ٹیگ کے محفوظات: آہن

دشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 31
اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا
دشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا
مشاطہ نے مگر عملِ سیمیا کیا
گل برگ کو جو غنچۂ سوسن بنا دیا
دامن تک اس کے ہائے نہ پہنچا کبھی وہ ہاتھ
جس ہاتھ نے کہ جیب کو دامن بنا دیا
دیکھا نہ ہو گا خواب میں بھی یہ فروغِ حسن
پردے کو اس کے جلوے نے چلمن بنا دیا
تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار
شب موم کر لیا، سحر آہن بنا دیا
پروانہ ہے خموش کہ حکمِ سخن نہیں
بلبل ہے نغمہ گر کہ نوا زن بنا دیا
صحرا بنا رہا ہے وہ افسوس شہر کو
صحرا کو جس کے جلوے نے گلشن بنا دیا
مشاطہ کا قصور سہی سب بناؤ میں
اس نے ہی کیا نگہ کو بھی پر فن بنا دیا
اظہارِ عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا
مصطفٰی خان شیفتہ

مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 140
قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو
نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہے
نہ دی ہوتی خدا یا آرزوئے دوست، دشمن کو
نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر
کیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو
خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں
کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں
نہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو
ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا
کیا بیتاب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو
خوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آوے
سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہے
مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو
جہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو
نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے
جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالب
فریدون و جم و کیخسرو و داراب و بہمن کو
مرزا اسد اللہ خان غالب

خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 37
چاند سا چہرہ، نور سی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
گُل رُخِ نازک، زلف ہے سنبل، آنکھ ہے نرگس، سیب زنخداں
حُسن سے تم ہو غیرتِ گلشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
ساقیِ بزمِ روزِ ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں
آنکھیں ہیں ساغر، شیشہ ہے گردن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
قہر غضب ظاہر کی رکاوٹ، آفتِ جاں درپردہ لگاوٹ
چاہ کے تیور، پیار کی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
غمزہ اچکّا، عشوہ ہے ڈاکو، قہر ادائیں، سحر ہیں باتیں
چور نگاہیں، ناز ہے رہزن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
نور کا تن ہے، نور کے کپڑے، اس پر کیا زیور کی چمک ہے
چھلے، کنگن، اِکّے، جوشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
جمع کیا ضدّین کو تم نے، سختی ایسی، نرمی ایسی
موم بدن ہے، دل ہے آہن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
واہ امیرؔ، ایسا ہو کہنا، شعر ہیں یا معشوق کا گہنا
صاف ہے بندش، مضموں روشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
امیر مینائی