ٹیگ کے محفوظات: ابلہاں

اب مجھے یہ امتحاں کھَلنے لگا

ارتباطِ جسم و جاں کھَلنے لگا
اب مجھے یہ امتحاں کھَلنے لگا
اک متاعِ زندگی لگتا تھا جو
اب وہ حرفِ رایگاں کھَلنے لگا
آنچ آئی جب اصولوں پر مرے
التفاتِ دوستاں کھَلنے لگا
تیری منزل تھی مرا نقشِ قدم
اب مرا نام و نشاں کھَلنے لگا
اشکبار آنکھوں نے مانگی ہے دعا
آگ لگ جائے، دُھواں کھَلنے لگا
کب تلک قتلِ زبان و حرف و لفظ
شاعرِ شعلہ بیاں کھَلنے لگا
علم و دانش، حرف و فن آزاد ہَوں
حلقۂ دانشوراں کھَلنے لگا
کب سے ہُوں محرومِ کنجِ عافیت
یہ جہانِ اَبلَہاں کھَلنے لگا
فطرتِ آزاد کو ضامنؔ مری
ہر جگہ اک آسماں کھَلنے لگا
ضامن جعفری

اور اُن کے کھیلنے کو گاٹیاں ہم آپ ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
شہ بہ شہ اِک کھیل برپا ہے جہاں ہم آپ ہیں
اور اُن کے کھیلنے کو گاٹیاں ہم آپ ہیں
خم نہیں ہے ابروؤں میں چِیں جبینوں پر نہیں
جو نہیں تنتی کبھی ایسی کماں ہم آپ ہیں
مژدۂ کربِ لحد، ذکرِ خدائے محتسب
جانے کن کن دبدبوں کے درمیاں ہم آپ ہیں
حرف کی توقیر ہے، زور آوری پر منحصر
مقتدر ہی معتبر ہے بے زباں ہم آپ ہیں
زیر کرتی ہے ہمیں ہی دانشِ اہلِ ریا
جو بھی دَور آتا ہے صیدِ مُفسداں ہم آپ ہیں
اِک ذرا سی جس کو دانائی و عّیاری ملی
رہنما وہ اور جیشِ ابلہاں ہم آپ ہیں
دھند چھٹتی ہے تو پھر اِک دھند چھا جانے لگے
کُھل نہیں پاتا یہی ماجدؔ کہاں ہم آپ ہیں
ماجد صدیقی