ٹیگ کے محفوظات: آشنا

پّتے نے یوں بھی، پریت نبھائی ہوا کے ساتھ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
ٹہنی سے جھڑ کے رقص میں آیا، ادا کے ساتھ
پّتے نے یوں بھی، پریت نبھائی ہوا کے ساتھ
وُہ بھی بزعمِ خویش ہے، کیا کُشتۂ وفا
چل دی ہے مغویہ جو، کسی آشنا کے ساتھ
خم ہے جو سر تو، کاسۂ دستِ دُعا بلند
کیا کچھ ہے لین دین ہمارا، خُدا کے ساتھ
جن کے سروں کوڈھانپ کے، ہم تم ہیں سرخرو
درکار جھونپڑے بھی اُنہیں ہیں، رِدا کے ساتھ
ژالوں نے جب سے، کھِلتے شگوفے دئیے بکھیر
ماجدؔ نجانے کد ہے مجھے کیوں، صبا کے ساتھ
ماجد صدیقی

جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہم بہاروں کے طالب تھے لیکن رُتوں کی رضا اور تھی
جب بھی دیکھا ہے پیڑوں کے تن پر دریدہ قبا اور تھی
وُہ کہ جس کو تقاضا رہا ہم سے اظہارِ آزار کا
دل کو لائے زباں پر تو اُس انجمن کی فضا اور تھی
ہم تو ہر بات کو اُس کی، اخلاص کا رنگ دیتے رہے
ہم کو احساس ہی کب یہ تھا نیّتِ آشنااور تھی
اِس عجوبے کو ہم کیا کہیں جب چمن ہی قفس بن گیا
ساتھ لاتی تھی اپنے جو نزہت کبھی وہ صبا اور تھی
ساتھ لیکر جو چلتے تھے اوروں کو وہ رہنما اور تھے
کان میں گھولتی تھی جو رس ہمسری کا، صدااور تھی
سنگ دل تھے جو، اِس کو وُہی راکھ کا ڈھیر سمجھا کئے
دل کی ماجدؔ وگرنہ بہ ایں بے بسی بھی بہا اور تھی
ماجد صدیقی

مُجھ کو ٹھہرائے وُہ، آشنا کس لئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
خاک سے ربط رکھے ہوا کس لئے
مُجھ کو ٹھہرائے وُہ، آشنا کس لئے
اِک ہی مسلک کے باوصف اُلجھے ہیں جو
درمیاں اُن کے آئے خُدا کس لئے
لو ہمِیں آپ سے حق نہیں مانگے
آپ کرتے ہیں محشر بپا کس لئے
جب چھُپائے نہ چھپتی ہوں عریانیاں
کوئی تن پر سجائے قبا کس لئے
جاں چھڑکتے تھے جن پر کبھی، کچھ کہو
اُن سے ٹھہرے ہو ماجدؔ خفا کس لئے
ماجد صدیقی

محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
جس شخص سے بھی دل کا کوئی مدّعا کہو
محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو
مجذوب ہے طبیب ہی جب تو پئے شفا
گالی گلوچ کو بھی نہ کم از دوا کہو
کونپل ہے لفظ لفظ تمہارا سرِ شجر
جس اوج پر ہو جو بھی کہو تم بجا کہو
گٹھڑی میں خارکش کی جو اُترن ہے پیڑ کی
ہاں ہاں کہو اُسے بھی خُدا کا دیا کہو
گاؤں کے لوگ شہر میں کیوں منتقل ہوئے
حرص و ہوا نہیں اِسے فکرِ بقا کہو
ہم تُم ہیں اُس نگر میں جہاں پر بہ ظرفِ تنگ
ہر شخص چاہتا ہے اُسے تم خُدا کہو
ماجدؔ ہے فرق جو تہ و بالا میں وہ تو ہے
تسکیں کو شاہ کو بھی بھلے تم گدا کہو
ماجد صدیقی

وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
نظر میں ہے نظر سے ہے جُدا بھی
وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی
ہَوا جن پر بظاہر مہرباں ہے
اُنہی پتّوں سے رہتی ہے خفا بھی
گریزاں ہیں نجانے کیوں ہمِیں سے
زمانہ بھی، مقدر بھی،خدا بھی
ستم باقی رہا اب کون سا ہے
بہت کچھ ہو چکا اب لوٹ آ بھی
ترستی ہے جسے خوں کی روانی
سخن ایسا کوئی ہونٹوں پہ لا بھی
بہت نزدیک سے دیکھا ہے ماجدؔ!
نظر نے عرصۂ کرب و بلا بھی
ماجد صدیقی

دہن صدف کا فلک کی جانب کھلا ہوا رہ گیا ہو جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
عجیب صورت ہے نامرادی ابرِ نیساں چھٹا ہو جیسے
دہن صدف کا فلک کی جانب کھلا ہوا رہ گیا ہو جیسے
مرے خدااس جہاں میں میرے لیے ہی قحط الرّجال کیوں ہے
مری زباں کو سمجھنے والا نہ کوئی رمز آشنا ہو جیسے
تُلا کھڑا ہے شکم اُڑانے پہ یوں پرخچے مری انا کے
پلنگ بعدِ شکار اپنے شکار سے کھیلتا ہو جیسے
شجر امیدوں کا سیلِ اشکِ الم سے یوں کھوکھلا ہوا ہے
جڑوں کو روتا درخت کوئی کنارِ دریا کھڑا ہو جیسے
بہ دشتِ خواہش دکھائی دینے لگی ہے یورش وہ وسوسوں کی
کہ زہر دانتوں میس اپنے مارِسیاہ نے بھر لیا ہو جیسے
کوئی مسیحا نفس ہو مجھ کو وہ اِس ترحمّ ے دیکھتا ہے
خدا نکردہ وہی بروئے زمین میرا خدا ہو جیسے
گمان کیا تھا مگر تمنّا کا حال ماجدؔ یہ کیا ہُوا ہے
کہ تودۂ برف کوئی اوجِ ہمالیہ سے گرا ہو جیسے
ماجد صدیقی

جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 132
بنے نہ بات تو بندوں کو بھی خُدا کہنا
جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا
نہیں ہے کچھ بھی کسی پر گر آسماں ٹوٹے
جو اپنی جان پہ گزرے اُسے سَوا کہنا
کوئی طبیب ہو رکھتا ہے وہ عزیز ہمیں
کہ آ گیا ہے ہمیں درد کو دوا کہنا
نہیں نصیب میں جب حرف کے پذیرائی
تو دل میں کرب ہے جو بھی کسی سے کیا کہنا
کسی کا درد ہو آئے نظر وُہ سوتیلا
ہے آشنا کو بھی مشکل اب آشنا کہنا
ہے حرفِ حق کا تقاضا کہ دل میں ہو تو اُسے
کھلِے گلاب کی مانند برملا کہنا
تمیز، فہم سے اَب یہ اُٹھا ہی دو ماجدؔ!
کہ جو بُرا ہے اُسے بھی نہیں بُرا کہنا
ماجد صدیقی

اُس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا
اُس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا
اِس اندھیرے میں کیسے وہ پہنچا یہاں
دل میں میرے تو جلتا دیا بھی نہ تھا
کھُل گئی جانے کیسے زباں خلق کی
اُس سے رشتہ کوئی برملا بھی نہ تھا
جانے وہ ہم سے کیوں جھینپتا رہ گیا
بھید اُس پر ہمارا کھُلا بھی نہ تھا
حق بجانب تھا مجھ سے وہ اغماض میں
اُس سے میرا کچھ ایسا گلہ بھی نہ تھا
ہاں بجا ہے وہ اچّھا نہ ہو گا مگر
تیرا ماجدؔ کچھ ایسا بُرا بھی نہ تھا
ماجد صدیقی

وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 107
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے
یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے
ہمیشہ کے لئے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بار ہا دیکھا نہ جائے
غلط ہے جو سنا، پر آزما کر
تجھے اے بے وفا دیکھا نہ جائے
یہ محرومی نہیں پاسِ وفا ہے
کوئی تیرے سوا دیکھا نہ جائے
یہی تو آشنا بنتے ہیں آخر
کوئی نا آشنا دیکھا نہ جائے
فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے
احمد فراز

تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 102
سو دوریوں پہ بھی مرے دل سے جدا نہ تھی
تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی
دل نے ذرا سے غم کو قیامت بنا دیا
ورنہ وہ آنکھ اتنی زیادہ خفا نہ تھی
یوں دل لرز اٹھا ہے کسی کو پکار کر
میری صدا بھی جیسے کہ میری صدا نہ تھی
برگ خزاں جو شاخ سے ٹوٹا وہ خاک تھا
اس جاں سپردگی کے تو قابل ہوا نہ تھی
جگنو کی روشنی سے بھی کیا کیا بھڑک اٹھی
اس شہر کی فضا کہ چراغ آشنا نہ تھی
احمد فراز

اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری

احمد فراز ۔ غزل نمبر 89
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری
میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی
پھر اس کے بعد تو آواز جا بجا تھی مری
جو طعنہ زن تھا مری پوششِ دریدہ پر
اسی کے دوش پہ رکھی ہوئی قبا تھی مری
میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں
میں اس کو بھول گیا ہوں، یہی سزا تھی مری
شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری
کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری
کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا
تو شہرِ عشق میں کیا آخری صدا تھی مری؟
جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ہے
اسی طرح کی تو مخلوق خاکِ پا تھی مری
ہر ایک شعر نہ تھا در خورِ قصیدۂ دوست
اور اس سے طبعِ رواں خوب آشنا تھی مری
میں اس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری
احمد فراز

اب ذہن میں نہیں ہے پرنام تھا بھلا سا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 9
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پر، نام تھا بھلا سا
ابرو کھچے کھچے سے آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا
خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی
نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رتجگا سا
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں
وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا
اگلی محبتوں نے وہ نا مرادیاں دیں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا
کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے
کچھ زہر میں بُجھا تھا احباب کا دلاسا
پھر یوں ہوا کے ساون آنکھوں میں آ بسے تھے
پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا
اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی
بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا
تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا
ہم دشت تھے کہ دریا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہیں تھا پیاسا
ہم نے بھی اُس کو دیکھا کل شام اتفاقاً
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا
احمد فراز

جینے کا ذرا تو حوصلہ دے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 99
چہرہ نہ دکھا،صدا سُنادے
جینے کا ذرا تو حوصلہ دے
دِکھلا کسی طور اپنی صُورت
آنکھوں مزید مت سزا دے
چُھو کر مری سوچ میرے تن میں
بیلیں ہرے رنگ کی اُگا دے
جاناں ! نہ خیالِ دوستی کر
دے زہر جو اَب تو تیز سادے
شدّت ہے مزاج میرے خُوں کا
نفرت کی بھی دے تو انتہا دے
ٹوٹی ہُوئی شام منتظرِ ہے
جُھک کر مجھے آئینہ دکھا دے
دل پھٹنے لگاہے ضبطِ غم سے
مالک ! کوئی درد آشنا دے
سوئی ہے ابھی تو جاکے شبنم
ایسا نہ ہو موجِ گل اُٹھا دے
چکھّوں ممنوعہ ذائقے بھی
دل!سانپ سے دوستی بڑھا دے
پروین شاکر

ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 30
چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا
میں پُھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہُوئی
وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا
بہت عزیز سہی اُس کو میری دلداری
مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دُکھا بھی گیا
اب اُن دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں
وہ تاک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا
سب آئے میری عیادت کو، وہ بھی آیا
جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا
یہ غربتیں مری آنکھوں میں کسی اُتری ہیں
کہ خواب بھی مرے رُخصت ہیں ،رتجگا بھی گیا
پروین شاکر

تم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 71
شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں
تم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروں
گلشن میں چل کے بندِ قبا تیرے وا کروں
جی چاہتا ہے جامۂ گل کو قبا کروں
آتا ہوں پیرِ دیر کی خدمت سے مست میں
ہاں زاہدو تمہارے لئے کیا دعا کروں
جوشِ فغاں وداع، کہ منظور ہے انہیں
دل نذرِ کاوشِ نگہِ سرما سا کروں
نفرین بے شمار ہے اس عمد و سہو پر
گر ایک میں صواب کروں سو خطا کروں
مطرب بدیع نغمہ و ساقی پری جمال
کیا شرحِ حالتِ دلِ درد آشنا کروں
تم دلربا ہو دل کو اگر لے گئے تو کیا
جب کاہ ہو کے میں اثرِ کہربا کروں
اے چارہ ساز لطف! کہ تو چارہ گر نہیں
بس اے طبیب رحم! کہ دل کی دوا کروں
پیتا ہوں میں مدام مئے نابِ معرفت
اصلِ شرور و امِ خبائث کو کیا کروں
یا اپنے جوشِ عشوۂ پیہم کو تھامئے
یا کہئے میں بھی نالۂ شورش فزا کروں
میں جل گیا وہ غیر کے گھر جو چلے گئے
شعلے سے استعارہء آوازِ پا کروں
ڈر ہے کہ ہو نہ شوقِ مزامیر شیفتہ
ورنہ کبھی سماعِ مجرد سنا کروں
مصطفٰی خان شیفتہ

واقف ہیں شیوۂ دلِ شورش ادا سے ہم

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 68
بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہم
واقف ہیں شیوۂ دلِ شورش ادا سے ہم
افشائے رازِ عشق میں ضرب المثل ہے وہ
کیوں کر غبار دل میں نہ رکھیں صبا سے ہم
چلتے ہیں مے کدے کو کہاں یہ عزیز واں
رخصت تو ہو لیں کبر و نفاق و ریا سے ہم
اے جوشِ رشکِ قربِ عدو، اب تو مت اٹھا
بیٹھے ہیں دیکھ بزم میں کس التجا سے ہم
ہے جامہ پارہ پارہ، دل و سینہ چاک چاک
دیوانہ ہو گئے گلِ جیبِ قبا سے ہم
کیا جانتے تھے صبح وہ محشر قد آئے گا
شامِ شبِ فراق نہ مرتے بلا سے ہم
ہر بات پر نگاہ ہماری ہے اصل پر
لیتے ہیں مشکِ زخم کو زلفِ دوتا سے ہم
بے گانہ جب سے یار ہوا ہے، رقیب ہے
اُمید قطع کر چکے ہر آشنا سے ہم
بلبل یہ کہہ رہی ہے سرِ شاخسار پر
بدمست ہو رہے ہیں چمن کی ہوا سے ہم
کم التفات ہم سے سمجھتے ہیں اہلِ بزم
شرمندہ ہو گئے تری شرم و حیا سے ہم
ہاں شیفتہ پھر اس میں نصیحت ہی کیوں نہ ہو
سنتے ہیں حرفِ تلخ کو سمعِ رضا سے ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

کیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربط

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 55
لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربط
کیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربط
یہ ناخن و خراش میں بگڑی کہ کیا کہوں
اک دم ہوا جو عقدہ بندِ قبا سے ربط
ناصح مری ملامتِ بے جا سے فائدہ
بے اختیار دل کو ہے اس دل ربا سے ربط
اس سرد مہر کو ہو اثر، پر جو ہو سکے
کام و دہاں کو میرے دمِ شعلہ زا سے ربط
کیجے گر ان سے شکوہ انجامِ کارِ عشق
کہتے ہیں مجھ کو تم سے نہ تھا ابتدا سے ربط
دو دن میں تنگ ہو گئے جورِ سپہر سے
اس حوصلے پہ کرتے تھےاس کی جفا سے ربط
کیا کیجے، بد گمانیِ ابرو کا دھیان ہے
کرتے وگرنہ ہجر میں تیغِ قضا سے ربط
تیرے ستم سے ہے یہ دعا لب پہ دم بہ دم
یا رب نہ ہو کسی کو کسی بے وفا سے ربط
صبحِ شبِ فراق کیا لطفِ مرگ نے
کیا دیر میں ہوا ہمیں زود آشنا سے ربط
فریادِ نزع کان تک اس کے نہ جا سکی
تھا شیفتہ ہمیں نفسِ نارسا سے ربط
مصطفٰی خان شیفتہ

غلط ہے بات کہ کم رزق ہے گدا گستاخ

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 45
دیا ہے بوسہ مجھے جب کہ میں ہوا گستاخ
غلط ہے بات کہ کم رزق ہے گدا گستاخ
تمہاری بزم میں افسردہ مَیں نہ بیٹھوں گا
نسیم باغ میں چالاک ہے، صبا گستاخ
کہاں ہے غیرتِ شوخی کہ جائے غیرت ہے
نگاہِ یار سے ہر وقت ہے حیا گستاخ
سفیہ جیسے کہ خدمت سے چل نکلتے ہیں
غرورِ مہر و وفا نے مجھے کیا گستاخ
لبوں سے جان ہے گستاخ ذوقِ بے حد سے
زبانِ بوسہ مجھے تو نے کیوں کہا گستاخ
قبول کیوں نہ ہوئی خواہشِ ہم آغوشی
کہ آشناؤں سے ہوتے ہیں آشنا گستاخ
عنانِ ضبط کوئی شیفتہ سے تھمتی ہے
کہ ہر کرشمہ ہے چالاک و ہر ادا گستاخ
مصطفٰی خان شیفتہ

انفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 21
کیا لائقِ زکوٰۃ کوئی بے نوا نہ تھا
انفاسِ باد میں نفسِ آشنا نہ تھا
اس قوم کی سرشت میں ہے کم محبتی
شکوہ جو اس سے تھا مجھے ہرگز بجا نہ تھا
تاثیرِ نالہ نکتۂ بعد الوقوع ہے
یاں غیرِ رسم اور کوئی مدعا نہ تھا
وحشت تھی مجھ کو پہلے بھی، پر یہ تپش نہ تھی
شورش تھی مجھ کو پہلے بھی، پر یہ مزا نہ تھا
ان کی نگاہِ ناز عجب تازیانہ تھی
مقدور پھر اُدھر نظرِ شوق کا نہ تھا
افسوس وہ مظاہرِ کونی میں پھنس گیا
جو عالمِ عقول سے نا آشنا نہ تھا
شرماتے اس قدر رہے کیوں آپ رات کو
مدت سے گو ملے تھے مگر میں نیا نہ تھا
بے پردہ ان کے آنے سے حیرت ہوئی مجھے
وصلِ عدو کی رات تھی روزِ جزا نہ تھا
نان و نمک کی تھی ہمیں توفیق شیفتہ
ساز و نوا کے واسطے برگ و نوا نہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

کہیے کہیے مجھے برا کہیے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 48
ناروا کہیے ناسزا کہیے
کہیے کہیے مجھے برا کہیے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے
پھر نہ رکیے جو مدّعا کہیے
ایک کے بعد دوسرا کہیے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہیے کہ مدّعا کہیے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے
دل میں رکھنے کی بات ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہیے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حالِ دل سب سے جابجا کہیے
مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہیے
انتہا عشق کی خدا جانے
دمِ آخر کو ابتدا کہیے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدّعا کہیے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہیے
آ گئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہیے
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہیے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور با وفا کہیے
داغ دہلوی

اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 233
بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بُھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے
یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حُزن دل میں نکہتِ موجِ صبا سے ہے
دستِ شجر کی تحفہ رسانی ہے تا بہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سے ہے
جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے
دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
ناآشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے
اس میں کوئی گِلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے
جون ایلیا

ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 155
شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی
ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی
ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں
رقص و نوا تھے بے طرف محفلِ شب بپا بھی تھی
سامعہء صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا
ایک گماں کی داستاں برلبِ نیم وا بھی تھی
کیا مہ و سالِ ماجرا۔۔ایک پلک تھی جو میاں
بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی
ایک سرودِ روشنی نیمہء شب کا خواب تھا
ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی
دل تیرا پیشہء گلہ کام خراب کر گیا
ورنہ تو ایک رنج کی حالتِ بے گلہ بھی تھی
دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے
اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی
بال و پرِ خیال کو اب نہیں سمت وسُو نصیب
پہلے تھی ایک عجب فضا اور جو پُر فضا بھی تھی
خشک ہے چشمہء سارِ جاں زرد ہے سبزہ زارِدل
اب تو یہ سوچیے کہ یاں پہلے کبھی ہوا بھی تھی
جون ایلیا

تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 293
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "
تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں "
مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو "بجا” کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
نگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاں
وہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دلکشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
جو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے
کہیں حقیقتِ جانکاہئِ مرض لکھیے
کہیں مصیبتِ نا سازئِ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجے
کبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خونبہا دیجے
کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!
روانئِ روش و مستئِ ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!
طرواتِ چمن و خوبئِ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آلگا غالب
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 217
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ہم کو فریاد کرنی آتی ہے
آپ سنتے نہیں تو کیا کیجے
ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب
توبہ توبہ خدا خدا کیجے
رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہو گی
پہلے دل درد آشنا کیجے
عرضِ شوخی نشاطِ عالم ہے
حسن کو اور خود نما کیجے
دشمنی ہو چکی بہ قدرِ وفا
اب حقِ دوستی ادا کیجے
موت آتی نہیں کہیں غالب
کب تک افسوس زیست کا کیجے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 102
بدل بھی سکتی ہیں اس چمن کی فضا یہ نظمیں
خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں
یہ رات مانگے جنوں سے نذرانہ روشنی کا
جلا جلا کر سروں سے اونچی اُڑا یہ نظمیں
مجھے بہت ہے یہ میری گمنامیوں کی خلوت
مگر کسی دن قبول کر لے خدا یہ نظمیں
سخی صلے میں کسی سے کچھ مانگتا نہیں ہے
یہ لوگ بہرے ہیں ان کو اکثر سنا یہ نظمیں
تمام اوصاف ان میں جیسے ہوں دلبروں کے
حسین و خودبیں ، وفا سے نا آشنا یہ نظمیں
میں غیب و حاضر کا نامہ بر ہوں ، یہ میرا منصب
یہاں وہاں بانٹتا رہوں گا سدا یہ نظمیں
آفتاب اقبال شمیم

اب اک سخن ترے رنگِ حنا پہ لکھیں گے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 288
نہ موج خوں پہ، نہ تیغِ جفا پہ لکھیں گے
اب اک سخن ترے رنگِ حنا پہ لکھیں گے
ترا ہی ذکر کریں گے لبِ سکوت سے ہم
ترا ہی نام بیاضِ صدا پہ لکھیں گے
عبارتیں جو ستاروں پہ ہم کو لکھنا تھیں
تری جبینِ ستارہ نما پہ لکھیں گے
سفینہ ڈوب چکے گا تو روئدادِ سفر
کسی جزیرۂ بے آشنا پہ لکھیں گے
بیاں کریں گے نہ کوئی سبب اداسی کا
جو کچھ بھی لکھیں گے آب و ہوا پہ لکھیں گے
عرفان صدیقی

عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 177
ہم اپنے ذہن کی آب و ہوا میں زندہ ہیں
عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں
گزرنے والے جہازوں کو کیا خبر ہے کہ ہم
اسی جزیرۂ بے آشنا میں زندہ ہیں
گلی میں ختم ہوا قافلے کا شور‘ مگر
مسافروں کی صدائیں سرا میں زندہ ہیں
مجھے ہی کیوں ہو کسی اجنبی پکار کا خوف
سبھی تو دامنِ کوہِ ندا میں زندہ ہیں
خدا کا شکر‘ ابھی میرے خواب ہیں آزاد
مرے سفر مری زنجیر پا میں زندہ ہیں
ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
عرفان صدیقی

کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 84
بام و در پر ایک سنّاٹا عزا کرتا تھا رات
کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات
شہر ہوُ میں ایک ویرانی کا لشکر صف بہ صف
ہر طرف تاراج بازار و سرا کرتا تھا رات
اس خرابی کے مکاں میں ایک سایہ ایک نقش
ہم کلامی مجھ سے بے صوت و صدا کرتا تھا رات
اک غبارِ ساعتِ رفتہ کسی محراب سے
میرے چہرے میرے آگے رونما کرتا تھا رات
طاقِ تنہائی سے اٹھتا تھا چراغوں کا دھواں
اور مرے ہونے سے مجھ کو آشنا کرتا تھا رات
وہم دکھلاتا تھا مجھ کو روشنی کی تیرگی
وہم ہی میرے اندھیرے پر جلا کرتا تھا رات
روشنی کے ایک ربطِ رائیگاں کے باوجود
اک خلا آنکھوں سے منظر کو جدا کرتا تھا رات
تھا مرے باطن میں کوئی قصہ گو‘ وہ کون تھا
مجھ سے اک طرفہ حکایت ماجرا کرتا تھا رات
ہو گیا تھا تاجِ سر میرے لیے سودائے سر
سایۂ شب سر بسر کارِ ہما کرتا تھا رات
زہر شب میں کوئی دارو کارگر ہوتی نہ تھی
ہاں مگر اک زہر شب جو فائدہ کرتا تھا رات
جسم میں میرا لہو درویشِ گرداں کی طرح
لحظہ لحظہ پائے کوبی جا بجا کرتا تھا رات
زرد پتوں کے بکھرنے کی خبر دیتا ہوا
رقص میرے صحن میں پیکِ ہوا کرتا تھا رات
میں کوئی گوشہ گزیں‘ ترکِ وفا کا نوحہ گر
دیر تک تحریر تعویذ وفا کرتا تھا رات
کیا بشارت غرفۂ حیرت سے کرتی تھی نزول
کیا کرامت میرا حرفِ نارسا کرتا تھا رات
بند میرے کھولتا تھا کوئی آکر خواب میں
جاگتے میں پھر مجھے بے دست و پا کرتا تھا رات
رنگ روشن تھا سوادِ جاں میں اک تصویر کا
ایک چہرہ میری آنکھیں آئینہ کرتا تھا رات
مجھ کو اپنا ہی گماں ہوتا تھا ہر تمثال پر
کوئی مجھ سے کاروبارِ سیمیا کرتا تھا رات
صبح سورج نے اسی حجرے میں پھر پایا مجھے
میں کہاں تھا کیا خبر عرفانؔ کیا کرتا تھا رات
عرفان صدیقی

کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 41
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے
کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے
نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرے
کہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے
جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایا
کہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا ٹھہرے
تہ خنجر بھی منہ موڑا نہ قاتل کی اطاعت سے
تڑپنے کو کہا تڑپے ، ٹھہرنے کو کہا ٹھہرے
زہے قسمت حسینوں کی بُرائی بھی بھلائی ہے
کریں یہ چشم پوشی بھی تو نظروں میں حیا ٹھہرے
یہ عالم بیقراری کا ہے جب آغاز الفت میں
دھڑکتا ہے دل اپنا دیکھئے انجام کیا ٹھہرے
حقیقت کھول دی آئینہ وحدت نے دونوں کی
نہ تم ہم سے جدا ٹھہرے ، نہ ہم تم سے جدا ٹھہرے
دل مضطر سے کہہ دو تھوڑے تھوڑے سب مزے چکھے
ذرا بہکے ذرا سنبھلے ذرا تڑپے ذرا ٹھہرے
شب وصلت قریب آنے نہ پائے کوئی خلوت میں
ادب ہم سے جدا ٹھہرے حیا تم سے جدا ٹھہرے
اٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہو
ٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کو
کہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرے
ابھی جی بھر کے وصل یار کی لذت نہیں اٹھی
کوئی دم اور آغوش اجابت میں دعا ٹھہرے
خیال یار آنکلا مرے دل میں تو یوں بولا
یہ دیوانوں کی بستی ہے یہاں میری بلا ٹھہرے
امیر آیا جو وقت بد تو سب نے راہ لی اپنی
ہزاروں سیکڑوں میں درد و غم دو آشنا ٹھہرے
امیر مینائی

سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 12
ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئی
وہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے والا، بیکسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم، غریب آتا رہا جاتا رہا
آنکھ کیا ہے، موہنی ہے، سحر ہے، اعجاز ہے
اک نگاہِ لطف میں سارا گِلا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ، دل تھا شکووں سے بھرا
تم گَلے سے مِل گئے، سارا گلا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا، امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 148
آرزو کی ہے اس ادا کے ساتھ
حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ
موج حالات کا فریب نہ پوچھ
ہم ابھرتے ہیں ہر صدا کے ساتھ
اپنی آواز پر گماں کیسا
ہو گئے چپ نہ ہمنوا کے ساتھ
بات کی داستان کیا معنی
درد تھا درد آشنا کے ساتھ
اپنا دامن بھی وہ بچاتے ہیں
بے تکلف بھی ہیں گدا کے ساتھ
ایسے موسم کی انتہا معلوم
دل برسنے لگا گھٹا کے ساتھ
کسی گل کے نہ ہم رہے باقیؔ
دو قدم کیا چلے صبا کے ساتھ
باقی صدیقی

درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 66
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا
بہت قریب سے آواز ایک آئی تھی
مگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا
یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں
وہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا
یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ
ہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا
کلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میں
جہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا
بتاؤ کس لئے پتھر اٹھائے پھرتے ہو
کہو تو آئنہ خانے میں کیا نظر آیا
یہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔ
ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا
باقی صدیقی

وہ رنگ گل تھا کہ شعلہ تری ادا کا تھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 56
چمن میں شور بہت شوخی صبا کا تھا
وہ رنگ گل تھا کہ شعلہ تری ادا کا تھا
وفا کا زخم ہے گہرا تو کوئی بات نہیں
لگاؤ بھی تو ہمیں ان سے انتہا کا تھا
دیار عشق میں ہر دل تھا آئنہ اپنا
وہی تھا شاہ کا انداز جو گدا کا تھا
غم جہاں کی خبر اس طرح بھی ہم کو ملی
کہ رنگ اڑا ہوا اک درد آشنا کا تھا
کسی کلی کا چٹکنا بھی ناگوار ہوا
وہ انتظار ہمیں آپ کی صدا کا تھا
قدم کچھ اس طرح اکھڑے کہ سوچ بھی نہ سکے
کدھر سے آئے تھے ہم رُخ کدھر ہوا کا تھا
دیار غم سے گیا کون سرخرو باقیؔ
مگر وہ لوگ جنہیں آسرا خدا کا تھا
باقی صدیقی