ٹیگ کے محفوظات: آشنائیاں

ہماری اُس سے مگر، آشنائیاں نہ گئیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
بجا کہ اُس میں جو تھیں کج ادائیاں، نہ گئیں
ہماری اُس سے مگر، آشنائیاں نہ گئیں
کہا تھا اُس نے، بالآخر وُہ آئے گا، لیکن
ہمیں سے ہجر کی رَتیاں، بِتائیاں نہ گئیں
جوان جن سے، دُعاؤں کے طشت میں نکلے
اُن آنگنوں میں، اُن ہی کی، کمائیاں نہ گئیں
کئے ہزار طلب، آسماں سے ابر اِس نے
زمیں کے سر سے مگر، بے ردائیاں نہ گئیں
کلی سے گُل بھی ہوئے ہم، مگر چٹخنے سی
لب و زبان سے ماجد، دُہائیاں نہ گئیں
ماجد صدیقی

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا
جُدا تھے ہم تو میسّر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے
اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض