ٹیگ کے محفوظات: آہوؤں

برس برس ہے مرے تن پہ چیتھڑوں جیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
فلک پہ چھائے ہوئے بکھرے بادلوں جیسا
برس برس ہے مرے تن پہ چیتھڑوں جیسا
نہ ہوں گے محو کبھی ذہن سے مرے اجداد
گئے ہیں چھوڑ یہ ورثہ جو رتجگوں جیسا
اُسی کلامِ منّور کی جستجُو ہے ہمیں
ضیا میں جس کی تحرّک ہو جگنوؤں جیسا
یہ تم ہنسے ہو کہ گردش میں ہے لہو اپنا
اٹھا کہاں سے چھناکا یہ پائلوں جیسا
یہ کیوں تمہارا تعاقب ہی ہر نگاہ کو ہے
برس لگا ہے یہ کیا تازہ موسموں جیسا
جگا رہاہے نگاہوں میں ذائقے کیا کیا
بدن تمہارا کہ ہے رس بھرے پھلوں جیسا
بجاکہ ایک تُنک خو ہو تُم ہزاروں میں
ملا ہے ظرف ہمیں بھی سمندروں جیسا
کچھ ایسی چاہ ہمیں ہی نہیں ہے بھنوروں سی
بدن ملا ہے تمہیں بھی تو گلشنوں جیسا
نہ سست رو کبھی دیکھا ترا قلم ماجدؔ
اِسے دیا ہے یہ رَم کس نے آہوؤں جیسا
ماجد صدیقی

میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 109
ڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کے
میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے
اِک رات کِھلا تھا اُس کا وعدہ
آنگن میں ہجوم خوشبوؤں کے
شہروں سے ہَوا جو ہوکے آئی
رم چھننے لگے ہیں آہوؤں کے
کس بات پہ کائنات تج دیں
کھلتے نہیں بھید سادھوؤں کے
تنہا مری ذات دشتِ شب میں
اطراف میں خیمے بدوؤں کے!
یہ بول ہوا کے لب پہ ہیں یا
منتر ہیں قدیم جادوؤں کے!
پروین شاکر