ٹیگ کے محفوظات: آرائیاں

جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا
کچھ قطعِ رگِ جان سے، کچھ قُلقُلِ خوں سے
بجتی ہیں محلّات میں شہنائیاں کیا کیا
خود نام پہ دھبے ہیں جو، ہاں نام پہ اُن کے
ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا
قوسوں میں فلک کی، خمِ ابرو میں ہَوا کے
دیکھی ہیں یہاں خلق نے دارائیاں کیا کیا
جو چھید ہوئے تھے کبھی دامانِ طلب میں
دیں دستِ غضب نے اُنہیں، پہنائیاں کیا کیا
ہٹ کر بھی ہمیں پرورشِ جان سے ماجد
کرنی ہیں بہم اور توانائیاں کیا کیا
ماجد صدیقی

تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں
آئنے چہروں کے گرد آلود ہیں
پانیوں پر جم چلی ہیں کائیاں
مفلسی ٹھہرے جہاں پا زیبِ پا
ان گھروں میں کیا بجیں شہنائیاں
مکر سے عاری ہیں جو اپنے یہاں
عیب بن جاتی ہیں وہ دانائیاں
جو نہ جانیں بے دھڑک منہ کھولنا
ہیں اُنہی کے نام سب رسوائیاں
خلق میں ماجدؔ ہو نا مقبول اور
اور لا شعروں میں تُو پہنائیاں
ماجد صدیقی

مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 59
دل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں
آنکھوں کی سرخ لہر ہے موجِ سپردگی
یہ کیا ضرور ہے کہ اب انگڑائیاں بھی ہوں
ہر حسن سادہ لوح نہ دل میں اُتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں
دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سخن آرائیاں بھی ہوں
پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں
احمد فراز

اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 47
ان رونقوں کے وسط میں تنہائیاں بھی دیکھ
اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ
انکار ناتمام ہے اقرار کے بغیر
وہ جو برا ہے اُس کی تو اچھائیاں بھی دیکھ
تحریرِ دستِ گُل ہے بہت خوشنما مگر
اس میں نظر کی حاشیہ آرائیاں بھی دیکھ
انبوہ میں بھی ہے مگر انبوہ میں نہیں
ان جلوتوں میں فرد کی تنہائیاں بھی دیکھ
تکرارِ جاں سپردگی بے وجہ تو نہیں
اپنی نظر میں شوق کی رسوائیاں بھی دیکھ
ہرچند چشم شور ہے منظر غروب کا
اس میں طلوع دور کی رعنائیاں بھی دیکھ
آفتاب اقبال شمیم