ٹیگ کے محفوظات: آوازہ

دام کے زیرِ قدم ہونے کا اندازہ نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وار تو حالات نے جو بھی کیا تازہ نہ تھا
دام کے زیرِ قدم ہونے کا اندازہ نہ تھا
کچھ نہ کچھِاس میں کرشمہ ناز کا بھی تھا ضرور
منہ کی کھانا خام فکری ہی کا خمیازہ نہ تھا
چہرہ چہرہ عکس سا سمجھا گیا جو پیار کا
وہ تمازت تھی اُبلتے خون کی غازہ نہ تھا
آ گئے ہوتے مثالِ خس نہ یوں گرداب میں
سیل جو اب کے اُٹھا اُس کا کچھ آوازہ نہ تھا
پل میں جو ماجدؔ بدل کر دھجّیوں میں رہ گئی
اُس کتابِ فکر کا ایسا تو شیرازہ نہ تھا
ماجد صدیقی

با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 219
بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے
با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے
ہوں شامِ حال یک طرفہ کا امیدِ مست
دستک؟ سو وہ نہیں ہے، پہ دروازہ ہے، سو ہے
آواز ہوں جو ہجرِ سماعت میں ہے سکوت
پر اس سکوت پر بھی اک آوازہ ہے، سو ہے
اک حالتِ جمال پر جاں وارنے کو ہوں
صد حالتی میری، میری طنازہ ہے، سو ہے
شوقِ یقیں گزیدہ ہے اب تک یقیں مرا
یہ بھی کسی گمان کا خمیازہ ہے، سو ہے
ا خلوتِ وصال میں یہ حسرتِ وصال
اک خواہشِ وصال کی غمّازہ ہے، سو ہے
تھی یک نگاہِ شوق میری تازگی رُبا
اپنے گماں میں اب بھی کوئی تازہ ہے، سو ہے
جون ایلیا