ٹیگ کے محفوظات: آشیانہ

عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے

رازِ حیات و موت بڑا عاشقانہ ہے
عنوان دو ہیں اور مکمل فسانہ ہے
ہمدردیوں کا ذکر کروں اِن سے یا نہیں
ظاہرپرست دوست ہیں، دشمن زمانہ ہے
مرعوب کرسکے گا نہ مجھ کو جمالِ دوست
میرا مزاج میری نظر باغیانہ ہے
بیٹھا ہوں بجلیوں کا تصوّر کیے ہوئے
گہوارہِ جمال مرا آشیانہ ہے
ترسا رہے ہو کیوں خس و خاشاک کے لیے
میرا چمن ہے اور مرا آشیانہ ہے
شاید مری حیات کا مرکز بدل گیا
میرے لبوں پہ آج خوشی کا ترانہ ہے
تسلیم، اُڑ کے جا نہیں سکتا مگر، شکیبؔ
نظروں کے سامنے تو مرا آشیانہ ہے
شکیب جلالی

ان کا آنا موت کا گویا بہانہ ہو گیا

آج بیمارِ محبت بھی فسانہ ہو گیا
ان کا آنا موت کا گویا بہانہ ہو گیا
ہر نَفَس پیشِ نظر رہتا ہے حُسنِ رُوے دوست
کیسے کہہ دوں ان کی فُرقت میں زمانہ ہو گیا
کہتے کہتے رُک گئے وہ جانے کیا، میر ے لیے
کچھ دلِ مضطر تعارف غائبانہ ہو گیا
اللہ اللہ جذبہِ بُلبلُ کی رنگ آمیزیاں
حُسنِ الفت سے گُلستاں آشیانہ ہو گیا
وجہِ تسکیں تھا، زمانے میں شکیبؔ زار کو
ایک دل جو تیری نظروں کا نشانہ ہو گیا
شکیب جلالی

ہمارا ذکر وہاں اب کے غائبانہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
دیارِ یار جو اپنا کبھی ٹھکانہ تھا
ہمارا ذکر وہاں اب کے غائبانہ تھا
مجھی پہ اُس کا نزولِ غضب ہوا کیونکر
مرا ہی خطۂ جاں اُس کا کیوں نشانہ تھا
اثر پکار میں کچھ تھا نہ گھر کے جلنے تک
پھر اُس کے بعد تو ہمدرد اک زمانہ تھا
کبھی نہ دل سے گیا قُربِ رعد کا کھٹکا
بلند شاخ پہ جس دن سے آشیانہ تھا
اُنہی کے سامنے جھکتے تھے عدل والے بھی
سلوک جن کا سرِ ارض غاصبانہ تھا
کسی کو دیکھتے ماجدؔ بصدقِ دل کیسے
وہ جن کا اپنا چلن ہی منافقانہ تھا
ماجد صدیقی

قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 27
بنا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا
قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا
قفس میں رو دیے یہ کہہ کر ذکرِ گلشن پر
کبھی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ تھا
نہ روکیے مجھے نالوں سے کہ اب محشر ہے
یہ میرا وقت ہے وہ آپ کا زمانہ تھا
نہ کہتے تھے کہ نہ دے دیکھ دل حسینوں کو
قمر یہ اس کی سزا ہے جو تو نہ مانا تھا
قمر جلالوی

نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 1
یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ
مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ
جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ
نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ
فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ
یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ
ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ
مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم
مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ
سرِ راہ کیسے سوجھی تجھے ہجوِ مئے کی واعظ
نہ یہاں ہے تیری نہ مرا شراب خانہ
کسی سر نگوں سی ڈالی پہ رکھیں گے چار تنکے
نہ بلند شاخ ہو گی نہ جلے گا آشیانہ
نہ سنا سکے مسلسل غمِ دوریِ وطن کو
کبھی رو لئے گھڑی بھر کبھی کہہ دیا فسانہ
مرے روٹھ جانے والے تجھے یوں منا رہا ہوں
کہ قضا کے واسطے بھی کوئی چاہئیے بہانہ
کہیں میکشوں سے ساقی نہ نگاہ پھیر لینا
کہ انھیں کے دم سے قائم ہے ترا شراب خانہ
قمر اپنے داغِ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑی
کہ سنا کیے ستارے مرا رات بھر فسانہ
قمر جلالوی

پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا
منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا
دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا
کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا
کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا
آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا
باقی صدیقی

وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 26
ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ
وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ
اسی میں ہے پوشیدہ راز زمانہ
فسانہ حقیقت، حقیقت فسانہ
نہ اتراؤ صیاد کی دوستی پر
اسی باغ میں تھا مرا آشیانہ
ادھر نام تک مٹ رہا ہے کسی کا
ادھر بن رہا ہے کسی کا فسانہ
نہ پوچھو محبت کی پرواز باقیؔ
بہت دور تک ساتھ آیا زمانہ
باقی صدیقی