ٹیگ کے محفوظات: ابرو

کون ہے بے قابو مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 113
کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں
کون ہے بے قابو مجھ میں
یادیں ہیں یا بلوا ہے
چلتے ہیں چاقو مجھ میں
لے ڈوبی جو ناؤ مجھے
تھا اس کا چپو مجھ میں
جانے کن کے چہرے ہیں
بے چشم و ابرو مجھ میں
ہیں یہ کس کے تیغ و علم
بے دست و بازو مجھ میں
جانے کس کی آنکھوں سے
بہتے ہیں آنسو مجھ میں
ڈھونڈتی ہے اک آہو کو
اک مادہ آہو مجھ میں
آدم ، ابلیس اور خدا
کوئی نہیں یکسو مجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں
کیوں رہتا ہے تو مجھ میں
جون کہیں موجود نہیں
میرا ہم پہلو مجھ میں
اب بھی بہاراں مژدہ ہے
ایک خزاں خوشبو مجھ میں
جون ایلیا

گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو

دیوان ششم غزل 1865
بس اب بن چکے رو و موے سمن بو
گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو
نہ سمجھا گیا کھیل قدرت کا ہم سے
کیا اس کو بدخو بنا کر نکورو
نہ درگیر کیونکر ہو آپس میں صحبت
کہ میں بوریا پوش وہ آتشیں خو
ہوا ابر و سبزے میں چشمک ہے گل کی
کریں ساز ہم برگ عیش لب جو
بہار آئی گل پھول سر جوڑے نکلے
رہیں باغ میں کاش اس رنگ ہم تو
رہے آبرو میر تو ہے غنیمت
کہ غارت میں دل کی ہے ایماے ابرو
میر تقی میر

لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں

دیوان دوم غزل 888
گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں
لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں
گل کو کیا نسبت ہے تجھ سے میں نہ مانوں زینہار
رنگ اگر بالفرض تیرا سا ہوا یہ بو کہاں
عشق لاتا ہے بروے کار مجنوں سا کبھو
بید بہتیرے کھڑے ہیں وے پریشاں مو کہاں
دیکھیاں کجیاں کمانوں کی بھی خم محراب کے
پر دلوں کو کھینچتے ہیں جیسے وے ابرو کہاں
سنبل آپھی آپ پیچ و تاب یوں کھایا کرے
یار کی سی زلف کے وے حلقہ حلقہ مو کہاں
آگے یہ آنکھیں گلے کی ہار ہی رہتی تھیں روز
اب جگر میں خوں نہیں وے سہرے سے آنسو کہاں
میر سچ کہتا تھا جنت ہو نصیب اس کے تئیں
حور کا چہرہ کہاں اس کا رخ نیکو کہاں
میر تقی میر

کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا

دیوان دوم غزل 713
پھریے کب تک شہر میں اب سوے صحرا رو کیا
کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا
عشق نے کیا کیا تصرف یاں کیے ہیں آج کل
چشم کو پانی کیا سب دل کو سب لوہو کیا
نکہت خوش اس کے پنڈے کی سی آتی ہے مجھے
اس سبب گل کو چمن کے دیر میں نے بو کیا
کام میں قدرت کے کچھ بولا نہیں جاتا ہے ہائے
خوبرو اس کو کیا لیکن بہت بدخو کیا
جانا اس آرام گہ سے ہے بعینہ بس یہی
جیسے سوتے سوتے ایدھر سے ادھر پہلو کیا
عزلتی اسلام کے کیا کیا پھرے ہیں جیب چاک
تونے مائل کیوں ادھر کو گوشۂ ابرو کیا
وہ اتوکش کا مجھی پر کیا ہے سرگرم جفا
مارے تلواروں کے ان نے بہتوں کو اتو کیا
ہاتھ پر رکھ ہاتھ اب وہ دو قدم چلتا نہیں
جن نے بالش خواب کا برسوں مرا بازو کیا
پھول نرگس کا لیے بھیچک کھڑا تھا راہ میں
کس کی چشم پرفسوں نے میر کو جادو کیا
میر تقی میر

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا

دیوان اول غزل 133
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
ہوں دوانہ ترے سگ کو کا
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو
فکر ہے اپنے ہر بن مو کا
ہے مرے یار کی مسوں کا رشک
کشتہ ہوں سبزئہ لب جو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف
ہے وظیفہ یہی دعاگو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارے
عشق کر تیری چشم و ابرو کا
شور قلقل کے ہوتی تھی مانع
ریش قاضی پہ رات میں تھوکا
عطر آگیں ہے باد صبح مگر
کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں
کارخانہ ہے واں تو جادو کا
میر ہرچند میں نے چاہا لیک
نہ چھپا عشق طفل بدخو کا
نام اس کا لیا ادھر اودھر
اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
میر تقی میر