ٹیگ کے محفوظات: ابر

کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے

دیوان پنجم غزل 1748
کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے
کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے
نہ سوز جگر خاک میں بھی گڑا
موئے پر پرآتش مری قبر ہے
گلستاں کے ہیں دونوں پلے بھرے
بہار اس طرف اس طرف ابر ہے
جو درویش پہنے ہے ببری لباس
تو پھر عینہٖ شیر ہے ببر ہے
در کعبہ پر کفر بکتا ہے میر
مسلماں نہیں وہ کہن گبر ہے
میر تقی میر

متفرق اشعار

آفتاب اقبال شمیم ۔

متفرق اشعار
حیران ہوں کرشمۂ خطاط دیکھ کر
یہ چشم و لب ہیں یا کوئی آیت لکھی ہوئی
سر پھوڑیے ضرور مگر احتیاط سے
دیوار پر یہی ہے ہدایت لکھی ہوئی

ایّام کی کتاب میں مرقوم کچھ نہیں
کیا مقصدِ وجود ہے معلوم کچھ نہیں
رہ جائے گا سماں وہی میلے کی شام کا
یہ سب ہجوم اور یہ سب دھوم کچھ نہیں

تم ابھی چُپ رہو صبر خود بولتا ہے
نشۂ خون میں ، جبر خود بولتا ہے
شرط ہے تن پہ اک تازیانہ لگے
زیرِ زورِ ہوا ابر خود بولتا ہے
آفتاب اقبال شمیم