ٹیگ کے محفوظات: آئندگاں

یہی خیال تھا آئندگاں ہمارا بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 228
زمیں پہ ہو گا کہیں آسماں ہمارا بھی
یہی خیال تھا آئندگاں ہمارا بھی
خبر نہیں کہ ہمیں بھی ہوا کہاں لے جائے
کھلا ہوا ہے ابھی بادباں ہمارا بھی
بہت ہے یہ بھی کہ موجوں کے روبرو کچھ دیر
رہا ہے ریگِ رواں پر نشاں ہمارا بھی
یہ تیر اگر کبھی دونوں کے بیچ سے ہٹ جائے
تو کم ہو فاصلۂ درمیاں ہمارا بھی
اُسی سفر پہ نکلتے ہیں رفتگاں کی طرح
اب انتظار کریں بستیاں ہمارا بھی
سواد قریۂ نامہرباں میں یاد آیا
کہ لکھنؤ میں ہے اک مہرباں ہمارا بھی
عرفان صدیقی