زمرہ جات کے محفوظات: نظم

وقت کے پاس گروی رکھی آنکھ سے

وقت کے پاس گروی رکھی آنکھ سے

آئینہ دیکھ کر کو ن مسرور ہو!

کون متروک لفظوں سے نظمیں لکھے

کون حرفِ ستائش پہ ممنون ہو

ہو تفکر کہاں کس جگہ خیمہ زن؟

جب تنابیں زمیں کی ہیں اکھڑی ہوئی

کیسے شبدوں میں سمٹے خلاوں کا غم

رات اور دن کے بوسیدہ زندان میں

کون بجھتے ستاروں سے محظوظ ہو

کیوں تخیل کی بازی گری میں رہیں

میرا امکان بن کر مری بے بسی

شام بے گھر ہے اور بادلوں کا فضا میں ٹھکانہ نہیں

نقش بر آب ہے موج انفاس کی

ایک بیتے ہوئے خواب کے سائے میں

جھیلتی ہے مجھے میری موجودگی

نینا عادل

ہمیں اب کوچ کرنا ہے

شفق پھوٹی چھلکتے سات رنگوں سے کٹورا بھر گیا دن کا

زمیں مٹیالے ہاتھوں کی حرارت تاپنے جاگی

مرے بچے! ہمیں اب لوٹنا ہو گا

گھنے پیڑوں کے سائے میں

جہاں بھیڑوں کے ریوڑ کو قناعت چست رکھتی ہے

جہاں مچھلی بھی کائی بھوک سے زیادہ نہیں کھاتی

گلہری کے لیے اخروٹ کا چھلکا بھی کافی ہے

درختوں پر جہاں پنچھی بسیرا کرتے ہیں، قبضہ نہیں کرتے

جہاں ہے بر لبِ موجِ ہوا اک لحنِ آزادی

متاعِ روحِ آزادی

نشاطِ اصلِ آزادی

جہاں پھولوں کو بے پردا بھی کھلنے کی ہے آزادی

ہمیں ان سبزہ زاروں کی طرف اب کوچ کرنا ہے

مرے بچے! جہاں ہم آن نکلے ہیں یہ منڈی تاجروں کی ہے

یہاں چہکار چڑیوں کی، چمکتے تتلیوں کے پر کوئی قیمت نہیں رکھتے

سمندر کا کنارہ، سیپیاں، دم توڑتی لہریں

بھگوتی ہی نہیں پلکیں!

منافع پر نظر رکھتی ہیں کاروبار کی آنکھیں

دھڑکتے پانیوں کی لَے نہیں سنتے ہیں بیوپاری

یہاں تہذیب کی، تاریخ کی اور تخت کی قیمت

فقط اک کھوٹا سکہ ہے

یہاں انسان کیا شئے ہے خدا بے مول بکتا ہے

تو اس سے پیشتر سودا ہمارا طے کیا جائے

ہمارا کل اثاثہ کوڑیوں کے دام بک جائے

ہمیں اب کوچ کرنا ہے!!

نینا عادل

نطشے کا مغرب جانتا ہے

شام ڈھلے جن آ جاتے ہیں ایک کنواری لڑکی پر

پھر تنگ نائے میں دیر تلک لوبان کی خوشبو اٹھتی ہے

درگاہوں کی قبروں سے اٹھتا ہے اگر بتّی کا دھواں

سلگے ہوئے سگریٹ بجھتے ہیں جلتے ہوئے ذہنوں کے اندر

چشمہ رکھا ہے سستا سا کچھ جنسی کتابوں کے اوپر

نالی کے گندے پانی پر منڈلاتے رہتے ہیں مچھر

اور چونٹیاں چنگیری کی باسی روٹی پر اک لائن میں

طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھائے سیدھ میں چلتی جاتی ہیں

ساڑھی کے میلے پلّو سے ناداری کی بو اٹھتی ہے

آنکھوں کے گدلے گنگا میں اک آس کا دیپک جلتا ہے

اور خوف کی بے رنگ چابی سے معبد کا تالا کھلتا ہے

نطشے کا مغرب جانتا ہے

[دھن کن فقراء میں بٹتا ہے]

مشرق کا خدا کیوں زندہ ہے

نینا عادل

میں تیری نظم نہیں ہوں

گماں نہ کر!

کہ تو مجھے مصرعوں میں ڈھال سکتا ہے

مجھ میں پھیلے ہوئے صحرا کی ریت سمیٹ سکتا ہے

یا مر ی آنکھ کے دریا کو لفظ کے کوزے میں قید کر سکتا ہے

تو چاہے عمر بھرمرے رنگ چن چن کر من پسند تصاویر بناتا رہے

اور اپنے ادھ کچرا خیالات کی داد پاتا رہے

مگر اے کم ہنر! میری تصویر کے بے شمار رنگ ترے تصّور سے ماورا ہیں

مجھے افسوس نہیں! کہ تو اپنے بھائی کی طرح جنگِ عظیم دوم میں دشمن کے کام نہ آسکا

تری دانشوری پلاسی کی شرمناک شکست میں دشمنوں کو نیست ونابود کر دینے کا کوئی اعلی منصوبہ بنانے سے قاصر رہی

اور تری نام نہاد فیاضی بوسنیا کے بدترین قحط میں دم توڑ گئی

مجھے قطعاً افسوس نہیں کہ تری دولت تری احتیاجات کی تشفی کر سکی نہ تری سیاست انسانی اغراض کی تسکین کا ذریعہ بن

سکی

نہ تیرا خدا تجھے امان دے سکا

اور نہ ہی تری محبت ترے ادھورے پن کی تکمیل کر سکی

میں

ازل سے تیری ادھ کچرا نظمیں سننے کی عادی ہوں

یہ جانتے ہوئے بھی کہ تو مجھ سے اپنی ناتمامی کا انتقام نہیں لے سکتا

اور تا ابد مجھے نظم نہیں کر سکتا

نینا عادل

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں

میرے ابو جب کام پر جاتے

تو ان کے واپس لوٹ آنے تک

صحن میں دھول اڑاتی مٹی سانسوں میں خدشے بھرتی تھی

امی خود بھی چپ چپ رہتیں، ہم بھی شور نا کرنے پاتے

گھر کی دیواروں پر لکھی خوف کی بھاشا پڑھ سکتی تھی

میں ایک مہاجر کی بیٹی ۔۔۔

پانچ نمبر کی پھولوں والی ایک گلی میں

کالج کے اک اسٹوڈنٹ کی لاش پڑی ہے! دہشت گرد ہے

میرے سہیلی کے ہاتھوں میں اس کا خط ہے، جس پہ لکھا ہے!

’’زندہ رہا تو عشق کروں گا‘‘

بیچ صدر میں ۔۔۔ بندوقوں کی تڑ تڑ تڑ میں

میں کالج کے ڈیسک کے اوپر کھرچ کھرچ کر لکھ آئی تھی

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں ۔

میرے دادا دکن سے اخبار، کتابیں اور مصلّہ لائے تھے

اور میری دادی! ساڑھی، خاموشی اور آنسو ۔۔۔

ان کے چہرے کی جھریوں میں جذب اداسی اور ہجرت

میں اپنی ہری رگوں میں، شریانوں میں اور جسم کے ہر خلیے میں سمو چکی ہوں

میں نے کراچی کی گلیوں سے عشق کیا ہے

مجھ میں میرا کل زندہ ہے، مجھ میں میرا ٓج بپا ہے

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں اورمیرے بچوں کا ورثہ ہے

جنگ بقا کی ۔۔۔

نینا عادل

محبت میں

محبت میں عبادت کا ایک وقت مقرر ہے

کسی مجذوب لمحے میں آنسووں سے بے ارادہ غسل کرنے کا

کسی نام کی تسبیح ہزاروں بار پڑھنے کا

سپردگی کا، بھینٹ چڑھنے کا

خود اپنے ہاتھ سے اپنے لہو کو سرد کرنے کا

کسی بجھتی ہوئی رنجور شب میں

دیے کی آتشیں لو کے بھڑکنے کا

تڑپنے کا

روح کے گمنام پنچھی کا بدن کی بدنما، بے دام نجاست سے نکلنے کا

محبت میں طہارت کا!!

ایک وقت مقرر ہے

اور یہ وقت ہے جب شیطانیت اپنی بقا کے واسطے ہزاروں داؤ چلتی ہے

وہ سارے داؤ! جن کے سبب ایک بارگاہِ دل مقتل میں بدل جائے

طلب کی دہلیز پر رکھے مہکتے سرخ پھولوں سے لہو کی تیز بُو آئے

نینا عادل

مال روڈ سے گزرتے ہوئے اک نظم

اس رستے پر دو جسموں کا اک سایہ تھا!

اور دو روحوں کا اک مسلک!

گونج رہا تھا اس رستے پر حرف کا پہلا سنّاٹا

دھڑکن کی تسبیح مسلسل اسم انوکھے پڑھتی تھی

رسوائی کی شوخ ہوائیں بے باکی سے رقصاں تھیں

اس رستے پر گہرے بادل دھوپ کرن سے لڑتے تھے

خواب کے پنچھی انجانی سمتوں میں اڑانیں بھرتے تھے!

پھولوں نے خوشبوکا منتر پھونک دیا تھا سینوں پر!

اس رستے پر تم تھے (شاید خود سے ناواقف)

اس رستے پر میں تھی! اور میں تم میں شامل تھی

زادِ سفر میں ایک تھکن تھی، ایک دکھن اور ایک یقیں!!

ہر قلب سرائے ہوتا ہے اور نے ہی گزر گہہ ہر رستہ

کچھ رستوں سے لوٹ بھی جائیں، دور نہیں جا سکتے ہم

کچھ منظر بن جاتے ہیں نادیدہ حصہ آنکھوں کا

کچھ لمحوں کی قید ہمیشہ دل کو کاٹنی پڑتی ہے

نینا عادل

کھیل جاری رہے

بے جھجک، بے خطر

بے دھڑک وار کر

میری گردن اُڑا

اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر

چھین لے حسن و خوبی، انا، دلکشی

میرے لفظوں میں لپٹا ہوا مال وزر

میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی

میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر

تجھ سے شکوہ نہیں

اے عدو میرے میں تیری ہمدرد ہوں

تیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیں

تجھ سے کیسے کہوں!!

تجھ سے کیسے کہوں! قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں

(اور ہو بھی اگر، تیری کم مائیگی کا مداوا نہیں )

ہاں مگر تیری دل جوئی کے واسطے

میری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے

(تیری دانست میں )

کھیل جاری رہے

نینا عادل

قبر

شہزادہ لپٹتا ہے مجھ سے اور

دور کہیں

چڑیا کو سانپ نگلتا ہے

سانسوں میں گھلتی ہیں سانسیں

اور زہر اترتا جاتا ہے

لمحات کے نیلے قطروں میں

کانوں میں مرے رس گھولتا ہے شبدوں کا ملن اور ۔۔۔ من بھیتر

اک چیخ سنائی دیتی ہے

جلتی پوروں میں کانپتی ہے

بے مایہ لمس کی خاموشی

اس کے ہاتھوں سے لکھتی ہوں میں عشق بدن کی مٹی پر

اس کی آنکھوں کے گورستاں میں دیکھتی ہوں اک قبر نئی

اور شہزادے کے سینے پر سر رکھ کر سو جاتی ہوں

نینا عادل

فسونِ خواب

بہ رنگ کیف و سرشاری حدیثِ دل کہو ہمدم!

ہمہ تن گوش ہے ساعت

شرابِ شب اترتی ہے بہت آہستہ آہستہ

سفالِ خواب میں مدھم

تمھیں اس پل اجازت ہے

کہو! یوں خلوتِ جاں میں بلوریں چوڑیاں چھن چھن چھنکتی شور کرتی ہیں

مرا دل ڈول جاتا ہے

وفورِ حسن میں لپٹی تمھاری عنبریں زلفیں ۔۔۔

دھڑکنا بھول جاتا ہے

کہو! کاجل سیہ کاجل دھنک رنگوں کا میلہ ہے

کہو! پوریں خیالوں کی سنہری جلد میں جلتے دیوں پر رقص کرتی ہیں

صراحی دار گردن پر دمکتی نقرئی مالا ۔۔۔ تمھارے کان کی بالی ۔۔۔ یہ جادوگر!

یہ عشوہ گر

طلب کی بے زبانی کو عطا کرتے ہیں گویائی

تمھیں اس پل اجازت ہے

کہو یوں بھید کے جیسے سرکتا رات کا آنچل ہوا میں سرسراتا ہے

ستارا شوق کا میری نظر میں جھلملاتا ہے

کہو! کہ موسمِ گل ہے، گلابوں کی قطاروں میں دمکتے شبنمی لمحے

تمھارے لمس کے پیاسے

بہر موجِ نفس ٹھہرا سکوتِ شوق کاموسم تمھیں آواز دیتا ہے

تمنا گیت کی صورت لبوں پر گنگناتی ہے

محبت بے محابا ایک لمحے کو ترستی ہے

تمنا بے خبر! غافل ۔۔۔

فسونِ خواب کی مدّت بہت تھوڑی بہت کم ہے

نینا عادل

عشق

ہوا ہو ایملی تم اور!

ہواؤں کو تو ساری داستاں معلوم ہوتی ہے

وہ مٹی خاص ہوتی ہے کہ جس پہ عشق کی بارش برستی ۔۔۔

جذب ہوتی ہے

جہاں بے داغ سبزہ پھوٹتا ہے نرم،

پاکیزہ

جہاں پرآرزو کی باوضو کلیاں چٹکتی ہیں

ہوا تو چھو کے خوشبو کا بدن محسوس کرتی ہے

ہوا کا لمس تو گم گشتہ جوہر ڈھونڈ لیتا ہے

مقدّس عشق کی مٹی! ستودہ اور

خوابیدہ

کسی کا رنگ جب اپنی تہوں میں گھول لیتی ہے

چھڑایا جا نہیں سکتا، مٹایا جا نہیں جا سکتا

ہوا ہو جانتی ہو تم یہ ساری رنگ آمیزی

یہ مٹی اک دفعہ منسوب ہو جائے کسی سے گر

تو بیچی جا نہیں سکتی، خریدی جا نہیں سکتی

حضورِ عشق میں رکھ کر قدم دل سیکھ لیتا ہے

سرِ تسلیم خم کرنا

یہاں اک پل کی غفلت، اک ذرا سی جنبشِ ابرو

زمینوں آسمانوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے

غرض کا بیج اس مٹی میں بویا جا نہیں سکتا

ہوا ہو جانتی ہومیری فطرت

بھید میرے تم

نینا عادل

شہد ہے وقت کے نقرئی جار میں ۔۔۔ گیت

شہد ہے وقت کے نقرئی جار میں

ذائقے دار ہے رات کی امرِتی

فصل گندم کی تیار ہے!

بھوک ہے

من کی وحشی دِواروں سے چمٹی ہوئی زرد رُو اشتہا!

سبز ہونے کو بے تاب ہے بے طرح

سر پٹکتی ہے سانسوں میں پیاسی ہوا

آؤ نا، آؤ نا

آؤ نا ۔۔۔ ۔

لاؤ نانِ جویں خلوتِ خاص میں

خواب کی سرخ مئے اور چھلکاؤ نا!

آؤ نا

آس کے باغ میں ناچتا ہے مگن مور آواز کا

دھن دھنا دھن دھنا، دھن دھنا دھن دھنا

آؤ نا، آؤ نا

کتنی منہ زور ہے چاہ تکمیل کی

چاٹتی ہے لہو بے طر ح تشنگی

اس دھندلکے میں لپٹا ہوا اک یقیں!

اک گماں!!

نظم ہو؟ گیت ہو؟ جوئے تخلیق ہو؟

تلخ لذّت میں ڈوبا ہوا حرف ہو؟

جو بھی ہو!!

پاٹنا ہے تمھیں ایک اندھا خلا

آؤ نا ۔۔۔ ۔

آؤ نا ۔۔۔ ۔

نینا عادل

سکھی پی رین گھر آئے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ گیت

سکھی نرجل گھمس انگنا گھٹا برسی، سمے بدلا

سکھی من کے اندھیروں میں جلے دیپک، بدن اجلا

نہ پگھلا جھمکے بالی کا، مہادھن رات کا پگھلا

لگی مہندی، چڑھے کنگن، بندھی جھانجر، کھُلا جوڑا

سَرَت اگنی میں جل اٹّھے ملن کی، دو برن سائے

سکھی پی رین گھر آئے

سکھی آکار پیتم کا! ہو جیوں اوتار پربھو کا!

دھلے سب پاپ سیوک کے، موہے مکتی ملی دیوا

جپوں نس دن، بنی داسی، شری کے نام کی مالا

کرے کاہے سلونی اور کسی کرتار کی سیوا

وہی اک دیوتا ساگر میں نیّا پار لنگھائے

سکھی پی رین گھر آئے

سکھی ری پیاسے ہونٹوں کو لگا امرت بھرا پیالہ

پیا کے نمر ہاتھوں نے موہے بانہوں میں یوں جکڑا

کبھی چٹکی بھری گالھو، کبھی پلّو مورا کھینچا

لکھی سنگت کے شبدوں سے سجل سنجوگ کی بپتا

کہاں توڑے سے ٹوٹے جب لگن کی گانٹھ پڑ جائے

سکھی پی رین گھر آئے

سکھی پی رین گھر آئے ۔۔۔ ۔۔

نینا عادل

رت جگے کے اداس منظر میں

رت جگے کے اداس منظر میں

اُس کی خوشبو ہے اس کی آہٹ ہے

اُس کے انفاس کی تھکاوٹ ہے

خواب کے قفل کھولتی ہوں میں

اس کی آواز اوڑھتی ہوں میں

کیسی بے خود ہیں ساعتیں توبہ!

اُس کے لہجے کی لکنتیں توبہ!!

میری بالی سے کھیلتا ہے وہ

میرا تعویز کھینچتا ہے وہ

بے ادب شوق کے اجالے میں

دور تک بس میرے تصور میں

اُس کا سایہ ہے، اس کی باتیں ہیں

اُس کی دھڑکن ہے، اُس کی سانسیں ہیں

کیوں مگر خواب کے دھندلکے میں

اُس کی صورت نظر نہیں آتی

میری بے تاب دھڑکنیں اس کو

چھونا چاہیں تو چھو نہیں پاتیں ۔۔۔

نینا عادل

ڈر

کیسے نکلے گا جیتے جی دل سے ڈر کا کانٹا صاحب

کب خوف کی وحشی گلیوں میں بھٹکی ہوئی ساعت لوٹے گی؟

کب اندیشوں کے سانپ میرے پیڑوں سے لپٹنا چھوڑیں گے؟

سہمے ہوئے شبدوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوں

کیسے بتلاؤں کیوں مجھ کو دن کے زہریلے ہاتھوں سے!

شاموں کے سرخ آسیبوں سے، راتوں کی بے دل آنکھوں سے!

اور آس کے آٹھوں پہروں سے!

ڈر لگتا ہے

خوابوں کے رن میں پڑے ہوئے خواہش کے ادھورے جسموں سے

اور مان کی روح میں گڑے ہوئے تر پنجوں سے

جانی پہچانی آنکھوں میں پنہاں انجانی وحشت سے

رشتوں کے مذبح خانوں سے

بندھن کے زندہ لاشوں سے

ڈر لگتا ہے

اس جسم کی دیواروں میں ہے ڈر کا خستہ گارا صاحب

شیشے میں رقصاں سایوں سے، سانسوں اور آوازوں سے

پل پل میں بدلتے رنگوں سے! ڈر لگتا ہے

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ نیلی پڑ جاتی ہوں صاحب

چہرے کی پیلی رنگت کو کب تک میں چھپاؤں غازے میں؟

نینا عادل

دھروٹ

ایک پرانے بکسے میں

بوسیدہ کپڑوں کے نیچے

کاغذ کے پرزوں کے پیچھے

تعویزوں، تاگوں کے بھیتر

دھات کے میلے ڈبے میں

مٹتے ہوئے فوٹو کے اندر

سرخ سنہرے گوٹے کی

رنگین ستاروں والی جو

ریشم کی ساڑھی ہوتی ہے

ایک ابھاگن بڑھیا کو

وہ جان سے پیاری ہوتی ہے

نینا عادل

خواب ہو تم

یہ دھڑکتی ہوئی ساعتوں کے لئے

رنگ بھرتے ہیں جذبوں کا انفاس میں

بس گھڑی دو گھڑ ی

تشنگی اوس پیتی ہے گلزار سے

خوشبوئیں جا لپٹتی ہیں اشجار سے

عارضی طور پر

ہے مِرے علم میں

ریت راہی کے پیروں کا کوئی نشاں

دیر تک اپنے دامن میں رکھتی نہیں

خواب ہیں پل دو پل کا حسیں آسرا

جانتی ہُوں مگر ۔۔۔ ۔!!

خواب ہو تم مِرا

خواب ہو تم مِرا

نینا عادل

چار دیواری میں چنی ہوئی عورت

بند کے اُس طرف خود اُگی جھاڑیوں میں لگی رس بھری بیریاں خوب تیار ہیں

پر مرے واسطے ان کو دامن میں بھر لینا ممکن نہیں

اے خدا! جگنوؤں، قمقموں اور ستاروں کی پاکیزہ تابندگی

وہ جگہ، سو رہی ہے جہاں پر چناروں کے اونچے درختوں سے نتھر ی ہوئی جانفزا چاندنی

۔۔۔ خوشبوئیں خیمہ زن ہیں جہاں رات دن

میری اُن سرحدوں تک رسائی نہیں

اور پچھم کی چنچل سریلی ہوا میرے آنگن سے ہو کر گزرتی نہیں

میں کہ بارش کے قطروں سے نتھرے ہوئے سبز پتّوں کے بوسوں سے محروم ہوں

ان کواڑوں کی پرلی طرف دیر سے بند پھاٹک پہ ٹھہرے ہوئے اجنبی

آس اور بے کلی

حرف اور ان کہی

کچھ نہیں

میں نے کچھ بھی تو دیکھا نہیں

میرے کمرے کی سیلن، گھٹن اور خستہ دِواروں کے پیارے خدا

اور کچھ نا سہی

تو مجھے اک گنہ کی اجازت ملے

نینا عادل

جوالا مکھی

ناگہاں

آتشیں لو بھڑکنے لگی سبز پتّوں تلے

تلملاتی، غضب ناک اور ۔۔۔ مشتعل

آگ

یکلخت بے تاب ہو کر اٹھی

آن کی آن میں

بیل بوٹے، شجر ۔۔۔

پھول، پتّے، ثمر ۔۔۔

راکھ کاڈھیر ہونے لگے اس طرح

سرخ شعلے نگلنے لگے گھونسلے

(گھونسلوں میں پڑے گوشت کے لوتھڑے)

بس دھواں رہ گیا دور تک راہ میں

اور بدلتا گیا ایک جنگل ہرا! دیکھتے دیکھتے

سرمگیں خاک میں

سبز منظر کوئی یوں جلا آنکھ میں

نینا عادل

تو رقص کر

مرے قریب رک چکی ہے نبضِ کا ئنات بھی
ہے پرتوِ ممات اب یہ رشتۂ حیات بھی
رہا عجیب التواء کہ جاں بلب ہے ہر صدی
جمود کا شکار ہے الم مرا، خوشی مری
خیال ہیں نہ خواب ہیں جمال ہے نہ روشنی
تمدن و طریق بن گئی ہے پارسائی بھی
یہ جبر ہے کہ بندگی؟ یہ عیب ہے کہ زندگی؟
بہار ڈھونڈتی پھرے نشاطِ رنگ و بو یہاں
یہ طرز یہ چلن مٹا! کہ ہم نہیں فرشتگاں
فنونِ جاوداں جو رنگ ِروح کو نکھار دیں
وہ ہنر وہ آگ دے! وہ جبیں وہ آستاں
بقا کا ساز چھیڑ دے! یہ دن فنا کے پھیر دے
ہے بے ثمر یہ مستقل تو ارضِ دل کو خیر دے
یہ بحرِ موج جھومتی ہے دیکھ اضطراب میں
تھی کن فکاں کی جو صدا وہ تھی اسی حباب میں
پئے دوامِ زیست ہے یہ ناچتا ہوا لہو
یہ کہکشاں کا وصف ہے خلائے بے حساب میں
تو رقص کر کہ جاگنے لگے یہ خطۂ زمیں
کھلے وہ بابِ دل ربا جو فکرپہ کھلا نہیں
تو رقص کر جلو میں لے کہ دو جہان ہم نشیں
یہ سلسلہ دھمال کا ازل سے ہے رکا نہیں
تو رقص کر کہ دھڑکنوں کا زیرو بم لگے حسیں
ہو وجد و کیف وہ عطا وہ حظ جو کھوکھلا نہیں
تو رقص کر کہ گھنگروؤں سے آشنا ہو یہ زمیں
ہرا ہو فرشِ آگہی جو دور تک ہرا نہیں
تو رقص کر کہ آس کا دیا کوئی جلے کہیں
وہ داغِ دل بھی دھل رہے جو مدّتوں دھلا نہیں
تو رقص کر کہ فجر کا، زوالِ شب کا ہو یقیں
ملے یونہی ولے خدا جو آج تک ملا نہیں

تکمیل

’’تمھیں ثابت کرنا ہو گا کہ تم ہو‘‘! اس نے مجھے جھنجوڑا

’’مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی‘‘ میں نے احتجاج کیا

اُس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! ’’تم سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ‘‘

’’ٹھہرو ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے ۔۔۔ ۔۔۔ تم یہ ثابت نہیں کر سکو گے کہ میں ہوں ‘‘

اس نے گھبر ا کر مجھے پھر سمیٹ لیا اور زرا توقف کے بعد فضا میں اچھال دیا اور پُر جوش ہو کر بولا

’’دیکھا تم روشنی ہی روشنی ہو‘‘

’’ہاں مگر تاریکی مجھے نگلنے کو بیتاب ہے! میں نے کہا تھا نا میں خود کو ثابت کرنے سے قاصر ہوں ‘‘

اس نے ہراساں ہو کر مجھے مٹھی میں جکڑ لیا ۔۔۔ ۔۔۔ ناتمامی کے درد سے میری آنکھیں چھلک پڑیں

اس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا

’’دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو‘‘

’’مجھے وقت کی تیز دھوپ جلد خشک کر دے گی‘‘میں نے دہائی دی

وہ غصے سے کانپنے لگا ۔۔۔ ۔۔ پھر مجھے سامنے رکھ کر گڑگڑایا

’’خود کو ثابت کروخدارا، نہیں تو میں مٹ جاوں گا! ہماری تکمیل ضروری ہے‘‘

’’ناگزیر ہے‘‘! میں نے تائید کی

آؤ میں تمھیں زیب تن کر لوں! نہیں تو ہم تصدیق کے حق سے محرو م ہو جائیں گے، ہم کبھی ثابت نہ ہو سکیں گے‘‘

’’ہاں ہمیں اپنی تصدیق کرنی ہو گی‘‘اس نے مجھ میں ضم ہوتے ہوئے کہا

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔اور پھر ہم نے دیکھا ۔۔۔ رنگ ۔۔۔ روشنی ۔۔۔ سبزہ ۔۔۔ مایہ ۔۔۔ حسن اور حیرت سب ہمارے بطون کی

جاگیریں تھیں

باہر تو صرف دھواں تھا

نینا عادل

تری آواز

تری آواز کا خوش ذائقہ

اور رس بھرا شربت

مری رگ رگ میں اک تعویذ جیسے گھول دیتا ہے

شفا بیمار لمحوں کو عطا کرتا ہے! ساحر ہے

تری آواز کا مرہم

کہ جیسے برف باری میں ٹھٹھرتی خوبرو لڑکی

سلگتی آگ ملتے ہی لہو کی گرم موجوں میں نئی اک زندگی پائے

مسیحا ہے تری آواز کی ہلکی گلابی، کاسنی رنگت

کبھی ہے جامنی گہری ۔۔۔ صحیفوں کی طرح حتمی

کبھی ہے نیلگوں ایسی

کہ جیسے فجر کے وقت آسماں محوِ تلاوت ہو

ہے شدھ ایسا تری آواز کا نتھرا ہو زم زم

ہوا اس بہتے چشمے سے وضو کرتی ہے آ آ کر

تری آواز کے ان نقرئی سکّوں کا دھن اکثر

مری مفلس سیہ راتوں کی قسمت پھیر دیتا ہے

ہزاروں در نہاں اس جل ترنگ سے دل پہ کھلتے ہیں

مجھے دنیا کی ہر زنجیر سے آزاد کرتی ہے

تری آواز کی قدرت

نینا عادل

آئی وش

کاش میں پلومیریا ہوتی

شفاف اور بے داغ پھول

دن میں دھوپ نہاتی اور رات بھر چاند کی کرنوں سے اٹکھیلیاں کرتی

میرا کوئی مذہب ہوتا، نہ زبان، نہ فرقہ، نہ رواج

کاش میں زمینوں، پانیوں، فضاؤں اور ذہنوں کو کاٹنے والے سازشیوں کے قبیل سے نہ ہوتی

میں بھی عصبیت، وطنیت اور تعصب سے پاک

باوضو آنکھوں کے لیے ایک تحفہ ہوتی

بطور اشرف المخلوق اس خوبصورت سیّارے کی تباہی کا باعث بننے کے بجائے

میں ایک بے ضرر پلومیریا ہوتی

جس کی تخیلق کا واحد مقصد

کائنات کے حسن میں اضافہ کرنا

مسّرت باٹنا، فرحت اورتازگی بخشنا

اور ہوا کی ہتھیلی پر خوشبو کی نظم لکھ کر

رخصت ہو جانا ہوتا ۔۔۔

نینا عادل

اے مرے شبد

اے مرے شبد، مرے بھید، مہادھن میرے

رات میں خوشبو تری! نیند میں بوسہ تیرا ۔۔۔

ٹھنڈ میں آگ تری تاپوں، کھِلوں

جی اٹّھوں!

اپنے آنسو ترے ہاتھوں کے کٹورے میں رکھوں

دیر تک تجھ سے لپٹ کر یونہی روتی جاؤں

اے مرے شبد! ترے معنی کی ست رنگ گرہ

کبھی سلجھاؤں

کبھی انگلی میں الجھا بیٹھوں

گم رہوں تجھ میں کہیں، تجھ میں کہیں کھو جاؤں

اے مرے شبد! مرے عشق، مرے افسانے

شام گل رنگ کرے، خواب کو دو چند کرے

تیری بارش میں نکھرتا ہوا سبزہ میرا

مانگ آشاؤں کی بھرتی ہوئی اس دنیا میں

اور کوئی بھی نہیں، کوئی نہیں

تو میرا!! ۔

نینا عادل

آگ کے شکریہ کے ساتھ ۔۔۔ ۔۔ ایک نظم

مقدس گناہوں میں بھیگی ہوئی

آگ تاپی نہ ہوتی اگر چند پل

زوس کے تنگ ریفریجریٹر میں ٹھٹھرے ہوئے ماس کا پارسا لوتھڑا بن کے رہ جاتی!

میں نا جیتی نا مرتی پرومیتھئیس

اور فرشتوں کی مانند، وجدان پر میرے بھی، عمر بھر بھید گندم کا کھلتا نہیں

آہنی قفل ازلی روایت کے گر میں نہیں توڑتی

کچھ پرندے نہ آزاد ہوتے کبھی

برف ہوتیں مگر خون کی گرم امواج میں تیرتی سرمئی، سرخ اور نقرئی مچھلیاں

کوئے احساس میں کوئی بجلی کبھی کوندتی ہی نہیں دور تک

اک حقیقت کا بے تاب دل چیرنے

کس طرح پھرچناروں سے لپٹی ہوئی سرد تن چاندنی دھوپ بنتی دسمبر میں میرے لیے؟

میں کراچی کے ساحل پہ چلتے ہوئے کیسے گنگا کی لہروں پہ رکھتی قدم؟

کیسے دریاؤں کے دیوتا کی طرح، سوکھی فصلوں کو کرتی تراوٹ عطا؟

کیسے منٹو کے صفحات میں منتشر ’’نیک بو‘‘ سونگھتی؟

[کیسے ناپاک عورت کا سر چومتی]

کیوں ترس کھاتی معصوم دکھ اور فریبِ مسلسل پہ میں، فلورنٹائن کے؟

ان گنت کہکشائیں نہیں کھول پاتیں وہ اسرار جو، کھولتا ہے بدن پر اک آزاد پل

میری آزاد سانسوں کی خالص فضا، میری سنجیدگی

حرف کی یہ طہارت!

پرومیتھئیس باخدا

کچھ مقدس گناہوں سے مشروط ہے

نینا عادل

آخرِشب

کوئی دستک مسلسل ہے، کہیں ہے مستقل آہٹ

ہوا کا شور ہے شاید

کبھی محسوس ہوتا ہے سنہرے خشک پتوں میں سے گزرا سانپ کا جوڑا

پرندہ کوئی سہما ہے

فضا میں سرسراہٹ ہے

مرے اندر بھٹکتی ہے کوئی آواز یا! شاید

بلاتیں ہیں مجھے اِس دم بچھڑنے والوں کی یادیں

وہ جن پر زندگی اک خوف کی صورت مسلّط تھی

کبھی کے ہار کے اس زندگی سے روٹھ بیٹھے جو!

کبھی لگتا ہے یوں جیسے کسی تاریک بستی میں

چلی آندھی!

قضا آئی

اجل شاید مری کھڑکی تلک ۔۔۔ بستر تلک آئی

ستارے ڈوبنے کو ہیں

اندھیرا بین کرتا ہے

خدارا ۔۔۔ نیند کا غلبہ

دیے کی لو بھڑکتی ہے

بجھاکر آخری لمحہ

نینا عادل

اپریل بہار کا استقبال کرتا ہے

فروغِ شادابیِٔ چمن کو مہکتی مٹی سے پھوٹ نکلا ہے نرم سبزہ

حریصِ تخلیق نم زمیں نے گلوں سے دامن اداس بیلوں کے بھر دیے ہیں

عجیب رت ہے! کہ بوڑھی شاخوں میں سانس لیتا ہے سبز جوبن

خیالوں، خوابوں کی رہگزر پرچٹک رہی ہیں ہزار کلیاں

نگاہِ دل کے گزیدہ گوشے رہینِ نکہت

فضا کی پوروں میں جاگ اٹھی ہے بھینی خوشبو، ہوا کے ہاتھوں میں روشنی کے جڑاؤ کنگن

ہوا کے پیروں میں رقص کرنے لگے ہیں گھنگرو

پرندے رنگین شام اوڑھے شفق کی سرخی سے کھیلتے ہیں

دمکتے پانی میں غسل کرتے ہیں چاند تارے

نہاتی کلیوں کی بے لباسی کو کتنی حیرت سے دیکھتا ہے

نفیس پتّوں کی شال اوڑھے گھنیرا جنگل

گلاب کے سرخ پیرہن پر، سفید پھولوں کی پتیوں پر!

سماعتِ شب میں ثبت کرتی ہے اوس یوں جلترنگ نغمے

کہ گیت وہ جو ازل سے بے کل فضا میں گم تھے

اترنے لگتے ہیں دھڑکنوں کی حسین لے پر، محبتوں کے امین بن کر

ملن کی ایسی صبیح ساعت میں حسن دیتا ہے آپ دستک

تمھارے درپر ۔۔۔

نینا عادل

آپ بیتی

لکھو بے دل ہواؤ شام کی مغموم سرخی سے

گزر گاہوں کی ویرانی، گھروں کی نے نوائی اور بازاروں کی خاموشی

لکھو جب دھوپ ملتی ہے بدن پر سانولی لڑکی

بھرے چھابے میں خوابوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں

لکھو جب جھیل میں ہلکورے لیتی کشتیوں میں جال بے مقصد مچھیروں سے الجھتے ہیں

کناروں پر بنے بے دم گھروندے ٹوٹ جاتے ہیں

بوقتِ عصر اٹھتا ہے دھواں محصور جنگل سے

بھٹکتی پھر رہی ہوں جیسے روحیں سبز پیڑوں میں

لکھو مزدور اپنے رات دن چُنتے ہیں اینٹوں میں

سہاگن آس کا سرمہ نہیں بھرتی ہے آنکھوں میں

منڈیروں پر رکھے کونڈوں میں پانی سوکھ جاتا ہے

رسوئی سے نہیں اب اٹھتی خوشبو گرم روٹی کی

پروں میں چھپ کے موروں کے وبائیں رقص کرتی ہیں

لکھو بے دل ہواؤ شام کی مغموم سرخی سے

مرے شہروں کا، قصبوں کا مرے صحراؤں کا نوحہ

بسی ہے خون کی بو کوہساروں، ریگزاروں میں

لکھو بارود بھرتا جا رہا ہے کچے ذہنوں میں

کتابیں، بچے، بستے، پیرہن سب خاک آلودہ

لکھو نسلوں کے مستقبل کو جس نے پھونک ڈالا ہے

نہیں کی نذرِ آتش آپ بیتی وہ بزرگوں نے

نینا عادل

ہم تو لہریں ہیں

ہم تو جیسے لہریں ہیں

آسمان کو

چھونے کی خواہش میں

ہم جست لگائیں

تو لگتا ہے

پانی سے شاخیں پھوٹ پڑی ہیں

ہم تو پل چھن میں

اپنے ہونے کا مظاہرہ کر کے

اس ہیئت میں کھو جاتے ہیں

جو ہمیں بے ہیئت کر دیتی ہے

دھرتی کے تہ در تہ رازوں میں رقصاں

اس موجود میں جو موجود ہے

سب کو اپنے جال میں جکڑے ہوئے ہے

ہم سب لاکھوں تار و پود میں گندھے ہوئے ہیں

توقیر عباس

کوئی ہے؟

کوئی ہے! کوئی ہے! کی صدائیں،

لگاتے ہوئے،

میں سراپا صدا بن گیا،

لوگ آنکھوں کے گہرے گڑھوں سے

مجھے گھورتے،

ایک کیچڑ بھری لہر اُٹھتی شناسائی کی،

میری جانب لپکتی،

مگر ایک جھپکی میں معدوم پڑتی

وہ پھر اپنی گدلی خموشی سمیٹے،

کہاں، کس طرف آتے جاتے،

خبر کچھ نہیں تھی،

برسوں پہلے اسی شہر میں،

بوڑھے پیڑوں تلے آگ روشن تھی اور،

ایک خوشبو گواہی میں موجود تھی،

وہ کہ عہدِ مقدس کی تقریب تھی،

ساتھ دینے کا اک عہد تھا،

اپنی چاہت کے اقرار میں،

کہہ کے لبیک

آواز سے دستخط کر دئیے

اور پھر ایک دن

اپنے اقرار کو بھول کر

میں اسے بھول کر،

اُن دیاروں کی جانب چلا،

جن کو دینار و درہم کی خوشبو نے جکڑا ہوا تھا،

جب میں لوٹا

کھنکتی مہک کی کئی گٹھڑیاں باندھ کر،

کوئی رستہ نہ صورت شناسا ملی،

وہ شجر بھی کہیں پر نہ تھے،

اور لکیروں سے تشکیل پاتی ہوئی،

ایک بے چہرگی تھی ۔

جہاں عقل و دانش کی باتیں فقط شور تھیں

رنگوں اور خوشبوؤں کی جگہ

ایک صحرا ابھرتا نظر آ رہا تھا

اُسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے

بے خدوخال چہرہ ہوا

میری آنکھیں کہیں بہہ گئیں

اور میں

بے صدائی کی تاریک کھائی میں گرتا گیا

اور گرتا چلا جا رہا ہوں

توقیر عباس

کہانی تونے کتنی دیر کی

کہانی تونے کتنی دیر کی

کچھ دیر پہلے

بام و در روشن تھے

آنگن جگمگاتے تھے

سلامت جگنوؤں کی روشنی تھی

تتلیوں کے رنگ قائم تھے

پرندوں کی اڑانیں تک بہت محفوظ تھیں

پیڑوں کی ساری ٹہنیاں آباد تھیں

شہزادے بھی شہزادیاں بھی جاگتی تھیں

استعارے زندگی کے ضو فشاں تھے

اور صبحوں میں بھرا تھا نور سجدوں کا

اگر تو جلد آ جاتی

ترا باطن منور

تجھے سیراب کرتے

مگر اب خاک میں سب کچھ دبا ہے

توقیر عباس

عجب مزدور ہے

عجب مزدور ہے

ہر کام کرتا ہے

گھڑی کی سوئیوں میں گھومتا ہے

بہاو بن کے بہتا ہے

زمانوں سے زمانوں تک

شکست و ریخت کرتا ہے

کہیں تعمیر کرتا ہے

خزانے برد کرتا ہے

کہیں دھرتی کی تہہ سے

کوئی گنجِ گمشدہ بھی کھینچ لاتا ہے

کسی کا ساتھ دیتا ہے

کسی کوچھوڑ جاتا ہے

پہاڑوں جنگلوں میں بھی

نظر آتا ہے اپنا کام کرتا

لٹیرا بھی ہے جابر بھی

سخی بھی مہرباں بھی ہے

وہ چاروں سمت چلتا ہے

اسے تو چلتے جانا ہے

ازل کی وادیوں سے

ابد کے سبزہ زاروں تک

عجب مزدور ہے

توقیر عباس

دور پیڑوں کے سائے میں

دور پیڑوں کے سائے میں۔۔۔

حرکت، مسلسل

مرا دھیان اس کی طرف

اوردل میں کئی واہمے

دل کی دھڑکن میں دھڑکیں

کئی گردشیں

اور میں ہشت پائے کے پنجے میں جکڑا گیا

عجب خوف پیڑوں کے سائےمیں پلتا ہوا

اک تحرک

جو کھلتا نہیں

اور میں منتظر

جو بھی ہونا ہے اب ہو

اور اب ایک آہٹ نے دہلا دیا

بہت دھیمی آہٹ

اجل نے چھوا ہو

کہ دنیا اندھیرے میں ڈوبی

کہیں دور خوشبو میں مہکا سویرا

تحرک کی ہچکی سنی

اور ہر چیز اپنی جگہ تھم گئی

سیاہی کا پردہ گرا

قمقمے جل اُٹھے

اور گھر جگمگانے لگے

توقیر عباس

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

چوبداروں کی جاں پر بنی تھی

سپاہی ہراساں تھے

راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا

رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایہ جما تھا

کہانی مکمل نہیں تھی

وزیروں کے اذہان عاجز تھے

کیسے مکمل کریں اور عنوان کیا دیں

ادھورے کو پورا بھی کرنا کوئی کار آساں نہیں

منادی کرا دی گئی

لفظ و عنواں کوئی ڈھونڈ لائے تو انعام پائے

مگر وہ کہانی نجانے کہاں کھو گئی ہے

جسے ڈھونڈنے میں بھی صدیوں سے نکلا ہوا ہوں

توقیر عباس

بکھری راکھ سے۔۔۔

اور اب دھیان میں لاؤں

وہ پل

لاکھ یگوں کے یم کا رستہ جس پر

چھدے ہوئے جسموں کی دھڑکن

نوحہ کناں تھی

ٹوٹتے جڑتے سلسلے لمحوں کے

ٹھیکریاں جب ہیروں سے مس ہو کر

تاب یاب تھیں

کتنے سورج اپنی راکھ میں غلطاں تھے

سب دھاگے ٹوٹ کے بکھر گئے تھے

جسم جلاتی گرم ہوا کی لپٹیں

رنگوں کو صحرا کے پھیکے پن میں ڈھال رہی تھیں

کوندے جھماکے لاکھ نطارے

کتنی کائناتیں جو

بود نہ بود کے ایک نظام سے جڑ کر

ایک تسلسل سے مصروف عمل تھیں

چاروں جانب اڑتی راکھ تھی

دور کہیں پربجتی بانسری

جس کی دھن میں

بکھری راکھ سے روئے زماں کی

پھر تشکیل ہوئی تھی

توقیر عباس

اس دن

اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،

کون تھا جس کے لئے

اس کی ہمدردی نہیں تھی،

جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،

سو اُس نے اِس لمحے کے زیر اثر،

سب اشیا ء کو دیکھا،

دریا ندی سمندر اپنے کناروں میں سمٹے بل کھاتے ہیں،

تھل میں ویرانی رقصاں ہے،

پیڑ ہیں پاگل ہوا میں ہاتھ میں ہلاتے رہتے ہیں،

پنچھی کتنا اڑتے ہیں،

کو ہ فقط تخریب کی زد پر آ کر گرتے

زلزلےپیداکرتے رہتے ہیں،

ہوا بھی اندھی ہے،

جو سب سے مراسم رکھتی ہے،

اس جیسے سب انساں

اک کاہش میں رینگتی روحیں ہیں،

اس نے دیکھا،

سب کچھ اک مربوط نظام کی جکڑن میں ہے،

سب کچھ جدا جدا ہے،

لیکن اک دوجے سے

لاکھوں رشتے جڑے ہو ئے ہیں۔

توقیر عباس

ایک نغمہ ۔ پنجابی میں

"وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار”

روزی دیوے گا سائیں او یار

ٹِک رہو تھائیں او یار

ہیر نوں چھَڈ ٹر گیوں رنجھیٹے

کھیڑیاں دے گھر پاے گئے ہاسے

کانگ اڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

پِنڈ وچ کڈی ٹوہر شریکاں

یاراں دے ڈھے پئے منڈاسے

ویراں دیاں ٹُٹ گئیاں بائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

روزی دیوے گا سائیں

کانگ اُڈاون ماواں بھیناں

ترلے پاون لکھ ہزاراں

خیر مناون سنگی ساتھی

چرخے اولے روون مٹیاراں

ہاڑاں دردیاں سُنجیاں رائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

وطنے دیاں ٹھنڈیاں چھائیں

چھڈ غیراں دے محل چو محلے

اپنے ویہڑے دی رِیس نہ کائی

اپنی جھوک دیاں ستّے خیراں

بیبا تُس نے قدر نہ پائی

موڑ مہاراں

تے آ گھر باراں

مُڑ آ کے مول نہ جائیں

او یار

ٹِک رو تھائیں او یار

فیض احمد فیض

ایک ترانہ ۔ پنجابی میں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

بھولیا! تُوں جگ دا ان داتا

تیری باندی دھرتی ماتا

توں جگ دا پالن ہار

تے مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

جرنل، کرنل، صوبیدار

ڈپٹی، ڈی سی، تھانیدار

سارے تیرا دتّا کھاون

توں جے نہ بیجیں، توں جے نہ گاہویں

بھُکھّے، بھانے سب مر جاون

ایہہ چاکر توں سرکار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

مردا کیوں جائیں

وچ کچہری، چونکی تھانے

کیہہ اَن بھول تے کیہہ سیانے

کیہہ اشراف تے کیہہ نمانے

سارے کھجّل خوار

مردا کیوں جائیں

اٹھ اُتاں نوں جٹّا

ایکا کر لئو، ہو جاؤ کٹھّے

بھُل جاؤ رانگڑ، چیمے چٹھے

سبھے دا اِک پریوار

مردا کیوں جائیں

جے چڑھ آون فوجاں والے

توں وی چھَویاں لمب کرا لے

تیرا حق، تری تلوار

تے مردا کیوں جائیں

دے اللہ ہُو دی مار

تے مردا کیوں جائیں

فیض احمد فیض

گیت

جلنے لگیں یادوں کی چتائیں

آؤ کوئی بَیت بنائیں

جن کی رہ تکتے تکے جُگ بیتے

چاہے وہ آئیں یا نہیں آئیں

آنکھیں موند کے نِت پل دیکھیں

آنکھوں میں اُن کی پرچھائیں

اپنے دردوں کا مُکٹ پہن کر

بے دردوں کے سامنے جائیں

جب رونا آوے مسکائیں

جب دل ٹوٹے دیپ جلائیں

پریم کتھا کا انت نہ کوئی

کتنی بار اسے دھرائیں

پریت کی ریت انوکھی ساجن

کچھ نہیں مانگیں، سب کچھ پائیں

فیض اُن سے کیا بات چھپی ہے

ہم کچھ کہہ کر کیوں پچھتائیں

فیض احمد فیض

گاؤں کی سڑک

یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا

یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا

کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی

یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن

یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن

جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی

نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ

مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ

خوشا کہ آج بفضلِ خدا وہ دن آیا

کہ دستِ غیب نے اس گھر کی در کشائی کی

چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سے

سنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی

(بیروت)

فیض احمد فیض

میرے ملنے والے

وہ در کھلا میرے غمکدے کا

وہ آ گئے میرے ملنے والے

وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں

فرشِ افسردگی بچھانے

وہ آگئی رات چاند تاروں کو

اپنی آزردگی سنانے

وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے

یاد کے زخم کو منانے

وہ دوپہر آئی آستیں میں

چھپائے شعلوں کے تازیانے

یہ آئے سب میرے ملنے والے

کہ جن سے دن رات واسطا ہے

پہ کون کب آیا، کب گیا ہے

نگاہ ودل کو خبر کہاں ہے

خیال سوئے وطن رواں ہے

سمندروں کی ایال تھامے

ہزار وہم وگماں سنبھالے

کئی طرح کے سوال تھامے

(بیروت)

فیض احمد فیض

دو نظمیں فلسطین کے لئے

۔ ۱ ۔

میں جہاں پر بھی گیا ارضِ وطن

تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے

تیری حرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے

تیری الفت، تری یادوں کی کسک ساتھ گئی

تیرے نارنج شگوفوں کی مہک ساتھ گئی

سارے اَن دیکھے رفیقوں کا جِلو ساتھ رہا

کتنے ہاتھوں سے ہم آغوش مرا ہاتھ رہا

دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں

اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں

جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم

لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا عَلَم

تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد

میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد

بیروت ۸۰ ء

۔ ۲ ۔

فلسطینی بچے کیلیے لوری

مت رو بچے

رو رو کے ابھی

تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت رو بچے

کچھ ہی پہلے

تیرے ابا نے

اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت رو بچے

تیرا بھائی

اپنے خواب کی تتلی پیچھے

دور کہیں پردیس گیا ہے

مت رو بچے

تیری باجی کا

ڈولا پرائے دیس گیا ہے

مت رو بچے

تیرے آنگن میں

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں

چندرما دفنا کے گئے ہیں

مت رو بچے

امی، ابا، باجی، بھائی

چاند اور سورج

تو گر روئے گا تو یہ سب

اور بھی تجھ کو رلوائیں گے

تو مسکائے گا تو شاید

سارے اک دن بھیس بدل کر

تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

کیا کریں

مری تری نگاہ میں

جو لاکھ انتظار ہیں

جو میرے تیرے تن بدن میں

لاکھ دل فگار ہیں

جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے

سب قلم نزار ہیں

جو میرے تیرے شہر کی

ہر اک گلی میں

میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں

جو میری تیری رات کے

ستارے زخم زخم ہیں

جو میری تیری صبح کے

گلاب چاک چاک ہیں

یہ زخم سارے بے دوا

یہ چاک سارے بے رفو

کسی پہ راکھ چاند کی

کسی پہ اوس کا لہو

یہ ہے بھی یا نہیں، بتا

یہ ہے، کہ محض جال ہے

مرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا

جو ہے تو اس کا کیا کریں

نہیں ہے تو بھی کیا کریں

بتا ، بتا ،

بتا ، بتا

(بیروت)

فیض احمد فیض

پیرس

دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں

زرد رُو روشنیاں

ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم

اس بھرے شہر کی ناسودگیاں

دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے

عظمتِ رفتہ کے نشاں

پیش منظر میں

کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی

دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے

روزمرہ کی طرح

زیرِ لب

شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے

اور کوئی اجنبی

ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا

اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا

(پیرس)

فیض احمد فیض

ہم تو مجبورِ وفا ہیں

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن

جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے

کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا

کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں

تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے

کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے

کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی

خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے

’’بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا

جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر

لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا‘‘؎۱

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں

اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے

تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم

ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے

(؎۱ یہ دو اشعار مرزا رفیع سودا کے ہیں۔)

فیض احمد فیض

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

ٹھہر گئی آسماں کی ندیا

وہ جا لگی افق کنارے

اداس رنگوں کی چاندنیّا

اتر گئے ساحلِ زمیں پر

سبھی کھویّا

تمام تارے

اکھڑ گئی سانس پتیوں کی

چلی گئیں اونگھ میں ہوائیں

گجر بچا حکمِ خامشی کا

تو چپ میں گم ہو گئی صدائیں

سحر کی گوری کی چھاتیوں سے

ڈھلک گئی تیرگی کی چادر

اور اس بجائے

بکھر گئے اس کے تن بدن پر

نراس تنہائیوں کے سائے

اور اس کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کہ دن ڈھلے شہر سے نکل کر

کدھر کو جانے کا رخ کیا تھا

نہ کوئی جادہ، نہ کوئی منزل

کسی مسافر کو اب دماغِ سفر نہیں ہے

یہ وقت زنجیرِ روز و شب کی

کہیں سے ٹوٹی ہوئی کڑی ہے

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

یہ وقت آئے تو بے ارادہ

کبھی کبھی میں بھی دیکھتا ہوں

اتار کر ذات کا لبادہ

کہیں سیاہی ملامتوں کی

کہیں پہ گل بوٹے الفتوں کے

کہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کی

کہیں پہ خونِ جگر کے دھبّے

یہ چاک ہے پنجۂ عدو کا

یہ مہر ہے یارِ مہرباں کی

یہ لعل لب ہائے مہوشاں کے

یہ مرحمت شیخِ بد زباں کی

یہ جامۂ روز و شب گزیدہ

مجھے یہ پیراہن دریدہ

عزیز بھی، ناپسند بھی ہے

کبھی یہ فرمانِ جوشِ وحشت

کہ نوچ کر اس کو پھینک ڈالو

کبھی یہ حرفِ اصرارِ الفت

کہ چوم کر پھر گلے لگا لو

(تاشقند)

فیض احمد فیض

تین آوازیں

ظالم

جشن ہے ماتمِ امّید کا آؤ لوگو

مرگِ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگو

عدم آباد کو آباد کیا ہے میں نے

تم کو دن رات سے آزاد کیا ہے میں نے

جلوۂ صبح سے کیا مانگتے ہو

بسترِ خواب سے کیا چاہتے ہو

ساری آنکھوں کو تہِ تیغ کیا ہے میں نے

سارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے

اب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنا

فصلِ گُل آئے گی نمرود کے انگار لیے

اب نہ برسات میں برسے گی گہر کی برکھا

ابر آئے گا خس و خار کے انبار لیے

میرا مسلک بھی نیا راہِ طریقت بھی نئی

میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئی

اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چومیں گے

سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے

فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہوا

عرش پر آج ہر اِک بابِ دعا بند ہوا

مظلوم

رات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹے

صبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹے

دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایا

دن ڈھلا، خوف کا عفریت مقابل آیا

یا خدا یہ مری گردانِ شب و روز و سحر

یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر

کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے

ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے

وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے

وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے

گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟

ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟

ندائے غیب

ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو

کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے

اُٹھے گا جب جَمِّ سرفروشاں

پڑیں گے دارو رَسن کے لالے

کوئی نہ ہو گا کہ جو بچا لے

جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی

یہیں عذاب و ثواب ہو گا

یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر

یہیں پہ روزِ حساب ہو گا

فیض احمد فیض

لاؤ تو قتل نامہ مرا

سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی

تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی

رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی

ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی

آباد کرکے شہرِ خموشاں ہر ایک سو

کس کھوج میں ہے تیغِ ستمگر لگی ہوئی

آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام

بازی میانِ قاتل و خنجر لگی ہوئی

’’لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں

کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی‘‘

فیض احمد فیض

دو نظمیں

۔ ۱ ۔

ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہم

زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے

جان دیتے رہے زندگی کے لیے

ساعتِ وصل کی سرخوشی کے لیے

فقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئے

جو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہے

مال والے حقارت سے تکتے رہے

طعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہے

ہم نے اُن پر کیا حرفِ حق سنگ زن

جن کی ہبیت سے دنیا لرزتی رہی

جن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھا

اپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہی

سب سے اوجھل ہوئے حکمِ حاکم پہ ہم

قید خانے سہے، تازیانے سہے

لوگ سنتے رہے سازِ دل کی صدا

اپنے نغمے سلاخوں سے چھَنتے رہے

خونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہ

دکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہم

طبعِ شاعر ہے جنگاہِ عدل و ستم

منصفِ خیر و شر، حق و باطل ہیں ہم

۔ ۲ ۔

شوپیں؎۱ کا نغمہ بجتا ہے

چھلنی ہے اندھیرے کا سینہ، برکھا کے بھالے برسے ہیں

دیواروں کے آنسو ہیں رواں، گھر خاموشی میں ڈوبے ہیں

پانی میں نہائے ہیں بوٹے

گلیوں میں ہُو کا پھیرا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک غمگیں لڑکی کے چہرے پر چاند کی زردی چھائی ہے

جو برف گری تھی اِس پہ لہو کے چھینٹوں کی رُشنائی ہے

خوں کا ہر داغ دمکتا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

کچھ آزادی کے متوالے ، جاں کف پہ لیے میداں میں گئے

ہر سُو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہے

عالم میں اُن کا شہرہ ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک کونج کو سکھیاں چھوڑ گئیں آکاش کی نیلی راہوں میں

وہ یاد میں تنہا روتی تھی، لپٹائے اپنی باہوں میں

اِک شاہیں اس پر جھپٹا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

غم نے سانچے میں ڈھالا ہے

اِک باپ کے پتھر چہرے کو

مردہ بیٹے کے ماتھے کو

اِک ماں نے رو کر چوما ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

پھر پھولوں کی رُت لوٹ آئی

اور چاہنے والوں کی گردن میں جھولے ڈالے باہوں نے

پھر جھرنے ناچے چھن چھن چھن

اب بادل ہے نہ برکھا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

(ماسکو، ؎۱ شوپیں Chopin پولینڈ کا ممتاز نغمہ ساز)

————————-

فیض احمد فیض

منظر

رہ گزر ، سائے شجر ، منزل و در، حلقۂ بام

بام پر سینۂ مہتاب کھُلا، آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا، آہستہ

حلقۂ بام تلے ،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جِھیل

جِھیل میں چُپکے سے تَیرا، کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا، چلا، پُھوٹ گیا، آہستہ

بہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا، آہستہ

شیشہ و جام، صراحی، ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹا آہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا، آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کے کہا

’’اور ذرا آہستہ‘‘

(ماسکو)

فیض احمد فیض

کوئ عاشق کسی محبوبہ سے!

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا

پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو

عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد

پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو

جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی

آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو

گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد

اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہو گا

ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں، تو ہر بات کے بیچ

ان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہو گا

کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا، نہ تم

کوئ مضموں وفا کا ، نہ جفا کا ہو گا

گردِایّام کی تحریر کو دھونے کے لیے

تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں

تم جو چاہو تو سنو، اور جو نہ چاہو، نہ سنو

اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں

تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو

(لندن)

فیض احمد فیض

پھول مرجھا گئے سارے

پھول مرجھا گئے ہیں سارے

تھمتے نہیں ہیں آسماں کے آنسو

شمعیں بے نور ہو گئی ہیں

آئینے چور ہو گئے ہیں

ساز سب بج کے کھو گئے ہیں

پایلیں بُجھ کے سو گئی ہیں

اور اُن بادلوں کے پیچھے

دور اِس رات کا دلارا

درد کا ستارا

ٹمٹما رہا ہے

جھنجھنا رہا ہے

مسکرا رہا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

دلِ من مسافرِ من

مرے دل، مرے مسافر

ہوا پھر سے حکم صادر

کہ وطن بدر ہوں ہم تم

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رُخ نگر نگر کا

کہ سراغ کوئی پائیں

کسی یارِ نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتا تھا اپنے گھر کا

سرِ کوئے ناشنایاں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمھیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بُری بلا ہے

ہمیں یہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں کیا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا

(لندن)

فیض احمد فیض

نعت

اے تُو کہ ہست ہر دلِ محزوں سرائے تُو

آوردہ ام سرائے دِگر از برائے تُو

خواجہ بہ تخت بندۂ تشویشِ مُلک و مال

بر خاک رشکِ خسروِ دوراں گدائے تُو

آنجا قصیدہ خوانیِ لذّاتِ سیم و زر

اینجا فقط حدیثِ نشاطِ لقائے تُو

آتش فشاں ز قہر و ملامت زبانِ شیخ

از اشک تر ز دردِ غریباں ردائے تُو

باید کہ ظالمانِ جہاں را صدا کُند

روزے بسُوئے عدل و عنایت صَدائے تُو​

فیض احمد فیض

شامِ غربت

دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے

غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے

نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے

شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے

بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے

درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے

ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے

آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے

درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے

ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے

دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے​

فیض احمد فیض

اِدھر نہ دیکھو

اِدھر نہ دیکھوکہ جو بہادر

قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے

جو عزم و ہمت کے مدعی تھے

اب ان کے ہاتھوں میں صدقِ ایماں کی

آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے

جو کج کلہ صاحبِ حشم تھے

جو اہلِ دستار محترم تھے

ہوس کے پرپیچ راستوں میں

کلہ کسی نے گرو رکھ دی

کسی نے دستار بیچ دی ہے

اُدھر بھی دیکھو

جو اپنے رخشاں لہو کےدینار

مفت بازار میں لٹا کر

نظر سے اوجھل ہوئے

اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،

اُدھر بھی دیکھو

جو حرفِ حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر

جہاں سے رخصت ہوئے

اور اہلِ جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں​

رفیقِ راہ تھی منزل ہر اِک تلاش کے بعد

چھُٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی

ملُول تھا دلِ آئنہ ہر خراش کے بعد

جو پاش پاش ہُوا اِک خراش بھی نہ رہی​

فیض احمد فیض

ترک شاعر ناظمِ حکمت کے افکار

۔ ۱ ۔

جینے کے لیے مرنا

یہ کیسی سعادت ہے

مرنے کے لیے جینا

یہ کیسی حماقت ہے

۔ ۲ ۔

اکیلے جیو ایک شمشاد تن کی طرح

اور مل کر جیو

ایک بَن کی طرح

۔ ۳ ۔

ہم نے امّید کے سہارے پر

ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے

جس طرح تم سے عاشقی کی ہے

فیض احمد فیض

آج شب کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

آنکھ سے دور طلسمات کے در وا ہیں کئی

خواب در خواب محلّات کے در وا ہیں کئی

اور مکیں کوئی نہیں ہے،

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

"کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت”

کوئی امّید، کوئی آس مسافر صورت

کوئی غم، کوئی کسک، کوئی شک، کوئی یقیں

کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے

تم اگر ہو، تو مرے پاس ہو یا دُور ہو تم

ہر گھڑی سایہ گرِ خاطرِ رنجور ہو تم

اور نہیں ہو تو کہیں۔۔ کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے

آج شب دل کے قریں کوئی نہیں ہے​

فیض احمد فیض

جو میرا تمہارا رشتہ ہے

میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے

وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں

لکھا گیا ہے بہت لطفِ وصل و دردِ فراق

مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں

یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال

یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدمِ مہ و سال

اس عشقِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے

’’گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے‘‘

فیض احمد فیض

یہ کس دیارِ عدم میں ۔ ۔ ۔

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیدا

کسی کے حسن میں شمشیرِ آفتاب کا حسن

نگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگے

کسی ادا میں ادائے خرامِ بادِ صبا

جسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگے

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقی

جہاں میں بزمِ گہِ حسن و عشق کا میلا

بنائے لطف و محبت، رواجِ مہر و وفا

یہ کس دیارِ عدم میں مقیم ہیں ہم تم

جہاں پہ مژدۂ دیدارِ حسنِ یار تو کیا

نویدِ آمدِ روزِ جزا نہیں آتی

یہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تم

جہاں پہ شورشِ رندانِ میگسار تو کیا

شکستِ شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی

(ناتمام)

فیض احمد فیض

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول

آج پھر درد و غم کے دھاگے میں

ہم پرو کر ترے خیال کے پھول

ترکِ الفت کے دشت سے چن کر

آشنائی کے ماہ و سال کے پھول

تیری دہلیز پر سجا آئے

پھر تری یاد پر چڑھا آئے

باندھ کر آرزو کے پلے میں

ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​

فیض احمد فیض

اس وقت تو یُوں لگتا ہے

اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے

مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن

اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

ممکن ہے کوئی وہم تھا، ممکن ہے سنا ہو

گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا

شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید

اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

اک بَیر، نہ اک مہر، نہ اک ربط نہ رشتہ

تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے

لیکن مرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے

ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

(میو ہسپتال، لاہور)

فیض احمد فیض

ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

کیا خوف ز یلغارِ اعداء

ہے سینہ سپر ہر غازی کا

کیا خوف ز یورشِ جیشِ قضا

صف بستہ ہیں ارواح الشہدا

ڈر کاہے کا!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

قد جاء الحق و زَہَق الباطِل

فرمودۂ ربِّ اکبر

ہے جنت اپنے پاؤں تلے

اور سایۂ رحمت سر پر ہے

پھر کیا ڈر ہے!

ہم جیتیں گے

حقّا ہم اِک دن جیتیں گے

بالآخر اِک دن جیتیں گے

(بیروت)

فیض احمد فیض

ایک نغمہ کربلائے بیروت کے لیے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

بچوں کی ہنستی آنکھوں کے

جو آئنے چکنا چور ہوئے

اب ان کے ستاروں کی لَو سے

اس شہر کی راتیں روشن ہیں

اور رُخشاں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

جو چہرے لہو کے غازے کی

زینت سے سوا پُرنور ہوئی

اب ان کے رنگیں پرتو سے

اس شہر کی گلیاں روشن ہیں

اور تاباں ہے ارضِ لبنان

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

ہر ویراں گھر، ہر ایک کھنڈر

ہم پایۂ قصرِ دارا ہے

ہر غازی رشکِ اسکندر

ہر دختر ہمسرِ لیلیٰ ہے

یہ شہر ازل سے قائم ہے

یہ شہر ابد تک دائم ہے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیلِ باغِ جناں

(بیروت)

فیض احمد فیض

عشق اپنے مجرموں کو پابجولاں لے چلا

دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئے

گانے والے ہر اِک روز گاتے رہے

پایلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئے

ناچنے والے دھومیں مچاتے رہے

ہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اُس صف میں تھے

راستے میں کھڑے اُن کو تکتے رہے

رشک کرتے رہے

اور چُپ چاپ آنسو بہاتے رہے

لوٹ کر آ کے دیکھا تو پھولوں کا رنگ

جو کبھی سُرخ تھا زرد ہی زرد ہے

اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا

دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے

گلو میں کبھی طوق کا واہمہ

کبھی پاؤں میں رقصِ زنجیر

اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح

رسن در گلو، پابجولاں ہمیں

اسی قافلے میں کشاں لے چلا

(بیروت)

فیض احمد فیض

تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

جب دُکھ کی ندیا میں ہم نے

جیون کی ناؤ ڈالی تھی

تھا کتنا کس بل بانہوں میں

لوہُو میں کتنی لالی تھی

یُوں لگتا تھا دو ہاتھ لگے

اور ناؤ پُورم پار لگی

ایسا نہ ہُوا ، ہر دھارے میں

کچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیں

کچھ مانجھی تھے انجان بہُت

کچھ بے پرکھی پتواریں تھیں

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جِتنے چاہو دوش دھرو

ندیا تو وہی ہے ، ناؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

اب کیسے پار اُترنا ہے

جب اپنی چھاتی میں ہم نے

اِس دیس کے گھاؤ دیکھے تھے

تھا ویدوں پر وشواش بہت

اور یاد بہت سےنسخے تھے

یُوں لگتا تھا بس کچھ دِن میں

ساری بپتا کٹ جائے گی

اور سب گھاؤ بھر جائیں گے

ایسا نہ ہُوا کہ روگ اپنے

کچھ اِتنے ڈھیر پُرانے تھے

وید اُن کی ٹوہ کو پا نہ سکے

اور ٹوٹکے سب بیکار گئے

اب جو بھی چاہو چھان کرو

اب جتنے چاہو دوش دھرو

چھاتی تو وہی ہے ، گھاؤ وہی

اب تُم ہی کہو کیا کرنا ہے

یہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے

(لندن)

فیض احمد فیض

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

۔ ۱۔

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی

دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی

حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے

جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت

اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے

صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت

حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے

تا ابَد شہرِ ستم جس سے تبہ ہو جائیں

اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیہ ہو جائیں

۔۲۔

آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا

ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز

جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح

چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز

آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت

لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز

نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی

صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی

فیض احمد فیض

درِ اُمید کے دریوزہ گر

پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں

شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں

پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں

میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں

پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے

درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے

پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا

کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے

ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر

یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے

کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب

ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے

فیض احمد فیض

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام اُلجھتا رہا

پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

فیض احمد فیض

لینن گراڈ کا گورستان

سرد سِلوں پر

زرد سِلوں پر

تازہ گرم لہو کی صورت

گلدستوں کے چھینٹے ہیں

کتبے سب بے نام ہیں لیکن

ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے

غافل سونے والے کا

یاد میں رونے والے کا

اپنے فرض سے فارغ ہو کر

اپنے لہو کی تان کے چادر

سارے بیٹے خواب میں ہیں

اپنے غموں کا ہار پرو کر

امّاں اکیلی جاگ رہی ہے

لینن گراڈ 1976ء

فیض احمد فیض

موری اَرج سُنو

"موری ارج سُنو دست گیر پیر”

"مائی ری، کہوں کاسے میں

اپنے جیا کی پیر”

"نیا باندھو رے،

باندھو رے کنارِ دریا”

"مورے مندر اب کیوں نہیں آئے”

اس صورت سے

عرض سناتے

درد بتاتے

نیّا کھیتے

مِنّت کرتے

رستہ تکتے

کتنی صدیاں بیت گئی ہیں

اب جا کر یہ بھید کھُلا ہے

جس کو تم نے عرض گزاری

جو تھا ہاتھ پکڑنے والا

جس جا لاگی ناؤ تمھاری

جس سے دُکھ کا دارُو مانگا

تورے مندر میں جو نہیں آیا

وہ تو تُمھیں تھے

وہ تو تُمھیں تھے

فیض احمد فیض

تم اپنی کرنی کر گزرو

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

جو کچھ پایا کھو جائے گا

جو مل نہ سکا وہ پائیں گے

یہ دن تو وہی پہلا دن ہے

جو پہلا دن تھا چاہت کا

ہم جس کی تمنّا کرتے رہے

اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے

یہ دن تو کئی بار آیا

سو بار بسے اور اُجڑ گئے

سو بار لُٹے اور بھر پایا

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

تم خوف و خطر سے در گزرو

جو ہونا ہے سو ہونا ہے

گر ہنسنا ہے تو ہنسنا ہے

گر رونا ہے تو رونا ہے

تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہو گا دیکھا جائے گا

فیض احمد فیض

بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یک بار

لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے

وہ خواب سارے، شباب سارے

جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے

جو مٹ کے ہر بار پھر جیے تھے

نِکھر گئے ہیں گلاب سارے

جو تیری یادوں سے مُشکبو ہیں

جو تیرے عُشّاق کا کہو ہیں

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے

ملالِ احوالِ دوستاں بھی

خمارِ آغوشِ مہ وشاں بھی

غُبارِ خاطر کے باب سارے

ترے ہمارے

سوال سارے جواب سارے

بہار آئی تو کھِل گئے ہیں

نئے سرے سے حساب سارے

فیض احمد فیض

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

یہ موسِمِ گُل گرچہ طرب خیز بہت ہے

احوالِ گُل و لالہ غم انگیز بہت ہے

خوش دعوتِ یاراں بھی ہے یلغارِ عدو بھی

کیا کیجیے دل کا جو کم آمیز بہت ہے

یوں پیرِ مغاں شیخِ حرم سے ہوئے یک جاں

میخانے میں کم ظرفیِ پرہیز بہت ہے

اک گردنِ مخلوق جو ہر حال میں خم ہے

اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے

کیوں مشعلِ دل فیض چھپاؤ تہِ داماں!

بُجھ جائے گی یُوں بھی کہ ہوا تیز بہت ہے

فیض احمد فیض

ڈھاکہ سے واپسی پر

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مُلاقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے

اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

فیض احمد فیض

ہم تو مجبور تھے اس دل سے

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس میں ہر دم

گردشِ خوں سے وہ کُہرام بپا رہتا ہے

جیسے رندانِ بلا نوش جو مل بیٹھیں بہم

میکدے میں سفرِ جام بپا رہتا ہے

سوزِ خاطر کو ملا جب بھی سہارا کوئی

داغِ حرمان کوئی، دردِ تمنّا کوئی

مرہمِ یاس سے مائل بہ شِفا ہونے لگا

زخمِ اُمّید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگا

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کی جس کی ضد پر

ہم نے اُس رات کے ماتھے پہ سحر کی تحریر

جس کے دامن میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھا

ہم نے اُس دشت کو ٹھہرا لیا فردوس نظیر

جس میں جُز صنعتِ خونِ سرِ پا کچھ بھی نہ تھا

دل کو تعبیر کوئی اور گوارا ہی نہ تھی

کلفتِ زیست تو منظور تھی ہر طور مگر

راحتِ مرگ کسی طور گوارا ہی نہ تھی

فیض احمد فیض

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دوپہر ستم کی

بے سبب ستم کی

دوپہر درد و غیظ و غم کی

بے زباں درد و غیظ و غم کی

اس دوزخی دوپہر کے تازیانے

آج تن پر دھنک کی صورت

قوس در قوس بٹ گئے ہیں

زخم سب کھُل گئے ہیں

داغ جانا تھا چھٹ گئے ہیں

ترے توشے میں کچھ تو ہو گا

مرہمِ درد کا دوشالہ

تن کے اُس انگ پر اُڑھا دے

درد سب سے سوا جہاں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دشت نفرتوں کے

بے درد نفرتوں کے

کرچیاں دیدۂ حسد کی

خس و خاشاک رنجشوں کے

اتنی سنسان شاہراہیں

اتنی گنجان قتل گاہیں

جن سے آئے ہیں ہم گزر کر

آبلہ بن کے ہر قدم پر

یوں پاؤں کٹ گئے ہیں

رستے سمٹ گئے ہیں

مخملیں اپنے بادلوں کی

آج پاؤں تلے بچھا دے

شافیِ کربِ رہرواں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے مہِ شبِ نگاراں

اے رفیقِ دلفگاراں

اس شام ہمزباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہریاراں

ہم پہ مہرباں ہو

فیض احمد فیض

سجاد ظہیر کے نام

نہ اب ہم ساتھ سیرِ گُل کریں گے

نہ اب مل کر سرِ مقتل چلیں گے

حدیثِ دلبراں باہم کریں گے

نہ خونِ دل سے شرحِ غم کریں گے

نہ لیلائے سخن کی دوست داری

نہ غم ہائے وطن پر اشکباری

سنیں گے نغمۂ زنجیر مل کر

نہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغر

بنامِ شاہدِ نازک خیالاں

بیادِ مستیِ چشمِ غزالاں

بنامِ انبساطِ بزمِ رنداں

بیادِ کلفتِ ایّامِ زنداں

صبا اور اُس کا اندازِ تکلّم

سحر اور اُس کا آغازِ تبسّم

فضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہے

یہی تو مسندِ پیرِ مغاں ہے

سحر گہ اب اُسی کے نام ساقی

کریں اتمامِ دورِ جام ساقی

بساطِ بادہ و مینا اُٹھا لو

بڑھا دو شمعِ محفل بزم والو

پیو اب ایک جامِ الوداعی

پیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو

(دہلی)

فیض احمد فیض

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

ہم کیا کرتے کس رہ چلتے

ہر راہ میں کانٹے بکھرے تھے

ان رشتوں کے جو چھوٹ گئے

ان صدیوں کے یارانوں کے

جو اک اک کرکے ٹوٹ گئے

جس راہ چلے، جس سمت گئے

یوں پاؤں لہو لہان ہوئے

سب دیکھنے والے کہتے تھے

یہ کیسی ریت رچائی ہے

یہ مہندی کیوں لگائی ہے

وہ کہتے تھے، کیوں قحط وفا

کا ناحق چرچا کرتے ہو

پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو

یہ راہیں جب اٹ جائیں گی

سو رستے ان سے پھوٹیں گے

تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی

سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے

فیض احمد فیض

مرے درد کو جو زباں ملے

مرا درد نغمۂ بے صدا

مری ذات ذرۂ بے نشاں

مرے درد کو جو زباں ملے

مجھے اپنا نام و نشاں ملے

مری ذات کا جو نشاں ملے

مجھے راز نظم جہاں ملے

جو مجھے یہ راز نہاں ملے

مری خامشی کو بیاں ملے

مجھے کائنات کی سروری

مجھے دولت دو جہاں ملے

فیض احمد فیض

اشک آباد کی شام

جب سورج نے جاتے جاتے

اشک آباد کے نیلے افق سے

اپنے سنہری جام

میں ڈھالی

سرخئ اول شام

اور یہ جام

تمہارے سامنے رکھ کر

تم سے کیا کلام

کہا پرنام

اٹھو

اور اپنے تن کی سیج سے اٹھ کر

ایک شیریں پیغام

ثبت کرو اس شام

کسی کے نام

کنار جام

شاید تم یہ مان گئیں اور تم نے

اپنے لب گلفام

کیے انعام

کسی کے نام

کنار جام

یا شاید

تم اپنے تن کی سیج پہ سج کر

تھیں یوں محو آرام

کہ رستہ تکتے تکتے

بجھ گئی شمع شام

اشک آباد کے نیلے افق پر

غارت ہو گئی شام

فیض احمد فیض

جس روز قضا آئے گی

کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اولِ شب

بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب

جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در

اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار

یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب

شاید اس طرح کہ جس طور تہِ نوک سناں

کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے

اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ

از کراں تابہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے

جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

خواہ قاتل کی طرح ائے کہ محبوب صفت

دل سے بس ہو گی یہی حرف ودع کی صورت

للہ الحمد بانجام دلِ دل زدگاں

کلمۂ شکر بنام لبِ شیریں دہناں

فیض احمد فیض

نسخہء الفت میرا

گر کسی طور ہر اک الفتِ جاناں کا خیال

شعر میں ڈھل کے ثنائے رُخِ جانانہ بنے

پھر تو یوں ہو کہ مِرے شعر و سخن کا دفتر

طول میں طولِ شبِ ہجر کا افسانہ بنے

ہے بہت تشنہ مگر نسخہء الفت میرا

اس سبب سے کہ ہر اک لمحہء فرصت میرا

دل یہ کہتا ہے کہ ہو قربتِ جاناں میں بسر

فیض احمد فیض

تیرگی جال ہے ۔۔۔

تیرگی جال ہے اور بھالا ہے نور

اک شکاری ہے دن، اک شکاری ہے رات

جگ سمندر ہے جس میں کنارے سے دور

مچھلیوں کی طرح ابنِ آدم کی ذات

جگ سمندر ہے ساحل پہ ہیں ماہی گیر

جال تھامے کوئی، کوئی بھالا لیے

میری باری کب آئے گی کیا جانیے

دن کے بھالے سے مجھ کو کریں گے شکار

رات کے جال میں یا کریں گے اسیر؟

فیض احمد فیض

آرزو

مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں مگر آرزو ہے کہ جب قضا

مجھے بزمِ دہر سے لے چلے

تو پھر ایک بار یہ اذن دے

کہ لحد سے لوٹ کے آسکوں

ترے در پہ آ کے صدا کروں

تجھے غمگسار کی ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں

یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں

فیض احمد فیض

بہ نوکِ شمشیر

میرے آبا کہ تھے نا محرمِ طوق و زنجیر

وہ مضامیں جو ادا کرتا ہے اب میرا قلم

نوکِ شمشیر پہ لکھتے تھے بہ نوکِ شمشیر

روشنائی سے جو میں کرتا ہوں کاغذ پہ رقم

سنگ و صحرا پہ وہ کرتے تھے لہو سے تحریر

فیض احمد فیض

بھائی

آج سے بارہ برس پہلے بڑا بھائی مِرا

اسٹالن گراڈ کی جنگاہ میں کام آیا تھا

میری ماں اب بھی لیے پھرتی ہے پہلو میں یہ غم

جب سے اب تک ہے وہی تن پہ ردائے ماتم

اور اس دُکھ سے مِری آنکھ کا گوشہ تر ہے

اب مِری عمر بڑے بھائی سے کچھ بڑھ کر ہے

فیض احمد فیض

میں تیرے سپنے دیکھوں

برکھا برسے چھت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

برف گرے پربت پر، میں تیرے سپنے دیکھوں

صبح کی نیل پری، میں تیرے سپنے دیکھوں

کویل دھوم مچائے،میں تیرے سپنے دیکھوں

آئے اور اُڑ جائے، میں تیرے سپنے دیکھوں

باغوں میں پتے مہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں

شبنم کے موتی دہکیں، میں تیرے سپنے دیکھوں

اس پیار میں کوئی دھوکا ہے

تو نار نہیں کچھ اور ہے شے

ورنہ کیوں ہر ایک سمے

میں تیرے سپنے دیکھوں

فیض احمد فیض

تہ بہ تہ دل کی کدورت

میری آنکھوں میں امنڈ آئی توکچھ چارہ نہ تھا

چارہ گر کی مان لی

اور میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیا

میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیا

اور اب ہر شکل و صورت

عالمِ موجود کی ہر ایک شے

میری آنکھوں کے لہو سے اس طرح ہم رنگ ہے

خورشید کا کندن لہو

مہتاب کی چاندی لہو

صبحوں کا ہنسنا بھی لہو

راتوں کا رونا بھی لہو

ہر شجر مینارِ خوں، ہر پھول خونیں دیدہ ہے

ہر نظر اک تارِ خوں، ہر عکس خوں مالیدہ ہے

موجِ خوں جب تک رواں رہتی ہے اس کا سرخ رنگ

جذبہء شوقِ شہادت ،درد،غیظ و غم کا رنگ

اور تھم جائے تو کجلا کر

فقط نفرت کا، شب کا،موت کا،

ہر اک رنگ کے ماتم کا رنگ

چارہ گر ایسا نہ ہونے دے

کہیں سے لا کوئی سیلابِ اشک

آبِ وضو

جس میں دُھل جائیں تو شاید دھُل سکے

میری آنکھوں ،میری گرد آلود آنکھوں کا لہو ۔۔۔۔

فیض احمد فیض

حذر کرو مرے تن سے

سجے تو کیسے سجے قتلِ عام کا میلہ

کسے لبھائے گا میرے لہو کا واویلا

مرے نزار بدن میں لہو ہی کتنا ہے

چراغ ہو کوئی روشن نہ کوئی جام بھرے

نہ اس سے آگ ہی بھڑکے نہ اس سے پیاس بجھے

مرے فگار بدن میں لہو ہی کتنا ہے

مگر وہ زہرِ ہلاہل بھرا ہے نس نس میں

جسے بھی چھیدو ہر اِک بوند قہرِ افعی ہے

ہر اک کشید ہے صدیوں کے درد و حسرت کی

ہر اک میں مُہر بلب غیض و غم کی گرمی ہے

حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہے

حذر کرو کہ مرا تن وہ چوبِ صحرا ہے

جسے جلاؤ تو صحنِ چمن میں دہکیں گے

بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول

اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی

بجائے مشکِ صبا میری جان زار کی دھول

حذر کرو کہ مرا دل لہو کا پیاسا ہے

فیض احمد فیض

ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

رہا نہ کچھ بھی زمانے میں جب نظر کو پسند

تری نظر سے کیا رشتہء نظر پیوند

ترے جمال سے ہر صبح پر وضو لازم

ہر ایک شب ترے در پر سجود کی پابند

نہیں رہا حرمِ دل میں اِک صنم باطل

ترے خیال کے لات و منات کی سوگند

مثال زینہء منزل بکارِ شوق آیا

ہر اِک مقام کہ ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

خزاں تمام ہوئی کس حساب میں لکھیے

بہارِ گل میں جو پہنچے ہیں شاخِ گل کو گزند

دریدہ دل ہے کوئی شہر میں ہماری طرح

کوئی دریدہ دہن شیخِ شہر کے مانند

شعار کی جو مداراتِ قامتِ جاناں

کیا ہے فیض درِ دل، درِ فلک سے بلند

فیض احمد فیض

فرشِ نومیدیِ دیدار

دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب تک

جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک

ٹوکتی ھے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح

فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی

اور کہیں یاد کسی دل زدہ بچے کی طرح

ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے فریاد کناں

دل یہ کہتا ھے کہ کہیں اور چلے جائیں جہاں

کوئی دروازہ عبث وا ہو نہ بیکار کوئی

یاد فریاد کا کشکول لیے بیٹھی ہو

محرمِ حسرتِ دیدار ھو دیوار کوئی

نہ کوئی سایہء گُل ہجرتِ گل سے ویراں

یہ بھی کر دیکھا ھے سو بار کہ جب راہوں میں

دیس پردیس کی بے مہر گزرگاہوں میں

قافلے قامت و رخسار و لب و گیسو کے

پردہء چشم پہ یوں اترے ہیں بے صورت و رنگ

جس طرح بند دریچوں پہ گرے بارشِ سنگ

اور دل کہتا ہے ہر بار چلو لوٹ چلو

اس سے پہلے کہ وہاں جائیں تو یہ دکھ بھی نہ ہو

یہ نشانی کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اُس صحن میں ہر سُو یونہی پہلے کی طرح

فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی

فیض احمد فیض

جرسِ گُل کی صدا

اس ہوس میں کہ پکارے جرسِ گل کی صدا

دشت و صحرا میں صبا پھرتی ہے یوں آوارہ

جس طرح پھرتے ہیں ہم اہلِ جنوں آوارہ

ہم پہ وارفتگیِ ہوش کی تہمت نہ دھرو

ہم کہ رمازِ رموزِ غمِ پنہانی ہیں

اپنی گردن پہ بھی ہے رشتہ فگن خاطرِ دوست

ہم بھی شوقِ رہِ دلدار کے زندانی ہیں

جب بھی ابروئے درِ یار نے ارشاد کیا

جس بیاباں میں بھی ہم ہوں گے چلے آئیں گے

در کھُلا دیکھا تو شاید تمہیں پھر دیکھ سکیں

بند ھو گا تو صدا دے کے چلے جائیں گے

فیض احمد فیض

خورشیدِ محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن

کھُل کے ہنسنے کے دن، گیت گانے کے دن

پیار کرنے کے دن، دل لگانے کے دن

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

زخم کتنے ابھی بختِ بسمل میں ہیں

دشت کتنے ابھی راہِ منزل میں ہیں

تیر کتنے ابھی دستِ قاتل میں ہیں

آج کا دن زبوں ہے، مرے دوستو

آج کے دن تو یوں ہے، مرے دوستو

جیسے درد و الم کے پرانے نشاں

سب چلے سوئے دل کارواں، کارواں

ہاتھ سینے پہ رکھو تو ہر استخواں

سے اٹھے نالہءالاماں، الاماں

آج کے دن نہ پوچھو،مرے دوستو

کب تمہارے لہو کے دریدہ عَلم

فرقِ خورشیدِ محشر پہ ہوں گے رقم

از کراں تا کراں کب تمہارے قدم

لے کے اٹھے گا وہ بحرِ خوں یم بہ یم

جس میں دھُل جائے گا آج کے دن کا غم

سارے درد و الم سارے جور و ستم

دور کتنی ہے خورشید محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

فیض احمد فیض