ٹیگ کے محفوظات: آتا

سِفلوں سے پالا پڑتا ہے راز یہ تب کُھل پاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
کُتا آنکھیں کب دکھلاتا ہے کب دُم لہراتا ہے
سِفلوں سے پالا پڑتا ہے راز یہ تب کُھل پاتا ہے
خلق سے بھی کھنچتا ہے آئینے سے بھی کتراتا ہے
جس کے دل میں چور ہو خود سے بھی کم آنکھ ملاتا ہے
جویائے تعبیر رہے وہ خواب میں قامتِ بالا کی
بَونے کی یہ خُو ہے سوتے میں بھی وہ اِٹھلاتا ہے
اِس سے ہٹ کر کم کم ہو، ہوتا ہے اکثر ایسا ہی
باپ نے جو جَھک ماری ہو بیٹا بھی اسے دُہراتا ہے
جس کوتاہ نظر کو بھی احساس ہو کمتر ہونے کا
برتر پر چھا جانے کو وہ اور ہی طیش دِکھاتا ہے
خاک کو دریا دل ہو کر جب سرمۂ چشم بنایا تھا
ماجدؔ جانے وہ لمحہ کیوں رہ رہ کر یاد آتا ہے
ماجد صدیقی

جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کُنجِ قفس تک بھی خوشبو سی لاتا ہے
جھونکے سے جانے کیا اپنا ناتا ہے
پِٹوا کر سہلائے یُوں ہر پنیچ ہمیں
بالغ جیسے بچّے کو بہلاتا ہے
ظالم کے ہتھے جو بھی اِک بار چڑھے
جیون بھرُوہ اُس کے ہی گُن گاتا ہے
پنچھی سوچیں اَب وُہ ایکا کرنے کی
جو ایکا مرگِ انبوہ دکھاتا ہے
سینت کے رکھے صید نہ اپنا زورآور
شیر کے من کو تازہ خون ہی بھاتا ہے
جس کے سر تھا خون کسی کا شخص وُہی
اَب قبروں پر پھول چڑھانے آتا ہے
ماجدؔ بھی کیا سادہ ہے اخلاص پہ جو
رہ رہ کر اِس دَور میں بھی اِتراتا ہے
ماجد صدیقی

اُس پر کیا لکھا جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 160
کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اُس پر کیا لکھا جانا ہے
نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
کون ہے گالی سُن کر جس کے
ہونٹوں سے امرت ٹپکا ہے
دشتِ طلب میں بِن کُتّوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اپنی چال سلامت رکھنے
شیر ہرن پر ٹوٹ پڑا ہے
کُود کے جلتی آگ میں دیکھو
پروانہ گلزار بنا ہے
ٹھیک ہے گر بیٹا یہ سوچے
اُس نے باپ سے کیا پایا ہے
پکڑا جانے والا ہی کیوں
تنہا دم مجرم ٹھہرا ہے
جس نے بھی جاں بچتی دیکھی
تنکوں تک پر وہ اٹکا ہے
مجرم نے پچھلی پیشی پر
جو بھی کہا اُس سے مُکرا ہے
خالق اپنی خلق سے کھنچ کر
عرش پہ جانے کیا کرتا ہے
بہلانے مجھ بچّے کو وہ
جنت کا لالچ دیتا ہے
پیڑ زبانوں کو لٹکائے
دشت سے جانے کیا کہتا ہے
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹکا ہے
موجِ الم نے کھول کے بازو
مجھ کو جیسے بھنچ لیا ہے
اُتنا ہی قد کاٹھ ہے اُس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
کس کو اَب لوٹانے جائیں
گردن میں جو طوق پڑا ہے
ٹہنی عاق کرے خود اُس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے
جینے والا جانے کیونکر
موت کے در پر آن کھڑا ہے
صحرا کی بے درد ہوا نے
بادل کو کب رُکنے دیا ہے
دیکھوں اور بس دیکھو اُس کو
جانے اُس تصویر میں کیا ہے
کہنے کی باتیں ہیں ساری
زخمِ رگِ جاں کب بھرتا ہے
رُت کی خرمستی یہ جانے
پودا کیسے پیڑ بنا ہے
برق اور رعد کے لطف و کرم سے
گلشن کو کب فیض ملا ہے
لوٹایا اِک ڈنک میں سارا
سانپ نے جتنا دُودھ پیا ہے
ربط نہیں اُس سے اتنا بھی
شہر میں جتنا کچھ چرچا ہے
بند کلی چُپ رہنا اُس کا
لب کھولے تو پھولوں سا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے
گُل برساتا ہے اوروں پر
وُہ جو زخم مجھے دیتا ہے
کوہِ قاف سے اِس جانب وہ
ڈھونڈوں بھی تو کب ملتا ہے
اُس کی دو رنگی مت پُوچھو
کالر پر جو پھول سجا ہے
رسّی کی شِشکار ہے پیچھے
کھیت کنارے جال بِچھا ہے
ڈس لیتا ہے سانپ جسے بھی
رَسّی تک سے وہ ڈرتا ہے
قبرپہ جل مرنے والے کی
ایک دیا اب تک جلتا ہے
بانس انار سے آنکھ ملائے
اپنی قامت ناپ رہا ہے
موسیٰ ہر فرعون کی خاطر
مشکل سے نت نت آتا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
دھڑکن دھرکن ساز جدا ہیں
کس نے کس کا دُکھ بانٹا ہے
کرنا آئے مکر جسے بھی
زر کے ساتھ وُہی تُلتا ہے
خون میں زہر نہیں اُترا تو
آنکھوں سے پھر کیا رِستا ہے
ہم اُس سے منہ موڑ نہ پائے
پیار سے جس نے بھی دیکھا ہے
کون ہے وہ جو محرومی کی
تہمت اپنے سر لیتا ہے
کھُلتی ہے ہر آنکھ اُسی پر
غنچہ جب سے پھول بنا ہے
انساں اپنا زور جتانے
چاند تلک پر جا نکلا ہے
دل نے پھر گُل کھِل اُٹھنے پر
نام کسی کا دہرایا ہے
وقت صفائی مانگ کے ہم سے
کاہے کو مُنہ کھُلواتا ہے
ہم شبنم کے قطروں پرہی
سورج داتا کیوں جھپٹا ہے
فصلِ سکوں پر بُغض یہ کس کا
مکڑی بن کر آ ٹوٹا ہے
دل تتلی کا پیچھا کرتے
کن کانٹوں میں جا اُلجھا ہے
زخم اگر بھر جائے بھی تو
نقش کہاں اُس کا مٹتا ہے
انجانوں سا مجھ سے وُہ پوچھے
اُس سے مرا دل مانگتا کیاہے
پھول جھڑیں یا پتے سُوکھیں
موسم نے یہ کب دیکھا ہے
اَب تو دل کی بات اٹھاتے
لفظ بھی چھلنی سے چھنتاہے
تجھ بن جو منظر بھی دیکھیں
آنکھ میں کانٹوں سا چُبھتا ہے
کانوں کے دَر کھُل جائیں تو
پتھر تک گویا لگتا ہے
آنکھوں کی اِس جھیل میں جانے
کون کنول سا لہراتا ہے
دور فلک پر کاہکشاں کا
رنگ ترے سپنوں جیسا ہے
گلشن والے کب جانیں یہ
پنجرے میں دن کب ڈھلتا ہے
صبح اُسی کے صحن میں اُتری
جس کا دامن چاک ملا ہے
جانے کس خرمن پر پہنچے
تابہ اُفق جو کھیت ہرا ہے
مَیں وہ غار تمّنا کا ہوں
سورج جس سے رُوٹھ گیا ہے
جانے کیا کیا زہر نہ پی کر
انساں نے جینا سیکھا ہے
بحر پہ پُورے چاند کے ہوتے
پانی کیوں ٹھہرا ٹھہرا ہے
وہ کب سایہ سینت کے رکھے
رستے میں جو پیڑ اُگا ہے
اُس کا حسن برابر ہو تو
حرف زباں پر کب آتا ہے
دیکھنے پر اُس آئنہ رُو کے
پھولوں کا بھی رنگ اُڑا ہے
پھل اُترا جس ٹہنی پر بھی
پتھر اُس پر آن پڑا ہے
کب اوراق پُرانے پلٹے
وُہ کہ مجھے جو بھول چکا ہے
اپنی اپنی قبر ہے سب کی
کون کسی کے ساتھ چلا ہے
اَب تو اُس تک جانے والا
گستاخی کا ہی رستہ ہے
اُونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے
ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے
لُٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی
محنت میں بھی کیا رکھا ہے
کس نے آتا دیکھ کے مجھ کو
بارش میں در بھینچ لیا ہے
اُس سے حرفِ محبت کہنے
ہم نے کیا کیا کچھ لکھا ہے
دامن سے اُس شوخ نے مجھ کو
گرد سمجھ کر جھاڑ دیا ہے
فرق ہے کیوں انسانوں میں جب
سانس کا رشتہ اِک جیسا ہے
فرصت ہی کب پاس کسی کے
کون رُلانے بھی آتا ہے
یادوں کے اک ایک ورق پر
وُہ کلیوں سا کھِل اُٹھتا ہے
شیر بھی صید ہُوا تو آخر
دیواروں پر آ لٹکا ہے
نُچنے سے اِک برگ کے دیکھو
پیڑ ابھی تک کانپ رہا ہے
ایک ذرا سی چنگاری نے
سارا جنگل پھونک دیا ہے
لفظ سے پاگل سا برتاؤ
ساگر ناؤ سے کرتا ہے
بہلا ہے دل درد سے جیسے
بچہ کانچ سے کھیل رہا ہے
کڑوے پھل دینے والے کا
رشتہ باغ سے کب ملتا ہے
خدشوں میں پلنے والوں نے
سوچا ہے جو، وُہی دیکھا ہے
اپنے اپنے انت کو پانے
جس کو دیکھو دوڑ رہا ہے
زور آور سبزے نے دیکھو
بادل سے حق مانگ لیا ہے
کس رُت کے چھننے سے جانے
صحنِ گلستاں دشت ہوا ہے
ہونٹ گواہی دیں نہ کچھ اُس کی
دل میں جتنا زہر بھرا ہے
لفظ کے تیشے سے ابھرے جو
زخم وہی گہرا ہوتا ہے
آنکھ ٹھہرتی ہے جس پر بھی
منظر وُہ چھالوں جیسا ہے
بن کر کالی رات وہ دیکھو
کّوا چڑیا پر جھپٹا ہے
جتنا اپنے ساتھ ہے کوئی
اُتنا اُس کے ساتھ خُدا ہے
اونچی کر دے لو زخموں کی
پرسش وُہ بے رحم چِتا ہے
ساکت کر دے جو قدموں کو
جیون وُہ آسیب ہُوا ہے
دشت تھا اُس کا ہجر پہ ہم نے
یہ صحرا بھی پاٹ لیا ہے
مجھ سے اُس کا ذکر نہ چھیڑو
وہ جیسا بھی ہے اچّھا ہے
ساتھ ہمارے ہے وہ جب سے
اور بھی اُس کا رنگ کھُلا ہے
شاہی بھی قربان ہو اُس پر
ماجدؔ کو جو فقر ملا ہے
ماجد صدیقی

مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 17
وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچہ تھا
مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا
میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے
وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا
قریب تیر رہا تھا بطخوں کا ایک جوڑا
میں آب جو کے کنارے اداس بیٹھا تھا
شب سفر تھی قبا تیرگی کی پہنے ہوئے
کہیں کہیں پہ کوئی روشنی کا دھبا تھا
بنی نہیں جو کہیں پر، کلی کی تربت تھی
سنا نہیں جو کسی نے ، ہوا کا نوحہ تھا
یہ آڑی ترچھی لکیریں بنا گیا ہے کون
میں کیا کہوں مرے دل کا ورق تو سادا تھا
میں خاکداں سے نکل کر بھی کیا ہوا آزاد
ہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھیرا تھا
اتر گیا ترے دل میں تو شعر کہلایا
میں اپنی گونج تھا اور گنبدوں میں رہتا تھا
ادھر سے بارہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی
کہ زیرِ سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا
وہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندنی کا کنول
وہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کا ٹکڑا تھا
میں ساحلوں میں اترا کر شکیبؔ کیا لیتا
ازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا
شکیب جلالی

پہلے اک سایہ سا نکل کے گھر سے باہر آتا ہے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 32
تھی جو وہ اک تمثیلِ ماضی آخری منظر اس کا یہ تھا
پہلے اک سایہ سا نکل کے گھر سے باہر آتا ہے
اس کے بعد کئی سائے سے اس کو رخصت کرتے ہیں
پھر دیواریں ڈھے جاتی ہیں دروازہ گر جاتا ہے
قطعہ
جون ایلیا

سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 242
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے
جوہرِ تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
ہُوں میں وہ سبزہ کہ زہرآب اُگاتا ہے مجھے
مدّعا محوِتماشائے شکستِ دل ہے
آئنہ خانے میں کوئی لئے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کفِ خاک
آسمان بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھے
دیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 296
کوزہ گر پھر اسی مٹی میں ملاتا ہے مجھے
دیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے
میں تو اس دشت میں خود آیا تھا کرنے کو شکار
کون یہ زین سے باندھے لیے جاتا ہے مجھے
خاک پر جب بھی کوئی تیر گرا دیتا ہے
دستِ دلدار کوئی بڑھ کے اٹھاتا ہے مجھے
ساعتے چند کروں مشقِ گراں جانی بھی
جاں سپاری کا ہنر تو بہت آتا ہے مجھے
دولتِ سر ہوں‘ سو ہر جیتنے والا لشکر
طشت میں رکھتا ہے‘ نیزے پہ سجاتا ہے مجھے
عرفان صدیقی

میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 139
دیکھ لے، آج تری بزم میں بھی تنہا ہوں
میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں
جانے کیا ٹھان کے اُٹھتا ہوں نکلنے کے لیے
جانے کیا سوچ کے دروازے سے لوٹ آتا ہوں
میرے ہر جزو کا ہے مجھ سے الگ ایک وجود
تم مجھے جتنا بگاڑو گے میں بن سکتا ہوں
مجھ میں رَقصاں کوئی آسیب ہے آوازوں کا
میں کسی اُجڑے ہوئے شہر کا سنّاٹا ہوں
اپنا ہی چہرہ اُنہیں مجھ میں دِکھائی دے گا
لوگ تصویر سمجھتے ہیں میں آئینہ ہوں
لمحۂ شوق ہوں، میری کوئی قیمت ہی نہیں
میں میسر تجھے آجاؤں تو مہنگا کیا ہوں
میں جھپٹنے کے لیے ڈُھونڈھ رہا ہوں موقع
اور وہ شوخ سمجھتا ہے کہ شرماتا ہوں
عرفان صدیقی

دنیا بقدر خون تمنا ہے سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 224
قطرہ ہے سامنے کہیں دریا ہے سامنے
دنیا بقدر خون تمنا ہے سامنے
اک آن میں حیات بدلتی ہے اپنا رنگ
اک دور کی طرح کوئی آتا ہے سامنے
آنکھوں میں ہے کھچی ہوئی تصویر خون دل
ہم دیکھتے نہیں وہ تماشا ہے سامنے
ہم ڈھونڈنے لگے کوئی دل عافیت مقام
ہر چند تیرے شہر کا نقشہ ہے سامنے
اٹھیں تو راستہ نہ دے بیٹھیں تو بار ہو
کچھ اس طرح اک آدمی بیٹھا ہے سامنے
جوش جنوں سے ربط وہ باقیؔ نہیں مگر
کیا دل کا اعتبار کہ صحرا ہے سامنے
باقی صدیقی

تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 135
دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں
تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں
مٹ گیا ہے دل سے کیا تیرا خیال
اتنا دنیا کو کبھی چاہا نہیں
اس طرح محفل یہ ہے اس کی نظر
سب ہیں تنہا اور کوئی تنہا نہیں
سوچ کر کیا بات آ بیٹھے ہو تم
ان درختوں کا کوئی سایہ نہیں
دھوپ کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں لوگ
کوئی اپنے سامنے آتا نہیں
بات مظلوموں پہ آخر آئے گی
الٹے رُخ دریا کبھی بہتا نہیں
دیکھتا ہوں اس طرح ہر ایک کو
آدمی بھی آدمی گویا نہیں
یہ بھی تو پہلو ہے اک حالات کا
لوگ جو کہتے ہیں وہ ہوتا نہیں
آج باقیؔ کیا ہوا کو ہو گیا
دور تک پتا کوئی ہلتا نہیں
باقی صدیقی