زمرہ جات کے محفوظات: نظم

جو میرا تمہارا رشتہ ہے

میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے

وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں

لکھا گیا ہے بہت لطفِ وصل و دردِ فراق

مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں

یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال

یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدمِ مہ و سال

اس عشقِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے

’’گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے‘‘

فیض احمد فیض

یہ کس دیارِ عدم میں ۔ ۔ ۔

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیدا

کسی کے حسن میں شمشیرِ آفتاب کا حسن

نگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگے

کسی ادا میں ادائے خرامِ بادِ صبا

جسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگے

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقی

جہاں میں بزمِ گہِ حسن و عشق کا میلا

بنائے لطف و محبت، رواجِ مہر و وفا

یہ کس دیارِ عدم میں مقیم ہیں ہم تم

جہاں پہ مژدۂ دیدارِ حسنِ یار تو کیا

نویدِ آمدِ روزِ جزا نہیں آتی

یہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تم

جہاں پہ شورشِ رندانِ میگسار تو کیا

شکستِ شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی

(ناتمام)

فیض احمد فیض

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں

ہم پرو کر ترے خیال کے پھول

ترکِ الفت کے دشت سے چن کر

آشنائی کے ماہ و سال کے پھول

تیری دہلیز پر سجا آئے

پھر تری یاد پر چڑھا آئے

باندھ کر آرزو کے پلے میں

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​

فیض احمد فیض

اس وقت تو یُوں لگتا ہے

اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے

مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن

اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو

گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا

شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید

اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ

تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے

لیکن مرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے

ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

(میو ہسپتال، لاہور)

فیض احمد فیض

ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

کیا خوف ز یلغارِ اعداء

ہے سینہ سپر ہر غازی کا

کیا خوف ز یورشِ جیشِ قضا

صف بستہ ہیں ارواح الشہدا

ڈر کاہے کا!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

قد جاء الحق و زَہَق الباطِل

فرمودۂ ربِّ اکبر

ہے جنت اپنے پاؤں تلے

اور سایۂ رحمت سر پر ہے

پھر کیا ڈر ہے!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

ایک نغمہ کربلائے بیروت کے لیے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

بچوں کی ہنستی آنکھوں کے

جو آئنے چکنا چور ہوئے

اب ان کے ستاروں کی لَو سے

اس شہر کی راتیں روشن ہیں

اور رُخشاں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

جو چہرے لہو کے غازے کی

زینت سے سوا پُرنور ہوئی

اب ان کے رنگیں پرتو سے

اس شہر کی گلیاں روشن ہیں

اور تاباں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

ہر ویراں گھر، ہر ایک کھنڈر

ہم پایۂ قصرِ دارا ہے

ہر غازی رشکِ اسکندر

ہر دختر ہمسرِ لیلیٰ ہے

یہ شہر ازل سے قائم ہے

یہ شہر ابد تک دائم ہے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

(بیروت)

فیض احمد فیض

عشق اپنے مجرموں کو پابجولاں لے چلا

دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئے

گانے والے ہر اِک روز گاتے رہے

پایلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئے

ناچنے والے دھومیں مچاتے رہے

ہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اُس صف میں تھے

راستے میں کھڑے اُن کو تکتے رہے

رشک کرتے رہے

اور چُپ چاپ آنسو بہاتے رہے

لوٹ کر آ کے دیکھا تو پھولوں کا رنگ

جو کبھی سُرخ تھا زرد ہی زرد ہے

اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا

دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے

گلو میں کبھی طوق کا واہمہ

کبھی پاؤں میں رقصِ زنجیر

اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح

رسن در گلو، پابجولاں ہمیں

اسی قافلے میں کشاں لے چلا

(بیروت)

فیض احمد فیض

تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

جب دُکھ کی ندیا میں ہم نے

جیون کی ناؤ ڈالی تھی

تھا کتنا کس بل بانہوں میں

لوہُو میں کتنی لالی تھی

یُوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے

اور ناؤ پُورم پار لگی

ایسا نہ ہُوا ، ہر دھارے میں

کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں

کچھ مانجھی تھے انجان بہُت

کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جِتنے چاہو دوش دھرو

ندیا تو وہی ہے ، ناؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

اب کیسے پار اُترنا ہے

جب اپنی چھاتی میں ہم نے

اِس دیس کے گھاؤ دیکھے تھے

تھا ویدوں پر وشواش بہت

اور یاد بہت سےنسخے تھے

یُوں لگتا تھا بس کچھ دِن میں

ساری بپتا کٹ جائے گی

اور سب گھاؤ بھر جائیں گے

ایسا نہ ہُوا کہ روگ اپنے

کچھ اِتنے ڈھیر پُرانے تھے

وید اُن کی ٹوہ کو پا نہ سکے

اور ٹوٹکے سب بیکار گئے

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جتنے چاہو دوش دھرو

چھاتی تو وہی ہے ، گھاؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

۔ ۱۔

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی

دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی

حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے

جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت

اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے

صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت

حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے

تا ابَد شہرِ ستم جس سے تبہ ہو جائیں

اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیہ ہو جائیں

۔۲۔

آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا

ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز

جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح

چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز

آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت

لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز

نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی

صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی

فیض احمد فیض

درِ اُمید کے دریوزہ گر

پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں

شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں

پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں

میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں

پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے

درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے

پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا

کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے

ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر

یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے

کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب

ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے

فیض احمد فیض

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام اُلجھتا رہا

پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

فیض احمد فیض

لینن گراڈ کا گورستان

سرد سِلوں پر

زرد سِلوں پر

تازہ گرم لہو کی صورت

گلدستوں کے چھینٹے ہیں

کتبے سب بے نام ہیں لیکن

ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے

غافل سونے والے کا

یاد میں رونے والے کا

اپنے فرض سے فارغ ہو کر

اپنے لہو کی تان کے چادر

سارے بیٹے خواب میں ہیں

اپنے غموں کا ہار پرو کر

امّاں اکیلی جاگ رہی ہے

لینن گراڈ 1976ء

فیض احمد فیض

موری اَرج سُنو

"موری ارج سُنو دست گیر پیر”

"مائی ری، کہوں کاسے میں

اپنے جیا کی پیر”

"نیا باندھو رے،

باندھو رے کنارِ دریا”

"مورے مندر اب کیوں نہیں آئے”

اس صورت سے

عرض سناتے

درد بتاتے

نیّا کھیتے

مِنّت کرتے

رستہ تکتے

کتنی صدیاں بیت گئی ہیں

اب جا کر یہ بھید کھُلا ہے

جس کو تم نے عرض گزاری

جو تھا ہاتھ پکڑنے والا

جس جا لاگی ناؤ تمھاری

جس سے دُکھ کا دارُو مانگا

تورے مندر میں جو نہیں آیا

وہ تو تُمھیں تھے

وہ تو تُمھیں تھے

فیض احمد فیض

تم اپنی کرنی کر گزرو

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

جو کچھ پایا کھو جائے گا

جو مل نہ سکا وہ پائیں گے

یہ دن تو وہی پہلا دن ہے

جو پہلا دن تھا چاہت کا

ہم جس کی تمنّا کرتے رہے

اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے

یہ دن تو کئی بار آیا

سو بار بسے اور اُجڑ گئے

سو بار لُٹے اور بھر پایا

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

تم خوف و خطر سے در گزرو

جو ہونا ہے سو ہونا ہے

گر ہنسنا ہے تو ہنسنا ہے

گر رونا ہے تو رونا ہے

تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہو گا دیکھا جائے گا

فیض احمد فیض

بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یک بار

لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے

وہ خواب سارے، شباب سارے

جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے

جو مٹ کے ہر بار پھر جیے تھے

نِکھر گئے ہیں گلاب سارے

جو تیری یادوں سے مُشکبو ہیں

جو تیرے عُشّاق کا کہو ہیں

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے

ملالِ احوالِ دوستاں بھی

خمارِ آغوشِ مہ وشاں بھی

غُبارِ خاطر کے باب سارے

ترے ہمارے

سوال سارے جواب سارے

بہار آئی تو کھِل گئے ہیں

نئے سرے سے حساب سارے

فیض احمد فیض

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

احوالِ گُل و لالہ غم انگیز بہت ہے

خوش دعوتِ یاراں بھی ہے یلغارِ عدو بھی

کیا کیجیے دل کا جو کم آمیز بہت ہے

یوں پیرِ مغاں شیخِ حرم سے ہوئے یک جاں

میخانے میں کم ظرفیِ پرہیز بہت ہے

اک گردنِ مخلوق جو ہر حال میں خم ہے

اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے

کیوں مشعلِ دل فیض چھپاؤ تہِ داماں!

بُجھ جائے گی یُوں بھی کہ ہوا تیز بہت ہے

فیض احمد فیض

ڈھاکہ سے واپسی پر

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مُلاقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے

اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

فیض احمد فیض

ہم تو مجبور تھے اس دل سے

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس میں ہر دم

گردشِ خوں سے وہ کُہرام بپا رہتا ہے

جیسے رندانِ بلا نوش جو مل بیٹھیں بہم

میکدے میں سفرِ جام بپا رہتا ہے

سوزِ خاطر کو ملا جب بھی سہارا کوئی

داغِ حرمان کوئی، دردِ تمنّا کوئی

مرہمِ یاس سے مائل بہ شِفا ہونے لگا

زخمِ اُمّید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگا

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کی جس کی ضد پر

ہم نے اُس رات کے ماتھے پہ سحر کی تحریر

جس کے دامن میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھا

ہم نے اُس دشت کو ٹھہرا لیا فردوس نظیر

جس میں جُز صنعتِ خونِ سرِ پا کچھ بھی نہ تھا

دل کو تعبیر کوئی اور گوارا ہی نہ تھی

کلفتِ زیست تو منظور تھی ہر طور مگر

راحتِ مرگ کسی طور گوارا ہی نہ تھی

فیض احمد فیض

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دوپہر ستم کی

بے سبب ستم کی

دوپہر درد و غیظ و غم کی

بے زباں درد و غیظ و غم کی

اس دوزخی دوپہر کے تازیانے

آج تن پر دھنک کی صورت

قوس در قوس بٹ گئے ہیں

زخم سب کھُل گئے ہیں

داغ جانا تھا چھٹ گئے ہیں

ترے توشے میں کچھ تو ہو گا

مرہمِ درد کا دوشالہ

تن کے اُس انگ پر اُڑھا دے

درد سب سے سوا جہاں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دشت نفرتوں کے

بے درد نفرتوں کے

کرچیاں دیدۂ حسد کی

خس و خاشاک رنجشوں کے

اتنی سنسان شاہراہیں

اتنی گنجان قتل گاہیں

جن سے آئے ہیں ہم گزر کر

آبلہ بن کے ہر قدم پر

یوں پاؤں کٹ گئے ہیں

رستے سمٹ گئے ہیں

مخملیں اپنے بادلوں کی

آج پاؤں تلے بچھا دے

شافیِ کربِ رہرواں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے مہِ شبِ نگاراں

اے رفیقِ دلفگاراں

اس شام ہمزباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہریاراں

ہم پہ مہرباں ہو

فیض احمد فیض

سجاد ظہیر کے نام

نہ اب ہم ساتھ سیرِ گُل کریں گے

نہ اب مل کر سرِ مقتل چلیں گے

حدیثِ دلبراں باہم کریں گے

نہ خونِ دل سے شرحِ غم کریں گے

نہ لیلائے سخن کی دوست داری

نہ غم ہائے وطن پر اشکباری

سنیں گے نغمۂ زنجیر مل کر

نہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغر

بنامِ شاہدِ نازک خیالاں

بیادِ مستیِ چشمِ غزالاں

بنامِ انبساطِ بزمِ رنداں

بیادِ کلفتِ ایّامِ زنداں

صبا اور اُس کا اندازِ تکلّم

سحر اور اُس کا آغازِ تبسّم

فضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہے

یہی تو مسندِ پیرِ مغاں ہے

سحر گہ اب اُسی کے نام ساقی

کریں اتمامِ دورِ جام ساقی

بساطِ بادہ و مینا اُٹھا لو

بڑھا دو شمعِ محفل بزم والو

پیو اب ایک جامِ الوداعی

پیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو

(دہلی)

فیض احمد فیض

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

ہم کیا کرتے کس رہ چلتے

ہر راہ میں کانٹے بکھرے تھے

ان رشتوں کے جو چھوٹ گئے

ان صدیوں کے یارانوں کے

جو اک اک کرکے ٹوٹ گئے

جس راہ چلے، جس سمت گئے

یوں پاؤں لہو لہان ہوئے

سب دیکھنے والے کہتے تھے

یہ کیسی ریت رچائی ہے

یہ مہندی کیوں لگائی ہے

وہ کہتے تھے، کیوں قحط وفا

کا ناحق چرچا کرتے ہو

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

یہ راہیں جب اٹ جائیں گی

سو رستے ان سے پھوٹیں گے

تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی

سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے

فیض احمد فیض

مرے درد کو جو زباں ملے

مرا درد نغمۂ بے صدا

مری ذات ذرۂ بے نشاں

مرے درد کو جو زباں ملے

مجھے اپنا نام و نشاں ملے

مری ذات کا جو نشاں ملے

مجھے راز نظم جہاں ملے

جو مجھے یہ راز نہاں ملے

مری خامشی کو بیاں ملے

مجھے کائنات کی سروری

مجھے دولت دو جہاں ملے

فیض احمد فیض

اشک آباد کی شام

جب سورج نے جاتے جاتے

اشک آباد کے نیلے افق سے

اپنے سنہری جام

میں ڈھالی

سرخئ اول شام

اور یہ جام

تمہارے سامنے رکھ کر

تم سے کیا کلام

کہا پرنام

اٹھو

اور اپنے تن کی سیج سے اٹھ کر

ایک شیریں پیغام

ثبت کرو اس شام

کسی کے نام

کنار جام

شاید تم یہ مان گئیں اور تم نے

اپنے لب گلفام

کیے انعام

کسی کے نام

کنار جام

یا شاید

تم اپنے تن کی سیج پہ سج کر

تھیں یوں محو آرام

کہ رستہ تکتے تکتے

بجھ گئی شمع شام

اشک آباد کے نیلے افق پر

غارت ہو گئی شام

فیض احمد فیض

جس روز قضا آئے گی

کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اولِ شب

بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب

جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در

اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار

یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب

شاید اس طرح کہ جس طور تہِ نوک سناں

کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے

اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ

از کراں تابہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے

جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

خواہ قاتل کی طرح ائے کہ محبوب صفت

دل سے بس ہو گی یہی حرف ودع کی صورت

للہ الحمد بانجام دلِ دل زدگاں

کلمۂ شکر بنام لبِ شیریں دہناں

فیض احمد فیض

نسخہء الفت میرا

گر کسی طور ہر اک الفتِ جاناں کا خیال

شعر میں ڈھل کے ثنائے رُخِ جانانہ بنے

پھر تو یوں ہو کہ مِرے شعر و سخن کا دفتر

طول میں طولِ شبِ ہجر کا افسانہ بنے

ہے بہت تشنہ مگر نسخہء الفت میرا

اس سبب سے کہ ہر اک لمحہء فرصت میرا

دل یہ کہتا ہے کہ ہو قربتِ جاناں میں بسر

فیض احمد فیض

تیرگی جال ہے ۔۔۔

تیرگی جال ہے اور بھالا ہے نور

اک شکاری ہے دن، اک شکاری ہے رات

جگ سمندر ہے جس میں کنارے سے دور

مچھلیوں کی طرح ابنِ آدم کی ذات

جگ سمندر ہے ساحل پہ ہیں ماہی گیر

جال تھامے کوئی، کوئی بھالا لیے

میری باری کب آئے گی کیا جانیے

دن کے بھالے سے مجھ کو کریں گے شکار

رات کے جال میں یا کریں گے اسیر؟

فیض احمد فیض

آرزو

مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں مگر آرزو ہے کہ جب قضا

مجھے بزمِ دہر سے لے چلے

تو پھر ایک بار یہ اذن دے

کہ لحد سے لوٹ کے آسکوں

ترے در پہ آ کے صدا کروں

تجھے غمگسار کی ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں

یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں

فیض احمد فیض

بہ نوکِ شمشیر

میرے آبا کہ تھے نا محرمِ طوق و زنجیر

وہ مضامیں جو ادا کرتا ہے اب میرا قلم

نوکِ شمشیر پہ لکھتے تھے بہ نوکِ شمشیر

روشنائی سے جو میں کرتا ہوں کاغذ پہ رقم

سنگ و صحرا پہ وہ کرتے تھے لہو سے تحریر

فیض احمد فیض

بھائی

آج سے بارہ برس پہلے بڑا بھائی مِرا

اسٹالن گراڈ کی جنگاہ میں کام آیا تھا

میری ماں اب بھی لیے پھرتی ہے پہلو میں یہ غم

جب سے اب تک ہے وہی تن پہ ردائے ماتم

اور اس دُکھ سے مِری آنکھ کا گوشہ تر ہے

اب مِری عمر بڑے بھائی سے کچھ بڑھ کر ہے

فیض احمد فیض

میں تیرے سپنے دیکھوں

برکھا برسے چھت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

برف گرے پربت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

صبح کی نیل پری، میں تیرے سپنے دیکھوں

کویل دھوم مچائے،میں تیرے سپنے دیکھوں

آئے اور اُڑ جائے، میں تیرے سپنے دیکھوں

باغوں میں پتے مہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں

شبنم کے موتی دہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں

اس پیار میں کوئی دھوکا ہے

تو نار نہیں کچھ اور ہے شے

ورنہ کیوں ہر ایک سمے

میں تیرے سپنے دیکھوں

فیض احمد فیض

تہ بہ تہ دل کی کدورت

میری آنکھوں میں امنڈ آئی توکچھ چارہ نہ تھا

چارہ گر کی مان لی

اور میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیا

میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیا

اور اب ہر شکل و صورت

عالمِ موجود کی ہر ایک شے

میری آنکھوں کے لہو سے اس طرح ہم رنگ ہے

خورشید کا کندن لہو

مہتاب کی چاندی لہو

صبحوں کا ہنسنا بھی لہو

راتوں کا رونا بھی لہو

ہر شجر مینارِ خوں، ہر پھول خونیں دیدہ ہے

ہر نظر اک تارِ خوں، ہر عکس خوں مالیدہ ہے

موجِ خوں جب تک رواں رہتی ہے اس کا سرخ رنگ

جذبہء شوقِ شہادت ،درد،غیظ و غم کا رنگ

اور تھم جائے تو کجلا کر

فقط نفرت کا، شب کا،موت کا،

ہر اک رنگ کے ماتم کا رنگ

چارہ گر ایسا نہ ہونے دے

کہیں سے لا کوئی سیلابِ اشک

آبِ وضو

جس میں دُھل جائیں تو شاید دھُل سکے

میری آنکھوں ،میری گرد آلود آنکھوں کا لہو ۔۔۔۔

فیض احمد فیض

حذر کرو مرے تن سے

سجے تو کیسے سجے قتلِ عام کا میلہ

کسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلا

مرے نزار بدن میں لہو ہی کتنا ہے

چراغ ہو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرے

نہ اس سے آگ ہی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھے

مرے فگار بدن میں لہو ہی کتنا ہے

مگر وہ زہرِ ہلاہل بھرا ہے نس نس میں

جسے بھی چھیدو ہر اِک بوند قہرِ افعی ہے

ہر اک کشید ہے صدیوں کے درد و حسرت کی

ہر اک میں مُہر بلب غیض و غم کی گرمی ہے

حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہے

حذر کرو کہ مرا تن وہ چوبِ صحرا ہے

جسے جلاؤ تو صحنِ چمن میں دہکیں گے

بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول

اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی

بجائے مشکِ صبا میری جان زار کی دھول

حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے

فیض احمد فیض

ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

رہا نہ کچھ بھی زمانے میں جب نظر کو پسند

تری نظر سے کیا رشتہء نظر پیوند

ترے جمال سے ہر صبح پر وضو لازم

ہر ایک شب ترے در پر سجود کی پابند

نہیں رہا حرمِ دل میں اِک صنم باطل

ترے خیال کے لات و منات کی سوگند

مثال زینہء منزل بکارِ شوق آیا

ہر اِک مقام کہ ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

خزاں تمام ہوئی کس حساب میں لکھیے

بہارِ گل میں جو پہنچے ہیں شاخِ گل کو گزند

دریدہ دل ہے کوئی شہر میں ہماری طرح

کوئی دریدہ دہن شیخِ شہر کے مانند

شعار کی جو مداراتِ قامتِ جاناں

کیا ہے فیض درِ دل، درِ فلک سے بلند

فیض احمد فیض

فرشِ نومیدیِ دیدار

دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب تک

جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک

ٹوکتی ھے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح

فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی

اور کہیں یاد کسی دل زدہ بچے کی طرح

ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے فریاد کناں

دل یہ کہتا ھے کہ کہیں اور چلے جائیں جہاں

کوئی دروازہ عبث وا ہو نہ بیکار کوئی

یاد فریاد کا کشکول لیے بیٹھی ہو

محرمِ حسرتِ دیدار ھو دیوار کوئی

نہ کوئی سایہء گُل ہجرتِ گل سے ویراں

یہ بھی کر دیکھا ھے سو بار کہ جب راہوں میں

دیس پردیس کی بے مہر گزرگاہوں میں

قافلے قامت و رخسار و لب و گیسو کے

پردہء چشم پہ یوں اترے ہیں بے صورت و رنگ

جس طرح بند دریچوں پہ گرے بارشِ سنگ

اور دل کہتا ہے ہر بار چلو لوٹ چلو

اس سے پہلے کہ وہاں جائیں تو یہ دکھ بھی نہ ہو

یہ نشانی کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اُس صحن میں ہر سُو یونہی پہلے کی طرح

فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی

فیض احمد فیض

جرسِ گُل کی صدا

اس ہوس میں کہ پکارے جرسِ گل کی صدا

دشت و صحرا میں صبا پھرتی ہے یوں آوارہ

جس طرح پھرتے ہیں ہم اہلِ جنوں آوارہ

ہم پہ وارفتگیِ ہوش کی تہمت نہ دھرو

ہم کہ رمازِ رموزِ غمِ پنہانی ہیں

اپنی گردن پہ بھی ہے رشتہ فگن خاطرِ دوست

ہم بھی شوقِ رہِ دلدار کے زندانی ہیں

جب بھی ابروئے درِ یار نے ارشاد کیا

جس بیاباں میں بھی ہم ہوں گے چلے آئیں گے

در کھُلا دیکھا تو شاید تمہیں پھر دیکھ سکیں

بند ھو گا تو صدا دے کے چلے جائیں گے

فیض احمد فیض

خورشیدِ محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن

کھُل کے ہنسنے کے دن، گیت گانے کے دن

پیار کرنے کے دن، دل لگانے کے دن

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

زخم کتنے ابھی بختِ بسمل میں ہیں

دشت کتنے ابھی راہِ منزل میں ہیں

تیر کتنے ابھی دستِ قاتل میں ہیں

آج کا دن زبوں ہے، مرے دوستو

آج کے دن تو یوں ہے، مرے دوستو

جیسے درد و الم کے پرانے نشاں

سب چلے سوئے دل کارواں، کارواں

ہاتھ سینے پہ رکھو تو ہر استخواں

سے اٹھے نالہءالاماں، الاماں

آج کے دن نہ پوچھو،مرے دوستو

کب تمہارے لہو کے دریدہ عَلم

فرقِ خورشیدِ محشر پہ ہوں گے رقم

از کراں تا کراں کب تمہارے قدم

لے کے اٹھے گا وہ بحرِ خوں یم بہ یم

جس میں دھُل جائے گا آج کے دن کا غم

سارے درد و الم سارے جور و ستم

دور کتنی ہے خورشید محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

فیض احمد فیض

ہارٹ اٹیک

درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے

ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا

ہر بُنِ مُو سے ٹپکنا چاہا

اور کہیں دور ترے صحن میں گویا

پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر

حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا

میرے ویرانہء تن میں گویا

سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کُھل کر

سلسلہ وار پتا دینے لگیں

رخصتِ قافلہء شوق کی تیاری کا

اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں

ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا

درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا

ہم نے چاہا بھی ، مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا

فیض احمد فیض

دلدار دیکھنا

طوفاں بہ دل ہے ہر کوئی دلدار دیکھنا

گُل ہو نہ جائے مشعلِ رخسار دیکھنا

آتش بہ جاں ہے ہر کوئی سرکار دیکھنا

لو دے اٹھے نہ طرہء طرار دیکھنا

جذبِ مسافرانِ رہِ یار دیکھنا

سر دیکھنا، نہ سنگ، نہ دیوار دیکھنا

کوئے جفا میں قحطِ خریدار دیکھنا

ہم آ گئے تو گرمیِ بازار دیکھنا

اُس دلنواز شہر کے اطوار دیکھنا

بے التفات بولنا، بیزار دیکھنا

خالی ہیں گرچہ مسند و منبر، نگوں ہے خلق

رعبِ قبا و ہیبتِ دستار دیکھنا

جب تک نصیب تھا ترا دیدار دیکھنا

جس سمت دیکھنا، گل و گلزار دیکھنا

پھر ہم تمیزِ روز و مہ و سال کر سکیں

اے یادِ یار پھر اِدھر اِک بار دیکھنا

فیض احمد فیض

دُعا

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں

ہم جنہیں سوزِ محبت کے سوا

کوئی بت، کوئی خدا یاد نہیں

آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی

زہر امروز میں شیرینیِ فردا بھردے

وہ جنہیں تابِ گراں باریِ ایام نہیں

ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کردے

جن کی آنکھوں کو رخِ صبح کا یارا بھی نہیں

ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کردے

جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں

ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کردے

جن کا دیں پیرویِ کذب وریا ہے ان کو

ہمتِ کفر ملے، جرأتِ تحقیق ملے

جن کے سر منتظرِ تیغِ جفا ہیں ان کو

دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

عشق کا سرِ نہاں جانِ تپاں ہے جس سے

آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے

حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح

آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے

(یومِ آزادی)

فیض احمد فیض

سرِ وادیِ سینا

پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیِ سینا

پھر رنگ پہ ہے شعلہء رخسارِ حقیقت

پیغامِ اجل دعوتِ دیدارِ حقیقت

اے دیدہء بینا

اب وقت ہے دیدار کا دم ہے کہ نہیں ہے

اب قاتلِ جاں چارہِ گرِ کلفتِ غم ہے

گلزارِ ارم پرتوِ صحرائے عدم ہے

پندارِ جنوں

حوصلہء راہِ عدم ہے کہ نہیں ہے

پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیِ سینا،اے دیدہء بینا

پھر دل کو مصفا کرو، اس لوح پہ شاید

مابینِ من و تو نیا پیماں کوئی اترے

اب رسمِ ستم حکمت خاصانِ زمیں ہے

تائیدِ ستم مصلحتِ مفتیِ دیں ہے

اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے

لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

فیض احمد فیض

سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو

اس خیاباں میں

جو اس لحظہ بیاباں بھی نہیں

کون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلے

کون بے رنگ ہوئی رنگ و تعب سے پہلے

اور اب سے پہلے

کس گھڑی کون سے موسم میں یہاں

خون کا قحط پرا

گُل کی شہ رگ پہ کڑا

وقت پڑا

سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو

یہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی نہیں

اس میں کس وقت کہاں

آگ لگی تھی پہلے

اس کے صف بستہ دریچوں میں سے کس میں اول

زہ ہوئی سرخ شعاعوں کی کماں

کس جگہ جوت جگی تھی پہلے

سوچنے دو

ہم سے اس دیس کا تم نام ونشاں پوچھتے ہو

جس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئے

اور یاد آئے تو محبوبِ گزشتہ کی طرح

روبرو آنے سے جی گھبرائے

ہاں مگر جیسے کوئی

ایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کو

آ نکلتا ہے کبھی رات بِتانے کے لئے

ہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہی

دل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لیے

دل کی کیا پوچھتے ہو

سوچنے دو

فیض احمد فیض

ایک شہرِ آشوب کا آغاز

اب بزمِ سخن صحبتِ لب سوختگاں ہے

اب حلقہء مے طائفہء بے طلباں ہے

گھر رہیے تو ویرانیِ دل کھانے کو آوے

رہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہے

پیوندِ رہِ کوچہء زر چشمِ غزالاں

پابوسِ ہوس افسرِ شمشاد قداں ہے

یاں اہلِ جنوں یک بہ دگر دست و گریباں

واں جیشِ ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہے

اب صاحبِ انصاف ہے خود طالبِ انصاف

مُہر اُس کی ہے میزان بہ دستِ دگراں ہے

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن

اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

فیض احمد فیض

سپاہی کا مرثیہ

اٹھو اب ماٹی سے اٹھو

جاگو میرے لال،

اب جاگو میرے لال

تمری سیج سجاون کارن

دیکھو آئی رین اندھیارن

نیلے شال دو شالے لے کر

جن میں اِن دُکھیَن اکھیَن نے

ڈھیر کیے ہیں اتنے موتی

اتنے موتی جن کی جیوتی

دان سے تمرا

جگ جگ لاگا

نام چمکنے

اٹھو اب ماٹی سے اٹھو

جاگو میرے لال

اب جاگو میرے لال

گھر گھر بکھرا بھور کا کندن

گھور اندھیرا اپنا آنگن

جانے کب سے راہ تکے ہیں

بالی دلہنیا ، بانکے ویِرن

سونا تمرا راج پڑا ہے

دیکھو کتنا کاج پڑا ہے

بیری بیراجے راج سنگھاسن

تم ماٹی میں لال

اٹھو اب ماٹی سے اٹھو ، جاگو میرے لال

ہٹ نہ کرو ماٹی سے اٹھو ، جاگو میرے لال

اب جاگو میرے لال

فیض احمد فیض

بَلیک آؤٹ

جب سے بے نور ہوئی ہیں شمعیں

خاک میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں نہ جانے کس جا

کھو گئی ہیں میری دونوں آنکھیں

تم جو واقف ہو بتاؤ کوئی پہچان مری

اس طرح ہے کہ ہر اِک رگ میں اُتر آیا ہے

موج در موج کسی زہر کا قاتل دریا

تیرا ارمان، تری یاد لیے جان مری

جانے کس موج میں ٖغلطاں ہے کہاں دل میرا

ایک پل ٹھہرو کہ اُس پار کسی دنیا سے

برق آئے مری جانب، یدِ بیضا لے کر

اور مری آنکھوں کے گُم گشتہ گہر

جامِ ظلمت سے سیہ مست

نئی آنکھوں کے شب تاب گُہر

لوٹا دے

ایک پل ٹھہرو کہ دریا کا کہیں پاٹ لگے

اور نیا دل میرا

زہر میں دھُل کے، فنا ہو کے

کسی گھاٹ لگے

پھر پئے نذر نئے دیدہ و دل لے کے چلوں

حسن کی مدح کروں، شوق کا مضمون لکھوں

فیض احمد فیض

غم نہ کر، غم نہ کر

درد تھم جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر

یار لوٹ آئیں گے، دل ٹھہر جائے گا، غم نہ کر، غم نہ کر

زخم بھر جائے گا،

غم نہ کر، غم نہ کر

دن نکل آئے گا

غم نہ کر، غم نہ کر

ابر کھُل جائے گا، رات ڈھل جائے گی

غم نہ کر، غم نہ کر

رُت بدل جائے گی

غم نہ کر، غم نہ کر

فیض احمد فیض

یہاں سے شہر کو دیکھو

یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ

کھنچی ہے جیل کی صورت ہر ایک سمت فصیل

ہر ایک راہ گزر گردشِ اسیراں ہے

نہ سنگِ میل، نہ منزل، نہ ؐمخلصی کی سبیل

جو کوئی تیز چلے رہ تو پوچھتا ہے خیال

کہ ٹوکنے کوئی للکار کیوں نہیں آئی

جو کوئی ہاتھ ہلائے تو وہم کو ہے سوال

کوئی چھنک، کوئی جھنکار کیوں نہیں آئی

یہاں سے شہر کو دیکھو تو ساری خلقت میں

نہ کوئی صاحبِ تمکیں، نہ کوئی والیِ ہوش

ہر ایک مردِ جواں مجرمِ رسن بہ گلو

ہر اِک حسینہء رعنا، کنیزِ حلقہ بگوش

جو سائے دُور چراغوں کے گرد لرزاں ہیں

نہ جانے محفلِ غم ہے کہ بزمِ جام و سبُو

جو رنگ ہر در و دیوار پر پریشاں ہے

یہاں سے کچھ نہیں کھُلتا یہ پھول ہیں کہ لہو

کراچی، مارچ 1965ء

فیض احمد فیض

لہو کا سراغ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاں

نہ سرخیِ لبِ خنجر نہ رنگِ نوکِ سناں

نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ صرف خدمتِ شاہاں کہ خوں بہا دیتے

نہ دیں کی نذر کہ بیعانہء جزا دیتے

نہ رزم گاہ میں برسا کہ معتبر ہوتا

کسی عَلم پہ رقم ھو کے مشتہر ہوتا

پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو

کسی کو بہرِ سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ

نہ مدعی، نہ شہادت، حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا

کراچی، جنوری 1965ء

فیض احمد فیض

انتساب

آج کے نام

اور

آج کے غم کے نام

آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا

زرد پتوں کا بن

زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

درد کی انجمن جو مرا دیس ہے

کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام

کِرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام

پوسٹ مینوں کے نام

تانگے والوں کے نام

ریل بانوں کے نام

کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام

بادشاہِ جہاں، والیِ ما سوا، نائب اللہ فی الارض،

دہقاں کے نام

جس کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گئے

جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھالے گئے

ہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے

دوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے

جس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے

دھجیاں ہو گئی ہے

ان دکھی ماؤں کے نام

رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور

نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤ ں میں سنبھلتے نہیں

دکھ بتاتے نہیں

منتوں زاریوں سےبہلتے نہیں

ان حسیناؤں کے نام

جن کی آنکھوں کے گُل

چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے

مرجھاگئے ہیں

ان بیاہتاؤ ں کے نام

جن کے بدن

بے محبت ریا کار سیجوں پہ سج سج کے اکتا گئے ہیں

بیواؤں کے نام

کٹڑیوں؎۱ اور گلیوں، محلوں کے نام

جن کی ناپاک خاشا ک سے چاند راتوں

کو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضو

جن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا

آنچلوں کی حنا

چوڑیوں کی کھنک

کاکلوں کی مہک

آرزو مند سینوں کی اپنے پسینےمیں جلنے کی بو

پڑھنے والوں کے نام

وہ جو اصحابِ طبل و علم

کے دروں پر کتاب اور قلم

کا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائے

پہنچے، مگر لوٹ کر گھر نہ آئے

وہ معصوم جو بھولپن میں

وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن

لے کے پہنچے جہاں

بٹ رہے تھے، گھٹا ٹوپ، بے انت راتوں کے سائے

ان اسیروں کے نام

جن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہر

جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صر صر میں

جل جل کے انجم نما ہو گئے ہیں

آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام

وہ جو خوشبوئے گل کی طرح

اپنے پیغام پر خود فدا ہو گئے ہیں

(ناتمام)

؎۱ کٹڑی۔ کٹڑے کی تصغیر، پنجابی میں ملحقہ مکانوں کے احاطے کو کہتے ہیں

فیض احمد فیض

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

پاس رہو

تم مرے پا س رہو

میرے قاتل ، مرے دِلدار،مرے پاس رہو

جس گھڑی رات چلے،

آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلے

مرہمِ مُشک لئے، نشترِالماس لئے

بَین کرتی ہوئی، ہنستی ہُوئی ، گاتی نکلے

درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلے

جس گھڑی سینوں میں ڈُوبے ہُوئے دل

آستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگیں

آس لئے

اور بچوں کے بلکنے کی طرح قُلقُل مے

بہرِ ناسودگی مچلے تو منائے نہ مَنے

جب کوئی بات بنائے نہ بنے

جب نہ کوئی بات چلے

جس گھڑی رات چلے

جس گھڑی ماتمی ، سُنسان، سیہ رات چلے

پاس رہو

میرے قاتل، مرے دلِدار مرے پاس رہو!

(ماسکو)

فیض احمد فیض

رنگ ہے دل کا مرے

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے

آسماں حدِّ نظر ، راہگزر راہگزر، شیشہ مَے شیشہ مے

اور اب شیشہ مَے ،راہگزر، رنگِ فلک

رنگ ہے دل کا مرے ،’’خون جگر ہونے تک‘‘

چمپئی رنگ کبھی راحتِ دیدار کا رنگ

سرمئی رنگ کہ ہے ساعتِ بیزار کا رنگ

زرد پتّوں کا ،خس وخار کا رنگ

سُرخ پُھولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا رنگ

زہر کا رنگ ، لہو رنگ ، شبِ تار کا رنگ

آسماں ، راہگزر،شیشہ مَے،

کوئی بھیگا ہُوا دامن ،کوئی دُکھتی ہوئی رگ

کوئی ہر لخطہ بدلتا ہُوا آئینہ ہے

اب جو آئے ہو تو ٹھہرو کہ کوئی رنگ ،کوئی رُت ،کوئی شے

ایک جگہ پر ٹھہرے،

پھر سے اک بار ہر اک چیز وہی ہو کہ جو ہے

آسماں حدِّ نظر ، راہگزر راہگزر، شیشہ مَے شیشہ مے

(ماسکو)

فیض احمد فیض

خوشا ضمانتِ غم

دیارِ یار تری جوششِ جنوں پہ سلام

مرے وطن ترے دامانِ تار تار کی خیر

رہِ یقین افشانِ خاک و خوں پہ سلام

مرے چمن ترے زخموں کے لالہ زار کی خیر

ہر ایک خانۂ ویراں کی تیرگی پہ سلام

ہر ایک خاک بسر، خانماں خراب کی خیر

ہر ایک کشتۂ ناحق کی خامشی پہ سلام

ہر ایک دیدۂ پُرنم کی آب و تاب کی خیر

رواں رہے یہ روایت ، خوشا ضمانتِ غم

نشاطِ ختمِ غمِ کائنات سے پہلے

ہر اک کے ساتھ رہے دولتِ امانتِ غم

کوئی نجات نہ پائے نَجات سے پہلے

سکوں ملے نہ کبھی تیرے پافگاروں کو

جمالِ خونِ سرِ خار کو نظر نہ لگے

اماں ملے نہ کہیں تیرے جاں نثاروں

جلالِ فرقِ سرِ دار کو نظر نہ لگے

(لندن)

فیض احمد فیض

شہرِ یاراں

آسماں کی گود میں دم توڑتا ہے طفل ابر

جم رہا ہے ابر کے ہونٹوں پہ خوں آلود کف

بُجھتے بُجھتے بُجھ گئی ہے عرش کے حُجروں میں آگ

دھیرے دھیرے بِچھ رہی ہے ماتمی تاروں کی صف

اے صبا شاید ترے ہمراہ یہ خونناک شام

سر جھکائے جارہی ہے شہرِ یاراں کی طرف

شہر یاراں جس میں اِس دم ڈھونڈتی پھرتی ہے موت

شیر دل بانکوں میں اپنے تیر و نشتر کے ہدف

اِک طرف بجتی ہیں جوشِ زیست کی شہنائیاں

اِک طرف چنگھاڑتے ہیں اہرمن کے طبل و دف

جاکے کہنا اے صبا ، بعد از سلامِ دوستی

آج شب جس دم گُزر ہو شہرِ یاراں کی طرف

دشتِ شب میں اس گھڑی چپ چاپ ہے شاید رواں

ساقیِ صبحِ طرب ، نغمہ بلب ، ساغر بکف

وہ پہنچ جائے تو ہو گی پھر سے برپا انجمن

اور ترتیبِ مقام و منصب و جاہ و شرف

فیض احمد فیض

کہاں جاؤ گے

اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند

عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے

عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری

سب ستارے سرِ خاشاک برس جائیں گے

آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں

اپنی تنہائی سمیٹے گا ، بچھائے گا کوئی

بے وفائی کی گھڑی ، ترکِ مدارات کا وقت

اس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئی!

ترکِ دنیا کا سماں ، ختمِ ملاقات کا وقت

اِس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

اِس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں ، رہنے دو

کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو

اور ملے گا بھی تو اس طور کہ پچھتاؤ گے

اس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشترِ صبح

زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے

اور ہر کشتۂ واماندگیِ آخرِ شب

بھول کر ساعتِ درماندگی آخرِ شب

جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے

فیض احمد فیض

دو مرثیے

۔ ۱ ۔

ملاقات مری

ساری دیوار سیہ ہو گئی تا حلقۂ دام

راستے بجھ گئے رُخصت ہُوئے رہ گیر تمام

اپنی تنہائی سے گویا ہوئی پھر رات مری

ہو نہ ہو آج پھر آئی ہے ملاقات مری

اک ہتھیلی پہ حِنا ، ایک ہتھیلی پہ لُہو

اک نظر زہر لئے ایک نظر میں دارو

دیر سے منزلِ دل میں کوئی آیا نہ گیا

فرقتِ درد میں بے آب ہُوا تختۂ داغ

کس سے کہیے کہ بھرے رنگ سے زخموں کے ایاغ

اور پھر خود ہی چلی آئی ملاقات مری

آشنا موت جو دشمن بھی ہے غم خوار بھی ہے

وہ جو ہم لوگوں کی قاتل بھی ہے دلدار بھی ہے

۔۲ ۔

ختم ہوئی بارشِ سنگ

ناگہاں آج مرے تارِ نظر سے کٹ کر

ٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمر

اب کسی سَمت اندھیرا نہ اُجالا ہو گا

بُجھ گئی دل کی طرح راہِ وفا میرے بعد

دوستو! قافلۂ درد کا اب کیا ہو گا

اب کوئی اور کرے پرورشِ گلشنِ غم

دوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنم

تھم گیا شورِ جنوں ختم ہوئی بارشِ سنگ

خاکِ رہ آج لئے ہے لبِ دلدار کا رنگ

کُوئے جاناں میں کُھلا میرے لہو کا پرچم

دیکھئے دیتے ہیں کِس کِس کو صدا میرے بعد

’’کون ہوتا ہے حریفِ مَے مرد افگنِ عشق

ہے مکرّر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد‘‘

فیض احمد فیض

زندگی

ملکۂ شہرِ زندگی تیرا

شُکر کسِ طور سے ادا کیجے

دولتِ دل کا کچھ شمار نہیں

تنگ دستی کا کیا گلہ کیجے

جو ترے حُسن کے فقیر ہوئے

ان کو تشویشِ روزگار کہاں؟

درد بیچیں گے گیت گائیں گے

اِس سے خوش وقت کاروبارکہاں؟

جام چھلکا توجم گئی محفل

مِنّت لُطفِ غم گسار کسے؟

اشک ٹپکا تو کِھل گیا گلشن

رنجِ کم ظرفیِ بہار کسے؟

خوش نشیں ہیں کہ چشم و دل کی مراد

دَیر میں ہے نہ خانقاہ میں ہے

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

ہر صنم اپنی بارگاہ میں ہے

کون ایسا غنی ہے جس سے کوئی

نقدِ شمس و قمر کی بات کرے

جس کو شوقِ نبرد ہو ہم سے

جائے تسخیرِ کائنات کرے

فیض احمد فیض

قیدِ تنہائی

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر

خواب ہی خواب میں بیدار ہُوا درد کا شہر

خواب ہی خواب میں بیتاب نظر ہونے لگی

عدم آبادِ جُدائی میں سحر ہونے لگی

کاسۂ دل میں بھری اپنی صبُوحی میں نے

گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر

آنکھ سے دُور کسی صبح کی تمہید لیے

کوئی نغمہ ، کوئی خوشبو ، کوئی کافر صورت

بے خبر گزری ، پریشانیِ اُمیّد لیے

گھول کر تلخیِ دیروز میں اِمروز کا زہر

حسرتِ روزِ ملاقات رقم کی میں نے

دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام

حُسنِ آفاق ، جمالِ لب و رخسار کے نام

(زندانِ قلعۂ لاہور)

فیض احمد فیض

آج بازار میں پابجولاں چلو

چشمِ نم ، جانِ شوریدہ کافی نہیں

تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار میں پابجولاں چلو

دست افشاں چلو ، مست و رقصاں چلو

خاک بر سر چلو ، خوں بداماں چلو

راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

حاکم شہر بھی ، مجمعِ عام بھی

تیرِ الزام بھی ، سنگِ دشنام بھی

صبحِ ناشاد بھی ، روزِ ناکام بھی

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے

دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو

پھر ہمیں قتل ہو آئیں یار چلو

(لاہورجیل)

فیض احمد فیض

شورشِ زنجیر بسم اللہ

ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ

ہر اک جانب مچا کہرامِ دار و گیر بسم اللہ

گلی کوچوں میں بکھری شورشِ زنجیر بسم اللہ

درِ زنداں پہ بُلوائے گئے پھر سے جُنوں والے

دریدہ دامنوں والے ،پریشاں گیسوؤں والے

جہاں میں دردِ دل کی پھر ہوئی توقیر بسم اللہ

ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ

گنو سب داغ دل کے ، حسرتیں شوقیں نگاہوں کی

سرِ دربار پُرسش ہورہی ہے پھر گناہوں کی

کرو یارو شمارِ نالۂ شب گیر بسم اللہ

ستم کی داستاں ، کُشتہ دلوں کا ماجرا کہیے

جو زیر لب نہ کہتے تھے وہ سب کچھ برملا کہیے

مُصرِ ہے محتسب رازِ شہیدانِ وفا کہیے

لگی ہے حرفِ نا گُفتہ پر اب تعزیر بِسم اللہ

سرِ مقتل چلو بے زحمتِ تقصیر بِسم اللہ

ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ

(لاہورجیل)

فیض احمد فیض

تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں!

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!

جس میں رکھا نہیں ہے کسی نے قدم

کوئی اترا نہ میداں میں ، دشمن نہ ہم

کوئی صف بن نہ پائی ، نہ کوئی علم

منتشرِ دوستوں کو صدا دے سکا

اجنبی دُشمنوں کا پتا دے سکا

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چُکی!

جس میں رکھا نہیں ہم نے اب تک قدم

تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں

جسم خستہ ہے ، ہاتھوں میں یارا نہیں

اپنے بس کا نہیں بارِ سنگ ستم

بارِ سنگِ ستم ، بار کہسار غم

جس کو چُھوکر سبھی اک طرف ہو گئے

بات کی بات میں ذی شرف ہو گئے

دوستو، کوئے جاناں کی نا مہرباں

خاک پر اپنے روشن لہو کی بہار

اب نہ آئے گی کیا؟ اب کِھلے گا نہ کیا

اس کفِ نازنیں پر کوئی لالہ زار؟

اس حزیں خامشی میں نہ لَوٹے گا کیا

شورِ آوازِ حق ، نعرئہ گیر و دار

شوق کا امتحاں جو ہُوا سو ہُوا

جسم و جاں کا زیاں جو ہُوا سو ہُوا

سُود سے پیشتر ہے زیاں اور بھی

دوستو ماتمِ جسم وجاں اور بھی

اور بھی تلخ تر امتحاں اور بھی

فیض احمد فیض

شام

اس طرح ہے کہ ہر اِک پیڑ کوئی مندر ہے

کوئی اُجڑا ہوا ، بے نُور پُرانا مندر

ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے

چاک ہر بام ، ہر اک در کا دمِ آخر ہے

آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے

جسم پر راکھ ملے ، ماتھے پہ سیندور ملے

سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے

اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے

جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام

دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام

اب کبھی شام بُجھے گی نہ اندھیرا ہو گا

اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہو گا

آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹُوٹے

چُپ کی زنجیر کٹے ، وقت کا دامن چُھوٹے

دے کوئی سنکھ دہائی ، کوئی پایل بولے

کوئی بُت جاگے ، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے

فیض احمد فیض

جشن کا دن

جنُوں کی یاد مناؤ کہ جشن کا دن ہے

صلیب و دار سجاؤ کہ جشن کا دن ہے

طرب کی بزم ہے بدلو دِلوں کے پیراہن

جگر کے چاک سِلاؤ کہ جشن کا دن ہے

تنک مزاج ہے ساقی نہ رنگِ مَے دیکھو

بھرے جو شیشہ ، چڑھاؤ کہ جشن کا دن ہے

تمیزِ رہبر و رہزن کرو نہ آج کے دن

ہر اک سے ہاتھ ملاؤ کہ جشن کا دن ہے

ہے انتظارِ ملامت میں ناصحوں کا ہجوم

نظر سنبھال کے جاؤ کہ جشن کا دن ہے

وہ شورشِ غمِ دل جس کی لے نہیں کوئی

غزل کی دُھن میں سُناؤ کہ جشن کا دن ہے

فیض احمد فیض

سفر نامہ

۱ ۔ پیکنگ

یوں گماں ہوتا ہے بازو ہیں مرے ساٹھ کروڑ

اور آفاق کی حد تک مرے تن کی حد ہے

دل مرا کوہ و دمن دشت و چمن کی حد ہے

میرے کیسے میں ہے راتوں کا سیہ فام جلال

میرے ہاتھوں میں ہے صبحوں کی عنانِ گلگوں

میری آغوش میں پلتی ہے خدائی ساری

میرے مقدور میں ہے معجزۂ کُن فَیَکُوں

۲ ۔ سِنکیانگ

اب کوئی طبل بجے گا ، نہ کوئی شاہسوار

صبحدم موت کی وادی کو روانہ ہو گا!

اب کوئی جنگ نہ ہو گی نہ کبھی رات گئے

خون کی آگ کو اشکوں سے بُجھانا ہو گا

کوئی دل دھڑکے گا شب بھر نہ کسی آنگن میں

وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا

سہم ، خونخوار درندے کی طرح آئے گا

اب کوئی جنگ نہ ہو گی مے و ساغر لاؤ

خوں لُٹانا نہ کبھی اشک بہانا ہو گا

ساقیا! رقص کوئی رقصِ صبا کی صورت

مطربہ! کوئی غزل رنگِ حِنا کی صورت

فیض احمد فیض

دستِ تہِ سنگ آمدہ

بیزار فضا ، درپئے آزارِ صبا ہے

یوں ہے کہ ہر اک ہمدمِ دیرینہ خفا ہے

ہاں بادہ کشو آیا ہے اب رنگ پہ موسم

اب سیر کے قابل روشِ آب و ہوا ہے

اُمڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برسات

چھائی ہوئی ہر وانگ ملامت کی گھٹا ہے

وہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحی

ہر کاسۂ مے زہرِ ھلاہل سے سوا ہے

ہاں جام اٹھاؤ کہ بیادِ لبِ شیریں

یہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے

اس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہے

مقصودِ رہِ شوق وفا ہے نہ جفا ہے

احساسِ غمِ دل جو غمِ دل کا صلا ہے

اس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہے

ہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریں

ہر پھول تری یاد کا نقشِ کفِ پا ہے

ہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنم

ڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہے

ہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تک

ہر حرفِ تمنّا ترے قدموں کی صدا ہے

تعزیرِ سیاست ہے ، نہ غیروں کی خطا ہے

وہ ظلم جو ہم نے دلِ وحشی پہ کیا ہے

زندانِ رہِ یار میں پابند ہوئے ہم

زنجیر بکف ہے ، نہ کوئی بند بپا ہے

"مجبوری و دعوائے گرفتاریِ الفت

دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے”

فیض احمد فیض

کوئی عاشق کسی محبوبہ سے

یاد کی راہگزر جس پہ اسی صورت سے

مدتیں بیت گئی ہیں تمہیں چلتے چلتے

ختم ہو جائے جو دو چار قدم اور چلو

موڑ پڑتا ہے جہاں دشتِ فراموشی کا

جس سے آگے نہ کوئی میں ہوں نہ کوئی تم ہو

سانس تھامے ہیں نگاہیں کہ نہ جانے کس دم

تم پلٹ آؤ، گزر جاؤ، یا مڑ کردیکھو

گرچہ واقف ہیں نگاہیں کہ یہ سب دھوکا ہے

گر کہیں‌ تم سے ہم آغوش ہوئی پھر سے نظر

پھوٹ نکلے گی وہاں اور کوئی راہگزر

پھر اسی طرح جہاں ہو گا مقابل پیہم

سایہء زلف کا اور جنببشِ بازو کا سفر

دوسری بات بھی جھوٹی ہے کہ دل جانتا ہے

یاں کوئی موڑ کوئی دشت کوئی گھات نہیں

جس کے پردے میں‌ مرا ماہِ رواں ڈوب سکے

تم سے چلتی رہے یہ راہ، یونہی اچھا ہے

تم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا تو کوئی بات نہیں

فیض احمد فیض

بنیاد کچھ تو ہو

کوئے ستم کی خامشی آباد کچھ تو ہو

کچھ تو کہو ستم کشو، فریاد کچھ تو ہو

بیداد گر سے شکوۂ بیداد کچھ تو ہو

بولو، کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو

مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا

اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پا

مقتل میں‌ کچھ تو رنگ جمے جشنِ رقص کا

رنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہو

خوں پر گواہ دامنِ جلّاد کچھ تو ہو

جب خوں بہا طلب کریں ،بنیاد کچھ تو ہو

گرتن نہیں ، زباں سہی، آزاد کچھ تو ہو

دشنام، نالہ، ہاؤ ہو، فریاد کچھ تو ہو

چیخے ہے درد، اے دلِ برباد کچھ تو ہو

بولو کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو

بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

یہ فصل امیدوں کی ہمدم

سب کاٹ دو بسمل پودوں کو

بے آب سسکتے مت چھوڑو

سب نوچ لو

بیکل پھولوں کو

شاخوں پہ بلکتے مت چھوڑو

یہ فصل امیدوں کی ہمدم

اس بار بھی غارت جائے گی

سب محنت، صبحوں شاموں کی

اب کے بھی اکارت جائے گی

کھیتی کے کونوں، کھدروں میں

پھر اپنے لہو کی کھاد بھرو

پھر مٹی سینچو اشکوں سے

پھر اگلی رت کی فکر کرو

پھر اگلی رت کی فکر کرو

جب پھر اک بار اُجڑنا ہے

اک فصل پکی تو بھر پایا

جب تک تو یہی کچھ کرنا ہے

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

Africa Come Back

آجاؤ، میں نے سن لی ترے ڈھول کی ترنگ

آجاؤ، مست ہو گئی میرے لہو کی تال

“آجاؤ ایفریقا“

آجاؤ، میں نے دھول سے ماتھا اٹھا لیا

آجاؤ، میں نے چھیل دی آنکھوں سے غم کی چھال

آجاؤ، میں نے درد سے بازو چھڑا لیا

آجاؤ، میں نے نوچ دیا بے کسی کا جال

’’جاؤ ایفریقا“

پنجے میں ہتھکڑی کی کڑی بن گئی ہے گرز

گردن کا طوق توڑ کے ڈھالی ہے میں نے ڈھال

“آجاؤ ایفریقا“

جلتے ہیں ہر کچھار میں بھالوں کے مرگ نین

دشمن لہو سے رات کی کالک ہوئی ہے لال

“آجاؤ ایفریقا“

دھرتی دھڑک رہی ہے مرے ساتھ ایفریقا

دریا تھرک رہا ہے توبن دے رہا ہے تال

میں ایفریقا ہوں، دھار لیا میں نے تیرا روپ

میں تو ہوں ،میری چال ہے تیری ببر چال

“آجاؤ ایفریقا“

آؤ ببر کی چال

“آجاؤ ایفریقا“

(منٹگمری جیل ۔ ؎۱افریقی حریت پسندوں کا نعرہ)

فیض احمد فیض

درد آئے گا دبے پاؤں

اور کچھ دیر میں ، جب پھر مرے تنہا دل کو

فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے

درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ

وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے

شعلہء درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا

دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا

حلقہء زلف کہیں، گوشہء رخسار کہیں

ہجر کا دشت کہیں، گلشنِ دیدار کہیں

لطف کی بات کہیں، پیار کا اقرار کہیں

۔۔

دل سے پھر ہو گی مری بات کہ اے دل اے دل

یہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کا

یہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گا

اس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہو گا

مشتعل ہو کے ابھی اٹھیں گے وحشی سائے

یہ چلا جائے گا، رہ جائیں گے باقی سائے

رات بھر جن سے ترا خون خرابا ہو گا

جنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دل

دشمنِ جاں ہیں سبھی، سارے کے سارے قاتل

یہ کڑی رات بھی ، یہ سائے بھی ، تنہائی بھی

درد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دل

لاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگار

طیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤ

وہ دہکتا ہوا گلزار کہاں ہے لاؤ

جس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر

منتظر ہو گا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر

ان کو شعلوں‌کے رجز اپنا پتا تو دیں‌گے

خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی، صدا تو دیں گے

دور کتنی ہے ابھی صبح، بتا تو دیں گے

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

دریچہ

گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں

ہر ایک اپنے مسیحا کے خوں کا رنگ لیے

ہر ایک وصلِ خداوند کی امنگ لیے

کسی پہ کرتے ہیں ابرِ بہار کو قرباں

کسی پہ قتل مہِ تابناک کرتے ہیں

کسی پہ ہوتی ہے سرمست شاخسار دو نیم

کسی پہ بادِ صبا کو ہلاک کرتے ہیں

ہر آئے دن یہ خداوندگانِ مہر و جمال

لہو میں‌ غرق مرے غمکدے میں‌ آتے ہیں

اور آئے دن مری نظروں کے سامنے ان کے

شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتوں‌کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں‌کی لالی لپکتی رہی

تیری زلفوں کی مستی برستی رہی

تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم

ہم چلے آئے ،لائے جہاں تک قدم

لب پہ حرفِ غزل ، دل میں قندیلِغم

اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی

دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم

ہم جو تاریک راہوں‌میں مارے گئے

نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی

تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی

کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے

ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم

اور نکلیں گے عُشاق کے قافلے

جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم

مختصر کر چلے درد کے فاصلے

کرچلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم

جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم

ہم جو تاریک راہوں میں‌ مارے گئے

فیض احمد فیض

اے روشنیوں‌کے شہر

سبزہ سبزہ، سوکھ رہی ہے پھیکی، زرد دوپہر

دیواروں‌کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر

دور افق تک گھٹتی، بڑھتی ، اُٹھتی، گرتی رہتی ہے

کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر

بستا ہے اس کہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر

اے روشنیوں کے شہر

کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ

ہر جانب بے نور کھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ

تھک کر ہرسو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ

آج مرا دل فکر میں ہے

اے روشنیوں کے شہر

شب خوں سے منھ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو

خیر ہو تیری لیلاؤں کی، ان سب سے کہہ دو

آج کی شب جب دیے جلائیں، اونچی رکھیں لو

(لاہور جیل)

فیض احمد فیض

واسوخت

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے

بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے

ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی!

ہاں، ہم ہی کاربندِ اصولِ وفا نہ تھے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں

بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

کیوں دادِ غم، ہمیں نے طلب کی، برا کیا

ہم سے جہاں میں کشتہء غم اور کیا نہ تھے

گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم

کیوں محوِ مدح خوبیء تیغِ ادا نہ تھے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے

لب پر ہے تلخیء مئے ایام ، ورنہ فیض

ہم تلخیء کلام پہ مائل ذرا نہ تھے

فیض احمد فیض

ملاقات

یہ رات اُس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے ، تجھ سے عظیم تر ہے

عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں

میں لاکھ مشعل بکف ستاروں

کے کارواں، گھِر کے کھو گئے ہیں

ہزار مہتاب، اس کے سائے

میں اپنا سب نور، رو گئے ہیں

یہ رات اُس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

مگر اسی رات کے شجر سے

یہ چند لمحوں کے زرد پتے

گرے ہیں، اور تیرے گیسوؤں میں

الجھ کے گلنار ہو گئے ہیں

اسی کی شبنم سے خامشی کے

یہ چند قطرے، تری جبیں پر

برس کے ، ہیرے پرو گئے ہیں

۔ ۲ ۔

بہت سیہ ہے یہ رات لیکن

اسی سیاہی میں رونما ہے

وہ نہرِ خوں جو مری صدا ہے

اسی کے سائے میں نور گر ہے

وہ موجِ زر جو تری نظر ہے

وہ غم جو اس وقت تیری باہوں

کے گلستاں میں‌ سلگ رہا ہے

(وہ غم، جو اس رات کا ثمر ہے)

کچھ اور تپ جائے اپنی آہوں

کی آنچ میں تو یہی شرر ہے

ہر اک سیہ شاخ کی کماں سے

جگر میں‌ٹوٹے ہیں تیر جتنے

جگر سے نوچے ہیں، اور ہر اک

کا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے

الم نصیبوں، جگر فگاروں

کی صبح، افلاک پر نہیں ہے

جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں

سحر کا روشن افق یہیں ہے

یہیں‌پہ غم کے شرار کھل کر

شفق کا گلزار بن گئے ہیں

یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے

قطار اندر قطار کرنوں

کے آتشیں ہار بن گئے ہیں

یہ غم جو اس رات نے دیا ہے

یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے

یقیں جو غم سے کریم تر ہے

سحر جو شب سے عظیم تر ہے

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

اے حبیبِ عنبر دست!

کسی کے دستِ عنایت نے کنجِ زنداں میں

کیا ہے آج عجب دل نواز بندوبست

مہک رہی ہے فضا زلفِ یار کی صورت

ہوا ہے گرمیء خوشبو سے اس طرح سرمست

ابھی ابھی کوئی گزرا ہے گل بدن گویا

کہیں قریب سے ، گیسو بدوش ، غنچہ بدست

لیے ہے بوئے رفاقت اگر ہوائے چمن

تو لاکھ پہرے بٹھائیں قفس پہ ظلم پرست

ہمیشہ سبز رہے گی وہ شاخِ مہرووفا

کہ جس کے ساتھ بندھی ہے دلوں کی فتح و شکست

یہ شعرِ حافظِ شیراز ، اے صبا! کہنا

ملے جو تجھ سے کہیں وہ حبیبِ عنبر دست

"خلل پذیر بود ہر بنا کہ مے بینی

بجز بنائے محبت کہ خالی از خلل است”

(سنٹرل جیل حیدر آباد ٨٢)

فیض احمد فیض

یاد

دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں

تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹوں کے سراب

دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے

کھل رہے ہیں، ترے پہلو کے سمن اور گلاب

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ

اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدہم مدہم

دورافق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ

گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم

اس قدر پیار سے، اے جانِ جہاں، رکھا ہے

دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات

یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبح فراق

ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

فیض احمد فیض

زنداں کی ایک صبح

رات باقی تھی ابھی جب سرِ بالیں آکر

چاند نے مجھ سے کہا۔۔۔“جاگ سحر آئی ہے

جاگ اس شب جو مئے خواب ترا حصہ تھی

جام کے لب سے تہ جام اتر آئی ہے“

عکسِ جاناں کو ودع کرکے اُٹھی میری نظر

شب کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سیہ چادر پر

جابجا رقص میں آنے لگے چاندی کے بھنور

چاند کے ہاتھ سے تاروں کے کنول گر گر کر

ڈوبتے، تیرتے، مرجھاتے رہے، کھلتے رہے

رات اور صبح بہت دیر گلے ملتے رہے

صحنِ زنداں میں رفیقوں کے سنہرے چہرے

سطحِ ظلمت سے دمکتے ہوئے ابھرے کم کم

نیند کی اوس نے ان چہروں سے دھو ڈالا تھا

دیس کا درد، فراقِ رخِ محبوب کا غم

دور نوبت ہوئی، پھرنے لگے بیزار قدم

زرد فاقوں کے ستائے ہوئے پہرے والے

اہلِ زنداں کے غضبناک ، خروشاں نالے

جن کی باہوں میں پھرا کرتے ہیں باہیں ڈالے

لذتِ خواب سے مخمور ہوائیں جاگیں

جیل کی زہر بھری چور صدائیں جاگیں

دور دروازہ کھلا کوئی، کوئی بند ہوا

دور مچلی کوئی زنجیر ، مچل کر روئی

دور اُترا کسی تالے کے جگر میں خنجر

سر پٹکنے لگا رہ رہ کے دریچہ کوئی

گویا پھر خواب سے بیدار ہوئے دشمنِ جاں

سنگ و فولاد سے ڈھالے ہوئے جناتِ گراں

جن کے چنگل میں شب و روز ہیں فریاد کناں

میرے بیکار شب و روز کی نازک پریاں

اپنے شہپور کی رہ دیکھ رہی ہیں یہ اسیر

جس کے ترکش میں ہیں امید کے جلتے ہوئے تیر

(ناتمام)

فیض احمد فیض

زنداں کی ایک شام

شام کے پیچ و خم ستاروں سے

زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات

یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار

سرنگوں ،محو ہیں بنائے میں

دامنِ آسماں پہ نقش و نگار

شانہء بام پر دمکتا ہے!

مہرباں چاندنی کا دستِ جمیل

خاک میں گھل گئی ہے آبِ نجوم

نور میں گھل گیا ہے عرش کا نیل

سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

موجِ دردِ فراقِ یار آئے

دل سے پیہم خیال کہتا ہے

اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے

کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

فیض احمد فیض

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

موتی ہو کہ شیشہ، جام کہ دُر

جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا

کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے

جو ٹوٹ گیا ، سو چھوٹ گیا

تم ناحق ٹکڑے چن چن کر

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کامسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

شاید کہ انہی ٹکڑوں میں کہیں

وہ ساغرِ دل ہے جس میں کبھی

صد ناز سے اُترا کرتی تھی

صہبائے غمِ جاناں کی پری

پھر دنیا والوں نے تم سے

یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا

جو مے تھی بہادی مٹی میں

مہمان کا شہپر توڑ دیا

یہ رنگیں ریزے ہیں شاید

اُن شوخ بلوریں سپنوں کے

تم مست جوانی میں جن سے

خلوت کو سجایا کرتے تھے

ناداری، دفتر، بھوک اور غم

ان سپنوں سے ٹکراتے رہے

بے رحم تھا چومکھ پتھراو

یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

یا شاید ان ذروں میں کہیں

موتی ہے تمہاری عزت کا

وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی

شمشاد قدوں نے رشک کیا

اس مال کی دھن میں پھرتے تھے

تاجر بھی بہت، رہزن بھی کئی

ہے چورنگر، یاں مفلس کی

گرجان بچی تو آن گئی

یہ ساغر، شیشے، لعل و گہر

سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں

یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں، تو فقط

چبھتے ہیں، لہو رُلواتے ہیں

تم ناحق شیشے چن چن کر!

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

یادوں کے گریبانوں کے رفو

پر دل کی گزر کب ہوتی ہے

اک بخیہ اُدھیڑا، ایک سیا

یوں عمر بسر کب ہوتی ہے

اس کارگہِ ہستی میں جہاں

یہ ساغر، شیشے ڈھلتے ہیں

ہر شے کا بدل مل سکتا ہے

سب دامن پُر ہو سکتے ہیں

جو ہاتھ بڑھے ، یاور ہے یہاں

جو آنکھ اُٹھے، وہ بختاور

یاں دھن دولت کا انت نہیں

ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ ، مگر

کب لوٹ چھپٹ سے ہستی کی

دوکانیں خالی ہوتی ہیں

یا پربت پربت ہیرے ہیں

یاں ساگر ساگر موتی ہیں

کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر

پردے لٹکائے پھرتے ہیں

ہر پربت کو، ہر ساگر کو

نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں

کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بھِڑ کر

یہ پردے نوچ گراتے ہیں

ہستی کے اُٹھائی گیروں کی

ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں

ان دونوں میں رَن پڑتا ہے

نِت بستی بستی نگر نگر

ہر بستے گھر کے سینے میں

ہر چلتی راہ کے ماتھے پر

یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں

وہ جوت جگاتے رہتے ہیں

یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں

وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں

سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر

اس بازی میں بَد جاتے ہیں

اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو

اِس رَن سے بلاوے آتے ہیں

فیض احمد فیض

نثار میں تیری گلیوں کے

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد

؎۱ کہ سنگ و خشت مقیّد ہیں اور سگ آزاد

بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جُو کے لیے

جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں

بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی

کسیے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں

ترے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں

بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے

کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی

چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے

کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہو گی

غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں

گرفتِ سایہء دیوار و در میں جیتے ہیں

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق

نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی

یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول

نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے

ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے

یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں

علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

؎۱ سنگ ہارا بستند و سگاں را کشادند (شیخ سعدی)

فیض احمد فیض

اگست 1952ء

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں

اب بھی خزاں کا راج ہے لیکن کہیں کہیں

گوشے رہِ چمن میں غزلخواں ہوے تو ہیں

ٹھہری ہوئی ہے شب کی سیاہی وہیں مگر

کچھ کچھ سحر کے رنگ پَر افشاں ہوے تو ہیں

ان میں لہو جلا ہو ہمارا، کہ جان و دل

محفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں

ہاں کج کرو کلاہ کہ سب کچھ لٹا کے ہم

اب بے نیازِ گردشِ دوراں ہوئے تو ہیں

اہلِ قفس کی صبحِ چمن میں کھلے گی آنکھ

بادِ صبا سے وعدہ و پیماں ہوئے تو ہیں

ہے دشت اب بھی دشت، مگر خونِ پا سے فیض

سیراب چند خارِ مغیلاں ہوئے تو ہیں

فیض احمد فیض

ایرانی طلبا کے نام

جو امن اور آزادی کی جدوجہد میں کام آئے

یہ کون سخی ہیں

جن کے لہوکی

اشرفیاں، چھن چھن، چھن چھن،

دھرتی کے پیہم پیاسے

کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں

کشکول کو بھرتی ہیں

یہ کون جواں ہیں ارضِ عجم

یہ لکھ لُٹ

جن کے جسموں کی

بھرپور جوانی کا کندن

یوں خاک میں ریزہ ریزہ ہے

یوں کوچہ کوچہ بکھرا ہے

اے ارضِ عجم، اے ارضِ عجم

کیوں نوچ کے ہنس ہنس پھینک دئے

ان آنکھوں نے اپنے نیلم

ان ہونٹوں نے اپنے مرجاں

ان ہاتوں کی“ بے کل چاندی

کس کام آئی، کس ہاتھ لگی؟“

“اے پوچھنے والے پردیسی!

یہ طفل و جواں

اُس نور کے نورس موتی ہیں

اُس آگ کی کچی کلیاں ہیں

جس میٹھے نور اور کڑوی آگ

سے ظلم کی اندھی رات میں پھوٹا

صبحِ بغاوت کا گلشن

اور صبح ہوئی من من، تن تن

ان جسموں کا چاندی سونا

ان چہروں کے نیلم، مرجاں،

جگ مگ جگ مگ، رُخشاں رُخشاں

جو دیکھنا چاہے پردیسی

پاس آئے دیکھے جی بھر کر

یہ زیست کی رانی کا جھومر

یہ امن کی دیوی کا کنگن!“

فیض احمد فیض

نوحہ

مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جانتے ہوئے

لے گئے ساتھ مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں

اس میں بچپن تھا مرا، اور مرا عہدِ شباب

اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے

اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوں رنگ گلاب

کیا کروں بھائی ، یہ اعزاز میں کیونکر پہنوں

مجھ سے لے لو مری سب چاک قمیصوں کا حساب

آخری بار ہے، لو مان لو اک یہ بھی سوال

آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوسِ جواب

آکے لے جاو تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول

مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

فیض احمد فیض

دو عشق

۔ ١ ۔

تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیِ گلفام

وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام

وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت

وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام

امید کہ لو جاگا غمِ دل کا نصیبہ

لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر

لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے

اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر

اس بام سے نکلے گا ترے حسن کا خورشید

اُس کنج سے پھوٹے گی کرن رنگِ حنا کی

اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب

اُس راہ پہ پھولے گی شفق تیری قبا کی

پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھی

جب فکرِ دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہے

ہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے

ہر صبح کی لو تیر سی سینے میں لگی ہے

تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے

کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں

آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دستِ صبا کو

ڈالی ہیں کبھی گردنِ مہتاب میں باہیں

۔ ٢ ۔

چاہا ہے اسی رنگ سے لیلائے وطن کو

تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں

ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل

رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

اُس جانِ جہاں کو بھی یونہی قلب و نظر نے

ہنس ہنس کے صدا دی، کبھی رو رو کے پکارا

پورے کیے سب حرفِ تمنا کے تقاضے

ہر درد کو اجیالا، ہر اک غم کو سنوارا

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا

تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی

خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحتِ داماں

سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری

تنہا پسِ زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار

گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہء منبر

کڑکے ہیں بہت اہلِ حکم برسرِ دربار

چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام

چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت

اس عشق، نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل

ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت

فیض احمد فیض

ترانہ

دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے

کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت

چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک

کچھ حشر تو ان سے اُٹھے گا۔ کچھ دور تو نالے جائیں گے

فیض احمد فیض

۔۔۔۔۔۔تمہارے حسن کے نام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

بکھر گیا جو کبھی رنگِ پیرہن سرِ بام

نکھر گئی ہے کبھی صبح، دوپہر ، کبھی شام

کہیں جو قامت زیبا پہ سج گئی ہے قبا

چمن میں سرو و صنوبر سنور گئے ہیں تمام

بنی بساطِ غزل جب ڈبو لیے دل نے

تمہارے سایہء رخسار و لب میں ساغر و جام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

تمہارے ہاتھ پہ ہے تابشِ حنا جب تک

جہاں میں باقی ہے دلداریء عروسِ سخن

تمہارا حسن جواں ہے تو مہرباں ہے فلک

تمہارا دم ہے تو دمساز ہے ہوائے وطن

اگر چہ تنگ ہیں اوقات ، سخت ہیں آلام

تمہاری یاد سے شریں ہے تلخیء ایام

سلام لکھتا ہے شاعر تمہارے حسن کے نام

فیض احمد فیض

سرِ مقتل

کہاں ہے منزلِ راہِ تمنا ہم بھی دیکھیں گے

یہ شب ہم پر بھی گزرے گی، یہ فردا ہم بھی دیکھیں گے

ٹھہر اے دل، جمالِ روئے زیبا ہم بھی دیکھیں گے

ذرا صیقل تو ہولے تشنگی بادہ گساروں کی

دبا رکھیں گے کب تک جوشِ صہبا ہم بھی دیکھیں گے

اٹھا رکھیں گے کب تک جام و مینا ہم بھی دیکھیں گے

صلا آتو چکے محفل میں اُس کوئے ملامت سے

کسے روکے گا شورِ پندِ بے جا ہم بھی دیکھیں گے

کسے ہے جاکے لوٹ آنے کا یارا ہم بھی دیکھیں گے

چلے ہیں جان و ایماں آزمانےآج دل والے

وہ لائیں لشکرِ اغیار و اعدا ہم بھی دیکھیں گے

وہ آئیں تو سرِ مقتل،تماشا ہم بھی دیکھیں گے

یہ شب کی آخری ساعت گراں کیسی بھی ہو ہمدم

جو اس ساعت میں پنہاں ہے اجالا ہم بھی دیکھیں گے

جو فرقِ صبح پر چمکے گا تارا ہم بھی دیکھیں گے

فیض احمد فیض

طوق و دار کا موسم

روش روش ہے وہی انتظار کا موسم

نہیں ہے کوئی بھی موسم، بہار کا موسم

گراں ہے دل پہ غمِ روزگار کا موسم

ہے آزمائشِ حسنِ نگار کا موسم

خوشا نظارۂ رخسارِ یار کی ساعت

خوشا قرارِ دلِ بے قرار کا موسم

حدیثِ بادہ و ساقی نہیں تو کس مصرف

خرامِ ابرِ سرِ کوہسار کا موسم

نصیبِ صحبتِ یاراں نہیں تو کیا کیجے

یہ رقص سایہء سرو و چنار کا موسم

یہ دل کے داغ تو دکھتے تھی یوں بھی پر کم کم

کچھ اب کے اور ہے ہجرانِ یار کا موسم

یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم

یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم

قفس ہے بس میں تمہارے، تمہارے بس میں نہیں

چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم

صبا کی مست خرامی تہِ کمند نہیں

اسیرِ دام نہیں ہے بہار کا موسم

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم

فیض احمد فیض

شورشِ بربط و نَے

پہلی آواز

اب سعِی کا امکاں اور نہیں پرواز کا مضموں ہو بھی چکا

تاروں پہ کمندیں پھینک چکے، مہتاب پہ شب خوں ہو بھی چکا

اب اور کسی فردا کے لیے ان آنکھوں سے کیا پیماں کیجے

کس خواب کے جھوٹے افسوں سے تسکینِ دل ناداں کیجے

شیرینیء لب، خوشبوئے دہن، اب شوق کا عنواں کوئی نہیں

شادابیء دل، تفریحِ نظر، اب زیست کا درماں کوئی نہیں

جینے کے فسانے رہنے دو، اب ان میں الجھ کر کیا لیں گے

اک موت کا دھندا باقی ہے، جب چاہیں گے نپٹالیں گے

یہ تیرا کفن، وہ میرا کفن، یہ میری لحد، وہ تیری ہے

دوسری آواز

ہستی کی متاعِ بے پایاں ، جاگیر تری ہے نہ میری ہے

اس بزم میں اپنی مشعلِ دل، بسمل ہے تو کیا، رخشاں ہے تو کیا

یہ بزم چراغاں رہتی ہے، اک طاق اگر ویراں ہے تو کیا

افسردہ ہیں گر ایام ترے، بدلا نہیں مسلکِ شام و سحر

ٹھہرے نہیں موسمِ گل کے قدم ، قائم ہے جمالِ شمس و قمر

آباد ہے وادیء کاکل و لب، شاداب و حسیں گلگشتِ نظر

مقسوم ہے لذتِ دردِ جگر، موجود ہے نعمتِ دیدہء تر

اس دیدہء تر کا شکر کرو، اس ذوقِ نظر کا شکر کرو

اس شام و سحر کا شکر کرو، اس شمس و قمر کا شکر کرو

پہلی آواز

گر ہے یہی مسلکِ شمس و قمر ان شمس و قمر کا کیا ہو گا

رعنائیِ شب کا کیا ہو گا، اندازِ سحر کا کیا ہو گا

جب خونِ جگر برفاب بنا، جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں

اس دیدہء تر کا کیا ہو گا، اس ذوقِ نظر کا کیا ہو گا

جب شعر کے خیمے راکھ ہوئے، نغموں کی طنابیں ٹوٹ گئیں

یہ ساز کہاں سر پھوڑیں گے، اس کلکِ گہر کا کیا ہو گا

جب کنجِ قفس مسکن ٹھہرا، اور جیب و گریباں طوق و رسن

آئے کہ نہ آئے موسمِ گل، اس دردِ جگر کا کیا ہو گا

دوسری آواز

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک، اس خوں میں حرارت ہے جب تک

اس دل میں صداقت ہے جب تک، اس نطق میں طاقت ہے جب تک

ان طوق و سلاسل کو ہم تم، سکھلائیں گے شورشِ بربط و نَے

وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامہء طبلِ قیصر و کَے

آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھرپور خزینہ ہمت کا

اک عمر ہے اپنی ہر ساعت، امروز ہے اپنا ہر فردا

یہ شام و سحر یہ شمس و قمر، یہ اختر و کوکب اپنے ہیں

یہ لوح و قلم، یہ طبل و علم، یہ مال و حشم سب اپنے ہیں

فیض احمد فیض

لوح و قلم

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے

ویرانئ دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

ہاں تلخئ ایام ابھی اور بڑھے گی

ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا

دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے

مے خانہ سلامت ہے، تو ہم سرخئ مے سے

تزئینِ درو بامِ حرم کرتے رہیں گے

باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا

رنگِ لب و رخسارِ صنم کرتے رہیں گے

اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

صبح آزادی اگست 47ء

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل

کہیں تو جاکے رکے گا سفینہء غمِ دل

جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے

چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے

دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے

پکارتی رہیں، باہیں، بدن بلاتے ہیں

بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن

بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن

سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن

سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور

سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام

بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور

نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام

جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن

کسی پہ چارہء ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں

کہاں سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی

ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

ابھی گرانیء شب میں کمی نہیں آئی

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

فیض احمد فیض

مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن

تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن

میری دلجوئی، مرے پیار سے مت جائے گی

گرمرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے

جی اٹھے پھر ترا اُجڑا ہوا بے نور دماغ

تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ

تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست!

روز و شب، شام و سحر میں تجھےبہلاتا رہوں

میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں،

آبشاروں کے، بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت

آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت

تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں

کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم

گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں

کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش

دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں

کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور

یک بیک بادہء احمر سے دہک جاتا ہے

کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخِ گلاب

کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے

یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر

گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تیری خاطر

یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں

نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی

گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی

تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا

اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں

اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں

ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

فیض احمد فیض

سیاسی لیڈر کے نام

سالہا سال یہ بے آسرا جکڑے ہوئے ہاتھ

رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے

جس طرح تنکا سمندر سے ہو سر گرمِ ستیز

جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے

اور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میں

اتنے گھاو ہیں کہ جس سمت نظر جاتی ہے

جابجا نور نے اک جال سا بن رکھا ہے

دور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہے

تیرا سرمایہ، تری آس یہی ہاتھ تو ہیں

اور کچھ بھی تو نہیں پاس، یہی ہاتھ تو ہیں

تجھ کو منظور نہیں غلبہء ظلمت، لیکن

تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں

اور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دن

رات کی آہنی میت کے تلے دب جائے!

فیض احمد فیض

اے دلِ بیتاب ٹھہر!

تیرگی ہے کہ امنڈتی ہی چلی آتی ہے

شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے

چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی

دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے

رات کا گرم لہو اور بھی بہ جانے دو

یہی تاریکی تو ہے غازہء رخسارِ سحر

صبح ہونے ہی کو ہے اے دلِ بیتاب ٹھہر

ابھی زنجیر چھنکتی ہے پسِ پردہء ساز

مطلق الحکم ہے شیرازہء اسباب ابھی

ساغرِ ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں

لغزشِ پا میں ہے پابندئ آداب ابھی

اپنے دیوانوں کو دیوانہ تو بن لینے دو

اپنے میخانوں کو میخانہ تو بن لینے دو

جلد یہ سطوتِ اسباب بھی اُٹھ جائے گی

یہ گرانبارئ آداب بھی اُٹھ جائے گی

خواہ زنجیر چھنکتی ہی، چھنکتی ہی رہے

فیض احمد فیض

شاہراہ

ایک افسردہ شاہراہ ہے دراز

دور افق پر نظر جمائے ہوئے

سرد مٹی پہ اپنے سینے کے

سرمگیں حسن کو بچھائے ہوئے

جس طرح کوئی غمزدہ عورت

اپنے ویراں کدے میں محو خیال

وصل محبوب کے تصور میں

مو بمو چور، عضو عضو نڈھال

فیض احمد فیض