ٹیگ کے محفوظات: آنے

وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
زچ ہوئے پر جو ذرا سا تھا بدل جانے لگا
وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا
بچ کے پچھلے دشت میں نکلے تھے جس کے سِحر سے
پھر نگاہوں میں وہی اژدر ہے لہرانے لگا
کر کے بوندوں کو بہ فرطِ سرد مہری منجمد
دیکھ لو نیلا گگن پھر زہر برسانے لگا
جُود جتلانے کو اپنی شاہ ہنگامِ سخا
عیب کیا کیا کچھ نہ ناداروں کے دِکھلانے لگا
سُرخرُو اس نے بھی زورآور کو ہی ٹھہرا دیا
حفظِ منصب کو ستم عادل بھی یہ ڈھانے لگا
دل میں تھا ماجدؔ جو سارے دیوتاؤں کے خلاف
اب زباں پر بھی وہ حرفِ احتجاج آنے لگا
ماجد صدیقی

آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
دستِ شفقت کیوں بہ حقِ جور بن جانے لگا
آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا
کھیت جلنے پر بڑھا کر عمر، اپنے سود کی
کس طرح بنیا، کسانوں کو ہے بہلانے لگا
جانے کیا طغیانیاں کرنے لگیں گھیرے درست
گھونسلوں تک میں بھی جن کا خوف دہلانے لگا
خون کس نے خاک پر چھڑکا تھا جس کی یاد میں
اِک پھریرا سا فضاؤں میں ہے لہرانے لگا
مہد میں مٹی کے جھونکا برگِ گل کو ڈال کر
کس صفائی سے اُسے رہ رہ کے سہلانے لگا
ماجد صدیقی

آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وحشتِ انسان کیا کیا رنگ دکھلانے لگی
آنچ کِن کِن منظروں کی آنکھ تک آنے لگی
دیکھئے اگلی رُتوں میں سرخروئی کو ہوا
کس طرح بے پیرہن شاخوں کو سہلانے لگی
کتنی چیزوں سے ہٹا کر، جانے ماں کی مامتا
دھیان بچّے کا، اُسے باتوں سے بہلانے لگی
لو بحقِ امن اپنی نغمگی کے زعم میں
فاختہ بھی دشتِ وحشت میں ہے اِترانے لگی
ظلمتِ شب کچھ بتا اُٹھی ہے کیسی چیخ سی
جبر کی ڈائن کِسے کّچا چبا جانے لگی
جھینپنا کیا، سچ اگر نکلی ہے، پّلے باندھ کر
وقت کی مریم، بھلا کاہے کو شرمانے لگی
دم بخود اتنا بھی ہو ماجدؔ نہ جلتی دُھوپ سے
آسماں پر دیکھ وُہ بدلی سی اک چھانے لگی
ماجد صدیقی

آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
جانے کیسا واہمہ ہر دل کو دہلانے لگا
آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا
اپنی اپنی سی فراغت ہر کسی کی ہے یہاں
مکھیوں کو پھانس کر مکڑا بھی سستانے لگا
دیکھنے میں فاختہ بھی تو کُچھ ایسی کم نہ تھی
باز ہی کیوں معتبر، جنگل میں کہلانے لگا
لا کے وڈیو سے کھلونے، کھیل یہ بھی دیکھئے
آج کا بچّہ ہے دادی جی کو بہلانے لگا
گھس گیا ابلیس سا اِک شخص ہر اِک شخص میں
کون ہے جو اَب کئے پر اپنے پچتانے لگا
جو بھی زور آور ہے ماجدؔ اُس کا خاصہ ہے یہی
دیکھ لے دریا کناروں کو ہے خود ڈھانے لگا
ماجد صدیقی

جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
جھڑکے شاخوں سے تہِ خاک سمانے والے
جو گئے ہیں وُہ نہیں لوٹ کے آنے والے
بارشِ سنگ سے دوچار تھا انساں کل بھی
کم نہیں آج بھی زندوں کو جلانے والے
آئے مشکیزۂ خالی سے ہوا دینے کو
تھے بظاہر جو لگی آگ بُجھانے والے
ضُعف کس کس نے نہیں خُلق ہمارا سمجھا
ہم کہ آنکھیں تھے بہ ہر راہ بچھانے والے
صدق جذبوں میں بھی پہلا سا نہیں ہے ماجدؔ
اب نہیں خضر بھی وُہ، راہ دکھانے والے
ماجد صدیقی

پر کرشمہ اور ہی اُس کے مکر جانے میں تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
کم نہ تھا وہ بھی جو ارضِ جاں کے ہتھیانے میں تھا
پر کرشمہ اور ہی اُس کے مکر جانے میں تھا
سر نہ خم کر کے سرِ دربار ہم پر یہ کُھلا
لطف بعد انکار کے کیا، گال سہلانے میں تھا
حق طلب ہونا بھی جرم ایسا تھا کچھ اپنے لیے
جاں کا اندیشہ زباں پر حرف تک لانے میں تھا
سر بہ سجدہ پیڑ تھے طوفانِ ابروباد میں
اور دریا محو اپنا زور دکھلانے میں تھا
سانحے کی تازگی جاں پر گزر جانے لگی
کرب کچھ ایسا ستم کی بات دہرانے میں تھا
جاں نہ تھی صیّاد کو مطلوب اتنی جس قدر
اشتیاق اُس کا ہمارے پَر کتروانے میں تھا
پھر تو ماجد کھو گئے ہم بھی فنا کے رقص میں
خوف سب گرداب کے ہم تک چلے آنے میں تھا
ماجد صدیقی

شجر پھر ہے پتے لُٹانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
رُتوں سے نئی مات کھانے لگا
شجر پھر ہے پتے لُٹانے لگا
انا کو پنپتے ہوئے دیکھ کر
زمانہ ہمیں پھر سِدھانے لگا
جو تھا دل میں ملنے سے پہلے ترے
وہی ولولہ پھر ستانے لگا
چھنی ہے کچھ ایسی اندھیروں سے نم
کہ سایہ بھی اب تو جلانے لگا
دیا جھاڑ ہی شاخ سے جب مجھے
مری خاک بھی اب ٹھکانے لگا
وُہ انداز ہی جس کے تتلی سے تھے
تگ و دو سے کب ہاتھ آنے لگا
نہ پُوچھ اب یہ ماجدؔ! کہ منجدھار سے
کنارے پہ میں کس بہانے لگا
ماجد صدیقی

کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 114
جو دل میں پیڑ کے ہے تا بہ لب نہ لانے دے
کسی بھی شاخ پہ کونپل کوئی نہ آنے دے
کہ تنگ آ کے ترے منہ پہ تھُوک دوں میں بھی
مجھے نہ اِتنی اذّیت بھی اے زمانے! دے
دیا ہے جسم جِسے تابِ ضرب دے اُس کو
کماں ہے ہاتھ میں جس کے اُسے نشانے دے
نہ جھاڑ گردِ الم تُو کسی کے دامن پر
جو بوجھ جسم پہ ہے جسم کو اُٹھانے دے
ضمیرِ سادہ منش! وہ کہ مکر پر ہے تُلا
ہمیں بھی ہاتھ اُسے کچھ نہ کچھ دکھانے دے
ہوا کا خُبت ہے کیا؟ یہ بھی دیکھ لوں ماجد!ؔ
کوئی چراغ سرِ راہ بھی جلانے دے
ماجد صدیقی

بال سا اک شیشے میں آنے لگتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 116
جب بھی مجھ سے دُور وہ جانے لگتا ہے
بال سا اک شیشے میں آنے لگتا ہے
ابر کے اَوج سے جب بھی خاک پہ اترے تو
پانی کیا کیا زور دکھانے لگتا ہے
وقت فرعون بنائے کسی کو کتنا ہی
ایک نہ اک دن وہ بھی ٹھکانے لگتا ہے
دشت میں بھی یہ معجزہ ہم نے دیکھا ہے
جھونکا سا اک پیاس بجھانے لگتا ہے
دکھلائی دے چھاؤں جہاں بھی پرندے کو
چونچ سے اپنے پَر سہلانے لگتا ہے
مارا ہے کیا تیر سخن میں ماجدؔ نے
ہر ہر بات پہ کیوں اترانے لگتا ہے
ماجد صدیقی

عہد اُس نے کیا نہ آنے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 145
اور عنواں ہو کیا فسانے کا
عہد اُس نے کیا نہ آنے کا
ہم نے اُس حُسن کو مقام دیا
ارضِ جاں کے مدھر ترانے کا
کچھ ہِمیں تاک حفظِ جاں میں نہ تھے
علم اُس کو بھی تھا نشانے کا
دھار تلوار کی نگاہ میں ہے
شور سر پر ہے تازیانے کا
وقت خود ہی سُجھانے لگتا ہے
فرق ماجدؔ نئے پرانے کا
ماجد صدیقی

لفظ مُنہ پر کوئی تو آنے دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
گنگُ جذبوں کو چہچہانے دو
لفظ مُنہ پر کوئی تو آنے دو
پھینک کر اب کے آخری پتّا
کھیل کو رُخ نیا دلانے دو
سیج پر شاخِ آرزُو سے گری
پتّیاں تُم مجھے بچھانے دو
وقت کے جلترنگ سے نہ ڈرو
اِس کو یہ ساز اب بجانے دو
جن پہ سُورج کبھی نہیں اُبھرا
وُہ اُفق اب کے جگمگانے دو
یہ اعادہ ہی بچپنے کا سہی
کُچھ گھروندے مگر بنانے دو
اشک دے گا پتہ ضرور اپنا
خاک میں یہ نمی سمانے دو
ماجد صدیقی

پوچھنا حالِ سفر بھی ہوش میں آنے تو دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
دھوپ میں جھلسا ہوں مَیں کچھ دیر سستانے تو دو
پوچھنا حالِ سفر بھی ہوش میں آنے تو دو
دیکھنا اُبھروں گا پہلو میں یدِ بیضا لیے
ظلمتِ شب میں ذرا مجھ کو اُتر جانے تو دو
نطق ہونٹوں سے مرے پھوٹے گا بن کر چاندنی
میری آنکھوں سے یہ چُپ کا زہر بہہ جانے تو دو
جز ادائے سجدۂ بے چارگی کر لے گا کیا
موجۂ سیلاب کو دہلیز تک آنے تو دو
پھر مری صحنِ گلستاں میں بحالی دیکھنا
اِک ذرا یہ موسمِ بے نم گزر جانے تو دو
ٹھیک ہے ماجدؔ فسانے تھیں تمہاری چاہتیں
یہ فسانے پر ہمیں اِک بار دُہرانے تو دو
ماجد صدیقی

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 11
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
صبح دم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صورت
رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا
ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
احمد فراز

شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 59
ہم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک
دیکھیے محفلِ ساقی کا نتیجہ کیا ہوا
بات شیشے کی پہنچنے لگی پیمانے تک
صبح ہوئی نہیں اے عشق یہ کیسی شب ہے
قیس و فرہاد کے دہرا لئے افسانے تک
پھر نہ طوفان اٹھیں گے نہ گرے گی بجلی
یہ حوادث ہیں غریبوں ہی کے مٹ جانے تک
میں نے ہر چند بلا ٹالنی چآ ہی لیکن
شیخ نے ساتھ نہ چھوڑا مرا میخانے تک
وہ بھی کیا دن تھے گھر سے کہیں جاتے ہی نہ تھے
اور گئے بھی تو فقط شام کو میخانے تک
میں وہاں کیسے حقیقت کو سلامت رکھوں
جس جگہ رد و بدل ہو گئے افسانے تک
باغباں فصلِ بہار آنے کا وعدہ تو قبول
اور اگر ہم نے رہے فصلِ بہار آنے تک
اور تو کیا کہیں اے شیخ تری ہمت پر
کوئی کافر ہی گیا ہو ترے میخانے تک
اے قمر شام کا وعدہ ہے وہ آتے ہوں گے
شام کہلاتی ہے تاروں کے نکل آنے تک
قمر جلالوی

شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 50
حسن سے رسوا نہ ہو گا اپنے دیوانے کا نام
شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام
ہو گئی توبہ کو اک مدت کسے اب یاد ہے
اصطلاحاً ہم نے کیا رکھا تھا پیمانے کا نام
میتِ پروانہ بے گور و کفن دیکھا کئے
اہلِ محفل نے لیا لیکن نہ دفنانے کا نام
یہ بھی ہے کوئی عیادت دو گھڑی بیٹھے نہ وہ
حال پوچھا چل دیے گھر کر گئے آنے کا نام
لاکھ دیوانے کھلائیں گل چمن کہہ دے گا کون
عارضی پھولوں سے بدلے گا نہ ویرانے کا نام
ان کو کوسے دے رہے، ہو خود، ہیں جو جینے سے تنگ
زندگی رکھا ہے جن لوگوں نے مر جانے کا نام
اِس ہوا میں قوتِ پرواز سے آگے نہ بڑھ
ہے قفس آزادیوں کی حد گزر جانے کا نام
قمر جلالوی

خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 25
حرم کی راہ کو نقصان بت خانے سے کیا ہو گا
خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہو گا
کسے سمجھا رہے ہیں آپ سمجھانے سے کیا ہو گا
بجز صحرا نوردی اور دیوانے سے کیا ہو گا
ارے کافر سمجھ لے انقلاب آنے سے کیا ہو گا
بنا کعبہ سے بت خانہ تو بت خانے سے کیا ہو گا
نمازی سوئے مسجد جا رہے ہیں شیخ ابھی تھم جا
نکلتے کوئی دیکھے گا جو مے خانے سے کیا ہو گا
خدا آباد رکھے میکدہ یہ تو سمجھ ساقی
ہزاروں بادہ کش ہیں ایک پیمانے سے کیا ہو گا
تم اپنی ٹھوکریں کا ہے کو روکو دل کو کیوں مارو
ہمیں جب مٹ گئے تو قبر مٹ جانے سے کیا ہو گا
قمر جلالوی

اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 13
سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا
اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا
طریق خوب ہے یہ عمر کے بڑھانے کا
کہ منتظر رہوں‌ تا حشر اُن کے آنے کا
چڑھاؤ پھول میری قبر پر جو آئے ہو
کہ اب زمانہ گیا تیوری چڑھانے کا
جفائیں کرتے ہیں تھم تھم کے اس خیال سے وہ
گیا تو پھر یہ نہیں میرے ہاتھ آنے کا
سمائیں اپنی نگاہوں میں ایسے ویسے کیا
رقیب ہی سہی ہو آدمی ٹھکانے کا
تمہیں رقیب نے بھیجا کھلا ہوا پرچہ
نہ تھا نصیب لفافہ بھی آدھ آنے کا
داغ دہلوی

شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 123
ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں
شہر کوچوں میں کرو حشر بپا آج کہ ہم
اس کے وعدوں کو بھلانے کے لیے نکلے ہیں
ہم سے جو روٹھ گیا ہے وہ بہت معصوم ہے
ہم تو اوروں کو منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں شورہے، وہ یوں کہ گماں کے سفری
اپنے ہی آپ میں آنے کے لیے نکلے ہیں
وہ جو تھے شہر تحیر ترے پر فن معمار
وہی پُر فن تجھے ڈھانے کے لیے نکلے ہیں
راہگزر میں تری قالین بچھانے والے
خون کا فرش بچھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں کرنا ہے خداوند کی امداد سو ہم
دیر و کعبہ کو لڑانے کے لیے نکلے ہیں
سر شب اک نئی تمثیل بپا ہونی ہے
اور ہم پردہ اٹھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں سیراب نئی نسل کو کرنا ہے سو ہم
خون میں اپنے نہانے کے لیے نکلے ہیں
ہم کہیں کے بھی نہیں پر یہ ہے روداد اپنی
ہم کہیں سے بھی نہ جانے کے لیے نکلے ہیں
جون ایلیا

یاد بھی طور ہے بُھلانے کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 19
ہے عجب حال یہ زمانےکا
یاد بھی طور ہے بُھلانے کا
پسند آیا ہمیں بہت پیشہ
خود ہی اپنے گھروں کو ڈھانے کا
کاش ہم کو بھی ہو نصیب کبھی
عیش دفتر میں گنگنانے کا
آسمانِ خموشئ جاوید
میں بھی اب لب نہیں ہلانے کا
جان! کیا اب ترا پیالہء ناف
نشہ مجھ کو نہیں پِلانے کا
شوق ہےِاس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
اتنا نادم ہوا ہوں خود سے کہ میں
اب نہیں خود کو آزمانےکا
کیا کہوں جان کو بچانے میں
جون خطرہ ہے جان جانے کا
یہ جہاں جون! اک جہنم ہے
یاں خدا بھے نہیں ہے آنے کا
زندگی ایک فن ہے لمحوں کا
اپنے انداز سے گنوانے کا
جون ایلیا

فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 193
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
کھلےگا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب
قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی
انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
اٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی
ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرنا
ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
لکد کوبِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتی
مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی
کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابنائے زماں غالب
بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
مرزا اسد اللہ خان غالب

قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 42
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں
جو دل سے کہا ہے، جو دل سے سنا ہے
سب ان کو سنانے کے دن آرہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آرہے ہیں
ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستی
نگاہیں چرانے کے دن آرہے ہیں
صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آرہے ہیں
چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آرہے ہیں
فیض احمد فیض

وہی جرس کی صدا پھر کہیں سے آنے لگی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 225
بساط رقص جو گردِ سفر بچھانے لگی
وہی جرس کی صدا پھر کہیں سے آنے لگی
عجیب موج ہے، دشمن کہوں کہ دوست کہوں
زمین کاٹ رہی تھی کہ گل کھلانے لگی
سدا کہیں کوئی بے آشنا نہیں رہتا
مجھے ہوائے مسافت گلے لگانے لگی
میں بے کنار سمجھنے کو تھا سمندر کو
کہ ایک شاخ سرِ آب جگمگانے لگی
دُعائے شامِ دل آزردگاں بھی کیا شے ہے
چراغ جلنے لگے‘ رات مسکرانے لگی
ابھی کھلا بھی نہ تھا رختِ شوق دلّی میں
کہ پھر ہمیں کششِ لکھنؤ بلانے لگی
عرفان صدیقی

بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 107
سراب دشت تجھے آزمانے والا کون
بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون
سواد شام یہ شہزادگان صبح کہاں
سیاہ شب میں یہ سورج اُگانے والا کون
یہ ریگزار میں کس حرف لازوال کی چھاؤں
شجر یہ دشت زیاں میں لگانے والا کون
یہ کون راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا ابھی
اور اب یہ راہ کے پتھر ہٹانے والا کون
یہ کون ہے کہ جو تنہائی پر بھی راضی ہے
یہ قتل گاہ سے واپس نہ جانے والا کون
بدن کے نقرئی ٹکڑے لہو کی اشرفیاں
اِدھر سے گزرا ہے ایسے خزانے والا کون
یہ کس کے نام پہ تیغ جفا نکلتی ہوئی
یہ کس کے خیمے، یہ خیمے جلانے والا کون
اُبھرتے ڈوبتے منظر میں کس کی روشنیاں
کلام حق سر نیزہ سنانے والا کون
ملی ہے جان تو اس پر نثار کیوں نہ کروں
تو اے بدن مرے رستے میں آنے والا کون
عرفان صدیقی

لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 231
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے کا
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رُخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسم گل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقیؔ
بستیوں سے شرار آنے لگے
باقی صدیقی

ہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 210
ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے
ہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے
خندہ گل کی حقیقت یہ کبھی ایک نظر
اے بہاروں کی طرح راہ میں آنے والے
وقت کے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
آئنہ گردش دوراں کو دکھانے والے
ختم ہنگامہ ہوا جب تو کھڑا سوچتا ہوں
آپ ہی چور نہ ہوں شور مچانے والے
غیر کے وصف کو بھی عیب کریں گے ثابت
تنگ دل اتنے کبھی تھے نہ زمانے والے
کوئی بات آ گئی کیا ان کی سمجھ میں باقیؔ
کس لئے چپ ہیں ہنسی میری ارانے والے
باقی صدیقی

رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 203
خون اخلاص کی بو آتی ہے پیمانے سے
رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے
تیز ہوتا ہے جنوں اور بھی سمجھانے سے
کیا توقع کرے دنیا ترے دیوانے سے
اے ابھرتی ہوئی موجوں سے الجھنے والو
ڈوب مرنا کہیں بہتر ہے پلٹ آنے سے
کیا تری انجمن آرائیاں یاد آئی ہیں
کیوں پلٹ آئے ہیں وحشی ترے ویرانے سے
آرزوؤں کے معمے نہ ہوئے حل باقیؔ
زندگی اور الجھتی گئی سلجھانے سے
باقی صدیقی

ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 195
تیرے در تک نہیں جانے پاتے
ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے
ہر قدم پر ہے نیا ہنگامہ
ہوش میں ہم نہیں آنے پاتے
جلوہ پردہ ہے تو پردہ جلوہ
کیا ترا بھید زمانے پاتے
تم عناں گیر جنوں ہو ورنہ
چور چور آئنہ خانے پاتے
لوگ غربت کا گلہ کرتے ہیں
ہم وطن سے نہیں جانے پاتے
درد ہوتا تو مسلسل ہوتا
دل کو ہم دل تو بنانے پاتے
غم اگر ساتھ نہ دیتا باقیؔ
دشت بھی ہم نہ بسانے پاتے
باقی صدیقی

کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 171
شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی
کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی
ملی ہے ایک زمانے کو روشنی جن سے
ہوائے دہر وہی مشعلیں بجھانے لگی
تھا جس خیال پہ قائم حیات کا ایواں
اسی خیال سے تلخی دلوں میں آنے لگی
سحر کے آئنے کا کوئی اعتبار نہیں
کلی تو دیکھ کے عکس اپنا مسکرانے لگی
میں اپنے دل کے بھنور سے نکل نہیں سکتا
تمہاری بات تو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی
گلوں کے منہ میں زمانے نے آگ رکھ دی ہے
بہار اپنا ہی خوں پی کے لڑکھڑانے لگی
نسیم گزری ہے زنداں سے اس طرح باقیؔ
شکست دل کی صدا دور دور جانے لگی
باقی صدیقی