ٹیگ کے محفوظات: ابتدا

صورت کوئی بنے تو سفر ابتدا کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہر شخص رہنما ہے کِسے رہنما کریں
صورت کوئی بنے تو سفر ابتدا کریں
ہاں کچھ تو والدین کو بھیجا کریں ضرور
پیسے نہیں تو خط ہی کبھی لکھ دیا کریں
مانگے اگر حساب کوئی صاحبِ دکان
پھیکی سی اک ہنسی نہ فقط ہنس دیا کریں
ماجدؔ بطرزِ نو سخن آرا تو ہوں ضرور
لوگوں کے تبصروں سے نہ لیکن ڈرا کریں
ماجد صدیقی

اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری

احمد فراز ۔ غزل نمبر 89
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری
میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی
پھر اس کے بعد تو آواز جا بجا تھی مری
جو طعنہ زن تھا مری پوششِ دریدہ پر
اسی کے دوش پہ رکھی ہوئی قبا تھی مری
میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں
میں اس کو بھول گیا ہوں، یہی سزا تھی مری
شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری
کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری
کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا
تو شہرِ عشق میں کیا آخری صدا تھی مری؟
جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ہے
اسی طرح کی تو مخلوق خاکِ پا تھی مری
ہر ایک شعر نہ تھا در خورِ قصیدۂ دوست
اور اس سے طبعِ رواں خوب آشنا تھی مری
میں اس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری
احمد فراز

کیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربط

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 55
لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربط
کیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربط
یہ ناخن و خراش میں بگڑی کہ کیا کہوں
اک دم ہوا جو عقدہ بندِ قبا سے ربط
ناصح مری ملامتِ بے جا سے فائدہ
بے اختیار دل کو ہے اس دل ربا سے ربط
اس سرد مہر کو ہو اثر، پر جو ہو سکے
کام و دہاں کو میرے دمِ شعلہ زا سے ربط
کیجے گر ان سے شکوہ انجامِ کارِ عشق
کہتے ہیں مجھ کو تم سے نہ تھا ابتدا سے ربط
دو دن میں تنگ ہو گئے جورِ سپہر سے
اس حوصلے پہ کرتے تھےاس کی جفا سے ربط
کیا کیجے، بد گمانیِ ابرو کا دھیان ہے
کرتے وگرنہ ہجر میں تیغِ قضا سے ربط
تیرے ستم سے ہے یہ دعا لب پہ دم بہ دم
یا رب نہ ہو کسی کو کسی بے وفا سے ربط
صبحِ شبِ فراق کیا لطفِ مرگ نے
کیا دیر میں ہوا ہمیں زود آشنا سے ربط
فریادِ نزع کان تک اس کے نہ جا سکی
تھا شیفتہ ہمیں نفسِ نارسا سے ربط
مصطفٰی خان شیفتہ

کہیے کہیے مجھے برا کہیے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 48
ناروا کہیے ناسزا کہیے
کہیے کہیے مجھے برا کہیے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے
پھر نہ رکیے جو مدّعا کہیے
ایک کے بعد دوسرا کہیے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہیے کہ مدّعا کہیے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے
دل میں رکھنے کی بات ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہیے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حالِ دل سب سے جابجا کہیے
مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہیے
انتہا عشق کی خدا جانے
دمِ آخر کو ابتدا کہیے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدّعا کہیے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہیے
آ گئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہیے
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہیے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور با وفا کہیے
داغ دہلوی

اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 233
بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے
یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حُزن دل میں نکہتِ موجِ صبا سے ہے
دستِ شجر کی تحفہ رسانی ہے تا بہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سے ہے
جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے
دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
ناآشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے
اس میں کوئی گِلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے
جون ایلیا

کہ ساری رات وحشت ہی رہا کی

دیوان ششم غزل 1894
طبیعت نے عجب کل یہ ادا کی
کہ ساری رات وحشت ہی رہا کی
نمائش داغ سودا کی ہے سر سے
بہار اب ہے جنوں کی ابتدا کی
نہ ہو گلشن ہمارا کیونکے بلبل
ہمیں گلزار میں مدت سنا کی
مجھی کو ملنے کا ڈھب کچھ نہ آیا
نہیں تقصیر اس ناآشنا کی
گئے جل حر عشقی سے جگر دل
رہی تھی جان سو برسوں جلا کی
انھیں نے پردے میں کی شوخ چشمی
بہت ہم نے تو آنکھوں کی حیا کی
ہوا طالع جہاں خورشید دن ہے
تردد کیا ہے ہستی میں خدا کی
پیام اس گل کو پہنچا پھر نہ آئی
نہ خوش آئی میاں گیری صبا کی
سبب حیرت کا ہے اس کا توقف
سبک پا واں یہ اب تک کیا کیا کی
جفائیں سہیے گا کہتے تھے اکثر
ہماری عمر نے پھر گر وفا کی
جواں ہونے کی اس کے آرزو تھی
سو اب بارے ہمیں سے یہ جفا کی
گیا تھا رات دروازے پر اس کے
فقیرانہ دعا کر جو صدا کی
لگا کہنے کہ یہ تو ہم نشیناں
صدا ہے دل خراش اس ہی گدا کی
رہا تھا دیکھ پہلے جو نگہ کر
ہمارے میر دل میں ان نے جا کی
ملا اب تو نہ وہ ملنا تھا اس کا
نہ ہم سے دیر آنکھ اس کی ملا کی
میر تقی میر

دانستہ جا پڑے ہے کوئی بھی بلا کے بیچ

دیوان سوم غزل 1124
جانا نہ دل کو تھا تری زلف رسا کے بیچ
دانستہ جا پڑے ہے کوئی بھی بلا کے بیچ
فرہاد و قیس جس سے مجھے چاہو پوچھ لو
مشہور ہے فقیر بھی اہل وفا کے بیچ
آخر تو میں نے طول دیا بحث عشق کو
کوتاہی تم بھی مت کرو جور و جفا کے بیچ
آئی جو لب پہ آہ تو میں اٹھ کھڑا ہوا
بیٹھا گیا نہ مجھ سے تو ایسی ہوا کے بیچ
اقبال دیکھ اس ستم و ظلم و جور پر
دیکھوں ہوں جس کو ہے وہ اسی کی دعا کے بیچ
دل اس چمن میں بہتوں سے میرا لگا ولے
بوے وفا نہ پائی کسو آشنا کے بیچ
جوش و خروش میر کے جاتے رہے نہ سب
ہوتا ہے شور چاہنے کی ابتدا کے بیچ
میر تقی میر

گہر پہنچا بہم آب بقا میں

دیوان دوم غزل 867
نہیں تبخال لعل دلربا میں
گہر پہنچا بہم آب بقا میں
غریبانہ کوئی شب روز کر یاں
ہمیشہ کون رہتا ہے سرا میں
اٹھاتے ہاتھ کیوں نومید ہو کر
اگر پاتے اثر کچھ ہم دعا میں
کہے ہے ہر کوئی اللہ میرا
عجب نسبت ہے بندے میں خدا میں
کفن میں ہی نہ پہنا وہ بدن دیکھ
کھنچے لوہو میں بہتیروں کے جامیں
ادھر جانے کو آندھی تو ہے لیکن
سبک پائی سی ہے باد صبا میں
بلا تہ دار بحر عشق نکلا
نہ ہم نے انتہا لی ابتدا میں
ملے برسوں وہی بیگانہ ہے وہ
ہنر ہے یہ ہمارے آشنا میں
اگرچہ خشک ہیں جیسے پر کاہ
اڑے ہیں میرجی لیکن ہوا میں
میر تقی میر

اٹھایا جاؤں تو پھر شاخ پر لگا کے دکھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 62
خدائے برگ! مجھے خاک سے اٹھا کے دکھا
اٹھایا جاؤں تو پھر شاخ پر لگا کے دکھا
میں سنگِ شام سے سر پھوڑنے چلا ہوں ذرا
کنول سے خواب مجھے میری ابتدا کے دکھا
میں نیل نیل ترا حلفیہ بیاں تو پڑھوں
فگار پشت سے کُرتا ذرا اٹھا کے دکھا
تجھے میں ہدیۂِ تائید دوں مگر پہلے
مرے وجود سے حرفِ نفی مٹا کے دکھا
تو پربتوں کو زمیں پر پچھاڑ دے تو کیا
ہوس کو جسم کے گھمسان میں ہرا کے دکھا
اسی کے نام کی ہر سُو اذاں سنائی دے
نقیبِ شہر! ہمیں معجزے صدا کے دکھا
نظر فروز ہو جو کل کی سرخیوں کی طرح
وہ لفظ آج سرِ طاقِ لب جلا کے دکھا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی جواب مِثل آب سادہ و جاں فزا ملے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 35
تشنہ لبِ سوال کو دیکھئے کب شفا ملے
کوئی جواب مِثل آب سادہ و جاں فزا ملے
اپنی پرانی اصل پر آتا ہوں لوٹ لوٹ کر
سمجھوں میں انتہا جسے وہ مجھے ابتدا ملے
سرد حقیقتوں سے دور جبرِ یقین سے پرے
پائیں نمو، یہ ذہن و دل ایسی کوئی جگہ ملے
اپنے ہی آپ میں رہے گنجِ لئیم کی طرح
اُس بتِ خود پسند سے دل کی نیاز کیا ملے
ہار گیا ہوں بار بار، اتنا مگر ضرور ہے
ہاتھ قمار باز کا بدلا ہوا ذرا ملے
اُس جا تمہاری آس کیا اور ہماری یاس کیا
دھوپ جہاں سفر میں ہو سایہ گریز پا ملے
آفتاب اقبال شمیم

پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 456
اک حبس کے مریض کو تازہ ہوا ملی
پڑھ کے کلامِ فیض جو پھونکا شفا ملی
کل رات باغ میں مجھے پتوں کے دکھ ملے
لیکن وہاں سے نکلا توبادِ صبا ملی
کیسے کروں وسیلے کی عظمت سے انحراف
مجھ کو خدا کی ذات بھی بل واسطہ ملی
اک دن ملا بہار میں ہنستا ہوا مجھے
اک شام غم کا کرتی ہوئی تجربہ ملی
بولیں گے جبرائیل بھی میرے وجود میں
مجھ کو کسی فقیر سے جس دن دعا ملی
شہرِ ابد نژاد ابھی کتنا دور ہے
پوچھوں گا کائنات کی جو ابتدا ملی
منصور میں نے بانٹ دی خستہ حروف میں
مجھ کو جو آسماں سے شرابِ بقا ملی
منصور آفاق

ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 187
موج ساحل سے جب جدا ہو جائے
ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے
لاکھ مجبوریاں سہی لیکن
آپ چاہیں تو کیا سے کیا ہو جائے
ہم کہیں جو روا نہیں لیکن
تم کہو جو وہی روا ہو جائے
تیری رحمت پہ اس قدر ہے یقین
جب خیال آئے اک خطا ہو جائے
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
جب بجھے روشنی سوا ہو جائے
باقی صدیقی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 169
موج ساحل سے جب جدا ہو گی
ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری
میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا
اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی