ٹیگ کے محفوظات: آرام

ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
کھینچتے ہر صبح کی مت شام کر
ہے اگر مہلت تو کُچھ آرام کر
اے کہ تُو چاہے کرے شیروں کو زیر
اولاً چڑیاں چمن کی رام کر
جس طرف تیرا گزر ہو اے کلرک!
اُس سڑک کی کُل ٹریفک جام کر
اے دلِ نادان!سب کچھ جاں پہ سہہ
مت مچا تُو شور،مت کُہرام کر
جو بھی دے ماجِد جنم وُہ ہے عظیم
ہو سکے تو دیس کو خوش نام کر
ماجد صدیقی

وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
ڈرتا ہے کہ اُس پر کوئی الزام نہ آئے
وہ شخص جِسے اب بھی مرا نام نہ آئے
آنگن میں شبِ تار کی چیخیں ہیں یہ کیسی
ہے کون پرندہ جسے آرام نہ آئے
ہم خود ہی سمجھتے ہیں تصوّر میں کچھ ایسا
چندا تو کبھی چل کے سرِبام نہ آئے
اٹھا تھا جو ناؤکے الٹتے سرِ دریا
کانوں میں کہیں پھر وہی کہرام نہ آئے
فیضان بھی ایسا ہی عطا ہونا تھا ان سے
جو لوگ کہ لینے ہمیں دو گام نہ آئے
دیکھی تھی جو اس دل نے کسی موڑ پہ ماجدؔ
ایسی بھی کسی گھر میں کوئی شام نہ آئے
ماجد صدیقی

مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 142
بظاہر تو وہ ہم سے رام سا ہے
مگر ماجدؔ یہ سکّہ چام سا ہے
چمن پر کس نے پھر شب خون مارا
بپا شاخوں میں پھر کہرام سا ہے
بچیں کیوں کر نہ اُس عیّار سے ہم
کہ جس کا دیکھنا بھی دام سا ہے
ہماری برتری یہ ہے کہ ہم پر
کسی کی چاہ کا الزام سا ہے
ہمیں کیا یاد رکھیں گے وہ جن کو
ہمارا نام بھی دشنام سا ہے
نکل کر حلقۂ دامِ ہوس سے
زیاں ہے گو مگر آرام سا ہے
ماجد صدیقی

حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
تو میسّر ہو کسی شب تو یہ اقدام کروں
حصّۂ جان بھی اپنا میں ترے نام کروں
حرفِ روشن، تری اُمیدِ ملاقات ایسا
میں حمائل بہ گلُو کیوں نہ سرِ شام کروں
پر سلامت ہیں تو زخموں کو لئے ہر جانب
قصّۂ ضربتِ صیّاد بھی اب عام کروں
ساعتِ نحس جو غالب مرے حالات پہ ہے
ایسی آفت کو اکیلے میں کہاں رام کروں
قائلِ صنعتِ آذر ہوں ہنرمند ہوں میں
میں جو کرتا ہوں تو یوں مدحتِ اصنام کروں
مجھ کو درپیش مسافت ہے رُتوں کی ماجدؔ
سایۂ گل میں جو پہنچوں تو اب آرام کروں
ماجد صدیقی

پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اترے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 115
آنکھوں میں ستارے تو کئی شام سے اترے
پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اترے
کچھ رنگ تو ابھرے تری گل پیرہنی کا
کچھ زنگ تو آئینۂ ایام سے اترے
ہوتے رہے دل لمحہ بہ لمحہ تہہ و بالا
وہ زینہ بہ زینہ بڑے آرام سے اترے
جب تک ترے قدموں میں فروکش ہیں سبو کش
ساقی خط بادہ نہ لب جام سے اترے
احمد فراز

بارے مرنا تو مرے کام آیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 28
قبر پر وہ بتِ گل فام آیا
بارے مرنا تو مرے کام آیا
دو قدم یاں سے وہ کوچہ ہے مگر
نامہ بر صبح گیا، شام آیا
مر گئے پر نہ گیا رنج کہ وہ
گور پر آئے تو آرام آیا
خیر باد اے ہوسِ کام کہ اب
دل میں شوقِ بتِ خود کام آیا
شمع کی طرح اٹھے ہم بھی جب
دشمنِ تیرہ سر انجام آیا
جب مری آہ فلک پر پہنچی
تب وہ مغرور سرِ بام آیا
جلد منگواؤ شرابِ گل رنگ
شیفتہ ساقیِ گل فام آیا
س سے میں شکوے کی جا شکرِ ستم کر آیا
کیا کروں تھا مرے دل میں سو زباں پر آیا
مصطفٰی خان شیفتہ

ہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہو گا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 19
تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا
ہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہو گا
صیاد کا دل اس سے پگھلنا متعذر
جو نالہ کہ آتش فگنِ دام نہ ہو گا
جس سے ہے مجھے ربط وہ ہے کون، کہاں ہے
الزام کے دینے سے تو الزام نہ ہو گا
بے داد وہ اور اس پہ وفا یہ کوئی مجھ سا
مجبور ہوا ہے، دلِ خود کام نہ ہو گا
وہ غیر کے گھر نغمہ سرا ہوں گے مگر کب
جب ہم سے کوئی نالہ سرانجام نہ ہو گا
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
قاصد کو کیا قتل، کبوتر کو کیا ذبح
لے جائے مرا اب کوئی پیغام، نہ ہو گا
جب پردہ اٹھا تب ہے عدو دوست کہاں تک
آزارِ عدو سے مجھے آرام نہ ہو گا
یاں جیتے ہیں امیدِ شبِ وصل پر اور واں
ہر صبح توقع ہے کہ تا شام نہ ہو گا
قاصد ہے عبث منتظرِ وقت، کہاں وقت
کس وقت انہیں شغلِ مے و جام نہ ہو گا
دشمن پسِ دشنام بھی ہے طالبِ بوسہ
محوِ اثرِ لذتِ دشنام نہ ہو گا
رخصت اے نالہ کہ یاں ٹھہر چکی ہے
نالہ نہیں جو آفتِ اجرام، نہ ہو گا
برق آئینۂ فرصتِ گلزار ہے اس پر
آئینہ نہ دیکھے کوئی گل فام، نہ ہو گا
اے اہلِ نظر ذرے میں پوشیدہ ہے خورشید
ایضاح سے حاصل بجز ابہام نہ ہو گا
اس ناز و تغافل میں ہے قاصد کی خرابی
بے چارہ کبھی لائقِ انعام نہ ہو گا
اس بزم کے چلنے میں ہو تم کیوں متردد
کیا شیفتہ کچھ آپ کا اکرام نہ ہو گا
مصطفٰی خان شیفتہ

پوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپنا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 7
بس کہ آغازِ محبت میں ہوا کام اپنا
پوچھتے ہیں ملک الموت سے انجام اپنا
عمر کٹتی ہے تصور میں رخ و کاکل کے
رات دن اور ہے، اے گردشِ ایام اپنا
واں یہ قدغن کہ نہ آوازِ فغاں بھی پہنچے
یاں یہ شورش کہ گزارا ہو لبِ بام اپنا
ان سے نازک کو کہاں گرمیِ صحبت کی تاب
بس کلیجا نہ پکا اے طمعِ خام اپنا
تپشِ دل کے سبب سے ہے مجھے خواہشِ مرگ
کون ہے جس کو نہ منظور ہو آرام اپنا
بادہ نوشی سے ہماری، جو لہو خشک ہوا
خونِ اغیار سے لبریز ہے کیا جام اپنا
لطف سمجھوں تو بجا، جور بھی سمجھوں تو درست
تم نے بھیجا ہے مرے پاس جو ہم نام اپنا
ذکرِ عشاق سے آتی ہے جو غیرت اس کو
آپ عاشق ہے مگر وہ بتِ خود کام اپنا
تاب بوسے کی کسے شیفتہ وہ دیں بھی اگر
کر چکی کام یہاں لذتِ دشنام اپنا
مصطفٰی خان شیفتہ

یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 274
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھےُدردِ تہِ جام بہت ہے
نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے
ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟
پابستگئِ رسم و رہِ عام بہت ہے
زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حر م سے؟
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
انکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے
ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 249
علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے
فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے
مری حیات بھی صدمے اٹھا نہیں سکتی
تری نظر کو بھی آرام کی ضرورت ہے
غم جہاں کا تصور بھی جرم ہے اب تو
غم جہاں کو نئے نام کی ضرورت ہے
نظام کہنہ کی باتیں نہ کر کہ اب ساقی
نئی شراب، نئے جام کی ضرورت ہے
ترے لبوں پہ زمانے کی بات ہے باقیؔ
تجھے بھی کیا کسی الزام کی ضرورت ہے
باقی صدیقی

تم بھی ذرا زلفوں کو سنوارو ہم بھی ذرا آرام کریں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 110
سورج ڈوب رہا ہے آؤ طوف بادہ و جام کریں
تم بھی ذرا زلفوں کو سنوارو ہم بھی ذرا آرام کریں
کس کا وعدہ کیسی تمنا، اٹھ اے دل آرام کریں
ان کو بات کا پاس نہیں تو ہم کیوں نیند حرام کریں
محفل ہستی کے سازوں پر کیوں خاموشی طاری ہے
آؤ کوئی نغمہ چھیڑیں، لاؤ کوئی کام کریں
ایک سے ایک ملا ہے بڑھ کر جس کے بھی نزدیک گئے
کس کس سے ہم الجھیں باقیؔ کس کس کو بدنام کریں
باقی صدیقی

بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 108
دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں
بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے
کچھ جراتیں حیات پر الزام بن گئیں
ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لئے نہ تھیں
پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں
آنے لگا حیات کو انجام کا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں
جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں
باقیؔ جہاں کرے گا مری میکشی پہ رشک
ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں
باقیؔ مال شوق کا آنے لگا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
باقی صدیقی