ٹیگ کے محفوظات: آئنہ

میں اُسے بےفائدہ چکھتا رہا

زندگی کا ذائقہ چکھتا رہا
میں اُسے بےفائدہ چکھتا رہا
اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر
رات بھر میں تٙخلیہ چکھتا رہا
شعر کہنے کی ہوس میں دوستو!
میں ردیف و قافیہ چکھتا رہا
تیرے پاؤں کے نِشاں رہبر بنے
کارواں یہ مُعجزہ چکھتا رہا
بال کھولے تُو سنورتی رہ گئی
تیری صُورت آئنہ چکھتا رہا
ماں تمہاری یاد میں بوڑھی ہوئی
باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا
قہقہوں کے شور میں اِک مسخرہ
منھ چُھپائے حادثہ چکھتا رہا
افتخار فلک

ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
ہر آن بدن پہ بوجھ سا ہے
ارماں پسِ چشم جو رُکا ہے
جس میں نیا رنج روز اُترے
دِل ایسا ہی فرد آئنہ ہے
ہر سمت شروع میں سفر کے
دیکھا ہے جِدھر بھنور نیا ہے
رفعت کا ہے جو بھی اگلا زینہ
لاریب وُہ قوّت آزما ہے
اعصاب پڑے ہیں ماند جب سے
ہر تازہ سفر کٹھن سَوا ہے
بارش کو ترستا مُرغِ گِریاں
ماجِد! ترا حرفِ مُدّعا ہے
ماجد صدیقی

اے کاش یہ جان لوں کہ کیا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
مَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوں
اے کاش یہ جان لوں کہ کیا ہوں
تجھ کو جو بہ غور دیکھتا ہوں
مَیں خود ہی پہ رشک کر رہا ہوں
منسوب ہے مجھ سے یہ ستم بھی
انجان دلوں سے کھیلتا ہوں
آؤ کہ یہ رُت نہ پھر ملے گی
مَیں آپ کی راہ دیکھتا ہوں
حالات سے مانگ کر خدائی
حالات سے کھیلنے لگا ہوں
شرماؤ گے دیکھ کر مجھے تُم
مَیں بھی تو تمہارا آئنہ ہوں
آگے کا سلوک جانے کیا ہو
غنچہ سا چمن میں کھِل چلا ہوں
قسمت میں شرر لکھے ہیں ماجدؔ
انگارہ صفت دہک رہا ہوں
ماجد صدیقی

آنکھ سے منظر، خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 54
ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا
آنکھ سے منظر، خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا
کیوں یہ ہم صورت رواں ہیں مختلف اطراف میں
ہے کہیں سے قافلے کا سلسلہ ٹوٹا ہوا!
وائے مجبوری کہ اپنا مسخ چہرہ دیکھئے
سامنے رکھا گیا ہے آئنہ ٹوٹا ہوا
خود بخود بدلے تو بدلے یہ زمیں ، اس کے سوا
کیا بشارت دے ہمارا حوصلہ ٹوٹا ہوا
خواب سے آگے شکستِ خواب کا تھا سامنا
یہ سفر تھا مرحلہ در مرحلہ ٹوٹا ہوا
کچھ تغافل بھی خبر داری میں شامل کیجئے
ورنہ کر ڈالے گا پاگل، واہمہ ٹوٹا ہوا
آفتاب اقبال شمیم

اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رُکا ہوا ہے یہ صحرا میں قافلہ کیسا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
اسیر کس نے کیا موج موج پانی کو
کنارِ آپ ہے پہرا لگا ہوا کیسا
ابھی سیاہ، ابھی سیم گوں، ابھی خوُنبار
اُفق اُفق ہے یہ منظر گریز پا کیسا
اذان ہے کہ علم کیا بلند ہوتا ہے
یہ جل رہا ہے ہوا میں چراغ سا کیسا
یہ لوگ دشت جفا میں کسے پُکارتے ہیں
یہ بازگشت سناتی ہے مرثیہ کیسا
گلوئے خشک میں سوکھی پڑی ہے پیاس کی نہر
خبر نہیں کہ ہے پانی کا ذائقہ کیسا
وہ مہربان اجازت تو دے رہا ہے مگر
یہ جاں نثار ہیں مقتل سے لوٹنا کیسا
یہ ایک صف بھی نہیں ہے، وہ ایک لشکر ہے
یہاں تو معرکہ ہو گا، مقابلہ کیسا
سلگتی ریت میں جو شاخ شاخ دفن ہوا
رفاقتوں کا شجر تھا ہرا بھرا کیسا
یہ سرُخ بوُند سی کیا گھل رہی ہے پانی میں
یہ سبز عکس ہے آنکھوں میں پھیلتا کیسا
کھڑا ہے کون اکیلا حصارِ غربت میں
گھرا ہوا ہے اندھیروں میں آئنہ کیسا
یہ ریگِ زرد ردا ہے برہنہ سر کے لیے
اُجاڑ دشت میں چادر کا آسرا کیسا
سیاہ نیزوں پہ سورج اُبھرتے جاتے ہیں
سوادِ شام ہے منظر طلوع کا کیسا
تجھے بھی یاد ہے اے آسماں کہ پچھلے برس
مری زمین پہ گزرا ہے سانحہ کیسا
عرفان صدیقی