ٹیگ کے محفوظات: آزماؤں

ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 60
تتلیوں کی بے چینی آبسی ہے پاؤں میں
ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں
جن کے کھیت اور آنگن ایک ساتھ اُجڑتے ہیں
کیسے حوصلے ہوں گے اُن غریب ماؤں میں
صورتِ رفو کرتے ، سر نہ یوں کُھلا رکھتے
جوڑ کب نہیں ہوتے ماؤں کی رداؤں میں
آنسوؤں میں کٹ کٹ کر کتنے خواب گرتے ہیں
اِک جو ان کی میّت ا رہی ہے گاؤں میں
اب تو ٹوٹی کشتی بھی آگ سے بچاتے ہیں
ہاں کبھی تھا نام اپنا بخت آزماؤں میں
ابر کی طرح ہے وہ یوں نہ چُھوسکوں لیکن
ہاتھ جب بھی پھیلائے ا گیا دعاؤں میں
جگنوؤں کی شمعیں بھی راستے میں روشن ہیں
سانپ ہی نہیں ہوتے ذات کی گپھاؤں میں
صرف اِس تکبُّر میں اُس نے مجھ کو جیتا تھا
ذکر ہو نہ اس کا بھی کل کو نارساؤں میں
کوچ کی تمنّا میں پاؤں تھک گئے لیکن
سمت طے نہیں ہوتی پیارے رہنماؤں میں
اپنی غم گُساری کو مشتہر نہیں کرتے
اِتنا ظرف ہوتا ہے درد آشناؤں میں
اب تو ہجر کے دُکھ میں ساری عُمر جلنا ہے
پہلے کیا پناہیں تھیں مہرباں چتاؤں میں
ساز و رخت بھجوا دیں حدِّ شہر سے باہر
پھر سُرنگ ڈالیں گے ہم محل سراؤں میں
پروین شاکر

کس مان پہ تجھ کو آزماؤں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 6
اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
کس مان پہ تجھ کو آزماؤں
زخم اب کے تو سامنے سے کھاؤں
دشمن سے نہ دوستی بڑھاؤں
تتلی کی طرح جو اُڑ چکا ہے
وہ لمحہ کہاں سے کھوج لاؤں
گروی ہیں سماعتیں بھی اب تو
کیا تیری صدا کو منہ دکھاؤں
اے میرے لیے نہ دُکھنے والے!
کیسے ترے دُکھ سمیٹ لاؤں
یوں تیری شناخت مجھ میں اُترے
پہچان تک اپنی بُھول جاؤں
تیرے ہی بھلے کو چاہتی ہوں
میں تجھ کو کبھی نہ یاد آؤں
قامت سے بڑی صلیب پاکر
دُکھ کو کیوں کر گلے لگاؤں
دیوار سے بیل بڑھ گئی ہے
پھر کیوں نہ ہَوا میں پھیل جاؤں
پروین شاکر