ٹیگ کے محفوظات: آسماں

جہاں ، جہاں ، جہاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے

خدائے مہرباں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
جہاں ، جہاں ، جہاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے
میں چل پڑا تو حد ہوئی، ہر اک جگہ مدد ہوئی
قدیم آسماں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
نظر کی پیش گوئیاں ہیں آج بھی عُروج پر
عُروج، جاں بہ جاں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
ترا حُصول انتہائے معرفت ہے یا خدا!
فرازِ کُن فکاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے
بسر کیا گیا یہاں حیاتِ بے ثبات کو
ثبات بعد ازاں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
بُتوں کو چھوڑنا پڑا، مجھے یہ کھولنا پڑا
خدائے دِلبراں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
افتخار فلک

زمین کیا ہے، فضا کیا ہے، آسماں کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
نگاہ میں ہے جو منظر بہ جُز گماں کیا ہے
زمین کیا ہے، فضا کیا ہے، آسماں کیا ہے
یہ جانتے ہیں مسافر فقط اندھیروں کے
ستارۂ سحری کیا ہے، کہکشاں کیا ہے
نظر میں لا کے تنِ برگِ زرد کا لرزہ
کُھلا یہ ہم پہ کہ اندیشۂ خزاں کیا ہے
گدا گدا ہے سو کُتّوں کا سامنا ہے اُسے
غنی کے واسطے آوازۂ سگاں کیا ہے
زوالِ عمر تلک ہم نہ سُرخرو ٹھہرے
حیات!تُجھ سا کوئی اور امتحاں کیا ہے
کوئی رہا ہے نہ ماجِد کسی نے رہنا ہے
تو پھر یہ مضحکۂ رنجِ رفتگاں کیا ہے
ماجد صدیقی

اے لرزتے زرد پتّے مت خزاں کی بات کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
خاک میں ملنے پہ در آتے زماں کی بات کر
اے لرزتے زرد پتّے مت خزاں کی بات کر
تیرنے کو ہیں یہ نیّائیں فراتِ زیست میں
بات کر ایقان کی یا تُو گماں کی بات کر
ہاں وہی جو ہم نے حفظِ جاں کو حاصل کی نہیں
اور ہمیں پر جو تنی ہے اُس کماں کی بات کر
جس کے فیض و غیض ہر دو میں دوگونہ لطف ہے
چھوڑ سارے مخمصے اُس جانِ جاں کی بات کر
ہم فرشتے تو نہیں،نوری ہوں کیا خاکی سے ہم
اے زمیں زادے! نہ ہر دم آسماں کی بات کر
غیر ہیں جو گنبد و مِینار ماجِد کیا ہیں وُہ
دیس سے نکلا ہے اپنے آستاں کی بات کر
ماجد صدیقی

اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہوتا ہے ایسے ربط سے جی کا زیاں الگ
اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ
ہونے کو ہو تو جائے ادا ایک فرضِ خاص
ماں باپ بھی ہوں خاک بہ سر، بیٹیاں الگ
جاتی ہے اپنی کم نظری سے اِدھر جو آن
اُڑتی ہیں جسم و جاں کی اُدھر دھجیاں الگ
ڈالی جو خاک سر پہ ہمارے، زمین نے
برسا کیا ہے ہم پہ اُدھر آسماں الگ
توقیر بھی بدلتی ہے، تحقیر میں کبھی
حالات جس طرح کا بھی دے دیں نشاں الگ
لیکھوں میں شخص شخص کے لکّھی ملے یہاں
ناطے سے بِنت بِنت کے اِک داستاں الگ
ہم گُل بہ کف تھے، سنگ بہ کف مل گئے ہمیں
اُترا ہے اب کے آنکھ میں ماجد سماں الگ
ماجد صدیقی

کِیا ہے چاک ہواؤں نے بادباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
رہِ سفر میں ہوئیں ہم پہ سختیاں کیا کیا
کِیا ہے چاک ہواؤں نے بادباں کیا کیا
نہ احتساب ہی بس میں، نہ احتجاج اُن کے
عوام اپنے یہاں کے ہیں بے زباں کیا کیا
فساد و فتنہ و شر کے ہم اہلِ مشرق کو
دِکھا رہا ہے نئے رنگ آسماں کیا کیا
وہ جسکے ہاتھ میں کرتب ہیں اُس کی چالوں سے
لٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گماں کیا کیا
ہم ایسے اڑتے پرندوں کو کیا خبر ماجدؔ
دکھائے اور ہنر حرص کی کماں کیا کیا
ماجد صدیقی

چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
دیکھتے گر ذرا ہنس کے اے مہرباں کچھ بگڑنا نہ تھا
چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا
دو قدم ہم چلے تھے اگر دو قدم تم بھی چلتے ادھر
اس سے ہونا نہیں تھا کسی کا زیاں،کچھ بگڑنا نہ تھا
حسن کی کھنکھناتی ندی جانے کیوں ہم سے کھنچتی رہی
گھونٹ دو گھونٹ پینا تھا آبِ رواں، کچھ بگڑنا نہ تھا
بندھنوں سے بغاوت، قیامت کا باعث نہ ٹھہری کبھی
جس طرح کا ہے، رہتا وہی آسماں کچھ بگڑنا نہ تھا
تھوکنے سے بھلا رُوئے مہتاب پر فرق پڑنا تھا کیا
کُھل گئی اِس طرح نیّتِ حاسداں کچھ بگڑنا نہ تھا
ماجد صدیقی

حسن کے شہ نشیں، لطف کے آسماں دیکھ ایسا نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
تو کہ گل ہے نہ بھنوروں سا ہو بدگماں دیکھ ایسا نہ کر
حسن کے شہ نشیں، لطف کے آسماں دیکھ ایسا نہ کر
رکھ نہ ہم سے چھپا کر طراوت لب و چشم و رخسار کی
لے کے جائیں کہاں ہم یہ سُوکھی زباں دیکھ ایسا نہ کر
طوف سے سرو قامت کے کب تک ہمیں باز رکھے گا تو
دور رکھتا ہے پُھولوں سے کیوں تتلیاں دیکھ ایسا نہ کر
وہ ہمِیں ہیں جو اُتریں گے جاناں !ترے اوجِ معیار پر
کاوشِ شوق ہونے نہ دے رائیگاں دیکھ ایسا نہ کر
ماجد صدیقی

نہ کچھ کہا تو سُلگنے لگی زباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
کہا تو دل میں رہی ہیبتِ شہاں کیا کیا
نہ کچھ کہا تو سُلگنے لگی زباں کیا کیا
یہ اُن حروف سے پوُچھو، ہوئے جو خاک بہ سر
اُڑی ہیں عہدِ مُروّت کی دھجّیاں کیا کیا
زمیں کی بات اُٹھائی تھی، اِک ذرا اس سے
نجانے ٹوٹ پڑا ہم پہ، آسماں کیا کیا
وُہ جس کے ہاتھ میں کرتب ہیں اُس کی چالوں سے
لُٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گُماں کیا کیا
ہم ایسے اُڑتے پرندوں کو کیا خبر ماجدؔ
ہُنر دکھائے ابھی حرص کی کماں کیا کیا
ماجد صدیقی

میرے انگناں بھی آسماں اُترا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
دل میں وُہ رشکِ گلستاں اُترا
میرے انگناں بھی آسماں اُترا
زعم ذہنوں سے، عدل خواہی کا
خاک اور خوں کے درمیاں اُترا
پستیوں نے جو، بعدِ اَوج دیا
تاپ خفت کا وہ، کہاں اُترا
رَن میں جیسے مجاہدِ اوّل
حرفِ حق، یُوں سرِ زباں اُترا
نُچ کے آندھی میں، پیڑ سے ماجدؔ
پھر ندی میں ہے، آشیاں اُترا
ماجد صدیقی

دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
تنے گی اُس کے ابرو کی کماں آہستہ آہستہ
دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ
جو کونپل سبز تھی دو چارہے اَب زردیوں سے بھی
مرتب ہو رہی ہے داستاں آہستہ آہستہ
لہو میں چھوڑنے پر آ گیا اَب تو شرارے سے
بدل کر خوف میں اک اک گماں آہستہ آہستہ
سجا رہتا تھا ہر دم آئنوں میں آنسوؤں کے جو
کنول وُہ بھی ہُوا اَب بے نشاں آہستہ آہستہ
اکھڑنا تھا زمیں سے اپنے قدموں کا کہ سر سے بھی
سرکنے لگ پڑا ہے آسماں آہستہ آہستہ
بکھر کر رہ گئیں بادِمخالفت کے تھپیڑوں سے
تمنّاؤں کی ساریاں تتلیاں آہستہ آہستہ
سخنور ہم بھی ماجدؔ رات بھر میں تو نہیں ٹھہرے
ملی ہے دل کے جذبوں کو زباں آہستہ آہستہ
ماجد صدیقی

مدار جس کا ہماری کٹی زباں پر تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
معاملہ ہی رہائی کا اُس بیاں پر تھا
مدار جس کا ہماری کٹی زباں پر تھا
مثالِ ریگ ہوا نے اُسے بکھیرا ہے
جو لختِ ابر کبھی اپنے گلستاں پر تھا
یہ کربِ عجز تو ماتھا ہی جانتا ہے مرا
گُہر مراد کا کس کس کے آستاں پر تھا
ثمر تو تھے ہی مگر سنگ بھی تھے شاخوں پر
وُہ جن کا بوجھ مسلسل شجر کی جاں پر تھا
نشیبِ خاک سے کیا اُس کی پیروی کرتے
مقدّمہ ہی ہمارا جب آسماں پر تھا
لُٹے بھی گر تو زباں پر نہ ہم کبھی لائے
وہ اِتّہام کہ ہر دَور میں خزاں پر تھا
بھُلا سکے نہ وہ پل اُس کے قُرب کا ماجدؔ!
جب اپنا ہاتھ اندھیرے میں پرنیاں پر تھا
ماجد صدیقی

چاہتی ہے نظر ہر سماں دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
حُسن اُس کا بحّدِ نہاں دیکھنا
چاہتی ہے نظر ہر سماں دیکھنا
کیُوں نہ ہم اِس ادا پر ہی مرتے رہیں
چھیڑنا اور اُسے بدگماں دیکھنا
کنجِ لب جیسے کھڑکی کُھلے خُلد کی
قامت و قد کو طوبیٰ نشاں دیکھنا
ہائے وُہ ہاتھ جن کی ہے تحریر وُہ
حرف در حرف مخفی جہاں دیکھنا
اُس کے رُخ پرنظر کا نہ ٹِکنا تو پھر
دفعتاً جانبِ آسماں دیکھنا
اُس کے پیکر سے اپنی یہ وابستگی
گنگُ لمحوں کے منہ میں زباں دیکھنا
آنکھ سے تو شراروں کا جھڑنا بجا
لمس تک سے بھی اُٹھتے دُھواں دیکھنا
نازکی اُس کی اور تشنگی شوق کی
نوک پر خار کی پرنیاں دیکھنا
اس بیاں پر نہ معتوب ٹھہرو کہیں
دیکھنا ماجدِ خستہ جاں دیکھنا
ماجد صدیقی

لکھا ہُوا ہے مری جان، ہاں، لکھا ہوا ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 78
تمہارا نام سرِ لوحِ جاں لکھا ہوا ہے
لکھا ہُوا ہے مری جان، ہاں، لکھا ہوا ہے
لہو سے تر ہے ورق در ورق بیاضِ سخن
حسابِ دل زدگاں سب یہاں لکھا ہوا ہے
نشاں بتائیں تمہیں قاتلوں کے شہر کا ہم؟
فصیلِ شہر پہ شہرِ اماں لکھا ہوا ہے
ملی ہے اہلِ جنوں کو جہاں بشارتِ اجر
وہیں تو اہلِ خرد کا زیاں لکھا ہوا ہے
زمیں بھی تنگ ہوئی، رزق بھی، طبیعت بھی
مرے نصیب میں کیا آسماں لکھا ہوا ہے؟
یہ کیسی خام امیدوں پہ جی رہے ہو میاں؟
پڑھو تو، لوحِ یقیں پر گماں لکھا ہوا ہے
تو کیا یہ ساری تباہی خدا کے حکم سے ہے؟
ذرا ہمیں بھی دکھاوٗ، کہاں لکھا ہوا ہے؟
یہ کائنات سراسر ہے شرحِ رازِ ازل
کلامِ حق تو سرِ کہکشاں لکھا ہوا ہے
میں سوچتا ہوں تو کیا کچھ نہیں عطائے وجود
میں دیکھتا ہوں تو بس رائگاں لکھا ہوا ہے
جو چاہتا تھا میں جس وقت، وہ کبھی نہ ہُوا
کتابِ عمر میں سب ناگہاں لکھا ہوا ہے
لکھا ہوا نہیں کچھ بھی بنامِ خوابِ وجود
نبود و بود کے سب درمیاں لکھا ہوا ہے
عدو سے کوئی شکایت نہیں ہمیں عرفان
حسابِ رنج پئے دوستاں لکھا ہوا ہے
عرفان ستار

عجب یقین پسِ پردہ ءِ گماں ہے یہاں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 27
نہیں ہے جو، وہی موجود و بے کراں ہے یہاں
عجب یقین پسِ پردہ ءِ گماں ہے یہاں
نہ ہو اداس، زمیں شق نہیں ہوئی ہے ابھی
خوشی سے جھوم، ابھی سر پہ آسماں ہے یہاں
یہاں سخن جو فسانہ طراز ہو، وہ کرے
جو بات سچ ہے وہ ناقابلِ بیاں ہے یہاں
نہ رنج کر، کہ یہاں رفتنی ہیں سارے ملال
نہ کر ملال، کہ ہر رنج رائیگاں ہے یہاں
زمیں پلٹ تو نہیں دی گئی ہے محور پر؟
نمو پذیر فقط عہدِ رفتگاں ہے یہاں
یہ کارزارِ نفس ہے، یہاں دوام کسے
یہ زندگی ہے مری جاں، کسے اماں ہے یہاں
ہم اور وصل کی ساعت کا انتظار کریں؟
مگر وجود کی دیوار درمیاں ہے یہاں
چلے جو یوں ہی ابد تک، تو اِس میں حیرت کیا؟
ازل سے جب یہی بے ربط داستاں ہے یہاں
جو ہے وجود میں، اُس کو گماں کی نذر نہ کر
یہ مان لے کہ حقیقت ہی جسم و جاں ہے یہاں
کہا گیا ہے جو وہ مان لو، بلا تحقیق
کہ اشتباہ کی قیمت تو نقدِجاں ہے یہاں
عرفان ستار

تم کہانی کے کس باب پر، اُس کے انجام سے کتنی دُوری پہ ہو اِس سے قطعِ نظر، دفعتاً یہ تمہارا بیاں ختم ہو جائے گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 8
زندگی کا سفر ایک دن، وقت کے شور سے، ایک پُرخواب ساعت کے بیدار ہوتے ہی بس یک بیک ناگہاں ختم ہو جائے گا
تم کہانی کے کس باب پر، اُس کے انجام سے کتنی دُوری پہ ہو اِس سے قطعِ نظر، دفعتاً یہ تمہارا بیاں ختم ہو جائے گا
بند ہوتے ہی آنکھوں کے سب، واہموں وسوسوں کے وجود و عدم کے کٹھن مسئلے، ہاتھ باندھے ہوئے، صف بہ صف روبرو آئیں گے
سارے پوشیدہ اسرار ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، سب وہم مر جائیں گے، بد گماں بے یقینی کا سارا دھواں ختم ہو جائے گا
بے دماغوں کے اِس اہلِ کذب و ریا سے بھرے شہر میں، ہم سوالوں سے پُر، اور جوابوں سے خالی کٹورا لیے بے طلب ہو گئے
چند ہی روز باقی ہیں بس، جمع و تفریق کے اِن اصولوں کے تبدیل ہوتے ہی جب، یہ ہمارا مسلسل زیاں ختم ہو جائے گا
بادشاہوں کے قصوں میں یا راہبوں کے فقیروں کے احوال میں دیکھ لو، وقت سا بے غرض کوئی تھا، اور نہ ہے، اور نہ ہو گا کبھی
تم کہاں کس تگ و دو میں ہو وقت کو اِس سے کیا، یہ تو وہ ہے جہاں حکم آیا کہ اب ختم ہونا ہے، یہ بس وہاں ختم ہو جائے گا
کوئی حد بھی تو ہو ظلم کی، تم سمجھتے ہو شاید تمہیں زندگی یہ زمیں اِس لیے دی گئی ہے، کہ تم جیسے چاہو برت لو اِسے
تم یہ شاید نہیں جانتے، اِس زمیں کو تو عادت ہے دکھ جھیلنے کی مگر جلد ہی، یہ زمیں ہو نہ ہو، آسماں ختم ہو جائے گا
عرفان ستار

شکستہ کشتیوں پر بادباں ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 54
ہوا سے جنگ میں ہوں ، بے اماں ہوں
شکستہ کشتیوں پر بادباں ہوں
میں سُورج کی طرح ہوں دھوپ اوڑھے
اور اپنے آپ پر خود سائباں ہوں
مجھے بارش کی چاہت نے ڈبویا
میں پختہ شہر کا کچّا مکاں ہوں
خُود اپنی چال اُلٹی چلنا چاہوں
میں اپنے واسطے خود آسماں ہوں
دُعائیں دے رہی ہوں دشمنوں کو
اور اِک ہمدرد پر نامہرباں ہوں
پرندوں کو دُعا سِکھلا رہی ہوں
میں بستی چھوڑ ، جنگل کی اذاں ہوں
ابھی تصویر میری کیا بنے گی
ابھی تو کینوس پر اِک نشاں ہوں
پروین شاکر

جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں چلے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 122
ہم بھی انھیں کے ساتھ چلے وہ جہاں چلے
جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں چلے
چاہوں تو میرے ساتھ تصور میں تا قفس
گلشن چلے، بہار چلے، آشیاں چلے
اے راہبر یقیں جو تری راہبری میں ہو
مڑ مڑ کے دیکھتا ہوا کیوں کارواں چلے
میری طرح وہ رات کو تارے گِنا کریں
اب کے کچھ ایسی چال آسماں چلے
قمر جلالوی

اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 104
اگر زندہ رہیں تو آئیں گے اے باغباں پھر بھی
اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی
سمجھتا ہے کہ اب میں پا شکستہ اٹھ نہیں سکتا
مگر مڑ مڑ کہ تکتا جا رہا ہے کارواں پھر بھی
بہت کچھ یاد کرتا ہوں کہ یا رب ماجرا کیا ہے
وہ مجھ کو بھول بیٹھے آ رہے ہیں ہچکیاں پھر بھی
سمجھتا ہوں انھیں نیند آ گئی ہے اب نہ چونکیں گے
مگر میں ہوں سنائے جا رہا ہوں داستاں پھر بھی
قمر حالانکہ طعنے روز دیتا ہوں جفاؤں کے
جدا کرتا نہیں سینہ سے مجھ کو آسماں پھر بھی
قمر جلالوی

وہاں فریاد کرتا ہوں نہیں ہوتا جہاں کوئی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 86
یہ نا ممکن ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی
وہاں فریاد کرتا ہوں نہیں ہوتا جہاں کوئی
شکایت وہ نہ کرنے دیں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
سرِ محشر کسی کی روک سکتا ہے زباں کوئی
عبث ہے حشر کا وعدہ ملے بھی تم تو کیا حاصل
یہ سنتے ہیں کہ پہچانا نہیں جاتا وہاں کوئی
انھیں دیرو حرم میں جب کبھی آواز دیتا ہوں
پکار اٹھتی ہے خاموشی نہیں رہتا یہاں کوئی
لحد میں چین دم بھر کو کسی پہلو نہیں ملتا
قمر ہوتا ہے کیا زیرِ زمیں بھی آسماں کوئی
قمر جلالوی

کہ جس طرح کسی کافر کو ہو اذاں سے گریز

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 47
خدا کی شان تجھے یوں مری فغاں سے گریز
کہ جس طرح کسی کافر کو ہو اذاں سے گریز
وہ چاہے سجدہ کیا ہو نہ دیر و کعبہ میں
مگر ہوا نہ کبھی تیرے آستاں سے گریز
دلِ شکستہ سے جا رہی ہے ان کی یاد
مکیں کو جیسے ہو ٹوٹے ہوئے مکاں سے گریز
جہاں بھی چاہیں وہاں شوق سے شریک ہوں آپ
مگر حضور ذرا بزمِ دشمناں سے گریز
کچھ اس میں سازشِ بادِ خلاف تھی ورنہ
مرے ریاض کے تنکے اور آشیاں سے گریز
خطا معاف وہ دیوانگی کا عالم تھا
جسے حور سمجھتے ہیں آستاں سے گریز
خطا بہار میں کچھ باغباں کی ہو تو کہوں
مرے نصیب میں لکھا تھا گلستاں سے گریز
جہاں وہ چاہیں قمر شوق سے ہمیں رکھیں
زمیں سے ہم کو گریز اور نہ آسماں سے گریز
قمر جلالوی

خس کم جہاں پاک غمِ آشیاں سے دور

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 43
فکریں تمام ہو گئیں برقِ تپاں سے دور
خس کم جہاں پاک غمِ آشیاں سے دور
مژگاں کہاں ہیں ابروئے چشمِ بتاں سے دور
یہ تیر وہ ہیں جو نہیں ہوتے کماں سے دور
یادِ شباب یوں ہے دلِ ناتواں سے دور
جیسے کوئی غریب مسافر مکاں سے دور
دیر و حرم میں شیخ و برہمن سے پوچھ لے
سجدے اگر کئے ہوں ترے آستاں سے دور
اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوں کسے راہ میں غبار
کوئی شکستہ پا تو نہیں کارواں سے دور
جب گھر سے چل کھڑے ہوئے پھر پوچھنا ہی کیا
منزل کہاں ہے پاس پڑے گی کہاں سے دور
ہو جاؤ آج کل کے وعدے سے منحرف
یہ بھی نہیں حضور تمھاری زباں سے دور
خوشبو کا ساتھ چھٹ نہ سکا تا حیات گل
لے بھی گئی شمیم تو کیا گلستاں سے دور
شعلے نظر نہ آئے یہ کہنے کی بات ہے
اتنا تو آشیانہ تھا باغباں سے دور
دیر و حرم سے ان کا برابر ہے فاصلہ
جتنے یہاں سے دور ہیں اتنے وہاں سے دور
صیاد یہ جلے ہوئے تنکے کہاں ہیں
بجلی اگر گری ہے میرے آشیاں سے دور
مجھ پر ہی اے قمر نہیں پابندیِ فلک
تارے بھی جا سکے نہ حدِ آسماں سے دور
قمر جلالوی

خدا کرے کے سمجھ لے مری زباں صیاد

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 41
کہا تو ہے کہ قفس میں نہیں اماں صیاد
خدا کرے کے سمجھ لے مری زباں صیاد
قفس سے ہٹ کے ذرا سن مری فغاں صیاد
لرز رہی ہے ترے سامنے زباں صیاد
بہارِ گل میں مجھے تو کہیں چین نہیں
مرے خلاف وہاں باغباں یہاں صیاد
جو پر کتر دیے دنیا میں ہو گی رسوائی
پر اڑ کے جائیں گے جانے کہاں کہاں صیاد
قفس میں کانپ رہا ہوں کہیں فریب نہ ہو
بہارِ گل میں ہوا ہے جو مہرباں صیاد
میں کوئی دم کا ہوں مہمان تیلیاں نہ بدل
کہ جائے گی تری محنت یہ رائیگاں صیاد
تری نظر پہ ترانے تری نظر پہ فغاں
ملے گا تجھ کو نہ مجھ سا مزاج داں صیاد
جفائے چرخ پہ چھوڑا تھا آشیاں میں نے
ترے قفس میں بھی سر پہ ہے آسماں صیاد
قمر کی روشنی میں کیسے پھول کھلتے ہیں
مگر وہ چاندنی راتیں یہاں کہاں صیاد
قمر جلالوی

تو پھر انصاف ہو گا اے بتِ خود سر کہاں میرا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 10
تو کہتا ہے قبضہ ہے یہاں میرا وہاں میرا
تو پھر انصاف ہو گا اے بتِ خود سر کہاں میرا
چلے آؤ یہاں گورِ غریباں میں نہیں کوئی
فقط اک بے کسی ہے جو بتاتی ہے نشاں میرا
قمر میں شاہِ شب ہوں فوق رکھتا ہوں ستاروں پر
زمانے بھر پہ روشن ہے کہ ہے تخت آسماں میرا
قمر جلالوی

ہے خاکِ تن ہوا و ہوا خوں فشاں ہنوز

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 52
ہم بے نشان اور وفا کا نشاں ہنوز
ہے خاکِ تن ہوا و ہوا خوں فشاں ہنوز
بیت الحزن میں نغمۂ شادی بلند ہے
نکلا ہی بابِ مصر سے ہے کارواں ہنوز
صبحِ شبِ وصال نیِ صبح ہے، مگر
پرویں ہنوز جلوہ گر و کہکشاں ہنوز
ہرگز ابھی شکایتِ دشمن نہ چاہئے
ہم پر بھی یار خوب نہیں مہرباں ہنوز
کیوں کر کہیں کہ چھٹ گئے ہم بندِ جسم سے
اس زلفِ پیچ پیچ میں الجھی ہے جاں ہنوز
جو بات میکدے میں ہے اک اک زبان پر
افسوس مدرسے میں ہے بالکل نہاں ہنوز
ضبط و شکیب یاں ہے نقابِ جمال میں
بے وجہ واں نہیں ہے سرِ امتحاں ہنوز
مدت ہوئی بہارِ جہاں دیکھتے ہوئے
دیکھا نہیں کسی نے گلِ بے خزاں ہنوز
اکثر ہوا ہے مجھ کو سفر در وطن مگر
لایا نہ دوستوں کے لئے ارمغاں ہنوز
اک شب ہوا تھا جلوہ نما چرخ پر وہ ماہ
مدہوش ہیں ملائکۂ آسماں ہنوز
نا آشنا رقیب سے ہے آشنا ابھی
نا آشنا ہے لب سے ہمارے فغاں ہنوز
آشفتہ زلف، چاک قبا، نیم باز چشم
ہیں صحبتِ شبانہ کے ظاہر نشاں ہنوز
اے موجۂ نسیم ذرا اور ٹھہر جا
ہے خاک پر ہماری وہ دامن فشاں ہنوز
مے خانے میں تمام جوانی بسر ہوئی
لیکن ملا نہ منصبِ پیرِ مغاں ہنوز
اے تابِ برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
کچھ رہ گئے ہیں خار و خسِ آشیاں ہنوز
آتا ہوں میں وہیں سے ذرا صبر شیفتہ
سونے کے قصد میں بھی نہیں پاسباں ہنوز
مصطفٰی خان شیفتہ

مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 47
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
سن کر مرا فسانہ انہیں لطف آگیا
سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے
پیغامبر کی بات پر آپس میں رنج کیا
میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے
کچھ تازگی ہو لذتِ آزار کے لئے
ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے
جانبر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جان
کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے
حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر
کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے
وقتِ خرامِ ناز دکھا دو جدا جدا
یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے
فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے
دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے
قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح
چھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے
جورِ رقیب و ظلمِ فلک کا نہیں خیال
تشویش ایک خاطرِ نا مہرباں کی ہے
سن کر مرا فسانہء غم اس نے یہ کہا
ہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے
دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا
خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے
ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار
کیا جانے گردِ راہ یہ کس کارواں کی ہے
کیونکر نہ آتے خلد سے آدم زمین پر
موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے
تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں
تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
داغ دہلوی

وہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 40
دنیا میں آدمی کو مصیبت کہاں‌ نہیں
وہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیں
کس طرح جان دینے کے اقرار سے پھروں
میری زبان ہے یہ تمہاری زباں نہیں
اے موت تو نے دیر لگائی ہے کس لیئے
عاشق کا امتحان ہے تیرا امتحان نہیں
تنہا بھی جب رہے تو وہ رہتے ہیں‌ہوشیار
خود اپنے پاسباں‌ ہیں اگر پاسباں نہیں
ایسا خط اُن کو راہ میں‌ ملتا ہے روز ایک
جس میں‌کسی کا نام کسی کا نشاں نہیں
داغ دہلوی

کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 222
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے
لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے
آدم و ذات کبریا کرب میں ہیں جدا جدا
کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے
شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دل شام درد مند
صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے
خودمیں بھی بےاماں ہوں میں،تجھ میں بھی بےاماں ہوں میں
کون سہے گا اس کا غم وہ جو مری اماں میں ہے
کیسا حساب کیا حساب حالت حال ہے عذاب
زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے
اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں
ایک عجیب کشمکش حلقہ بے دلاں میں ہے
بود نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر
سارے وجود کی نہیں میرے عدم کی ہاں میں ہے
جون ایلیا

از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 220
زیرِ محراب ابرواں خوں ہے
از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے
ایک بسمل کا رقصِ رنگ تھا آج
سرِ مقتل جہاں تہاں خوں ہے
زخم کے خرمنوں کا مژدہ ہو
آب۔ کشت بلا کشاں خوں ہے
سادہ پوشانِ عیدِ شوق، نوید
آبِ حوض نمازیاں خوں ہے
باب ہے حسرتوں کی محنت گاہ
دل یارانہ خوں فشاں خوں ہے
زخم انگیز ہے خراشِ امید
ہے دیدار۔ گل رخاں خوں ہے
ہو گئے باریاب اہل غرض
روئے دہلیز و آسماں خوں ہے
دل خونیں ہے میزباں
عمدہ خوانِ میزبان خوں ہے
فصل آئی ہے رنگِ مستوں کی
تابہ دیوارِ گلستاں خوں ہے
ہر تماشائی مدعی ٹھہرا
پر تو زخمِ خوں چکا خوں ہے
میں ہوں بے داغ دامناں محتاط
نفسِ خوں گرفتگاں خوں ہے
غنچہ ہا زخم، زخم ہا الماس
شبنم باغ امتحاں خوں ہے
اس طرف کوہکن ادھر شیریں
اور دونوں کے درمیاں خوں ہے
بے دلوں کو نہ چھیڑیو کہ یہ قوم
امتِ شوق رائیگاں خوں ہے
جون ایلیا

زندگی اک زیاں کا دفتر ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 217
نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے
زندگی اک زیاں کا دفتر ہے
پڑھ رہا ہوں میں کاغذاتِ وجود
اور نہیں اور ہاں کا دفتر ہے
کوئی سوچے تو سوزِ کربِ جاں
سارا دفتر گماں کا دفتر ہے
ہم میں سے کوئی تو کرے اصرار
کہ زمیں، آسماں کا دفتر ہے
ہجر تعطیلِ جسم و جاں ہے میاں
وصل، جسم اور جاں کا دفتر ہے
ہے جو بود اور نبود کا دفتر
آخرش یہ کہاں کا دفتر ہے
جو حقیقت ہے دم بدم کی یاد
وہ تو اک داستاں کا دفتر ہے
ہو رہا ہے گزشتگاں کا حساب
اور آئیندگاں کا دفتر ہے
جون ایلیا

غم تو جانے تھے رائیگاں اُن کے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 186
خود سے رشتے رہے کہاں اُن کے
غم تو جانے تھے رائیگاں اُن کے
مست اُن کو گماں میں رہنے دے
خانہ برباد ہیں گماں اُن کے
یار سُکھ نیند ہو نصیب اُن کو
دُکھ یہ ہے دُکھ ہیں بے اماں اُن کے
کتنی سر سبز تھی زمیں اُن کی
کتنے نیلے تھے آسماں اُن کے
نوحہ خوانی ہے کیا ضرور انہیں
ان کے نغمے ہیں نوحہ خواں اُن کے
جون ایلیا

اسی گماں کو بچا لوں کہ درمیاں ہے یہی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 158
کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی
اسی گماں کو بچا لوں کہ درمیاں ہے یہی
یہ آدمی کے ہیں انفاس جس کے زہر فروش
اسے بٹھاؤ کہ میرا مزاج داں ہے یہی
کبھی کبھی جو نہ آؤ نظر تو سہہ لیں گے
نظر سے دُور نہ ہونا کہ امتحاں ہے یہی
میں آسماں کا عجب کچھ لحاظ رکھتا ہوں
جو اس زمین کو سہہ لے وہ آسماں ہے یہی
یہ ایک لمحہ جو دریافت کر لیا میں نے
وصالِ جاں ہے یہی اور فراقِ جاں ہے یہی
تم اُن میں سے ہو جو یاں فتح مند ٹہرے ہیں
سنو کہ وجہِ غمِ دل شگستگاں ہے یہی
جون ایلیا

جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 108
سود ہے میرا زیاں ، افسوس میں
جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں
رائگانی میں نے سونپی ہے تجھے
اے مری عمرِ رواں ، افسوس میں
اے جہانِ بے گمان و صد گماں
میں ہوں اوروں کا گماں ، افسوس میں
نا بہ ہنگامی ہے میری زندگی
میں ہوں ہر دم نا گہاں ، افسوس میں
زندگی ہے داستاں افسوس کی
میں ہوں میرِ داستاں ، افسوس میں
اپنے برزن اپنے ہی بازار میں
اپنے حق میں ہوں گراں ، افسوس میں
گم ہوا اور بے نہائت گم ہوا
مجھ میں ہے میرا سماں ، افسوس میں
میرے سینے میں چراغِ زندگی
میری انکھوں میں دھواں ، افسوس میں
مجھ کو جز پرواز کوئی چارہ نہیں
ہوں میں اپنا آشیاں ، افسوس میں
ہے وہ مجھ میں بے اماں ، افسوس وہ
ہوں میں اس میں بے اماں ، افسوس میں
خود تو میں ہوں یک نفس کا ماجرا
میرا غم ہے جاوداں ، افسوس میں
ایک ہی تو باغِ حسرت ہے میرا
ہوں میں اس کی ہی خزاں ، افسوس میں
اے زمین و آسماں ،، افسوس تم
اے زمین و آسماں ، افسوس میں
جون ایلیا

ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 84
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں
رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں جاناں
میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے
کس سے پوچھوں ترا نشاں جاناں
علام و بیکرانِ رنگ ہے تو
تجھ میں ٹھہروں کہاں کہاں جاناں
میں ہواؤں سے کیسے پیش آؤں
یہی موسم ہے کیا وہاں جاناں؟
روشنی بھر گئی نگاہوں میں
ہو گئے خواب بے اماں جاناں
درد مندانِ کوئے دلداری
گئے غارت جہاں تہاں جاناں
اب بھی جھیلوں میں عکس پڑتے ہیں
اب بھی نیلا ہے آسماں جاناں
ہے پرخوں تمہارا عکس خیال
زخم آئے کہاں کہاں جاناں
جون ایلیا

وہ جو ابھی یہاں تھا، وہ کون تھا، کہاں تھا؟

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 24
جانے کہاں گیا وہ، وہ جو ابھی یہاں تھا؟
وہ جو ابھی یہاں تھا، وہ کون تھا، کہاں تھا؟
تا لمحہ گزشتہ یہ جسم اور بہار آئے
زندہ تھے رائیگاں میں، جو کچھ تھا رائیگاں تھا
اب جس کی دید کا ہے سودا ہمارے سر میں
وہ اپنی ہی نظر میں اپنا ہی اک سماں تھا
کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو
سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائیگاں تھا
یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر؟
تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا
اس شہر کی حفاظت کرنی تھی جو ہم کو جس میں
آندھی کی تھیں فصلیں اور گرد کا مکاں تھا
تھی اک عجب فضا سی امکانِ خال و خد کی
تھا اک عجب مصور اور وہ مرا گماں تھا
عمریں گزر گئیں تھیں ہم کو یقیں سے بچھڑے
اور لمحہ اک گماں کا، صدیوں میں بے اماں تھا
میں ڈوبتا چلا گیا تاریکیوں کہ تہہ میں
تہہ میں تھا اک دریچہ اور اس میں آسماں تھا
جون ایلیا

رہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 209
نویدِ امن ہے بیدادِ دوست جاں کے لئے
رہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لئے
بلا سے!گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
رکھوں کچھ اپنی ہی مژگانِخوں فشاں کے لئے
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناسِ خلق اے خضر
نہ تم کہ چور بنے عمرِ جاوداں کے لئے
رہا بلا میں بھی، میں مبتلائے آفتِ رشک
بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لئے
فلک نہ دور رکھ اُس سے مجھے، کہ میں ہی نہیں
دراز دستئِ قاتل کے امتحاں کے لئے
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لئے
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا، مری جو شامت آئے
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے
بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لئے
دیا ہے خلق کو بھی، تا اسے نظر نہ لگے
بنا ہے عیش تجمُّل حسین خاں کے لئے
زباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مر ی زباں کے لئے
نصیرِ دولت و دیں اور معینِ ملّت و ملک
بنا ہے چرخِ بریں جس کے آستاں کے لئے
زمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائش
بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لئے
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لئے
ادائے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 146
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں@
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو
کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو
نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
یہ کہہ سکتے ہو "ہم دل میں نہیں ہیں” پر یہ بتلاؤ
کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالب
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
@ کچھ نسخوں میں ’وضع کیوں بدلیں‘ ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 72
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بز مِ غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
دے وہ جس قد ر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا
در دِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلادوں
انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلا
ننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی، کرلیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 103
مردِ نسیاں بُرد کا نام و نشاں کیا پوچھئے
ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے
نامقرر راستوں کی سیرِ ممنوعہ کے بعد
کیوں ہنسی کے ساتھ آنسو ہیں رواں، کیا پوچھئے
ہر نئے ظاہر میں پوشیدہ ہے اک ظاہر نیا
ایک حیرت ہے نہاں اندر نہاں کیا پوچھئے
خود کو نامشہور کرنے کے یہی تو ڈھنگ ہیں
آفتاب اقبال کا طرزِ بیاں کیا پوچھئے
کیوں اُسے پرتوں کی پرتیں کھو جنا اچھا لگے
کیوں کئے جاتا ہے کارِ رائیگاں کیا پوچھئے
لیکھ ہی ایسا تھا یا آدرش میں کچھ کھوٹ تھی
زندگی ہم سے رہی کیوں بدگماں کیا پوچھئے
ہم نے سمجھا یا تو تھا لیکن وہ سمجھا ہی نہیں
آج کا یہ سود ہے کل کا زیاں کیا پوچھئے
ہم سبھی جس داستاں کے فالتو کردار ہیں
زندگی ہے ایک ایسی داستاں ، کیا پوچھئے
آفتاب اقبال شمیم

کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 53
شب کے پردے میں نہاں ہے تو سہی
کوئی ہم جیسا یہاں ہے تو سہی
ہم اگرچہ پا رہ لپتی ہیں مگر
سر پہ اپنے آسماں ہے تو سہی
ان گنت بدصورتوں کے شہر میں
ایک تو اے جانِ جاں ہے تو سہی
اس نشاطِ صحبت نایاب میں
کچھ طبیعت سرگراں ہے تو سہی
اب دفاعِ نظریہ کیا کیجئے
کل کا حاصل رائیگاں ہے تو سہی
راس امکان و گماں ہے یاس کو
اس سے آگے لامکاں ہے تو سہی
خواب ٹوٹا ہے تو لے آئیں گے اور
ہمتِ یاراں جواں ہے تو سہی
آفتاب اقبال شمیم

یہ زمیں کوئی نہ ہو وہ آسماں کوئی نہ ہو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 34
سوچئے گر آدمی ہی درمیاں کوئی نہ ہو
یہ زمیں کوئی نہ ہو وہ آسماں کوئی نہ ہو
خود کلامی نے غموں کا بوجھ ہلکا کر دیا
اب مرا، میری بلا سے راز داں کوئی نہ ہو
آج بھی مجھ کو مری گمنامیاں اچھی لگیں
کل بھی چاہوں گا مرا نام و نشاں کوئی نہ ہو
سختی ء حالات نے اندر سے پتھر کر دیا
شہر بھر میں ، ورنہ کیوں شوروفغاں کوئی نہ ہو
تنگ ہیں مجھ پر زمین و آسماں کی وُسعتیں
مجھ سا آوارہ بھی اے اہلِ جہاں کوئی نہ ہو
آفتاب اقبال شمیم

کھلا لگتا ہے، لیکن بند ہے میرا مکاں مجھ پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 27
لگا دیں خوف نے ایسی بھی کچھ پابندیاں مجھ پر
کھلا لگتا ہے، لیکن بند ہے میرا مکاں مجھ پر
میں خاک افتادہ رکھتا ہوں اُفق سے ربط آنکھوں کا
بہت جھک کر اُترتا ہے شکوہِ آسماں مجھ پر
ملا دیتا ہوں اپنے خواب کو اُس کی حقیقت سحر
تبھی تو مشکلیں بنتی نہیں آسانیاں مجھ پر
مرا یوں جاگتے رہنا انہیں اچھا نہیں لگتا
ہیں دُز دان شبِ غفلت بہت نا مہرباں مجھ پر
کچھ ایسے زندگی بے پرسش احوال گزری ہے
کسی کا پوچھنا بھی اب گزرتا ہے گراں مجھ پر
کشید شعر جب چھلکے غزل کے آبگینے میں
تو برسانے لگے سیمِ ستارہ کہکشاں مجھ پر
آفتاب اقبال شمیم

یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 21
نظر کے شہ نشیں سے اُٹھ کے جب وُہ مہرباں گیا
یہی لگا کہ جیسے میرے سر سے آسماں گیا
بس ایک عکس دور ہی ملا سڑک کے موڑ پر
جو موتیے کے ہار بیچتا تھا وہ کہاں گیا
ہوا کا خوش نورد اپنے ساتھ گرد لے اُڑا
چلا تو تھا سبک سبک مگر گراں گراں گیا
ملا نہ اسمِ آخریں ، درِ شفا نہ وا ہوا
اگرچہ دور دور تک یقیں گیا، گماں گیا
وہی نظر کے فاصلے وہی دلوں کی دُوریاں
ملا نہ کوئی آشنا وہ اجنبی جہاں گیا
مگر یہ کیا ضرور ہے کہ پھر سے تجربہ کریں
وُہ ایک کارِ رائیگاں تھا اور رائیگاں گیا
یہ نغمۂ مراد ہے، رُکے تو پھر سے چھیڑ دے
رہے گا اپنے پاس کیا جو ذکرِ دوستاں گیا
آفتاب اقبال شمیم

شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی
سروہی ہے تو آستاں ہے وہی
جاں وہی ہے تو جانِ جاں‌ہے وہی
اب جہاں مہرباں نہیں کوئی
کوچہء یارِ مہرباں ہے وہی
برق سو بار گر کے خاک ہوئی
رونقِ خاکِ آشیاں ہے وہی
آج کی شب وصال کی شب ہے
دل سے ہر روز داستاں ہے وہی
چاند تارے ادھر نہیں آتے
ورنہ زنداں میں‌ آسماں ہے وہی
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

فرد فرد

عرفان صدیقی ۔ فرد فرد
اب خدا چاہے تو کچھ اور ہوا چاہتا ہے
آج تک تو وہ ہوا ہے جو عدو نے چاہا
خدا نے ذہن میں لفظ و بیاں کو بھیج دیا
جو کچھ کمایا تھا میں نے سو ماں کو بھیج دیا

غزال آتے بھی ہیں زیر دام جانتا ہوں
مگر یہ رزق میں خود پر حرام جانتا ہوں

شہر نے اُمید کی چادر اوڑھی دُور اذان شام ہوئی
سوچ کی کہنہ سرائے میں روشن مشعل بام ہوئی

میرے انکار پرستش نے بچایا ہے مجھے
سر جھگا دوں تو ہر انسان خدا ہو جائے

کون پاگل اپنا سر دینے کی سرشاری میں ہے
فائدہ تو صرف اعلان وفاداری میں ہے

دست قاتل پہ گماں دست طلب کا ہوتا
نہ ہوا ورنہ یہ نظارہ غضب کا ہوتا

میرا میدان غزل نیزہ و سر کا ٹھہرا
رہنے والا جو شہیدوں کے نگر کا ٹھہرا

غزل میں ہم سے غم جاں بیاں کبھی نہ ہوا
تمام عمر جلے اور دھواں کبھی نہ ہوا

دست قاتل پہ گماں دست طلب کا ہو گا
کبھی ہو گا تو یہ نظارہ غضب کا ہو گا

ہوا کے ہاتھ میں رکھ دی کسی نے چنگاری
تمام شہر اسے حادثہ سمجھتا رہا

کوئے قاتل کو تماشا گاہ سمجھا ہے حریف
کشتنی میری رقابت میں یہاں بھی آگیا

زمین گھوم رہی ہے ہمارے رُخ کے خلاف
اشارہ یہ ہے کہ سمت سفر بدل دیں ہم

اس کا پندار رہائی نہیں دیتا اس کو
نقش دیوار دکھائی نہیں دیتا اس کو

میں اک دعا ہوں تو دروازہ آسمان کا بھی کھول
اور اک نوا ہوں تو حسن قبول دے مجھ کو

سوچتے سوچتے زندگی کٹ گئی اس نے چاہا مجھے
وہم بھی ایک شئے ہے مگر اس کے لیے کچھ قرینہ تو ہو

وہاں ہونے کو ہو گی برف باری
پرندے پھر ادھر آنے لگے ہیں

شاعری سے کوئی قاتل راہ پر آتا نہیں
اور ہم کو دوسرا کوئی ہنر آتا نہیں

مری غزل کا یہ مضموں بدلنے والا نہیں
وہ ملنے والا نہیں، دل سنبھلنے والا نہیں

میں بھی تنہائی سے ڈرتا ہوں کہ خاکم بدہن
آدمی کوئی خدا ہے، کہ اکیلا رہ جائے

حکم یہ ہے کہ مجھے دشت کی قیمت دی جائے
میرے زنداں کے در و بام کو وسعت دی جائے

موتیوں سے منہ بھرے دیکھو تو یہ مت پوچھنا
لوگ کیوں چپ ہو گئے تاب سخن ہوتے ہوئے

آگ میں رقص کیا، خاک اُڑا دی ہم نے
اب کے تو شہر میں اک دھوم مچا دی ہم نے
آگ میں رقص کیا خاک اُڑا دی ہم نے
موج میں آئے تو اک دھوم مچا دی ہم نے

دل اک تپش میں پگھلتا رہے تو اچھا ہے
چراغ طاق میں جلتا رہے تو اچھا ہے

ایک ہی چیز اس آشوب میں رہ سکتی ہے
سر بچاتے تو زیاں نام و نسب کا ہوتا

موج خوں بھرتی رہی دشت کی تصویر میں رنگ
کبھی دریا نہ مرے دیدۂ تر کا ٹھہرا

کبھی طلب ہی نہ کی دوستوں سے قیمت دل
سو کاروبار میں ہم کو زیاں کبھی نہ ہوا

ایک ہی چیز اس آشوب میں رہ سکتی ہے
سر بچائیں تو زیاں نام و نسب کا ہو گا

بجا حضور، یہ ساری زمین آپ کی ہے
میں آج تک اسے ملک خدا سمجھتا رہا

میں نے تو اپنے ہی بام جاں پہ ڈالی تھی کمند
اتفاقاً اس کی زد میں آسماں بھی آگیا

اب آفتاب تو محور بدل نہیں سکتا
تو کیوں نہ زاویۂ بام و در بدل دیں ہم

کیا کسی خواب میں ہوں میں تہہ خنجر کہ یہاں
چیختا ہوں تو سنائی نہیں دیتا مجھ کو
نہ گرم دوستیاں ہیں نہ نرم دشمنیاں
میں بے اصول ہوں کوئی اصول دے مجھ کو

ہم ہوا کے سوا کچھ نہیں اس پہ یہ حوصلہ دیکھئے
آدمی ٹوٹنے کے لیے کم سے کم آبگینہ تو ہو

مرا گھر پاس آتا جا رہا ہے
وہ مینارے نظر آنے لگے ہیں

شہسوارو، اپنے خوں میں ڈوب جانا شرط ہے
ورنہ اس میدان میں نیزے پہ سر آتا نہیں

لہو میں لو سی بھڑکنے لگی، میں جانتا ہوں
کہ یہ چراغ بہت دیر جلنے والا نہیں

دل افسردہ کے ہر سمت ہے رشتوں کا ہجوم
جیسے انسان سمندر میں بھی پیاسا رہ جائے

کب تلک کوئی کرے حلقۂ زنجیر میں رقص
کھیل اگر دیکھ لیا ہو تو اجازت دی جائے

اب بدن سے موج خوں گزری تو اندازہ ہوا
کیا گزر جاتی ہے صحرا پہ چمن ہوتے ہوئے

درد کیا جرم تھا کوئی کہ چھپایا جاتا
ضبط کی رسم ہی دنیا سے اُٹھا دی ہم نے
درد کیا جرم تھا کوئی کہ چھپایا جاتا
ضبط کی رسم بہرحال اُٹھا دی ہم نے

وہ عشق ہو کہ ہوس ہو مگر تعلق کا
کوئی بہانہ نکلتا رہے تو اچھا ہے
عرفان صدیقی

مگر اُجالا مرے سوز جاں سے آتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 306
مرا چراغ تو جانے کہاں سے آتا ہے
مگر اُجالا مرے سوز جاں سے آتا ہے
نشانہ باز کوئی اور ہے عدو کوئی اور
کسی کا تیر کسی کی کماں سے آتا ہے
مجھے کمی نہیں رہتی کبھی محبت کی
یہ میرا رزق ہے اور آسماں سے آتا ہے
وہ دشت شب کا مسافر ہے اس کو کیا معلوم
یہ نور خیمہ گہہ رہزناں سے آتا ہے
عرفان صدیقی

یہ نامراد تہِ آسماں کہاں جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 248
زمیں سے اُٹھ کے مری خاکِ جاں کہاں جائے
یہ نامراد تہِ آسماں کہاں جائے
ہوائے درد کا رخ ہے مرے ہی گھر کی طرف
صدائے گریۂ ہمسایگاں کہاں جائے
کوئی طلب نہیں کرتا محبتوں کا صلہ
مگر حسابِ دل دوستاں کہاں جائے
غبارِ تیرہ شبی بھر گیا ہے آنکھوں میں
یہیں چراغ جلے تھے دھواں کہاں جائے
اگر میں فرض نہ کر لوں کہ سن رہا ہے کوئی
تو پھر مرا سخنِ بے زباں کہاں جائے
عرفان صدیقی

یہ نامراد ہنوز آسماں کہاں جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 247
زمیں سے اُٹھ کے مری خاک جاں کہاں جائے
یہ نامراد ہنوز آسماں کہاں جائے
ہوائے درد کا رُخ ہے مرے ہی گھر کی طرف
صدائے گریۂ ہم سائیگاں کہاں جائے
غبار تیرہ شبی بھر گیا ہے آنکھوں میں
یہیں چراغ جلے تھے دھواں کہاں جائے
طلب کوئی نہیں کرتا محبتوں کا صلہ
مگر حساب دل دوستاں کہاں جائے
اگر میں فرض نہ کر لوں کہ سن رہا ہے کوئی
تو پھر مرا سخنِ رائیگاں کہاں جائے
عرفان صدیقی

کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 55
اے ہوا‘ کل تیری راہوں پر نشاں میرا بھی تھا
کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا
اب خیال آتا ہے سب کچھ راکھ ہوجانے کے بعد
کچھ نہ کچھ تو سائباں در سائباں میرا بھی تھا
اس کی آنکھوں میں نہ جانے عکس تھا کس کا مگر
انگلیوں پر ایک لمس رائیگاں میرا بھی تھا
کیوں تعاقب کر رہی ہے تشنگی‘ اے تشنگی
کیا کوئی خیمہ سرِ آب رواں میرا بھی تھا
جان پر کب کھیلتا ہے کوئی اوروں کے لیے
ایک بچہ دشمنوں کے درمیاں میرا بھی تھا
شہر کے ایوان اپنی مٹھیاں کھولیں ذرا
اس زمیں پر ایک ٹکڑا آسماں میرا بھی تھا
میں نے جس کو اگلی نسلوں کے حوالے کر دیا
یار سچ پوچھو تو وہ بارِ گراں میرا بھی تھا
عرفان صدیقی

پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 23
وہ ہلالِ ماہِ وصال ہے دلِ مہرباں اسے دیکھنا
پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا
مری عاشقی مری شاعری ہے سمندروں کی شناوری
وہی ہم کنار اسے چاہنا وہی بے کراں اسے دیکھنا
وہ ستارہ ہے سرِ آسماں ابھی میری شامِ زوال میں
کبھی میرے دستِ کمال میں تہہِ آسماں اسے دیکھنا
وہ ملا تھا نخلِ مراد سا ابھی مجھ کو نجدِ خیال میں
تو ذرا غبارِ شمال میں مرے سارباں اسے دیکھنا
نہ ملے خبر کبھی دوستو مرے حال میرے ملال کی
تو بچھڑ کے اپنے حبیب سے پسِ کارواں اسے دیکھنا
عرفان صدیقی

گویا ہمارے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 26
ملتے ہی ان کے بھول گئیں کلفتیں تمام
گویا ہمارے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا
رات ان کو بات بات پہ سو سو دئیے جواب
مجھ کو خود اپنی ذات سے ایسا گماں نہ تھا
رونا یہ ہے کہ آپ بھی ہنستے تھے ورنہ یاں
طعن رقیب دل پہ کچھ ایسا گراں نہ تھا
تھا کچھ نہ کچھ کہ پھانس ہی اک دل میں چبھ گئی
مانا کہ اس کے ہاتھ میں تیر و سناں نہ تھا
بزم سخن میں جی نہ لگا اپنا زینہار
شب انجمن میں حالیؔ جادو بیاں نہ تھا
الطاف حسین حالی

کس حال میں قافلہ رواں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 236
آواز جرس ہے یا فغان ہے
کس حال میں قافلہ رواں ہے
اٹھتے اٹھتے اٹھیں گے پردے
صدیوں کا غبار درمیاں ہے
کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے
ہر چند زمیں زمیں ہے لیکن
تم ساتھ چلو تو آسماں ہے
ضو صبح کی چھو رہی ہے دل کو
ہر چند کہ رات درمیاں ہے
ہم ہوں کہ ہو گرد راہ باقیؔ
منزل ہے اسی کی جو رواں ہے
باقی صدیقی

تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 234
دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے
تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے
اس کو کہتے ہیں تیرا لطف و کرم
خشک شاخوں پہ آشیاں دیکھے
جو جہاں کی نظر میں کانٹا تھے
ہم نے آباد وہ مکاں دیکھے
دوستوں میں ہے تیرے لطف کا رنگ
کوئی کیوں بغض دشمنان دیکھے
جو نہیں چاہتا اماں تیری
مانگ کر غیر سے اماں دیکھے
تیری قدرت سے ہے جسے انکار
اٹھکے وہ صبح کا سماں دیکھے
یہ حسیں سلسلہ ستاروں کا
کوئی تا حد آسماں دیکھے
ایک قطرہ جہاں نہ ملتا تھا
ہم نے چشمے وہاں رواں دیکھے
کس نے مٹی میں روح پھونکی ہے
کوئی یہ ربط جسم و جاں دیکھے
دیکھ کر بیچ و تاب دریا کا
یہ سفینے پہ بادباں دیکھے
جس کو تیری رضا سے مطلب ہے
سود دیکھے نہ وہ زیاں دیکھے
باقی صدیقی

کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 226
دل کا یا جی کا زیاں کرنا پڑے
کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے
دل کو ہے پھر چند کانٹوں کی تلاش
پھر نہ سیر گلستاں کرنا پڑے
حال دل ان کو بتانے کے لئے
ایک عالم سے بیاں کرنا پڑے
پاس دنیا میں ہے اپنی بھی شکست
اور تجھے بھی بدگماں کرنا پڑے
ہوشیار اے جذب دل اب کیا خبر
تذکرہ کس کا کہاں کرنا پڑے
اب تو ہر اک مہرباں کی بات پر
ذکر دور آسماں کرنا پڑے
زیست کی مجبوریاں باقیؔ نہ پوچھ
ہر نفس کو داستاں کرنا پڑے
باقی صدیقی

تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 198
بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے
تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے
مہر و مہ کو نہ یہ ضیا ملتی
آسماں بھی نہ آسماں ہوتے
تم نے تفسیر دو جہاں کی ہے
ورنہ یہ راز کب عیاں ہوتے
تم دکھاتے اگر نہ راہ حیات
جانے کس سمت ہم رواں ہوتے
ہمیں اپنی جبیں نہ مل سکتی
اتنے غیروں کے آستاں ہوتے
ایک انسان بھی نہ مل سکتا
گرچہ آباد سب مکاں ہوتے
کھل نہ سکتی کلی مسرت کی
غم ہی غم زیب داستاں ہوتے
مقصد زندگی نہ پا سکتے
اپنی ہستی سے بدگماں ہوتے
ہمیں کوئی نہ آسرا ملتا
بے اماں ہوتے ہم جہاں ہوتے
تو نے بخشی ہے روشنی ورنہ
دیدہ و دل دھواں دھواں ہوتے
باقی صدیقی