ٹیگ کے محفوظات: آستین

مگر کمند ابھی دستِ سبکتگین میں ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 331
لہو رکاب پہ ہے اور شکار زمین میں ہے
مگر کمند ابھی دستِ سبکتگین میں ہے
اُسے بھی فکر ہے اسٹیج تک، پہنچنے کی
جو شخص اَبھی صفِ آخر کے حاضرین میں ہے
جو دیکھ لے وہ برہنہ دِکھائی دینے لگے
عجیب طرح کی تصویر میگزین میں ہے
فقط یہ بڑھتا ہوا دستِ دوستی ہی نہیں
ہمیں قبول ہے وہ بھی جو آستین میں ہے
مٹھائیوں میں ملی کرکراہٹیں جیسے
گماں کی طرح کوئی شے مرے یقین میں ہے
نمو پذیر ہوں میں اَپنی فکر کی مانند
مرا وجود مرے ذہن کی زمین میں ہے
عرفان صدیقی