ٹیگ کے محفوظات: آسمانوں

خوف جاتا نہیں مچانوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
خوف جاتا نہیں مچانوں کا
ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم
فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا
رُت بدلنے کی کیا بشارت دے
ایک سا رنگ گلستانوں کا
کون اپنا ہے اِک خدا وہ بھی
رہنے والا ہے آسمانوں کا
بات ماجدؔ کی پُوچھتے کیا ہو
شخص ہے اِک گئے زمانوں کا
ماجد صدیقی

بدل رہا ہے جنوں زاویئے اڑانوں کے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 68
کہاں رکیں گے مسافر نئے زمانوں کے
بدل رہا ہے جنوں زاویئے اڑانوں کے
یہ دل کا زخم ہے اک روز بھر ہی جائے گا
شگاف پر نہیں ہوتے فقط چٹانوں کے
چھلک چھلک کے بڑھا میری سمت نیند کا جام
پگھل پگھل کے گرے قفل قید خانوں کے
ہوا کے دشت میں تنہائی کا گزر ہی نہیں
مرے رفیق ہیں مطرب گئے زمانوں کے
کبھی ہمارے نقوشِ قدم کو ترسیں گے
وہی جو آج ستارے ہیں آسمانوں کے
شکیب جلالی

لامسہ، شامہ، ذائقہ، سامعہ، باصرہ سب مرے راز دانوں میں ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 176
تیرے تن کے بہت رنگ ہیں جانِ من، اور نہاں دل کے نیرنگ خانوں میں ہیں
لامسہ، شامہ، ذائقہ، سامعہ، باصرہ سب مرے راز دانوں میں ہیں
اور کچھ دامنِ دل کشادہ کرو، دوستو، شکرِ نعمت زیادہ کرو
پیڑ، دریا، ہوا، روشنی، عورتیں، خوشبوئیں سب خدا کے خزانوں میں ہیں
ناقۂ حسن کی ہم رکابی کہاں، خیمۂ ناز میں باریابی کہاں
ہم تو اے بانوئے کشورِ دلبری، پاسداروں میں ہیں ساربانوں میں ہیں
میرے اندر بھی ہے ایک شہرِ دگر، میرے مہتاب اک رات ادھر سے گزر
کیسے کیسے چراغ ان دریچوں میں ہیں، کیسے کیسے قمر ان مکانوں میں ہیں
اک ستارہ ادا نے یہ کیا کردیا، میری مٹی سے مجھ کو جدا کر دیا
ان دنوں پاؤں میرے زمیں پر نہیں اب میری منزلیں آسمانوں میں ہیں
عرفان صدیقی

اک غزل دشت کے ساربانوں کے نام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 104
ایک خط آج اگلے زمانوں کے نام
اک غزل دشت کے ساربانوں کے نام
ایک خیمہ زمیں پر کھجوروں کے پاس
ایک نیزہ بلند آسمانوں کے نام
ایک حرفِ خبر‘ ساریہ کے لیے
چشمِ بیدار کالی چٹانوں کے نام
نہر کے نام جاگیرِ خوں، دوستو
دولتِ جاں کڑکتی کمانوں کے نام
تشنگی میرے سوکھے گلے کا نصیب
دودھ کی چھاگلیں میہمانوں کے نام
میری آنکھیں مرے آشیانوں کی سمت
میرے پر میری اونچی اڑانوں کے نام
کتنی موجوں پہ میرے سفینے رواں
کتنے ساحل مرے بادبانوں کے نام
ایک پودا مرے کوئے جاں کا نشاں
ایک محراب میرے مکانوں کے نام
سلطنت‘ کھلنے والی کمندوں کا اجر
اپنے بچوں کا سکھ بے زبانوں کے نام
آج جو آگ سے آزمائے گئے
کل کی ٹھنڈک ان آشفتہ جانوں کے نام
لکھ رہی ہیں سلگتی ہوئی اُنگلیاں
دھوپ کے شہر میں سائبانوں کے نام
عرفان صدیقی