ٹیگ کے محفوظات: آیا

جانے کس بیوہ نے دیپک گایا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
آنکھ میں پھر اک شعلہ سا لہرایا ہے
جانے کس بیوہ نے دیپک گایا ہے
گوندھ کے آٹا، اُس سے بنے کھلونوں سے
ماں نے روتے بچّے کو بہلایا ہے
کس کس اور سے کیا کیا طوطے آ جھپٹے
باغ میں جب سے پیڑ پہ پھل گدرایا ہے
جھونپڑیاں تک محلوں کے گُن گاتی ہیں
گھر گھر جانے کس آسیب کا سایا ہے
صاحبِ ثروت پھر نادار کے جبڑے میں
اپنے کام کے لفظ نئے رکھ آیا ہے
ساتھ کے گھر میں دیکھ کے پکتا خربوزہ
ماجدؔ بھی وڈیو کیسٹ لے آیا ہے
ماجد صدیقی

ہم سے بچھڑا تو پھر نہ آیا وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 137
بن کے ابرِ رواں کا سایا وُہ
ہم سے بچھڑا تو پھر نہ آیا وُہ
اُڑنے والا ہوا پہ خُوشبو سا
دیکھتے ہی لگا پرایا وُہ
جبر میں، لطف میں، تغافل میں
کیا ادا ہے نہ جس میں بھایا وُہ
جیسے پانی میں رنگ گھُل جائے
میرے خوابوں میں یُوں سمایا وُہ
مَیں کہ تھا اِک شجر تمّنا کا
برگ بن بن کے مجھ پہ چھایا وُہ
تیرتا ہے نظر میں شبنم سا
صبحدم نُور میں نہایا وُہ
آزمانے ہماری جاں ماجدؔ
کرب کیا کیا نہ ساتھ لایا وُہ
ماجد صدیقی

جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں !

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 65
چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں !
جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں !
اے مجھے جاگتا پاتی ہُوئی رات
وہ مری نیند سے بہلا کہ نہیں !
بھیڑ میں کھویا ہُوا بچہ تھا
اُس نے خود کو ابھی ڈھونڈا کہ نہیں !
مجھ کو تکمیل سمجھنے والا
اپنے معیار میں بدلا کہ نہیں !
گنگناتے ہوئے لمحوں میں اُسے
دھیان میرا کبھی آیا کہ نہیں !
بند کمرے میں کبھی میری طرح
شام کے وقت وہ رویا کہ نہیں !
میری خوداری برتنے والے!
تیر اپندار بھی ٹوٹا کہ نہیں !
الوداع ثبت ہُوئی تھی جس پر
اب بھی روشن ہے وہ ماتھا کہ نہیں !
پروین شاکر

وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 44
بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو
خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پہ لکھا تھا،لوگو
اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا،لوگو
اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کِسی وقت میں اپنا ،لوگو
دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا،لوگو
رات وہ درد مرے دل میں اُٹھا
صبح تک چین نہ آیا ،لوگو
پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہُوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا،لوگو
پروین شاکر

سوچتا ہوں کون کون آیا گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 30
ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا
سوچتا ہوں کون کون آیا گیا
بت کے میں مدتوں کھائے فریب
بارہا کعبہ میں بہکایا گیا
ناصحا میں یہ نا سمجھا آج تک
کیا سمجھ کر مجھ کو سمجھایا گیا
قمر جلالوی

اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 49
جس نے میری ہی طرف تیر چلایا میں تھا
اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا
ان چراغوں کے اب اتنے بھی قصیدے نہ پڑھو
یار، تم نے جسے راتوں کو جلایا، میں تھا
اے ہوا میرے سفینے کو ڈبونے والی
دیکھ، تونے جسے ساحل پہ لگایا، میں تھا
خاک پر ڈھیر ہے قاتل، یہ کرشمہ کیا ہے
کہ نشانے پہ تو مدت سے خدایا، میں تھا
جو مجھے لے کے چلی تھی وہ ہوا لوٹ گئی
پھر کبھی جس نے پتہ گھر کا نہ پایا، میں تھا
اب لہو تم کو بھی پیارا ہے چلو یوں ہی سہی
ورنہ یہ رنگ تو اس دشت میں لایا میں تھا
عرفان صدیقی

مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 5
چپ چپاتے اسے دے آئے دل اک بات پہ ہم
مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا
نامہ بر آج بھی خط لے کے نہ آیا یارو
تم تو کہتے ہو کہ وہ ہے ابھی آیا جاتا
لوگ کیوں شیخ کو کہتے ہیں کہ عیار ہے وہ
اس کی صورت سے تو ایسا نہیں پایا جاتا
کرتے کیا پیتے اگر مے نہ عشا سے نا صبح
وقت فرصت کا یہ کس طرح گنوایا جاتا
اس نے اچھا ہی کیا حال نہ پوچھا دل کا
بھڑک اٹھتا تو یہ شعلہ نہ دبایا جاتا
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
اب تو تکفیر سے واعظ نہیں ہٹتا حالیؔ
کہتے پہلے سے تو دے لے کے ہٹایا جاتا
الطاف حسین حالی

یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 247
ترا غم ہر طرف چھایا ہوا ہے
یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا ہے
خوشی ہے دے فریب زندگانی
کہ تجھ پر اعتبار آیا ہوا ہے
ازل سے ہے پریشاں زندگانی
یہ عقدہ کس کا الجھایا ہوا ہے
دلوں میں فاصلہ اتنا نہیں ہے
زمانہ درمیاں آیا ہوا ہے
بہانے لاکھ ہیں جینے کے باقیؔ
مگر دل ہے کہ گھبرایا ہوا ہے
باقی صدیقی

لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 91
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو
شوق نظارہ کا پردہ اٹھا
نظر آنے لگی دنیا ہم کو
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو
بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی
نہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو
تلخی غم کا مداوا معلوم
پڑ گیا زہر کا چسکا ہم کو
تیرے غم سے تو سکوں ملتا ہے
اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو
گھر کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسے
آج ہی گھر نظر آیا ہم کو
ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی
تو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو
جلوہ لالہ و گل ہے دیوار
کبھی ملتے سر صحرا ہم کو
لے اڑی دل کو نسیم سحری
بوئے گل کر گئی تنہا ہم کو
سیر گلشن نے کیا آوارہ
لگ گیا روگ صبا کا ہم کو
یاد آئی ہیں برہنہ شاخیں
تھام لے اے گل تازہ ہم کو
لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ
ایک سوکھا ہوا پتا ہم کو
باقی صدیقی

ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 5
مجھے خراب جنوں کر کے تو نے کیا پایا
ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا
ترے غرور نے محفل میں جو نہ بات سنی
ترے شعور نے خلوت میں اس کو دہرایا
تمہارے ذکر سے دل کو سکوں ملے نہ ملے
چلو کوئی نہ کوئی مشغلہ تو ہاتھ آیا
بہت غرور تھا اپنی وفاؤں پر جس کو
اسی کو تیری نگاہ کرم نے ٹھکرایا
کچھ اس طرح بھی ملے ہیں فریب غم باقیؔ
قریب پہنچے تو آگے سرک گیا سایا
باقی صدیقی

آپ کی برہمی کا وقت آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دل نے اظہار غم پہ اکسایا
آپ کی برہمی کا وقت آیا
کون سے راستے پہ چل نکلے
جس نے دیکھا اسی نے سمجھایا
اور بھی تلخ ہو گیا جینا
وضعداری کا جب خیال آیا
ہر تمنا سے بے نیاز ہوئے
یوں بھی دامان زیست پھیلایا
جانے کس غم میں سوئے تھے باقیؔ
آنکھ کھلتے ہی کوئی یاد آیا
باقی صدیقی

ویلا آپوں ساڈے ناں دیاں، ویلاں ہوکن آیا اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 110
ہک تے ٹِکیا پتھر اَساں، اِنج دا پرت وکھایا اے
ویلا آپوں ساڈے ناں دیاں، ویلاں ہوکن آیا اے
ساڈے مان دا ضامن، ساڈے دیس دے سر دا شملہ اے
اوہ جھنڈا سدھراں نے جیہڑا، ساڈے ہتھ پھڑایا اے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

اکھ بی مینڈھی پھڑکی نویں، تے کاگ بی خبر لیایا نئیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 86
کیہ آکھاں اوہ آوندا ہوسی، ہن توڑیں تے آیا نئیں
اکھ بی مینڈھی پھڑکی نویں، تے کاگ بی خبر لیایا نئیں
آٹا گُنھدی دا آٹا بی، اُچھلیا نئیں پراتاں چوں
خط پتر بی اُس کملے دا، ڈاکیے آن تھمایا نئیں
چُونڈھی وڈھ کے دس توں مانھ، میں کیہڑے ویہن چ ویہہ گئی آں
نیزہ نیزہ دیہوں چڑھ آیا، رِڑکا بی میں پایا نئیں
آپ ائی میں، اِس بُھگے رُکھ دے تھلّے، ڈیرا لاگھِدا
پریتاں دا پرچھانواں ٹُرکے، کول کسے دے آیا نئیں
مینڈھی حرص دے کُتے تے، کَھورُو کھٹدے ائی رہ گئے نیں
دل دے باز نیانے ائی، کوئی جھاڑیوں ساہ اٹھایا نئیں
کتھے تے ونج وَجنا اہیا، چُھٹیا تیر کماناں چوں
وچ کھبانی وٹا رکھ کے، آپ ائی تُدھ پِھرایا نئیں
خبرے کتھوں آ گئی ماجد، اکھیاں وچ رَتینجن جیہی
نظراں ساہمنے تے، کوئی سُوہا بھوچھن بی، لہرایا نئیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سُکھ دی بھِکھیا منگن دا وی، چج نہ آیا مینوں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 43
خورے کنھے پہلی واری، خوف دوایا مینوں
سُکھ دی بھِکھیا منگن دا وی، چج نہ آیا مینوں
مِیلاں تیکن سیک میرے توں، لوکی تَرَیہہ تَرَیہہ بہندے
اگ پجاری سدھراں نے، اِنج بھٹھ بنایا مینوں
نہ میں سُکا پَتّر بنیا، نہ گھن چھانواں بُوٹا
جیہڑی رُت وی بدلی، اوہنے ائی ترسایا مینوں
پہلاں پہل تے اوہدی، اک اک گل تے، اوکھا ہویا
فر تے اپنے آپ تے وی، جئیوں رحم نہ آیا مینوں
ماجدُ میں جس راہ ٹُر چلیا، ایہہ راہ کدوں مکنی
اَنھیاں گنگیاں سوچاں نے، واہ واہ پدھڑایا مینوں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)