ٹیگ کے محفوظات: آدم

اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
مُڑنے والی تھی وُہ ساحل کی طرف یم کی طرح
اُس کی نیّت ہو چلی تھی بھیگے موسم کی طرح
اُس کی انگڑائی میں دعوت تھی بہ اندازِ دگر
ابروؤں میں آنے والے دلنشیں خم کی طرح
پیش قدمی میں عجب امرت تھا پھیلا چار سُو
اُس کا ہر ہٹتا قدم لگنے لگا سم کی طرح
کہہ رہا تھا مجھ سے جیسے اُس کا فردوسِ بدن
دیکھنا رہ سے بھٹک جانا نہ آدم کی طرح
نشّۂ دیدار اُس کا اب کے تھا کُچھ اور ہی
آنکھ میں اُتری لگی وُہ کیفِ پیہم کی طرح
یہ بدن ماجِد سحرآثار ہو جانے لگا
اس سے ملنے کا اثر تھا گل پہ شبنم کی طرح
ماجد صدیقی

رہا ہی ایک سا کب ہے مزاج موسم کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
جلال کیوں نہ دکھائے یہ چشمِ برہم کا
رہا ہی ایک سا کب ہے مزاج موسم کا
فرازِ عرش پہ ترجیح فرش کو دینا
یہی تو ہے کہ عجوبہ ہے ابنِ آدم کا
رُتوں نے خاک اڑا کر ہے اب کے لوٹایا
ہوا پہ قرض تھا جتنا بھی چشمِ پر نم کا
خموشیاں ہیں سیہ پوشیاں ہیں ہر جانب
بہار ہے کہ یہ عشرہ ہے کوئی ماتم کا
سرور چال میں کِھلتی ہوئی رُتوں جیسا
نشہ نگاہ میں آہو کے ایک اک رم کا
نکالتا نہ ہمیں ذہن سے تو کیا کرتا
سخن میں یار کے پہلو تھے اک ہمیں ذم کا
ہزار پیاس سے تو ایڑیاں رگڑ ماجدؔ
ترے لیے کوئی چشمہ نہیں ہے زمزم کا
ماجد صدیقی

ہائے انسان کی انگڑائی کا خم

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 3
دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
ہائے انسان کی انگڑائی کا خم
جب بھی اوہام مقابل آئے
مثلِ شمشیر چلی نوکِ قلم
پرِ پرواز پہ یہ راز کھلا
پستیوں سے تھا بلندی کا بھرم
غم کی دیوار گری تھی جن پر
ہم وہ لوگ ہیں اے قصرِ اِرم
چاندنی غارۂِ پائے جولاں
کہکشاں جادۂِ ابنِ آدم
ایک تارہ بھی نہ پامال ہوا
ایسے گزرے رہِ افلاک سے ہم
شکیب جلالی

تم سر بسر خوشی تھے مگر غم ملے تمہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 128
شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں
تم سر بسر خوشی تھے مگر غم ملے تمہیں
میں اپنے آپ میں نہ ملا اس کا غم نہیں
غم تو یہ ہے کہ تم بھی بہت کم ملے تمہیں
ہے جو ہمارا ایک حساب اُس حساب سے
آتی ہے ہم کو شرم کہ پیہم ملے تمہیں
تم کو جہانِ شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں
اب اپنے طور ہی میں نہیں سو کاش کہ
خود میں خود اپنا طور کوئی دم ملے تمہیں
اس شہرِ حیلہ جُو میں جو محرم ملے مجھے
فریادِ جانِ جاں وہی محرم ملے تمہیں
دیتا ہوں تم کو خشکیِ مژ گاں کی میں دعا
مطلب یہ ہے کہ دامنِ پرنم ملے تمہیں
میں اُن میں آج تک کبھی پایا نہیں گیا
جاناں ! جو میرے شوق کے عالم ملے تمہیں
تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا
شرمندہ ہیں کہ اُس میں بہت خم ملے تمہیں
یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوا ملے مجھے
ہو یوں کہ اور ہی کوئی آدم ملے تمہیں
جون ایلیا