ٹیگ کے محفوظات: آئنے

کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں
کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں
جو حرفِ حق ہے اُسے، دلنشیں بنانے کو
کچھ اور سابقے اور لاحقے تلاش کروں
میں ربط دیکھ کے سورج مکھی سے سورج کا
برائے چشم نئے رتجگے تلاش کروں
وہ جن میں جھانک کے سنبھلیں مرے نواح کے لوگ
میں اُس طرح کے کہاں آئنے تلاش کروں
جو آنچ ہی سے مبّدل بہ آب ہوتے ہیں
میں گرم ریت میں وہ آبلے تلاش کروں
بھگو کے گال، سجا کر پلک پلک آنسو
’ اُداس دل کے لئے مشغلے تلاش کروں‘
بیاضِ درد کی تزئین کے لئے ماجدؔ
وہ حرف رہ گئے جو، اَن کہے تلاش کروں
ماجد صدیقی

اثر اُسی کا ہمارا بھی ناطقے پر ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
جو وسوسہ تمہیں اپنے کہے سُنے پر ہے
اثر اُسی کا ہمارا بھی ناطقے پر ہے
گئی تھیں کِس کے تعاقب میں بے حصولِ مراد
یہ کیسی گرد نگاہوں کے آئنے پر ہے
وہ کھینچتی ہے جسے پینگ سے بزورِ شباب
نگاہِ چپکی اُسی نصف دائرہ پر ہے
وہ شوخ جب سے نگینہ مری نظر کا ہے
اُسی کی چھاپ چمن کے سمے سمے پر ہے
لُٹے ہیں گُل تو نظر مکتفی ہے پتّوں پر
زہے نصیب گزر ہی رہے سہے پر ہے
نہیں بعید غزل کو شبابِ نَو بخشے
یہی گمان تو ماجدؔ سے منچلے پر ہے
ماجد صدیقی