ٹیگ کے محفوظات: آواز

سدا رہیں گے نہ ایک جیسے رُتوں کے انداز دیکھ لینا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
فضائے دوراں کبھی تو ہو گی دلوں کی دمساز دیکھ لینا
سدا رہیں گے نہ ایک جیسے رُتوں کے انداز دیکھ لینا
یہ بات سورج کے ایک دوبار پھر کے آنے پہ منحصر ہے
کلی چھپائے جِسے، ہوا کے لبوں پہ وُہ راز دیکھ لینا
چمن میں تُندی ذرا سی بھی جسکے زمزموں میں درآئی اُس پر
کھُلے نہیں گر تو کُچھ دنوں میں قفس کے درباز دیکھ لینا
پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سِدھانے کی سوچتے ہو
بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وُہ اپنے انداز دیکھ لینا
فقط دبکنے سے فاختاؤں کو کیاضمانت ملے اماں کی
ہنر دکھائے گا اِس طرح تو کچھ اور شہباز دیکھ لینا
رواں دواں ہے نمِ زمیں سا، نمو کا پیغام جس میں ماجدؔ
صدا بصحرا کبھی نہ ہو گی مری یہ آواز دیکھ لینا
ماجد صدیقی

وُہ شوخ مرا دمساز نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
یہ بات کُھلی ہے راز نہیں
وُہ شوخ مرا دمساز نہیں
ہم قُرب پہ اُس کے فخر کریں
حاصل یہ ہمیں اعزاز نہیں
کہتے ہیں یہ دل وہ شیشہ ہے
ٹُوٹے تو کوئی آواز نہیں
بج اُٹّھے بِن مضراب کے جو
یہ جیون ایسا ساز نہیں
جو خوش الحان ہوئے اُن پر
کب زنداں کے در باز نہیں
حق بات ہے یہ گر جان سکیں
کنجشک ہیں ہم شہباز نہیں
ماجدؔ ہیں ہمیں جو غم، اُن کے
یہ اشک بھی اَب غمّاز نہیں
ماجد صدیقی

سیکھ بیٹھے ہم اڑانوں کے نئے انداز بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
جس کی خواہش تھی ملا ہے وہ پرِ پرواز بھی
سیکھ بیٹھے ہم اڑانوں کے نئے انداز بھی
چپ رہے جب تک تو کلیوں سا رہا مٹھی میں بھید
مسکرانا تھا کہ ٹھہرا درد کا غمّاز بھی
ہم سے کب بے سمت نکلے لوگ لوٹائے گئے
رہ گئے تھک ہار کر بھرّا گئی آواز بھی
اپنا عکسِ نطق ہی نکلا جو دیکھا غور سے
تھا اِنہی حرفوں میں پنہاں وہ سراپا ناز بھی
وہ نگاہیں جب کبھی مضراب سی اٹھیں اِدھر
بیشتر اِس جسم کو ٹھہرا گئی ہیں ساز بھی
خاک کے پردے سے نکلے لوگ دکھلائیں تو ہم
میرؔ سا لیکن ملے ماجدؔ کوئی ہمراز بھی
ماجد صدیقی

نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 58
آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو
نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو
میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ
روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو
مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریض غم نے
پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو
ساقیا جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی
یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو
اے دعائے دلِ مجبور وہاں جا تو سہی
لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز نہ ہو
کیا ہو انجامِ شب ہجر خدا ہی جانے
اے قمر شام سے تاروں کا جو آغاز نہ ہو
قمر جلالوی

سرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 244
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
سرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے
پیکرِ عشّاق سازِ طالعِ نا ساز ہے
نالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے
دست گاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنا
یک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں ہوں اپنی شکست کی آواز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 17
نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
تو اور آرائشِ خمِ کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
لاف تمکیں، فریبِ سادہ دلی
ہم ہیں، اور راز ہائے سینہ گداز
ہوں گرفتارِ الفتِ صیّاد
ورنہ باقی ہے طاقتِ پرواز
وہ بھی دن ہو، کہ اس ستم گر سے
ناز کھینچوں، بجائے حسرتِ ناز
نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خون
جس سے مذگاں ہوئی نہ ہو گلباز
اے ترا غمزہ یک قلم انگیز
اے ترا ظلم سر بسر انداز
تو ہوا جلوہ گر، مبارک ہو!
ریزشِ سجدۂ جبینِ نیاز
مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
میں غریب اور تو غریب نواز
اسدؔ اللہ خاں تمام ہوا
اے دریغا وہ رندِ شاہد باز
مرزا اسد اللہ خان غالب

یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہمراز کا رنگ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 6
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہمراز کا رنگ
سایہء چشم میں‌حیراں رُخِ روشن کا جمال
سُرخیء لب میں‌ پریشاں تری آواز کا رنگ
بے پئے ہوں کہ اگر لطف کرو آخرِ شب
شیشہء مے میں‌ ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
چنگ و نَے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے
دل نے لےَ بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ
اک سخن اور کہ پھر رنگِ تکلم تیرا
حرفِ سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ
فیض احمد فیض

ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 204
خار چن لے گا بہار ناز سے
ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا
ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ
آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی
بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی

ساری دنیا ہے غماز

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کب تک راز رہے گا راز
ساری دنیا ہے غماز
کس کے نغمے، کس کا ساز
دیکھ زمانے کے انداز
گونج رہی ہے کانوں میں
اک سے ایک نئی آواز
جب دیکھو برہم برہم
کون اٹھائے اتنے ناز
ہمرازوں کے سینوں میں
ڈھونڈ رہا ہوں اپنا راز
آپ مجسم مہر و وفا
باقیؔ سب فتنہ پرداز
باقی صدیقی