ٹیگ کے محفوظات: آئیے

دشت دشت گھومیے آبلے شکاریے

استخارہ کیجیے راستے شکاریے
دشت دشت گھومیے آبلے شکاریے
دل پہ حکمرانی کا ایک ہی طریقہ ہے
مسکرا کے ماریے، مار کے شکاریے
روک ٹوک ہوتی ہے، روک ٹوک چھوڑیے
ہونٹ کاٹ کھائیے، ذائقے شکاریے
احترام کاہے کا، احتیاط کس لیے؟
خودغرض خداؤں کو ہانکیے، شکاریے
جانے کتنے سال سے منتظر ہوں باخدا
ہاتھ پاؤں باندھیے، آئیے شکاریے!!
کوئی فائدہ نہیں حجتی! لڑائی کا
بحث کو سمیٹیے! فاصلے شکاریے
افتخار فلک

لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
سچّے ہو گر تو اور نہ آنکھیں چُرائیے
لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے
کیو ں وقتِگفتگو ہے نگاہوں میں اضطراب
زیرِ زباں ہے جو وہ زباں پر بھی لائیے
میں پُھول بھی ہوں گر تو بگولوں کی زد پہ ہوں
میں کھو چکا حواس مرے منہ نہ آئیے
کھینچے جو اپنی سمت اُنہیں بھی جو دُور ہیں
ایسا بھی کوئی پُھول سرِ لب کِھلائیے
لَو دے اٹھے گلاب نہ آخر سرِحجاب
اس طور بھی نہ روئے درخشاں چھپائیے
ماجد صدیقی

مرے وسوسوں مرے واہموں کو مٹائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
پۓ لطف یا پۓ جور جیسے بھی آئیے
مرے وسوسوں مرے واہموں کو مٹائیے
ہمہ دم ہی صور نہ پھُونکئے سرِ انجمن
کبھی کوئی قصّۂ جاں فزا بھی سنائیے
میں ترس رہا ہوں کتابِ سبز بہار کو
مرے ہاتھ اِس کا وَرق وَرق نہ تھمائیے
پۓ انتقام، ستم میں بخل نے کیجیئے
کہ یہ زہرہے تو نہ جرعہ جرعہ پلائیے
کبھی کھولئے کسی کنجِ لطف کا باب بھی
بہ کنارِ گلشنِ آرزُو نہ پھرائیے
ہے علیلِ دید تمہارا ماجدِؔ خستہ جاں
کسی روز صورتِ موجِ باد ہی آئیے
ماجد صدیقی

ٹھہرا جب احتجاج تو کھُل کر منائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
پتلے روِش روِش پہ خزاں کے جلائیے
ٹھہرا جب احتجاج تو کھُل کر منائیے
حاصل بہ عجز رتبہ مبارک ہو یہ تمہیں
میں ہوں انا شکار مرے منہ نہ آئیے
پھر دیکھنا حصولِ گلِ تر کے خواب بھی
دامن تو پہلے باڑھ سے اپنا چھڑائیے
دعویٰ ہے تازگی کا درونِ قفس یہی
سر پھوڑ پھوڑ اپنا لُہو میں نہائیے
ماجدؔ یہ تن نہ مثلِ گریباں ہو چاک چاک
دل میں جو زہر ہے وہ زباں پر بھی لائیے
ماجد صدیقی

عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 7
میری تربت پر اگر آئیے گا
عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا
سب کی نظروں پہ نہ چڑھیے اتنا
دیکھیے دل سے اُتر جائیے گا
آئیے نزع میں بالیں پہ مری
کوئی دم بیٹھ کے اُٹھ جائیے گا
وصل میں بوسۂ لب دے کے کہا
مُنہ سے کچھ اور نہ فرمائیے گا
ہاتھ میں نے جو بڑھایا تو کہا
بس، بہت پاؤں‌ نہ پھیلائیے گا
زہر کھانے کو کہا، تو، بولے
ہم جلا لیں گے جو مر جائیے گا
حسرتیں نزع میں‌بولیں مُجھ سے
چھوڑ کر ہم کو کہاں جائیے گا
آپ سنیے تو کہانی دل کی
نیند آ جائے گی سو جائیے گا
اتنی گھر جانے کی جلدی کیا ہے؟
بیٹھیے ، جائیے گا، جائیے گا
کہتے ہیں، کہہ تو دیا، آئیں گے
اب یہ کیا چِڑ ہے کہ کب آئیے گا
ڈبڈبائے مرے آنسو تو کہا
روئیے گا تو ہنسے جائیے گا
رات اپنی ہے ٹھہرئیے تو ذرا
آئیے بیٹھئے، گھر جائیے گا
جس طرح عمر گزرتی ہے امیر
آپ بھی یونہی گزر جائیے گا
امیر مینائی