ٹیگ کے محفوظات: آہنگ

لب کشا عنچے ہیں اَب کچھ اور ہی آہنگ میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 96
برتری پائی ہے شاخوں نے خزاں سے جنگ میں
لب کشا عنچے ہیں اَب کچھ اور ہی آہنگ میں
وُہ کہ جس کی دِید کا ہے ذائقہ کچھ اور ہی
شہد کا چھتّا نظر آئی لباسِ تنگ میں
ذکر سے اُس کے بہت شیریں سہی نغمہ مگر
اُس سی لَے کی تازگی کب تھی رباب و چنگ میں
زیور و زر ہی دُلہن کو ساتھ لے کر آ گئے
آپ تو دُولہے میاں تولے گئے پاسنگ میں
لمس سے ممکن کہاں پہچان سبز و سرُخ کی
اِس غرض کو ڈال کر پانی بھی دیکھو رنگ میں
چھُو لیا ہے فکر نے کس دردِ زہر آلُود کو
بِس چڑھی لگتی ہے ماجدؔ تیرے اِک اِک انگ میں
ماجد صدیقی

ہر اک صدا میں ترے حرفِ‌ لطف کا آہنگ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 29
تمام شب دلِ وحشی تلاش کرتا ہے
ہر اک صدا میں ترے حرفِ‌ لطف کا آہنگ
ہر ایک صبح ملاتی ہے بار بار نظر
ترے دہن سے ہر اک لالہ و گلاب کا رنگ
قطعہ
فیض احمد فیض

میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 166
تول مت مجھ کو کہ پاسنگ بہت ہے مجھ میں
میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں
آؤ میں تم کو تمہارے کئی چہرے دکھلاؤں
آئنہ خانہ ہوں‘ نیرنگ بہت ہے مجھ میں
میرا دشمن مرے سینے سے اترتا ہی نہیں
غالباً حوصلۂ جنگ بہت ہے مجھ میں
اس نے کیا سوچ کے چھیڑا تھا‘ میں کیا بول اٹھا
تار کوئی غلط آہنگ بہت ہے مجھ میں
اتنی افسردہ نہ ہو کوچۂ قاتل کی ہوا
چھو کے تو دیکھ‘ ابھی رنگ بہت ہے مجھ میں
عرفان صدیقی

جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 70
اس کارگہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا
تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتی
اس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا
ہے حلقہ جاں اپنی وفاؤں کا تصور
اس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا
ہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہ
اپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا
بخشے ہوئے اک گھونٹ پہ ہم جھوم رہے ہیں
اب مانگ کے پینا بھی کوئی ننگ نہیں کیا
زخم دل بیتاب ہے ہاتھوں میں نوالہ
اس بات پہ دنیا سے مری جنگ نہیں کیا
وہ رنگ نہیں شعلہ احساس میں باقیؔ
ہم ساز تمنا سے ہم آہنگ نہیں کیا
باقی صدیقی