ٹیگ کے محفوظات: آثار

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
مُبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے
دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے
ابر تا دیر نہ اَب بانجھ رہے گا شاید
حبس کا رنگ یہی موسمی آثار میں ہے
اَب کے اِس جال سے مشکل ہی سے نکلے شاید
صُبحِ اُمید کہ دامانِ شب تار میں ہے
ہر کہیں شور بھی، چیخیں بھی اُٹھیں گی لیکن
کُونج وُہ جس کو بچھڑنا ہے ابھی ڈار میں ہے
آگہی کرب ہے اور اِس کا مداوا مشکل
خار پیوست عجب دیدۂ بیدار میں ہے
کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجدؔ!
یہ جو موہوم سی اُمید دلِ زار میں ہے
ماجد صدیقی

جینے کا ہر لمحہ شب آثار لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
قلب و نظر کو جانے کیا آزار لگا ہے
جینے کا ہر لمحہ شب آثار لگا ہے
انساں بھی آواز نہ یُوں لوٹائے، جیسے
پتّھر پتّھر جنگل کا غم خوار لگا ہے
اُس کو جانے رات گئے کیا فکر لگی تھی
بستی بھر میں چور ہی اِک بیدار لگا ہے
صَرف ہوا ہے جو بھی بحقِ پست مقاماں
حرف وُہی اپنا دُرِّ شہوار لگا ہے
اِک اِک ذہن تھا ایک ہی روگ کی زد میں جیسے
شہر کا شہر ہی اِک جیسا بیمار لگا ہے
ماجدؔ شہر میں ہر سُو جیسے سب اچّھا تھا
جس کو دیکھا سرکاری اخبار لگا ہے
ماجد صدیقی

دل میں تھے جذبوں کے جو انبار جلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
شہر جلے چاہت کے سب بازار جلے
دل میں تھے جذبوں کے جو انبار جلے
لُو جس جانب سے آئی ہے پرافشاں
کون کہے یہ، کتنے نگر اُس پار جلے
رُت بدلی تو آگ میں سُرخ گلابوں کی
کیا کیا بھنورے ہیں پروانہ وار جلے
کوئی ستارہ، کوئی شرر کہتا ہے جنہیں
آنکھوں میں لَو دیتے وُہ آزار جلے
بعدِ فنا بھی وُہ جو کسی کی زیر ہوئیں
صدیوں تک اُن نسلوں کے آثار جلے
ماجدؔ جی جب آنچ بھنور کی پہنچی تو
پانی میں بھی کشتی کے پتوار جلے
ماجد صدیقی

کس نے اتنی رات گئے بیدار کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
خدشوں نے پھر ذہن پہ جیسے وار کیا
کس نے اتنی رات گئے بیدار کیا
وسعتِ شب کو بڑھتا دیکھ کے ہم نے بھی
اپنا اک اک حرف سحر آثار کیا
موسم گل میں گلشن سے جو آئے تھے
اُن جھونکوں نے اور بھی کچھ بے زار کیا
آخر اک دن ناز عجائب گھر کا بنے
ہم نے جن تختوں پر دریا پار کیا
کچھ بھی نہیں جس گھر میں اُس کے تحفّظ نے
گھر والوں کو اور بھی ہے نادار کیا
ماتھے پر مزدور کے دیکھ، مشقّت نے
کن شفاف نگینوں سے سنگھار کیا
ماجدؔ سمت سفر کی ٹیڑھی تھی ورنہ
چلنے سے کب ہم نے تھا انکار کیا
ماجد صدیقی

پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
جو شخص بھی ہم سے کوئی اقرار کرے ہے
پہلے سے بھی بڑھ کر کہیں بیزار کرے ہے
وُہ سُود بھی ذمّے ہے ہمارے کہ طلب جو
درباں تری دہلیز کا ہر بار کرے ہے
ممکن ہی کہاں بطن سے وُہ رات کے پھُوٹے
چہروں کو خبر جو سحر آثار کرے ہے
دیتے ہیں جِسے آپ فقط نام سخن کا
گولہ یہ بڑی دُور تلک مار کرے ہے
ہر چاپ پہ اٹُھ کر وُہ بدن اپنا سنبھالے
کیا خوف نہ جانے اُسے بیدار کرے ہے
پہنچائے نہ زک اور تو کوئی بھی کسی کو
رُسوا وُہ ذرا سا سرِ بازار کرے ہے
کس زعم میں ماجدؔ سرِ دربار ہمیں تُو
حق بات اگلوا کے گنہگار کرے ہے
ماجد صدیقی

دل اٹھا لائے سرِ بازار ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
کیا دکھاتے اور حالِ زار ہم
دل اٹھا لائے سرِ بازار ہم
ہر سفر ہے اب تو ہجرت کا سفر
تھے کبھی اِس شہر میں انصار ہم
دل سے دل کو راہ اب ہوتی نہیں
بھولتے جاتے ہیں سب اقدار ہم
حرف و معنی بیچنے پر آ گئے
یوں بھی اب ہونے لگے زردار ہم
منتقل کر لائے اک اک سانس میں
جس میں الجھے تھے وہی منجدھار ہم
ڈھل چکی جب چودھویں کی رات بھی
کیوں نہ ہوں ماجدؔ، زوال آثار ہم
ماجد صدیقی

نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
سلگنا جان میں آزار رکھنا
نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا
عقیدت کے چڑھاوے چاہئیں تو
بڑے مخصوص سے اطوار رکھنا
کرم بھی ہو جو محتاجوں پہ کرنا
اُنہیں پہلے ذرا بے زار رکھنا
تأثر مہربانی کا نظر میں
خشونت کے بھی ساتھ آثار رکھنا
ہر اِک منظر نیا دوزخ بنے گا
یہاں مت دیدۂ بیدار رکھنا
اماں کو، پنجۂ انسان سے بھی
پڑے ہیں آہنی اوزار رکھنا
بڑا مشکل ہے اَب ماجدؔ چمن میں
سلامت اپنے برگ و بار رکھنا
ماجد صدیقی

صورتِ اشجار ہیں زردار ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 103
جان پر سہہ کر خزاں کے وار ہم
صورتِ اشجار ہیں زردار ہم
وُہ بھی دِن تھے جب کسی کی دید سے
دمبدم تھے مطلعٔ انوار ہم
سامنے اُس کے سبک سر کیا ہوئے
لے کے پلٹے اور اک آزار ہم
ہر سفر ہے اَب تو ہجرت کا سفر
تھے کبھی اِس شہر میں انصار ہم
دل سے دل کو راہ اَب ہوتی نہیں
بھُولتے جاتے ہیں سب اقدار ہم
حال کیا جانے ہو ماجدؔ! باغ کا
دیکھتے ہیں اور ہی آثار ہم
ماجد صدیقی

خلق سے وہ بے زار ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 107
جتنے بھی اوتار ملے
خلق سے وہ بے زار ملے
جن سے ملنا روگ ہُوا
اُن سے بھی ناچار ملے
سُکھ کے سپنے دیکھے تھے
پر کیا کیا آزار ملے
ناٹک میں چاہت کے بھی
نفرت کے آثار ملے
جھُوٹ بٹھائے مسند پر
سچ کہنے پر دار ملے
سوچیں ٹی وی سیٹ والے
کیونکر وی سی آر ملے
اچّھے ہیں وہ لوگ جنہیں
ماجدؔ جیسے یار ملے
ماجد صدیقی

پر نمایاں تری آمد کے نہ آثار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
پھُول انوار بہ لب، ابر گہر بار ہوئے
پر نمایاں تری آمد کے نہ آثار ہوئے
کچھ سزا اِس کی بھی گرہے تو بچیں گے کیسے
ہم کہ جو تُجھ سے تغافل کے گنہگار ہوئے
ہونٹ بے رنگ ہیں، آنکھیں ہیں کھنڈر ہوں جیسے
مُدّتیں بِیت گئیں جسم کو بیدار ہوئے
وُہ جنہیں قرب سے تیرے بھی نہ کچھ ہاتھ لگا
وُہی جذبات ہیں پھر درپئے آزار ہوئے
جب بھی لب پر کسی خواہش کا ستارا اُبھرا
جانے کیا کیا ہیں اُفق مطلعٔ انوار ہوئے
اب تو وا ہو کسی پہلو ترے دیدار کا در
یہ حجابات تو اب سخت گراں بار ہوئے
چھیڑ کر بیٹھ رہے قصّۂ جاناں ماجدؔ
جب بھی ہم زیست کے ہاتھوں کبھی بیزار ہوئے
ماجد صدیقی

دے گیا کتنے زمانوں کے وہ آزار مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
جس کسی نے بھی دیا دیدۂ بیدار مجھے
دے گیا کتنے زمانوں کے وہ آزار مجھے
ہاں یہی حکم عدالت سے مجھے ملنا تھا
ابتدا ہی سے رہا جرم کا اقرار مجھے
رُت بدلتی تو مرا دل بھی گواہی دیتا
کچھ قرائن سے بھی آتے نظر آثار مجھے
اپنی آہٹ کے سوا کوئی پس و پیش نہیں
کھینچ لایا ہے یہ کس اَوج پہ پندار مجھے
سجدہ ریزی بھی کروں، سربفلک بھی ٹھہروں
ایک دم کیسے سکھاؤگے یہ اطوار مجھے
ہائے وہ لوگ کہ صدیوں کے جو پیراک ہوئے
ایک لمحے سے گزرنا ہوا دُشوار مجھے
آنکھ نمناک ہے پر لب ہیں شگفتہ ماجدؔ
اور کیا چاہئے پیرایۂ اظہار مجھے
ماجد صدیقی

موسمِ گل میں بھی پت جھڑ کے ہیں آثار وہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
تندئ باد وہی، گرد کی یلغار وہی
موسمِ گل میں بھی پت جھڑ کے ہیں آثار وہی
عدل کے نام پہ ہم سے تھی جو نُچوائی گئی
فرقِ نا اہل پہ اب کے بھی ہے دستار وہی
حلقۂ رقصِ صبا میں تو ہے شامل لیکن
پہلوئے گل میں ہیں پیوست ابھی خار وہی
مطمئن کیا ہو کوئی غسلِ مناظر سے کہ ہے
کربِ آشوب وہی دیدۂ بیدار وہی
ہے لپک اب بھی وہی دستِ طلب میں کہ جو تھی
با ثمر شاخ کے ہونٹوں پہ ہے انکار وہی
اب بھی اِک حد سے پرے شوق کے پر جلتے ہیں
عجزِ سائل ہے وہی شوکتِ دربار وہی
رُت کُھلی پر نہ معافی کو ملا اذنِ کشود
پیرہن ہے تنِ ہر حرف پہ ناچار وہی
کلبلائے تو اسے اتنا تو کرنے دیجے
دل جسے بعدِ جراحت بھی ہے آزار وہی
اب بھی چہروں سے غمِ دل نہیں کُھلتا ماجدؔ
اب بھی پندار کو ہے کلفتِ اظہار وہی
ماجد صدیقی

چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم

احمد فراز ۔ غزل نمبر 42
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم
ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور ترا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اے نگارِ شہر تیرے عشق میں
دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائیں گے ہم
اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قدر آساں نہ ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم
میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق
زعم یہ تھا رومی و عطار بن جائیں گے ہم
دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا
دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم
احمد فراز

آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 17
آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا
آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا
رخ پہ گیسو ڈال کر کہنا بتِ عیار کا
وقت دونوں مل گئے منہ کھول دو بیمار کا
جاں کنی کا وقت ہے پھِرتی نہ دیکھو پتلیاں
تم ذرا ہٹ جاؤ دم نکلے گا اب بیمار کا
حرج ہی کیا ہے الگ بیٹھا ہوں محفل میں خموش
تم سمجھ لینا کہ یہ بھی نقش ہے دیوار کا
اس قفس والے کی قسمت قابل اِفسوس ہے
چھوٹ کر جو بھول جائے راستہ گلزار کا
بات رہ جائے گی دیکھ آؤ گھڑی بھر کے لیئے
لوگ کہتے ہی کے حال اچھا نہیں بیمار کا
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
رات بھر ڈھونڈا ہے تارہ صبح کے آثار کا
قمر جلالوی

میری منزل میں نہیں رات کے آثار اب تک

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 36
دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂِ رخسار اب تک
میری منزل میں نہیں رات کے آثار اب تک
پھول مرجھا گئے ، گلدان بھی گِر کر ٹوٹا
کیسی خوشبو میں بسے ہیں در و دیوار اب تک
حسرتِ دادِ نہاں ہے مرے دل میں شاید
یاد آتی ہے مجھے قامتِ دلدار اب تک
وہ اجالے کا کوئی سیلِ رواں تھا، کیا تھا؟
میری آنکھوں میں ہے اک ساعتِ دیدار اب تک
تیشۂِ غم سے ہوئی روح تو ٹکڑے ٹکڑے
کیوں سلامت ہے مرے جسم کی دیوار اب تک
شکیب جلالی

میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اس نے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 279
تشنہ رکھا ہے نہ سرشار کیا ہے اس نے
میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اس نے
گر گئی قیمتِ شمشاد قداں آنکھوں میں
شہر کو مصر کا بازار کیا ہے اس نے
وہ یہاں ایک نئے گھر کی بنا ڈالے گا
خانۂ درد کو مسمار کیا ہے اس نے
دیکھ لیتا ہے تو کھلتے چلے جاتے ہیں گلاب
میری مٹی کو خوش آثار کیا ہے اس نے
دوسرا چہرہ اس آئینے میں دکھلائی نہ دے
دل کو اپنے لیے تیار کیا ہے اس نے
حرف میں جاگتی جاتی ہے مرے دل کی مراد
دھیرے دھیرے مجھے بیدار کیا ہے اس نے
میرے اندر کا ہرن شیوۂ رم بھول گیا
کیسے وحشی کو گرفتار کیا ہے اس نے
میں بہر حال اسی حلقۂ زنجیر میں ہوں
یوں تو آزاد کئی بار کیا ہے اس نے
اب سحر تک تو جلوں گا کوئی آئے کہ نہ آئے
مجھ کو روشن سرِ دیوار کیا ہے اس نے
عرفان صدیقی

روشنی روزنِ دیوار بھی کر سکتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 187
جشنِ مہتاب گرفتار بھی کر سکتے ہیں
روشنی روزنِ دیوار بھی کر سکتے ہیں
یوسفِ شہر، تجھے تیرے قبیلے والے
دام لگ جائیں تو بازار بھی کر سکتے ہیں
ایک شکل اور بھی ہے چپ کھڑے رہنے کے سوا
آپ اس جرم کا اقرار بھی کر سکتے ہیں
دفن کردی گئی جس خاک میں بستی میری
شہر اسی خاک سے آثار بھی کر سکتے ہیں
فتح کے نشے میں یہ بات نہ بھولو کہ وہ لوگ
پھر پلٹ آئیں تو یلغار بھی کر سکتے ہیں
جی دکھایا ترے لہجے نے تو معلوم ہوا
کس طرح لفظ کو تلوار بھی کر سکتے ہیں
عرفان صدیقی

ہیں کہیں صبح کے آثار! نہیں کوئی نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 144
اٹھ گئے بزم سے میخوار؟ نہیں کوئی نہیں
ہیں کہیں صبح کے آثار؟ نہیں کوئی نہیں
ایک بیکس کے تقاضوں کی حقیقت ہی کیا
میں محبت کا طلبگار؟ نہیں کوئی نہیں
ظلم، ادبار، ہوس، وہم، عداوت، نفرت
ہیں کوئی جینے کے آثار؟ نہیں کوئی نہیں
فصل گل آئی کھنکنے لگے ساغر لیکن
میں تبسم کا سزاوار؟ نہیں کوئی نہیں
دب گئے ان کی نگاہوں کے اثر سے باقیؔ
کر لیا جرم کا اقرار؟ نہیں کوئی نہیں
باقی صدیقی