ٹیگ کے محفوظات: آشیانے

اُسی کا تِیر آخر کو لگا ہے جا نشانے پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
رہا تیّار جو جاں تک پہ اپنی کھیل جانے پر
اُسی کا تِیر آخر کو لگا ہے جا نشانے پر
سکوں کی نیند سو سو کر گنوا کر وقت ہاتھوں سے
نہ جب کُچھ بن پڑے تو لعنتیں بھیجو زمانے پر
شجر کا عجز کیا تھا، رسّیاں تھیں ناتواں کتنی
کھُلے اسرار سارے پِینگ کو خود ہی جھُلانے پر
سرِ شاخِ تمّنا کونپلیں دیکھی ہیں جس دم بھی
گھرے چیلوں کے جھُرمٹ جانے کیا کیا آشیانے پر
نمائش کو سہی پر حسن بھی کب چین سے بیٹھے
کوئی تتلی نہ دیکھی پُر سکوں اپنے ٹھکانے پر
بدلتی ہے نظر، دل کس طرح بے زار ہوتے ہیں
پتہ چلتا ہے ماجدؔ یہ کسی کو آزمانے پر
ماجد صدیقی

کیا ملے جان بھی جلانے سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
ہر کڑے دن کو جی سے جانے سے
کیا ملے جان بھی جلانے سے
ہم قفس تک میں گھر کے آنے سے
باز آئے نہ چہچہانے سے
جس کی خوشبُو ہواؤں تک میں ہے
بھُولتا ہے وُہ کب بھُلانے سے
سنگ پھر جھیل میں گرا کوئی
شور اُٹّھا پھر آشیانے سے
وہ جو بچھڑا تو کب سے ٹھہری ہے
آنکھ محروم جگمگانے سے
وہ کہ غالبؔ نہیں ہے، ماجدؔ ہے
مل ہی لینا تھا اُس یگانے سے
ماجد صدیقی

بجلیاں نکلتی ہیں بچ کے آشیانے سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 118
باز آگیا شاید اب فلک ستانے سے
بجلیاں نکلتی ہیں بچ کے آشیانے سے
خاک لے گئی بجلی میرے آشیانے سے
صرف چار چھ تنکے وہ بھی کچھ پرانے سے
کچھ نظر نہیں آتا ان کے منہ چھپانے سے
ہر طرف اندھیرا ہے چاند ڈوب جانے سے
حالِ باغ اے گلچیں فائدہ چھپانے سے
ہم تو ہاتھ دھو بیٹھے اپنے آشیانے سے
باغ ہو کہ صحرا ہو جی کہیں نہیں لگتا
آپ سے ملے کیا ہم چھٹ گئے زمانے سے
صبح سے یہ وقت آیا وہ ہیں بزمِ دشمن ہے
مٹ گئیں ہیں کیا یا رب گردشیں زمانے سے
یہ سوال پھر کا ہے کب قیامت آئی گی
پہلے بچ تو لے دنیا آپ کے زمانے سے
ان کے حسن پر تہمت رکھ نہ اپنے مرنے کی
وہ تو موت آنے تھی اک نہ اک بہانے سے
آگ لگ کے تنکوں میں کیا بہار آئی ہے
پھول سے برستے ہیں میرے آشیانے سے
جو جفائیں پہلی تھیں وہ جفائیں اب بھی ہیں
انقلاب کیا یا رب اٹھ گئے زمانے سے
مبتلا ہوئے ایسے آسماں کی گردش میں
اے قمر نہ بیٹھے ہم آج تک ٹھکانے سے
قمر جلالوی

بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 112
سرخیاں کیا ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لئے
بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے
موجیں ساحل سے ہٹاتیں ہیں حبابوں کا ہجوم
وہ چلے آئے ہیں ساحل پر نہانے کے لئے
سوچتا ہوں اب کہیں بجلی گری تو کیوں گری
تنکے لایا تھا کہاں سے آشیانے کے لئے
چھوڑ کر بستی یہ دیوانے کہاں سے آ گئے
دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لئے
ہنس کر کہتے ہو زمانہ بھر مجھی پہ جان دے
رہ گئے ہو کیا تمھیں سارے زمانے کے لئے
شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام
گیسوؤ کو کھل دو سورج چھپانے کے لئے
کائناتِ عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ ہی آنے کے لئے ہے وہ ہی جانے کے لئے
اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا
کیا قمر ہی رہ گیا ہے غم اٹھانے کے لئے
قمر جلالوی

تان ٹوٹی شراب خانے پر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 76
تبصرہ تھا مرے فسانے پر
تان ٹوٹی شراب خانے پر
جتنی باتیں قفس میں چھڑتی ہیں
ختم ہوتی ہیں آشیانے پر
زندگی بن کے اک نگاہ بسیط
جا پڑی تیرے آستانے پر
اے زمانے سے کھیلنے والو
اور الزام اک زمانے پر
زندگانی کا سب مزہ باقیؔ
منحصر ہے فریب کھانے پر
باقی صدیقی