول پایا
تو اور کتنا حسین منظر، بہار باندھے؟
جنون دل کا، نہ جستجو ہے نظر کی باقی
یہ بار سر سے ہیں میں نے کب کے اتار باندھے
فلک پہ جائے نماز افق کی بچھا کے، ۔۔ دیکھو
نکل پڑے ہیں پرند سارے قطار باندھے
جنم جنم سے میں اس جنوں کی تلاش میں ہوں
جو ہوش نظروں کا توڑ دے جو، خمار باندھے
یاور ماجد

اے صاحبِ فن اتار تصویر

منظر ہے کہ شاہکار تصویر
اے صاحبِ فن اتار تصویر
رہ جاتی ہے یادگار تصویر
ہر چیز سے پایدار تصویر
اب دیکھ لو ایک بار ہم کو
پھر دیکھو گے بار بار تصویر
تصویر کی یار کو ضرورت
محتاجِ جمالِ یار تصویر
معمولی سے کیمرے نے باصرِؔ
کیا کھینچی ہے شاندار تصویر
باصر کاظمی

جو چاہتے تو اسے جاں سے مار سکتے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 588
یہ عمر جیل کے اندر گزار سکتے تھے
جو چاہتے تو اسے جاں سے مار سکتے تھے
یہ اور بات کہ راتیں رہی ہیں ہم بستر
ہم اپنے ہاتھ پہ سورج اتار سکتے تھے
بہت تھے کام کسی ڈاٹ کام پر ورنہ
غزل کی زلفِ پریشاں سنوار سکتے تھے
وہ ایک کام جو ممکن تھا رہ گیا افسوس
جو ایک جاں تھی اسے تجھ پہ وار سکتے تھے
ہمیشہ ربط کے پندار کا بھرم رکھا
صباحتِ لب و رخ تو وسار سکتے تھے
یہ بار بند نہ ہوتا تو ہم شرابی لوگ
تمام رات کسینو میں ہار سکتے تھے
کسی سے کی تھی محبت کی بات کیا منصور
کہ ایک مصرعے میں جیسے ہزار سکتے تھے
منصور آفاق

پانیوں پر گر رہا تھا گھنٹیوں کا آبشار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 6
پار دریا کر رہی تھی سبز اونٹوں کی قطار
پانیوں پر گر رہا تھا گھنٹیوں کا آبشار
دور تک کالی سڑک تھی اور پگھلتی تارکول
چل رہی تھی ٹائروں کا دکھ پہن کر ایک کار
رات ہجراں کی، سلو موشن میں صدیوں پر محیط
دن جدائی کا کہیں ، جیسے ابد کا انتظار
کعبہء عشقِ محمد ابرہوں کی زد میں ہے
پھر ابابیلوں کا لشکر آسمانوں سے اتار
سندھ کی موجوں کے بوسے مضطرب ہیں دیر سے
کر رہا ہے تیرے نقشِ پا کا ساحل انتظار
دور تک منصور بستر سی وصال انگیز ریت
ایک گیلی رات،میں ،اور تھل کا حسنِ خوشگوار
منصور آفاق