ٹیگ کے محفوظات: آخر

سب کی دنیا سے ماورا، تنہا

۳ جنوری ۱۹۹۱
سب کی دنیا سے ماورا، تنہا
میَں ہوں تنہا، مرا خدا، تنہا
ساتھ اس کے ہجوم چل نکلے
جو بھی رستوں پہ چل پڑا تنہا
نوعِ ہر نسل مر گئی آخر
وقت رستوں پہ رہ گیا تنہا
اپنی تنہائیوں کی محفل میں
مجھ کو جو بھی ملا، ملا تنہا
گرد اِس کو نہ ڈھانپ دے یاؔور
یاور ماجد

کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 44
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو
مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو
میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو
ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو
فضا اداس ہے، رت مضمحل ہے، میں چپ ہوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو
فراز تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو
احمد فراز

تکلف بر طرف! مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 15
ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
تکلف بر طرف! مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
مرزا اسد اللہ خان غالب

پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 148
دل پہ یہ مشقِ ستارہ نظری آخر کیوں
پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں
میں ہی کیوں حلقۂ زنجیرِ تعلق میں اسیر
تو ہر الزامِ تعارف سے بری آخر کیوں
شاعری میں تو بہت دشت و بیابان کا ذکر
زندگی میں گلۂ دربدری آخر کیوں
اب کہیں کوئی تقاضا نہ کوئی شرطِ وصال
مجھ سے آگے مری شوریدہ سری آخر کیوں
دشتِ ہجراں کے کڑے کوس تو سب کے لیے ہیں
میں ہی ارمان کروں ہم سفری آخر کیوں
دل اگر لہر میں آئے تو اڑا کر لے جائے
عشق میں شکوۂ بے بال و پری آخر کیوں
عرفان صدیقی