ٹیگ کے محفوظات: آزما

ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
ہے اگر زندہ تو آ اور رقص کر
ہاں وجود اپنا جتا اور رقص کر
خود کو پودوں، اور گُلوں میں ڈھال لے
آنکھ میں رُت کی سما اور رقص کر
فرش سے تا عرش یُوں بھی لَو لگا
چاہتوں کے پر بنا اور رقص کر
مُحتسب کی آنکھ سے بچ کر کبھی
مان لے تن کا کہا اور رقص کر
ہے اگر اِک یہ بھی اندازِ حیات
ہاتھ میں ساغر اُٹھا اور رقص کر
دیکھ یُوں بھی اپنے ماجِد کو کبھی
ظرف اِس کا آزما اور رقص کر
ماجد صدیقی

ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
ہر آن بدن پہ بوجھ سا ہے
ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے
جس میں نیا رنج روز اُترے
دِل ایسا ہی فرد آئنہ ہے
ہر سمت شروع میں سفر کے
دیکھا ہے جِدھر بھنور نیا ہے
رفعت کا ہے جو بھی اگلا زینہ
لاریب وُہ قوّت آزما ہے
اعصاب پڑے ہیں ماند جب سے
ہر تازہ سفر کٹھن سَوا ہے
بارش کو ترستا مُرغِ گِریاں
ماجِد! ترا حرفِ مُدّعا ہے
ماجد صدیقی

یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
آنکھوں میں مری سما کے دیکھو
یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو
ہے جسم سے جسم کا سخن کیا
یہ بزم کبھی سجا کے دیکھو
پیراک ہوں بحرِ لطفِ جاں کا
ہاں ہاں مجھے آزما کے دیکھو
اُترو بھی لہُو کی دھڑکنوں میں
کیا رنگ ہیں اِس فضا کے دیکھو
مخفی ہے جو خوں کی حِدتّوں میں
وہ حشر کبھی اٹُھا کے دیکھو
بے رنگ ہیں فرطِ خواب سے جو
لمحے وہ کبھی جگا کے دیکھو
بہلاؤ نہ محض گفتگو سے
یہ ربط ذرا بڑھا کے دیکھو
ملہار کے سُر ہیں جس میں پنہاں
وُہ سازِ طرب بجا کے دیکھو
طُرفہ ہے بہت نگاہِ ماجدؔ
یہ شاخ کبھی ہلا کے دیکھو
ماجد صدیقی

پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
گئی جو چھوڑ کبھی شاخ پر سجا کے مجھے
پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے
ہُوا ہے جو بھی خلافِ گماں ہُوا اُن کے
بہت خفیف ہوئے ہیں وہ آزما کے مجھے
ہے میرے ظرف سے منصف مرا مگر خائف
مزاج پوچھ رہا ہے سزا سُنا کے مجھے
ابھی ہیں باعثِ ردِّ تپّش یہی بادل
بہم جو سائے بزرگوں کی ہیں دُعا کے مجھے
سُنا یہ ہے رہِ اظہارِ حق میں دار بھی ہے
چلے ہیں آپ یہ کس راہ پر لگا کے مجھے
زمیں کے وار تو اک ایک سہہ لئے میں نے
فلک سے ہی کہیں اب پھینکئے اُٹھا کے مجھے
سرِ جہاں ہوں وہ بیگانۂ سکوں ماجدؔ
پڑے ہیں جھانکنے گوشے سبھی خلا کے مجھے
ماجد صدیقی

جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 35
جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا
وہ بے پروا جوابِ نامہ لکھے
خدا جانے کہ دشمن نے لکھا کیا
دیا کیوں ہونے اس بد خو پہ عاشق
ہمارا دوست کوئی بھی نہ تھا کیا
شمیمِ گل میں بوئے پیرہن ہے
غلط ہے یہ کہ احسانِ صبا کیا
نہ لکھنا تھا غمِ ناکامیِ عشق
جوابِ نامۂ بے مدعا کیا
ہمیں تھا آپ قصدِ عرضِ احوال
جو وہ خود پوچھتے ہیں پوچھنا کیا
تماشا ہے جلے گر خانۂ غیر
وہ کہتے ہیں کہ آہِ شعلہ زا کیا
فنائے عاشقاں عینِ بقا ہے
دیت زندوں کی کیسی، خون بہا کیا
اگر ہے بوالہوس تو قتل کر چک
عدو سے وعدۂ شوق آزما کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

تلون سے ہے تم کو مدعا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 33
کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
تلون سے ہے تم کو مدعا کیا
کبھی مجھ پر عتابِ بے سبب کیوں
کبھی بے وجہ غیروں سے وفا کیا
کبھی محفل میں وہ بے باکیاں کیوں
کبھی خلوت میں یہ شرم و حیا کیا
کبھی تمکینِ صولت آفریں کیوں
کبھی الطافِ جرات آزما کیا
کبھی وہ طعنہ ہائے جاں گزا کیوں
کبھی یہ غمزہ ہائے جاں فزا کیا
کبھی شعروں سے میرے نغمہ سازی
کبھی کہنا کہ یہ تم نے کہا کیا
کبھی بے جرم یہ آزردہ ہونا
کہ کیا طاقت جو پوچھوں میں "خطا کیا”
کبھی اس دشمنی پر بہرِ تسکیں
پئے ہم جلوہ ہائے دلربا کیا
یہ سب طول اس نے سن کر بے تکلف
جواب اک مختصر مجھ کو دیا کیا
ابھی اے شیفتہ واقف نہیں تم
کہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 109
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ ’انا البحر‘
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگرداری کا دعویٰ؟
شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 107
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا
دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بار ہا ڈھونڈھا، تم نے بارہا پایا
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 75
درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب ،”کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا”
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں@ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا، لہو نہ تھما
کام گر رک گیا، روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟
لے کے دل، "دلستاں” روانہ ہوا
کچھ تو پڑھئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا!
@ نسخۂ مہر، نسخۂ علامہ آسی میں ‘یوں’ کے بجا ئے "یہ” آیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 29
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہوکے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیض تکمیل غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا
فیض احمد فیض